کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة
الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب وينادي مناد كل ليلة: يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب رمضان کے مہینے کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور ہر رات ایک پکارنے والا پکارتا ہے: اے بھلائی کے طلب گار! آگے بڑھ، اور اے برائی کے طلب گار! رک جا۔ اور اللہ کی طرف سے بہت سے لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے، اور ایسا ہر رات ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 759
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ حب ك هق] عن أبي هريرة. المشكاة ١٩٦٠، ١٩٦١.
«إذا كانت الفتنة بين المسلمين فاتخذ سيفا من خشب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مسلمانوں کے درمیان فتنہ (اور خانہ جنگی) پیدا ہو جائے، تو تم لکڑی کی تلوار بنا لو (یعنی ان کی باہمی لڑائی میں ہرگز حصہ نہ لو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 760
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن أهبان. الصحيحة ١٣٨٠: حم، ت.
«إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان انصاف نہ کرے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گرا ہوا (فالج زدہ) ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 761
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٠٧٧.
«إذا كان ثلاثة جميعا فلا يتناجى اثنان دون الثالث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تین لوگ ایک ساتھ ہوں تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤٠٣.
«إذا كان ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تین شخص سفر میں ہوں تو انہیں چاہیے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا امیر (قائد) بنا لیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 763
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أبي هريرة. الإرواء ٢٤٥٤.
«إذا كان جنح الليل فكفوا صبيانكم فإن الشياطين تنتشر حينئذ فإذا ذهب ساعة من الليل فخلوهم وأغلقوا الأبواب واذكروا اسم الله فإن الشيطان لا يفتح بابا مغلقا، وأوكئوا قربكم واذكروا اسم الله وخمروا آنيتكم واذكروا اسم الله ولو أن تعرضوا عليه شيئا وأطفئوا مصابيحكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب رات کا ابتدائی اندھیرا چھانے لگے تو اپنے بچوں کو (باہر نکلنے سے) روک لو، کیونکہ اس وقت شیاطین پھیلتے ہیں۔ پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، اور دروازے بند کر دو اور اللہ کا نام لو، کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا۔ اور اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دو اور اللہ کا نام لو، اور اپنے برتنوں کو ڈھانپ دو اور اللہ کا نام لو، خواہ تم ان پر کوئی چیز ہی آڑی رکھ دو، اور اپنے چراغ بجھا دیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 764
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن جابر. الصحيحة ٤٠، الإرواء ٣٩، مختصر مسلم ١٢٨١.
"إذا كان دم الحيض فإنه دم أسود يعرف، فإذا كان
ذلك فأمسكي عن الصلاة وإذا كان الآخر فتوضئي وصلي فإنما هو عرق"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب حیض کا خون ہو تو وہ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے، پس جب یہ خون آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرے قسم کا (استحاضہ یعنی بیماری کا) خون ہو تو (ہر نماز کے لیے) وضو کرو اور نماز پڑھو، کیونکہ وہ محض ایک رگ کا خون ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 765
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن ك] عن فاطمة بنت أبي حبيش [ن] عن عائشة. صحيح أبي داود ٢٨٤، الإرواء ٢٠٤.
«إذا كان رمضان فاعتمري فيه فإن عمرة فيه تعدل حجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب رمضان کا مہینہ آئے تو اس میں عمرہ کیا کرو، کیونکہ اس ماہ میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 766
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عباس. الإرواء ٨٦٩, ١٥٨٧.
«إذا كان شيء من أمر دنياكم فأنتم أعلم به وإذا كان شيء من أمر دينكم فإلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہارے دنیاوی معاملات میں سے کوئی کام ہو تو تم اسے زیادہ بہتر سمجھتے ہو، اور جب تمہارے دین سے متعلق کوئی معاملہ ہو تو اسے میری طرف لایا کرو (یعنی میری پیروی کیا کرو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 767
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أنس [هـ] عن أنس وعائشة.
