کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں، اور جو ہمیں دھوکہ دے وہ بھی ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن أبي هريرة. المشكاة ٣٥٢٠، إيمان أبي عبيد ٧١.
«من حوسب عذب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کا سختی سے حساب لیا جائے وہ عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت الضياء] عن أنس. يشهد له ما بعده.
«من حوسب يوم القيامة عذب قالت عائشة: أوليس يقول الله: {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً} ؟ قال: ليس ذلك بالحساب إنما ذلك العرض ولكن من نوقش الحساب يهلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کا قیامت کے دن حساب لیا جائے وہ عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: ”عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا“؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ سخت حساب نہیں ہے، یہ تو محض اعمال کا پیش کیا جانا ہے، لیکن جس کے حساب میں چھان بین کی گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن عائشة. مختصر مسلم ٢١٧٥.
«من خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر أوله ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل فإن صلاة آخر الليل مشهودة وذلك أفضل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص یہ خدشہ رکھتا ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے، اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں اٹھ جائے گا تو وہ رات کے آخری حصے میں وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور یہ بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت هـ] عن جابر. مختصر مسلم ٣٩٣، قيام رمضان ص ١٩.
«من خاف أدلج ومن أدلج بلغ المنزل ألا إن سلعة الله غالية ألا إن سلعة الله الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کسی خطرے سے ڈرے وہ رات کو سفر کرتا ہے، اور جو رات کو سفر کرے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے، خبردار! اللہ کا سامان مہنگا ہے، خبردار! اللہ کا سامان جنت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٣٣٥: عبد بن حميد، عق، أبو نعيم، القضاعي، حل، ك - أبي.
«من خبب زوجة امرئ أو مملوكه فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کسی آدمی کی بیوی یا اس کے غلام کو اس کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٢٤.
«من ختم له بصيام يوم دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کی زندگی کا خاتمہ کسی دن کے روزے پر ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح الترغيب ٩٧٦، الصحيحة ١٦٤٥: حم، المخلص، ابن شاهين، ابن بشران، أبو نعيم.
«من خرج حتى يأتي هذا المسجد مسجد قباء فيصلي فيه كان له عدل عمرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص نکل کر اس مسجد، یعنی مسجدِ قباء میں آئے اور اس میں نماز پڑھے تو اسے عمرہ کے برابر اجر ملتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك] عن سهل بن حنيف. الترغيب ٢/١٣٨.
«من خرج مع جنازة من بيتها وصلى عليها ثم تبعها حتى تدفن كان له قيراطان من أجر كل قيراط مثل أحد ومن صلى عليها ثم رجع كان له من الأجر مثل أحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس پر نماز پڑھے، پھر اس کے ساتھ چلتا رہے یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے تو اسے دو قیراط اجر ملتا ہے، ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے، اور جو اس پر نماز پڑھ کر واپس چلا جائے تو اسے احد پہاڑ کے برابر اجر ملتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6226
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن أبي هريرة وعائشة.
«من خرج من الطاعة وفارق الجماعة فمات مات ميتة جاهلية ومن قاتل تحت راية عمية يغضب لعصبية أو يدعو إلى عصبية أو ينصر عصبية فقتل فقتلته جاهلية ومن خرج على أمتي يضرب برها وفاجرها ولا يتحاشا من مؤمنها ولا يفي لذي عهدة عهده فليس مني ولست منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص حاکم کی اطاعت سے نکل جائے اور جماعت سے الگ ہو جائے، پھر مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے، اور جو شخص اندھی عصبیت کے جھنڈے تلے لڑے، عصبیت کی خاطر غصہ کرے، عصبیت کی طرف بلائے یا عصبیت کی حمایت کرے، پھر مارا جائے تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے، اور جو شخص میری امت کے خلاف نکلے اور اس کے نیک و بد سب پر وار کرے، اس کے مومن سے بھی دریغ نہ کرے، اور جس سے عہد کیا ہو اس کا عہد پورا نہ کرے تو وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6227
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٢٣٢، الصحيحة ٩٨٣.
