کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف لام سے شروع ہونے والی احادیث
«لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع إلا مسلما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے ضرور نکال دوں گا، یہاں تک کہ صرف مسلمان ہی باقی چھوڑوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5026
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ت] عن عمر. الصحيحة ٩٢٤.
«لأذودن عن حوضي رجالا كما تذاد الغريبة من الإبل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو ضرور دھتکار دوں گا جیسے اجنبی اونٹنی کو ریوڑ سے دھتکارا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5027
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. م ٧/٧٠.
«لأعلمن أقواما من أمتي يأتون يوم القيامة بحسنات أمثال جبال تهامة بيضاء فيجعلها الله هباء منثورا أما إنهم إخوانكم ومن جلدتكم ويأخذون من الليل كما تأخذون ولكنهم قوم إذا خلوا بمحارم الله انتهكوها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اپنی امت کے کچھ لوگوں کو ضرور جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے سفید پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ انہیں بکھرا ہوا غبار بنا دے گا۔ سن لو! وہ تمہارے بھائی اور تمہاری ہی جنس میں سے ہوں گے، وہ رات کو اسی طرح عبادت کریں گے جیسے تم کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ جب اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے ساتھ تنہا ہوں گے تو ان کی حرمت پامال کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5028
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ثوبان. الترغيب ٣/١٧٨.
«لألقين الله من قبل أن أعطي أحدا من مال أحد شيئا بغير طيب نفس إنما البيع عن تراض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اللہ سے اس حال میں ملوں گا کہ میں نے کسی کے مال میں سے کسی کو اس کی دلی رضامندی کے بغیر کچھ نہیں دیا، بیع تو صرف باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5029
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي سعيد. أحاديث البيوع: هـ، حب، المخلص.
«لله أشد فرحا بتوبة عبده حين يتوب إليه من أحدكم كان على راحلته بأرض فلاة فانفلتت منه وعليها طعامه وشرابه فأيس منها فأتى شجرة فاضطجع في ظلها قد أيس من راحلته فبينما هوكذلك إذ هوبها قائمة عنده فأخذ بخطامها ثم قال من شدة الفرح: اللهم أنت عبدي وأنا ربك! أخطأ من شدة الفرح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے، جب وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے، تم میں سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی سنسان زمین میں اپنی سواری پر تھا کہ وہ اس سے چھوٹ کر بھاگ گئی، جس پر اس کا کھانا پینا لدا ہوا تھا، وہ اس سے مایوس ہو گیا، پھر ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا، اپنی سواری سے مایوس ہو چکا تھا کہ اچانک وہ سواری اس کے پاس کھڑی نظر آئی، اس نے اس کی نکیل پکڑ لی، پھر خوشی کی شدت سے کہنے لگا: اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں! اس نے خوشی کی شدت سے یہ غلطی کر دی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5030
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس. المشكاة ٢٣٣٢، م ٨/٩١.
«لله أشد فرحا بتوبة عبده من أحدكم إذا سقط عليه بعيره قد أضله بأرض فلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ مل جائے جسے وہ کسی سنسان زمین میں کھو چکا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5031
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أنس. مختصر مسلم ١٩١٧ عن الحارث بن سويد.
«لله أفرح بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے تم میں سے اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کی گم شدہ چیز مل جائے جب وہ اسے پا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5032
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن أبي هريرة. م ٨/٩١.
«لله أفرح بتوبة العبد من رجل نزل منزلا وبه مهلكه ومعه راحلته عليها طعامه وشرابه فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ وقد ذهبت راحلته فطلبها حتى إذا اشتد عليه الحر والعطش قال: أرجع إلى مكاني الذي كنت فيه فأنام حتى أموت ثم رفع رأسه فإذا راحلته عنده عليها زاده: طعامه وشرابه! فالله أشد فرحا بتوبة العبد المؤمن من هذا براحلته وزاده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ سے اس آدمی کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی ایسی جگہ اترا جہاں اس کی ہلاکت کا خطرہ تھا، اس کے ساتھ اس کی سواری تھی جس پر اس کا کھانا پینا لدا ہوا تھا، اس نے اپنا سر رکھا اور سو گیا، پھر جب بیدار ہوا تو اس کی سواری جا چکی تھی، وہ اسے تلاش کرتا رہا یہاں تک کہ جب گرمی اور پیاس اس پر شدید ہو گئی تو اس نے کہا: میں اپنی اسی جگہ واپس چلا جاتا ہوں جہاں پہلے تھا اور وہیں سو جاتا ہوں یہاں تک کہ مر جاؤں، پھر اس نے اپنا سر اٹھایا تو اس کی سواری اس کے پاس کھڑی تھی جس پر اس کا زادِ راہ، اس کا کھانا اور پینا موجود تھا! تو اللہ تعالیٰ مومن بندے کی توبہ سے اس شخص کی نسبت زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اپنی سواری اور زادِ راہ مل گیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5033
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن ابن مسعود.