«إذا كان لأحدكم ثوبان فليصل فيهما فإن لم يكن إلا ثوب فليأتزر ولا يشتمل اشتمال اليهود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو وہ ان دونوں (ازار اور چادر) کو پہن کر نماز پڑھے، پس اگر اس کے پاس ایک ہی کپڑا ہو تو اسے تہبند کی طرح باندھ لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لپیٹے (کہ کندھے ننگے رہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 768
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ٦٤٥: حم، الطحاوي، هق.
«إذا كان لأحدكم خادم قد كفاه المشقة فليطعمه فإن لم يفعل فليناوله اللقمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لیے (کھانا پکانے کی) مشقت اٹھا کر لائے، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے بھی اس میں سے کھلائے، پس اگر وہ (اسے ساتھ بٹھا کر) ایسا نہ کر سکے تو اسے (اس میں سے) ایک دو لقمے ہی پکڑا دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 769
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طص٢] عن جابر. الصحيحة ١٣٩٩: حم، خد.
«إذا كان لأحدكم شعر فليكرمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے (سر پر) بال ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ ان کی عزت و دیکھ بھال کرے (یعنی انہیں دھوئے، تیل لگائے اور سنوار کر رکھے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 770
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة [هب] عن عائشة. الصحيحة ٥٠٠: الطحاوي؛ أبونعيم، هب – أبي هريرة.
«إذا كان ليلة النصف من شعبان اطلع الله إلى خلقه فيغفر للمؤمنين ويملي للكافرين ويدع أهل الحقد بحقدهم حتى يدعوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب شعبان کی نصف (پندرہویں) رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر خاص تجلی فرماتا ہے، پس وہ مومنوں کی مغفرت فرما دیتا ہے، کافروں کو ڈھیل دیتا ہے، اور کینہ رکھنے والوں کو ان کے کینے کی وجہ سے اسی حال پر چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے (کینہ پروری کو) ترک کر دیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 771
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب] عن أبي ثعلبة الخشني. الصحيحة ١١٤٣: طب، ابن أبي عاصم ٥١١.
«إذا كانوا ثلاثة فلا يتناج اثنان دون الثالث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تین شخص (اکٹھے) ہوں تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 772
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق] عن ابن عمر. الصحيحة ١٤٠٢: حم، خد، د، ابن ماجه، مختصر مسلم ١٤٣٠.
«إذا كانوا ثلاثة فليؤمهم أحدهم وأحقهم بالإمامة أقرؤهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تین شخص ہوں تو ان میں سے کوئی ایک ان کی امامت کرائے، اور امامت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہے جو ان میں قرآن مجید کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 773
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن أبي سعيد.
«إذا كان يوم الجمعة قعدت الملائكة على أبواب المسجد يكتبون من جاء من الناس على قدر منازلهم، فرجل قدم جزورا ورجل قدم بقرة ورجل قدم شاة ورجل قدم دجاجة ورجل قدم عصفورا ورجل قدم بيضة، فإذا أذن المؤذن وجلس الإمام على المنبر طووا الصحف ودخلوا المسجد يستمعون الذكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ آنے والے لوگوں کو ان کے مراتب (یعنی آنے کے وقت) کے حساب سے لکھتے ہیں۔ پس کوئی شخص وہ ہوتا ہے جس نے (گویا) ایک اونٹ کی قربانی پیش کی، کوئی وہ جس نے گائے کی قربانی پیش کی، کوئی وہ جس نے بکری کی قربانی پیش کی، کوئی وہ جس نے مرغی پیش کی، کوئی وہ جس نے چڑیا پیش کی اور کوئی وہ جس نے ایک انڈا پیش کیا۔ پھر جب مؤذن اذان دے دیتا ہے اور امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ (فرشتے) اپنے رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر (خطبہ) سننے لگتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 774
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الضياء] عن أبي سعيد. صحيح الترغيب ٧١٠ وزاد ابن خزيمة في [صحيحه] بنحوه.