«من خرج من بيته متطهرا إلى صلاة مكتوبة فأجره كأجر الحاج المحرم ومن خرج إلى تسبيح الضحى لا ينصبه إلا إياه فأجره كأجر المعتمر وصلاة على أثر صلاة لا لغوبينهما كتاب في عليين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے گھر سے طہارت کی حالت میں فرض نماز کے لیے نکلے تو اس کا اجر احرام باندھے حاجی کے اجر جیسا ہے، اور جو چاشت کی نماز کے لیے نکلے اور اسے صرف یہی مقصود ہو تو اس کا اجر عمرہ کرنے والے کے اجر جیسا ہے، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز، جن کے درمیان کوئی فضول بات نہ ہو، تو یہ علیین میں لکھی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن أبي أمامة. صحيح أبي داود ٥٩٧.
«من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة لا حجة له ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے (امام کی) اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا وہ قیامت کے دن اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی، اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہ تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٢٣٣، الضعيفة ٣/٤٣، الصححة ٩٨٤.
«من خلقه الله لواحدة من المنزلتين وفقه لعملها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جسے اللہ تعالیٰ نے دو منزلوں میں سے کسی ایک کے لیے پیدا کیا اسے اس کا عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمران. الصحيحة ٢٣٣٦: حم.
«من دخل السوق فقال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له ألف ألف حسنة ومحا عنه ألف ألف سيئة ورفع له ألف ألف درجة وبنى له بيتا في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص بازار میں داخل ہو اور کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، وہ زندہ ہے، اسے موت نہیں آئے گی، ساری بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)، تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دے گا، اس سے دس لاکھ گناہ مٹا دے گا، اسے دس لاکھ درجے بلند کرے گا اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6231
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن ابن عمر. الكلم الطيب ٢٢٩، الترغيب ٣/٥.
«من دخل حائطا فليأكل ولا يتخذ خبيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کسی باغ میں داخل ہو وہ کھا لے لیکن (اپنے ساتھ لے جانے کے لیے) کچھ چھپا کر نہ رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمر. المشكاة ٢٩٥٤.
«من دخل في هذا المسجد فبزق فيه أو تنخم فليحفر فليدفنه فإن لم يفعل فليبزق في ثوبه ثم ليخرج به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا رینٹ نکالے تو وہ گڑھا کھود کر اسے دفن کر دے، اگر ایسا نہ کر سکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے پھر اسے لے کر باہر نکل جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6233
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ١٤٩٦: حم، ابن خزيمة، هق.
«من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا ومن دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے ہدایت کی طرف بلایا اسے اس کے پیروکاروں کے اجر جتنا اجر ملے گا اور اس سے ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی، اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا اس پر اس کے پیروکاروں کے گناہوں جتنا گناہ ہوگا اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٤] عن أبي هريرة. الصحيحة ٨٦٥، مختصر مسلم ١٨٦٠، السنة ١١٣: الدارمي، ابن أبي عاصم.
«من دعا لأخيه بظهر الغيب قال الملك الموكل به: آمين ولك بمثله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے تو اس پر مقرر فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تیرے لیے بھی اسی جیسی (دعا قبول ہو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن أبي الدرداء.
«من دعي إلى طعام وهو صائم فليجب فإن شاء طعم وإن شاء ترك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جسے کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو وہ قبول کرے، پھر چاہے تو کھا لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6236
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث آداب الزفاف ٧٣، الصحيحة ٣٤٧: حم، م، د، الطحاوي.
«من دعي إلى عرس أو نحوه فليجب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جسے شادی کی دعوت دی جائے یا اس جیسی کسی اور دعوت میں بلایا جائے تو وہ قبول کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر.
«من دفن ثلاثة من الولد حرم الله عليه النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنی تین اولاد کو دفن کیا اللہ تعالیٰ اس پر آگ حرام کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن واثلة. حم، ق - أبي هريرة١.
«من دل على خير فله مثل أجر فاعله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کسی نیکی کا راستہ دکھایا اسے اس کے کرنے والے جتنا اجر ملے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6239
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت] عن ابن مسعود. المشكاة ٢٠٩.
«من ذب عن عرض أخيه بالغيبة كان حقا على الله أن يعتقه من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے غیبت سے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ وہ اسے آگ سے آزاد کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6240
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن أسماء بنت يزيد. غاية المرام ٤٣١.
«من ذبح بعد الصلاة تم نسكه وأصاب سنة المسلمين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس کی قربانی مکمل ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6241
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن البراء. الإرواء ١١٥٤.