«لله أقدر عليك منك عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے کہیں زیادہ قادر ہے جتنا تو اس پر قادر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن أبي مسعود. م ٥/٩٢.
«لأن أطأ على جمرة أحب إلي من أن أطأ على قبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے نزدیک انگارے پر قدم رکھنا اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی قبر پر قدم رکھوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5035
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خط] عن أبي هريرة. الضعيفة ٩٦٦: عد، حل.
«لأن أقعد مع قوم يذكرون الله تعالى من صلاة الغداة حتى تطلع الشمس أحب إلي من أن أعتق أربعة من ولد إسماعيل ولأن أقعد مع قوم يذكرون الله من صلاة العصر إلى أن تغرب الشمس أحب إلي من أن أعتق أربعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرا کسی ایسی جماعت کے ساتھ بیٹھنا جو فجر کی نماز سے سورج طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی رہے، مجھے اولادِ اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے، اور میرا کسی ایسی جماعت کے ساتھ بیٹھنا جو عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرتی رہے، مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5036
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن أنس. المشكاة ٩٧٠.
«لأن أقول سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر أحب إلي مما طلعت عليه الشمس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرا یہ کہنا کہ «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «وَاللَّهُ أَكْبَرُ»، مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5037
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٠٥.
«لأن أمشي على جمرة أو سيف أو أخصف نعلي برجلي أحب إلي من أن أمشي على قبر مسلم وما أبالي أوسط القبر قضيت حاجتي أو وسط السوق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرا انگارے پر یا تلوار پر چلنا، یا اپنے جوتے کو اپنے پاؤں سے سینا، مجھے کسی مسلمان کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے، اور مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں قبر کے درمیان قضائے حاجت کروں یا بازار کے درمیان۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5038
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عقبة بن عامر. الإرواء ٦٣، أحكام الجنائز ٢٠٩: ابن أبي شيبة.
«لأن تصلي المرأة في بيتها خير لها من أن تصلي في حجرتها ولأن تصلي في حجرتها خير لها من أن تصلي في الدار ولأن تصلي في الدار خير لها من أن تصلي في المسجد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اس کے لیے صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا صحن میں نماز پڑھنا گھر کے باقی حصے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5039
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هق] عن عائشة. الصحيحة ٢١٤٢: تخ، طس، هب.
«لأن يأخذ أحدكم حبله ثم يغدوإلى الجبل فيحتطب فيبيع فيأكل ويتصدق خير له من أن يسأل الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کا اپنی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جانا، لکڑیاں کاٹنا، انہیں بیچنا، ان سے کھانا اور صدقہ کرنا، اس کے لوگوں سے مانگنے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5040
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن أبي هريرة. غاية المرام ١٥٦.
«لأن يأخذ أحدكم حبله فيأتي الجبل فيجيء بحزمة الحطب على ظهره فيبيعها فيكف الله بها وجهه خير له من أن يسأل الناس أعطوه أو منعوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کا اپنی رسی لے کر پہاڑ پر جانا، اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لانا اور اسے بیچنا، جس سے اللہ تعالیٰ اس کی عزتِ نفس بچائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے، خواہ وہ اسے دیں یا نہ دیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5041
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ هـ] عن الزبير بن العوام. غاية المرام ١٥٦.
«لأن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه فتخلص إلى جلده خير له من أن يجلس على قبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کا انگارے پر بیٹھنا، یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے، اس کے کسی قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5042
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الأحاديث الضعيفة ٩٦٦، أحكام الجنائز ٢٠٩: هق.