"إذا كان يوم الجمعة كان على كل باب من أبواب المسجد ملائكة يكتبون الناس على قدر منازلهم الأول فالأول فإذا جلس الإمام
طووا الصحف وجاءوا يستمعون الذكر ومثل المهجر كمثل الذي يهدي بدنة ثم كالذي يهدي بقرة ثم كالذي يهدي الكبش ثم كالذي يهدي الدجاجة ثم كالذي يهدي البيضة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے تعینات ہوتے ہیں جو لوگوں کو ان کے درجات کے مطابق لکھتے ہیں، یعنی پہلے آنے والا پھر اس کے بعد آنے والا۔ پس جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں اور آ کر ذکر (خطبہ) سننے لگتے ہیں۔ اور (نمازِ جمعہ کے لیے) سویرے آنے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جو (صدقے میں) ایک اونٹ پیش کرے، پھر اس شخص جیسی جو گائے پیش کرے، پھر اس شخص جیسی جو مینڈھا پیش کرے، پھر اس شخص جیسی جو مرغی پیش کرے اور پھر اس شخص جیسی جو ایک انڈا پیش کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 775
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٤٠٦، صحيح الترغيب ٧١٠ وزاد مالك، د.
«إذا كان يوم الجمعة وليلة الجمعة فأكثروا الصلاة علي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب جمعہ کا دن اور جمعہ کی رات ہو تو مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الشافعي] عن صفوان بن سليم مرسلا. الصحيحة ١٤٠٧.
«إذا كان يوم القيامة أدنيت الشمس من العباد حتى تكون قيد ميل أو اثنين فتصهرهم الشمس فيكونون في العرق كقدر أعمالهم فمنهم من يأخذه إلى عقبيه ومنهم من يأخذه إلى ركبتيه ومنهم من يأخذه إلى حقويه ومنهم من يلجمه إلجاما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب قیامت کا دن ہوگا تو سورج کو بندوں کے اس قدر قریب کر دیا جائے گا کہ وہ ایک یا دو میل کے فاصلے پر رہ جائے گا، پس سورج انہیں تپا دے گا اور لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں ڈوبے ہوں گے؛ ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کا پسینہ ٹخنوں تک ہوگا، کوئی ایسا ہوگا جس کا پسینہ گھٹنوں تک ہوگا، کوئی ایسا ہوگا جس کا پسینہ کمر تک ہوگا، اور کسی کو تو پسینے نے لگام دے رکھی ہوگی (یعنی اس کے منہ تک آ رہا ہوگا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 777
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن المقداد. الصحيحة ١٣٨٢: م.
«إذا كان يوم القيامة أعطى الله تعالى كل رجل من هذه الأمة رجلا من الكفار فيقال له: هذا فداؤك من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس (محمدی) امت کے ہر فرد کو کافروں میں سے ایک آدمی دے گا اور اس سے کہا جائے گا: یہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے تمہارا فدیہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 778
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي موسى. الصحيحة ١٣٨١: حم، ابن عساكر.
«إذا كان يوم القيامة بعث الله إلى كل مؤمن ملكا معه كافر فيقول الملك للمؤمن: يا مؤمن هاك هذا الكافر فهذا فداؤك من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ہر مومن کے پاس ایک فرشتہ بھیجے گا جس کے ساتھ ایک کافر ہوگا، پس فرشتہ مومن سے کہے گا: اے مومن! اس کافر کو پکڑ لو، یہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے تمہارا فدیہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 779
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب الحاكم في الكنى] عن أبي موسى. الصحيحة ١٣٨١: ابن عساكر.
«إذا كان يوم القيامة شفعت فقلت: يا رب أدخل الجنة من كان في قلبه خردلة من إيمان فيدخلون ثم يقول: أدخل الجنة من كان في قلبه أدنى شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب قیامت کا دن ہوگا تو میں شفاعت کروں گا اور عرض کروں گا: اے میرے پروردگار! ہر اس شخص کو جنت میں داخل فرما دے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پس وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر آپ ﷺ فرماتے ہیں (یا میں عرض کروں گا): ہر اس شخص کو بھی جنت میں داخل فرما دے جس کے دل میں اس سے بھی کم تر درجے کا ایمان موجود ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 780
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أنس. انظر السنة لابن أبي عاصم ٨٤٢ و ٨٤٩.
