کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«ماء البحر طهور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5499
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن ابن عباس. الإرواء ٩، ٢٥٠١.
«ماء الرجل أبيض وماء المرأة أصفر فإذا اجتمعا فعلا مني الرجل مني المرأة أذكرا بإذن الله وإذا علا مني المرأة مني الرجل أنثا بإذن الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، پس جب یہ دونوں اکٹھے ہوں اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے بچہ لڑکا ہوتا ہے، اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5500
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن ثوبان. مختصر مسلم ١٩٦٣، الضعيفة ٤٦٨٩: الطحاوي.
«ماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فأيهما سبق أشبهه الولد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، پس ان میں سے جو سبقت لے جائے بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5501
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ ك] عن أنس. الصحيحة ١٣٤٢: أبو عوانة، ن.
«ماء زمزم لما شرب له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمزم کا پانی اسی نیت کے مطابق فائدہ دیتا ہے جس کے لیے اسے پیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ش حم هـ هق] عن جابر [هب] عن ابن عمرو. الإرواء ١١٢٣، الصحيحة ٨٨٣.
«ما آتاك الله من أموال السلطان من غير مسألة ولا إشراف فكله وتموله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حکمران کے مال میں سے اللہ تجھے جو کچھ بغیر مانگے اور بغیر لالچ کے دے دے تو اسے کھا لے اور اپنا مال بنا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5503
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي الدرداء. الصحيحة ٢٢٠٩.
«ما آتاك الله من هذا المال من غير مسألة ولا إشراف فخذه فتموله أو تصدق به وما لا فلا تتبعه نفسك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تجھے اس مال میں سے جو کچھ بغیر مانگے اور بغیر لالچ کے دے دے تو اسے لے لے، اسے اپنا مال بنا لے یا اسے صدقہ کر دے، اور جو ایسا نہ ہو تو اس کے پیچھے اپنے دل کو نہ لگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5504
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عمر. الصحيحة ٢٢٠٩: ق، الدارمي.
«ما آمن بي من بات شبعان وجاره جائع إلى جنبه وهو يعلم به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا جو خود پیٹ بھر کر سوئے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو اور اسے اس کا علم بھی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5505
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار طب] عن أنس. الصحيحة ١٤٩.
«ما اجتمع قوم ثم تفرقوا عن غير ذكر الله وصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم إلا قاموا عن أنتن من جيفة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ بھی اکٹھے ہوں پھر اللہ کے ذکر اور نبی ﷺ پر درود کے بغیر منتشر ہو جائیں تو وہ ایک بدبودار مردار سے بھی زیادہ بدبودار مجلس سے اٹھتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5506
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي هب الضياء] عن جابر. الصحيحة ٨٠.
«ما اجتمع قوم على ذكر فتفرقوا عنه إلا قيل لهم: قوموا مغفورا لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ بھی ذکر کی مجلس پر اکٹھے ہوں پھر اس سے منتشر ہوں تو ان سے کہا جاتا ہے: اٹھو، تمہیں بخش دیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5507
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الصحيحة ٢٢١٠: طب، حم، طس - أنس.
«ما اجتمع قوم فتفرقوا عن غير ذكر الله إلا كأنما تفرقوا عن جيفة حمار وكان ذلك المجلس عليهم حسرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ بھی اکٹھے ہوں پھر اللہ کے ذکر کے بغیر منتشر ہو جائیں تو گویا وہ ایک گدھے کے مردار سے منتشر ہوئے ہیں، اور وہ مجلس ان کے لیے قیامت کے دن حسرت کا باعث ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5508
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٧.
«ما اجتمع قوم في بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم إلا نزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة وذكرهم الله فيمن عنده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ بھی اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اکٹھے ہوں، اللہ کی کتاب کی تلاوت کریں اور آپس میں اس کا مذاکرہ کریں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ انہیں اپنے پاس یاد کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5509
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث نقد الكتاني ٣٦، صحيح أبي داود ١٣٠٨: حم، م، ت، هـ.
«ما اجتمع قوم في مجلس فتفرقوا ولم يذكروا الله ويصلوا على النبي صلى الله عليه وسلم إلا كان مجلسهم ترة عليهم يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگ بھی کسی مجلس میں اکٹھے ہوں پھر منتشر ہو جائیں اور اللہ کا ذکر نہ کریں اور نبی ﷺ پر درود نہ بھیجیں تو ان کی وہ مجلس قیامت کے دن ان پر حسرت کا نقصان ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5510
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٧.