«لأن يزني الرجل بعشر نسوة خير له من أن يزني بامرأة جاره ولأن يسرق الرجل من عشرة أبيات أيسر له من أن يسرق من بيت جاره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا اس کے اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے سے کم گناہ ہے، اور آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا اس کے اپنے پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے سے زیادہ آسان (کم گناہ) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5043
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد طب] عن المقداد بن الأسود. الصحيحة ٦٥.
«لأن يطأ الرجل على جمرة خير له من أن يطأ على قبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کا انگارے پر قدم رکھنا اس کے قبر پر قدم رکھنے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5044
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن أبي هريرة. الضعيفة ٩٦٦: عد، خط.
«لأن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھو دی جائے، یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5045
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن معقل بن يسار. الصحيحة ٢٢٦.
«لأن يغدو أحدكم فيحتطب على ظهره فيتصدق منه ويستغني به عن الناس خير له من أن يسأل رجلا أعطاه أو منعه ذلك بأن اليد العليا أفضل من اليد السفلى وابدأ بمن تعول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کا صبح سویرے نکل کر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لادنا، ان سے صدقہ کرنا اور ان کے ذریعے لوگوں سے بے نیاز ہو جانا، اس کے کسی آدمی سے مانگنے سے بہتر ہے، خواہ وہ اسے دے یا نہ دے، کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچ کرنے میں اپنے زیرِ کفالت لوگوں سے شروع کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5046
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٥٥٩، الإرواء ٨٣٤.
«لأن يقوم أحدكم أربعين خير له من أن يمر بين يدي المصلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کا چالیس تک کھڑا رہنا اس کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5047
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ الضياء] عن زيد بن خالد. الترغيب ٥٦٠: الطحاوي، السراج.
«لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا حتى يريه خير له من أن يمتلئ شعرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے، یہاں تک کہ وہ اسے فاسد کر دے، یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5048
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] ١ عن أبي هريرة [حم م هـ] عن سعد [طب] عن سلمان وابن عمر. مختصر مسلم ١٥٠٨، الصحيحة ٣٣٦، وانظر الضعيفة ١١١.
«لأن يمتلئ جوف رجل قيحا حتى يريه خير له من أن يمتلئ شعرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے، یہاں تک کہ وہ اسے فاسد کر دے، یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5049
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٣٦.
«لأن يمنح الرجل أخاه أرضه خير له من أن يأخذ عليها خراجا معلوما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کا اپنے بھائی کو اپنی زمین بلا معاوضہ دے دینا اس کے لیے اس پر مقررہ لگان لینے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5050
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن هـ] عن ابن عباس.
«لأنا أعلم بما مع الدجال من الدجال معه نهران يجريان أحدهما رأي العين ماء أبيض والآخر رأي العين نار تأجج فإما أدركهن واحد منكم فليأت النهر الذي يراه نارا ثم ليغمس ثم ليطأطئ رأسه فيشرب فإنه ماء بارد وإن الدجال ممسوح العين اليسرى عليها ظفرة غليظة مكتوب بين عينيه كافر يقرؤه كل مؤمن كاتب وغير كاتب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اس چیز کو دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں جو دجال کے ساتھ ہے: دجال کے ساتھ دو نہریں بہتی ہوں گی، ان میں سے ایک بظاہر سفید پانی نظر آئے گی اور دوسری بظاہر بھڑکتی ہوئی آگ نظر آئے گی، پس تم میں سے جو شخص اسے پا لے تو اسے چاہیے کہ اس نہر کے پاس جائے جو اسے آگ نظر آتی ہے، پھر اس میں ہاتھ ڈبوئے، پھر اپنا سر جھکا کر اس سے پی لے، کیونکہ وہ حقیقت میں ٹھنڈا پانی ہوگا۔ اور بے شک دجال کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی (بےنور) ہوگی جس پر گاڑھی جھلی چڑھی ہوگی، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان 'کافر' لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ لے گا، خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5051
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن حذيفة وأبي مسعود معا. مختصر مسلم ٢٠٤٦.
«لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو نویں تاریخ کا روزہ ضرور رکھوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5052
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن ابن عباس.
«لئن عشت إن شاء الله لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر میں زندہ رہا، ان شاء اللہ، تو یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے ضرور نکال دوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5053
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك٢] عن عمر. الصحيحة ١١٣٤: حم، م، د، هق.