«إذا كان يوم القيامة كنت إمام النبيين وخطيبهم وصاحب شفاعتهم غير فخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب قیامت کا دن ہوگا تو میں تمام انبیاء کا امام، ان کا خطیب اور ان کی شفاعت کرنے والا ہوں گا، اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 781
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن أبي بن كعب. المشكاة ٥٣١٨.
«إذا كان يوم القيامة نادى مناد: من عمل عملا لغير الله فليطلب ثوابه ممن عمله له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا پکارے گا: جس شخص نے کوئی عمل اللہ کے سوا کسی اور کے لیے کیا ہو، اسے چاہیے کہ وہ اپنا ثواب بھی اسی سے مانگے جس کے لیے اس نے عمل کیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 782
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن سعد] عن أبي سعد بن أبي فضالة. تخريج الترغيب ١/٧٥، المشكاة ٥٣١٨.
«إذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يجهل فإن امرء شاتمه أو قاتله فليقل: إني صائم إني صائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ کوئی فحش بات کرے اور نہ ہی جہالت (شور و غل) کرے، پس اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ (اس سے) کہہ دے: میں روزے دار ہوں، میں روزے دار ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 783
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق د هـ] عن أبي هريرة.
«إذا كبر الإمام فكبروا وإذا ركع فاركعوا وإذا سجد فاسجدوا وإذا رفع رأسه من الركوع فارفعوا وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 784
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. مجمع الزوائد ٢/٧٨، صحيح أبي داود ٦١٤ - ٦١٧.
«إذا كره الاثنان اليمين أو استحباها فليستهما عليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو فریق قسم کھانے کو ناپسند کریں یا دونوں ہی اسے پسند کریں (یعنی دونوں دعویدار ہوں)، تو انہیں چاہیے کہ وہ اس پر قرعہ اندازی کر لیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 785
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة. الإرواء ٢٦٦٠: خ.
«إذا كنتم ثلاثة فلا يتناج رجلان دون الآخر حتى تختلطوا بالناس فإن ذلك يحزنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم تین آدمی ہو تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم (دوسرے) لوگوں میں مل جاؤ، کیونکہ یہ بات اس (تیسرے) کو غمگین کر دے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 786
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن ابن مسعود. الصحيحة ٢٤٠٢: د، الدارمي، مختصر مسلم ١٤٣٠.
«إذا لبستم وإذا توضأتم فابدءوا بميامنكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کپڑے پہنو اور جب تم وضو کرو تو اپنی دائیں جانب سے ابتدا کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 787
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب] عن أبي هريرة. المشكاة ٤٠١.
«إذا لعب الشيطان بأحدكم في منامه فلا يحدث به الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ اس کے خواب میں کھیلے (یعنی کوئی برا یا ڈراؤنا خواب دکھائے) تو وہ لوگوں سے اس کا ذکر نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 788
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن جابر. صحيح مسلم ٧/٥٤.
«إذا لقي أحدكم أخاه فليسلم عليه فإن حالت بينهما شجرة أو حائط أو حجر ثم لقيه فليسلم عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے، پھر اگر ان کے درمیان کوئی درخت، دیوار یا پتھر آڑ بن جائے اور پھر وہ (دوبارہ) اس سے ملے تو اسے (پھر) سلام کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 789
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هـ هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٨٦.
«إذا لقي الرجل أخاه المسلم فليقل: السلام عليكم ورحمة الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو وہ کہے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 790
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن رجل من الصحابة. الصحيحة ١٤٠٣: ابن السني.
«إذا لقيتم المشركين في الطريق فلا تبدءوهم بالسلام واضطروهم إلى أضيقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم راستے میں مشرکوں سے ملو تو انہیں سلام میں پہل نہ کرو، اور انہیں راستے کے تنگ حصے کی طرف مجبور کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 791
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن السني] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤١١: حم، م، د.