«ما أجد له في غزوته هذه في الدنيا والآخرة إلا دنانيره التي سمى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے اس کے اس غزوے کا دنیا اور آخرت میں اس کے سوا کچھ نہیں ملتا جتنے دینار اس نے مقرر کیے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5511
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن يعلى بن منية. الصحيحة ٢٢١١: حم.
«ما أحب أن أحدا تحول لي ذهبا يمكث عندي منه دينار فوق ثلاث إلا دينار أرصده لدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے یہ پسند نہیں کہ احد پہاڑ سونا بن کر میرے پاس ہو اور اس میں سے ایک دینار بھی تین دن سے زیادہ میرے پاس رہے، سوائے اس دینار کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ چھوڑوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5512
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي ذر.
«ما أحب أن أحدا عندي ذهبا فيأتي علي ثلاثة وعندي منه شيء إلا شيء أرصده في قضاء دين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے یہ پسند نہیں کہ احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو اور مجھ پر تین دن گزر جائیں اور اس میں سے کچھ میرے پاس باقی ہو، سوائے اس کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ چھوڑوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5513
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢١١: حم، ق، خط - أبي ذر.
«ما أحب أن أسلم على الرجل وهو يصلي ولو سلم علي لرددت عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی آدمی کو سلام کروں جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو، اور اگر وہ مجھے سلام کرے تو میں اس کا جواب دوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5514
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطحاوي] عن جابر١. الصحيحة ٢٢١٢.
«ما أحب أني حكيت إنسانا وأن لي كذا وكذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں، خواہ مجھے اس کے بدلے فلاں فلاں چیز مل جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت] عن عائشة. المشكاة ٤٨٥٧.
«ما أحب عبد عبدا لله إلا أكرم ربه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو بندہ بھی اللہ کی خاطر کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کا رب اسے ضرور عزت بخشتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5516
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أبي أمامة. المشكاة ٥٠٢٢، الصحيحة ١٢٥٦.
«ما أحد أعظم عندي يدا من أبي بكر واساني بنفسه وماله وأنكحني ابنته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے نزدیک ابوبکر سے بڑھ کر کسی کا احسان نہیں، انہوں نے اپنی جان اور اپنے مال سے میری مدد کی اور اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5517
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ٢٢١٤: عد، ابن عساكر.
«ما أحد أكثر من الربا إلا كان عاقبة أمره إلى قلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص بھی سود کو زیادہ کرتا ہے اس کا انجام کمی کی طرف ہی ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5518
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن مسعود. الترغيب ٣/٥٢: ك.
«ما أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنيا وأن له ما على الأرض من شيء غير الشهيد فإنه يتمنى أن يرجع فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو بھی جنت میں داخل ہوگا وہ یہ پسند نہیں کرے گا کہ دنیا کی ہر چیز اسے مل جائے اور وہ دنیا میں لوٹ جائے، سوائے شہید کے، وہ اس عزت کو دیکھ کر جو اسے حاصل ہے، یہ تمنا کرے گا کہ وہ لوٹ کر دس مرتبہ قتل ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5519
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت] عن أنس.
«ما أحرز الولد أو الوالد فهو لعصبة من كان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کچھ بیٹا یا باپ وراثت میں سے حاصل کرے وہ اس کے عصبہ (خاندان) کا حق ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5520
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د هـ] عن عمر. الصحيحة ٢٢١٣.
«ما اختلج عرق ولا عين إلا بذنب وما يدفع الله عنه أكثر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی رگ نہیں پھڑکتی اور نہ آنکھ پھڑکتی ہے مگر کسی گناہ کی وجہ سے، اور جو بلائیں اللہ اس سے دور کر دیتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5521
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس الضياء] عن البراء. الروض ١٦٠، الصحيحة ٢٢١٥.
«ما أخذت الدنيا من الآخرة إلا كما أخذ المخيط غمس في البحر من مائه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا نے آخرت میں سے اتنا ہی حصہ لیا ہے جتنا کوئی سوئی سمندر میں ڈبو کر اس کے پانی میں سے لے سکتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5522
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن المستورد. حم ٤/٢٢٩، م ٨/١٥٦١.
«ما أخشى عليكم الفقر ولكني أخشى عليكم التكاثر وما أخشى عليكم الخطأ ولكني أخشى عليكم التعمد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تم پر فقر کا خدشہ نہیں، بلکہ مجھے تم پر دنیا کی کثرت کی دوڑ کا خدشہ ہے، اور مجھے تم پر غلطی کا خدشہ نہیں، بلکہ مجھے تم پر جان بوجھ کر گناہ کرنے کا خدشہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5523
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢١٦: حب، حم.