«لئن عشت إن شاء الله لأنهيهن أن يسمى رباح ونجيح وأفلح ويسار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر میں زندہ رہا، ان شاء اللہ، تو میں ضرور اس بات سے منع کروں گا کہ کسی کا نام رباح، نجیح، افلح اور یسار رکھا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5054
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن عمر. الصحيحة ٢١٤٣: ت، الطحاوي.
«لئن كنت كما قلت فكأنما تسفهم المل ولا يزال معك من الله ظهير عليهم ما دمت على ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم ویسے ہی ہو جیسا تم نے کہا، تو گویا تم انہیں گرم راکھ کھلا رہے ہو، اور جب تک تم اسی حال پر رہو گے، اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ان کے خلاف ایک مددگار رہے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5055
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٧٦٣.
«لأنهين أن يسمى بنافع وبركة ويسار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں ضرور اس بات سے منع کروں گا کہ کسی کا نام نافع، برکت اور یسار رکھا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5056
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن عمر. الصحيحة ٢١٤٣: هـ، الطحاوي، ك.
«لبيك إله الحق لبيك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں حاضر ہوں، اے برحق معبود! میں حاضر ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5057
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٤٦: ابن خزيمة، حب، حل، هق.
«لبيك اللهم لبيك إنما الخير خير الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، بے شک اصل بھلائی آخرت کی بھلائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5058
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هق] عن ابن عباس. الصحيحة ٢١٤٦.
«لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریف، نعمت اور بادشاہت تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5059
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن ابن عمر [حم خ] عن عائشة [م د هـ] عن جابر [ن] عن ابن مسعود [حم] عن ابن عباس [ع] عن أنس [طب] عن عمروبن معدي كرب. حجة النبي صلى الله عليه وسلم ص ٥٥، مختصر مسلم ٧٠٧.
«لبن الدر يحلب بنفقته إذا كان مرهونا والظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا وعلى الذي يركب ويحلب النفقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دودھ دینے والے جانور کا دودھ، جب وہ گروی ہو، اس کے خرچ اٹھانے والے کے بدلے دوہا جائے گا، اور سواری کا جانور، جب وہ گروی ہو، اس کے خرچ اٹھانے والے کے بدلے سوار کیا جائے گا، اور جو سوار ہو اور دودھ دوہے اسی پر خرچ بھی لازم ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5060
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الإرواء ١٤٠٩: حم، خ.
«لتأخذوا عني مناسككم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد حجتي هذه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو، کیونکہ مجھے نہیں معلوم، شاید میں اپنے اس حج کے بعد پھر حج نہ کر سکوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5061
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ٧٢٤، المشكاة ٢٦١١، الإرواء ١٠٧٤، حجة النبي صلى الله عليه وسلم ص ٢٨.
"لتؤدن الحقوق إلى أهلها يوم القيامة حتى يقاد للشاة الجلحاء من الشاة القرناء تنطحها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن ہر حق دار کو اس کا حق ضرور دلایا جائے گا، یہاں تک کہ بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ اس سینگ والی بکری سے لیا جائے گا جس نے اسے سینگ مارا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5062
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ١٨٣٧، الصحيحة ١٥٨٨.
«لتتبعن سنن الذين من قبلكم شبرا بشبر أو ذراعا بذراع حتى لوسلكوا جحر ضب لسلكتموه قالوا: اليهود والنصارى؟ قال: فمن؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی، بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ، پیروی کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہوں تو تم بھی اس میں گھس جاؤ گے۔“ صحابہ نے پوچھا: ”کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اور کون؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5063
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث إصلاح المساجد ٣١، [السنة] لابن أبي عاصم، ٧٢ - ٧٥: حم، هـ عن أبي هريرة. ابن عمرو، مختصر مسلم ٢٠٠٢.
«لتخرج العواتق وذوات الخدور والحيض ويشهدن الخير ودعوة المؤمنين ويعتزل الحيض المصلى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جوان کنواری لڑکیاں، پردہ نشین عورتیں اور حائضہ عورتیں عید گاہ کی طرف ضرور نکلیں، وہ بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5064
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن هـ] عن أم عطية. الصحيحة ٢٤٠٧: هق.
«لتدخلن الجنة إلا من أبى وشرد على الله كشراد البعير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم ضرور جنت میں داخل ہو گے، سوائے اس کے جس نے انکار کیا اور اللہ سے اس طرح بھاگا جیسے اونٹ بھاگتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5065
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٠٤٤.