«إذا مات أحدكم عرض عليه مقعده بالغداة والعشي إن كان من أهل الجنة فمن أهل الجنة وإن كان من أهل النار فمن أهل النار يقال له: هذا مقعدك حتى يبعثك الله إليه يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو صبح و شام اس کا ٹھکانا اس پر پیش کیا جاتا ہے؛ اگر وہ اہل جنت میں سے ہے تو جنت والوں میں، اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہے تو جہنم والوں میں، اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اس کی طرف اٹھائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 792
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت هـ] عن ابن عمر.
«إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاث صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 793
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد م ٣] عن أبي هريرة. أحكام الجنائز١٧٤، الإرواء ١٥٨٠، مختصر مسلم ١٠٠١.
«إذا مات صاحبكم فدعوه لا تقعوا فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، اور اس کی برائیاں بیان نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 794
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن عائشة. الصحيحة ٤٨٢.
«إذا مات ولد العبد قال الله تعالى لملائكته: قبضتم ولد عبدي؟ فيقولون: نعم فيقول: قبضتم ثمرة فؤاده؟ فيقولون: نعم، فيقول: ماذا قال عبدي؟ فيقولون: حمدك واسترجع فيقول الله تعالى: ابنوا لعبدي بيتا في الجنة وسموه بيت الحمد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کسی بندے کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ پھر اللہ فرماتا ہے: کیا تم نے اس کے دل کا پھل (ٹکڑا) چھین لیا؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ پھر اللہ فرماتا ہے: تو میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: اس نے تیری حمد بیان کی اور «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام «بَيْتُ الْحَمْدِ» (حمد کا گھر) رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 795
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن أبي موسى. الصحيحة ١٤٠٨.
«إذا مر أحدكم في مسجدنا أو في سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها بكفه لا يعقر مسلما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں، تو اسے چاہیے کہ وہ ان کی نوکوں کو اپنی مٹھی میں پکڑ لے، تاکہ وہ کسی مسلمان کو زخمی نہ کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 796
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د هـ] عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٨١٧.
"إذا مر بالنطفة اثنتان وأربعون ليلة بعث الله إليها ملكا فصورها وخلق سمعها وبصرها وجلدها ولحمها وعظامها، ثم قال: يا رب أذكر أم أنثى؟ فيقضي ربك ما شاء ويكتب الملك، ثم
يقول: يا رب أجله فيقول ربك ما شاء ويكتب الملك ثم يقول: يا رب رزقه فيقضي ربك ما شاء ويكتب الملك ثم يخرج الملك بالصحيفة في يده فلا يزيد على أمر ولا ينقص"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نطفے (کے رحم مادر میں ٹھہرنے) پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کی صورت بناتا ہے، اس کے کان، اس کی آنکھیں، اس کی کھال، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! کیا یہ لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ تو تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! اس کی موت کا وقت کب ہے؟ تو تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! اس کا رزق کتنا ہے؟ تو تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ پھر وہ فرشتہ اپنے ہاتھ میں وہ صحیفہ (نوشتہ تقدیر) لے کر نکل جاتا ہے، پس وہ اس حکم میں نہ کوئی اضافہ کرتا ہے اور نہ ہی کوئی کمی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 797
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن حذيفة بن أسيد. الضعيفة ٢٣٢٢.
«إذا مر رجال بقوم فسلم رجل من الذين مروا على الجلوس ورد من هؤلاء واحد أجزأ عن هؤلاء وعن هؤلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کچھ لوگ کسی گروہ کے پاس سے گزریں، پس گزرنے والوں میں سے کوئی ایک شخص بیٹھے ہوئے لوگوں کو سلام کر لے اور ان (بیٹھے ہوئے لوگوں) میں سے کوئی ایک جواب دے دے، تو یہ ان (گزرنے والوں) کی طرف سے اور ان (بیٹھنے والوں) کی طرف سے کافی ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 798
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٤١٢.