«من ذبح قبل الصلاة فإنما يذبح لنفسه ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے نماز سے پہلے قربانی کی وہ اپنے لیے ہی ذبح کرتا ہے، اور جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس کی قربانی مکمل ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6242
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أنس. المشكاة ١٤٣٧.
«من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء ومن استقاء فليقض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جسے روزے کی حالت میں (بلا ارادہ) قے آجائے اس پر قضا نہیں، اور جو خود قے کرے وہ قضا کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6243
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٤ ك] عن أبي هريرة. الإرواء ٩٣٠، حقيقة الصيام ١٣ - ١٤.
«من ذكر رجلا بما فيه فقد اغتابه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کسی آدمی کا ایسا ذکر کیا جو اس میں واقعی پایا جاتا ہے تو اس نے اس کی غیبت کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحاكم في تاريخه] عن أبي هريرة. الأحاديث الصحيحة ١٤١٩: حم، م، ت، الدارمي.
«من ذكرت عنده فخطئ الصلاة علي خطئ طريق الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود بھیجنے میں کوتاہی کرے اس نے جنت کا راستہ گم کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6245
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الترغيب ٢/٢٨٤، الصحيحة ٢٣٣٧: هـ - ابن عباس. إسماعيل القاضي - أبي جعفر الباقر مرسلا.
«من ذكرت عنده فليصل علي فإنه من صلى علي مرة صلى الله عليه عشرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے پاس میرا ذکر ہو وہ مجھ پر درود بھیجے، کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت بھیجتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6246
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أنس. الترغيب ٢/٢٧٧.
«من رأى حية فلم يقتلها مخافة طلبها فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو سانپ دیکھے اور اس کے تعاقب کے خوف سے اسے قتل نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6247
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي ليلى. المشكاة ٤١٣٨ - ٤١٤٠.
"من رأى مبتلى فقال: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا لم يصبه ذلك البلاء "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کسی مصیبت زدہ کو دیکھے اور کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا» (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس مصیبت سے محفوظ رکھا جس میں تجھے مبتلا کیا اور مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی)، تو اسے وہ مصیبت کبھی نہیں پہنچے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الكلم الطيب ٢٢٨، الصحيحة ٦٠٢.
«من رأى من أميره شيئا يكرهه فليصبر عليه فإنه ليس أحد يفارق الجماعة شبرا فيموت إلا مات ميتة جاهلية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے حاکم کی طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اس پر صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت برابر بھی جدا ہو کر مرے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6249
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عباس. شرح الطحاوية ٣٦٧، الإرواء ٢٤٥٣.
«من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو اپنے دل سے (اسے برا جانے)، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6250
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث تخريج مشكلة الفقر ٦٦، صحيح أبي داود ١٠٣٤، مختصر مسلم ٣٤.
«من رأى منكم هلال ذي الحجة وأراد أن يضحي فلا يأخذن من شعره ولا من أظافره حتى يضحي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6251
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن هـ ك] عن أم سلمة. م ٦/٨٣١.
«من رآني فإني أنا هوفإنه ليس للشيطان أن يتمثل بي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مجھے (خواب میں) دیکھے تو یقیناً اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6252
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الروض النضبر ٩٩٥.
«من رآني فقد رأى الحق فإن الشيطان لا يتزايا بي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے مجھے (خواب میں) دیکھا اس نے حق ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل نہیں بنا سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6253
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي قتادة. مختصر مسلم ٥٦٥.
«من رآني فقد رأى الحق فإن الشيطان لا يتزايا بي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے مجھے (خواب میں) دیکھا اس نے حق ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل نہیں بنا سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6254
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي سعيد. الروض النضير ٩٩٢، خط.
«من رآني في المنام فسيراني في اليقظة ولا يتمثل الشيطان بي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مجھے خواب میں دیکھے وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا، اور شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6255
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٥١٥، الروض النضير ٩٩٥.
" من رآني في المنام فقد رآني إنه لا ينبغي للشيطان أن يتمثل في صورتي"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مجھے خواب میں دیکھے اس نے یقیناً مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان کے لیے میری صورت اختیار کرنا مناسب نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6256
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن جابر. الروض النضير ٩٩٥.
«من رآني في المنام فقد رآني فإن الشيطان لا يتمثل بي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مجھے خواب میں دیکھے اس نے یقیناً مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6257
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت] ١ عن أنس. الروض النضير ٩٩٥.