«ما أدري أتبع أنبيا كان أم لا؟ وما أدري ذا القرنين أنبيا كان أم لا؟ وما أدري الحدود كفارات لأهلها أم لا؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے معلوم نہیں کہ تُبَّع نبی تھے یا نہیں؟ اور مجھے معلوم نہیں کہ ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں؟ اور مجھے معلوم نہیں کہ حدود ان پر لاگو ہونے والوں کے لیے کفارہ ہیں یا نہیں؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5524
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هق] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢١٧: ابن عبد البر، ابن عساكر.
«ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي حسن الصوت يتغنى بالقرآن يجهر به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ نے کسی چیز کی طرف اتنی توجہ نہیں دی جتنی توجہ اس نبی کی طرف دی جو خوش آواز ہو اور قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5525
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢١١١، صفة الصلاة ١٠٨.
«ما أرى الأمر إلا أعجل من ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تو یہ معاملہ اس سے بھی جلد پیش آنے والا لگتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5526
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن ابن عمرو. المشكاة ٥٢٧٥.
«ما استكبر من أكل معه خادمه وركب الحمار بالأسواق واعتقل الشاة فحلبها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے خادم کے ساتھ کھانا کھائے، بازاروں میں گدھے پر سوار ہو اور بکری کو پکڑ کر خود اس کا دودھ دوہے تو وہ تکبر کرنے والا نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [خد هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢١٨: الديلمي.
«ما أسفرتم بالصبح فإنه أعظم للأجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم صبح کی نماز کو اجالے میں پڑھو، کیونکہ یہ اجر میں زیادہ بڑھانے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5528
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن رجال من الأنصار. صحيح أبي داود ٣/١١٠، الإرواء ٢٥٨.
«ما أسفل الكعبين من الإزار ففي النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5529
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٠٣٧: حم.
«ما أسكر كثيره فقليله حرام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5530
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت حب] عن جابر [حم ن هـ] عن ابن عمرو. غاية المرام ٥٨، الإرواء ٢٣٧٥.
«ما أسكر منه الفرق فملء الكف منه حرام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس چیز کا ایک پیمانہ نشہ آور ہو اس کا ایک چلو بھر بھی حرام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5531
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن عائشة. الإرواء ٢٣٧٦، غاية المرام ٥٩.
«ما أصاب الحجام فاعلفوه الناضح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اجرت پچھنے لگانے والے کو ملے وہ اونٹ کو چارے کے طور پر کھلا دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن رافع بن خديج. الصحيحة ١٤٠٠.
"ما أصاب بحده فكله وما أصاب بعرضه فقتل فإنه وقيذ فلا تأكله"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شکار اس ہتھیار کی دھار سے مرے اسے کھاؤ، اور جو اس کے چوڑے حصے سے لگ کر مر جائے تو وہ 'وقیذ' ہے، اسے مت کھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن عدي بن حاتم. الإرواء ٢٥٤٦.
«ما أصبحت غداة قط إلا استغفرت الله تعالى فيها مائة مرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں کبھی کسی صبح کو نہیں اٹھا مگر اس میں اللہ تعالیٰ سے سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5534
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي موسى. الصحيحة ١٦٠٠.
«ما أطعمت زوجتك فهو لك صدقة وما أطعمت ولدك فهو لك صدقة وما أطعمت خادمك فهو لك صدقة وما أطعمت نفسك فهو لك صدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو تم اپنی بیوی کو کھلاؤ وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، جو تم اپنی اولاد کو کھلاؤ وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، جو تم اپنے خادم کو کھلاؤ وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، اور جو تم خود کھاؤ وہ بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن المقدام بن معد يكرب. الصحيحة ٤٥٢.
«ما أطيبك من بلد وأحبك إلي ولولا أن قومي أخرجوني منك ما سكنت غيرك» . - قاله لمكة -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے! اگر میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے سوا کہیں اور نہ بستا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5536
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت حب ك] عن ابن عباس. المشكاة ٢٧٢٤.
«ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء من ذي لهجة أصدق من أبي ذر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آسمان نے اپنے سائے میں اور زمین نے اپنی گود میں ابوذر سے زیادہ سچا زبان والا کوئی شخص نہیں اٹھایا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5537
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن ابن عمرو. المشكاة ٦٢٢٩.
«ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء من ذي لهجة أصدق ولا أوفى من أبي ذر شبه عيسى ابن مريم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آسمان نے اپنے سائے میں اور زمین نے اپنی گود میں ابوذر سے زیادہ سچا اور وفادار زبان والا کوئی شخص نہیں اٹھایا، وہ عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5538
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت حب ك] عن أبي ذر. المشكاة ٦٢٣٠.