کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف با سے شروع ہونے والی احادیث
«بابان معجلان عقوبتهما في الدنيا: البغي والعقوق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں ہی جلد دے دی جاتی ہے: (ایک) ظلم و زیادتی، اور (دوسرا) والدین کی نافرمانی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أنس. الصحيحة ١١٢٠.
«بادروا الصبح بالوتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن ابن عمر. صحيح السنن ١٢٩٠: حم، حب، ابن نصر، أبو عوانة.
«بادروا بالأعمال ستا: إمارة السفهاء وكثرة الشرط وبيع الحكم واستخفافا بالدم وقطيعة الرحم ونشوا يتخذون القرآن مزامير يقدمون أحدهم ليغنيهم وإن كان أقلهم فقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو: بیوقوفوں کی حکمرانی، پولیس والوں (ظالم اہلکاروں) کی کثرت، فیصلوں کا بکنا (رشوت خوری)، خون (انسانی جان) کو ہلکا سمجھنا، قطع رحمی، اور ایک ایسی نئی نسل کا پیدا ہونا جو قرآن مجید کو گانے بجانے کا آلہ بنا لے گی، وہ نماز کے لیے اپنے میں سے کسی ایسے شخص کو آگے کریں گے جو انہیں گنگنا کر (قرآن) سنائے گا، خواہ وہ دین کی سمجھ بوجھ میں ان سب سے کم تر ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2812
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عابس الغفاري. الصحيحة ٩٧٩: حم، تخ.
«بادروا بالأعمال ستا: طلوع الشمس من مغربها والدخان ودابة الأرض والدجال وخويصة أحدكم وأمر العامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دابۃ الارض (زمین کا جانور)، دجال، تم میں سے کسی پر آنے والی اس کی خاص مصیبت (یعنی موت)، اور عام مصیبت (یعنی قیامت کا برپا ہونا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2813
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠٩٣، الصحيحة ٧٥٩.
«بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا يبيع أحدهم دينه بعرض من الدنيا قليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند (ہولناک) فتنوں کے آنے سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، (ان فتنوں کے دور میں) آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر ہو جائے گا، ان میں سے کوئی اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے مال و متاع کے عوض بیچ دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2814
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠٣٨، الصحيحة ٧٥٨.
«بادروا بصلاة المغرب قبل طلوع النجم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ستارے طلوع ہونے سے پہلے مغرب کی نماز ادا کرنے میں جلدی کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم قط] عن أبي أيوب. صحيح أبي داود ٤٤٤: طب.
«بحسب أصحابي القتل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے صحابہ کے لیے (بطورِ کرامت اور شہادت) بس قتل کر دیا جانا (یعنی اللہ کی راہ میں جان قربان کر دینا) ہی کافی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2816
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن سعيد بن زيد. (صحيح) الصحيحة ١٣٤٦: البزار، وحم، طب –طارق الأشجعي.
«بخ بخ لخمس ما أثقلهن في الميزان: لا إله إلا الله وسبحان الله والحمد لله والله أكبر والولد الصالح يتوفى للمرء المسلم فيحتسبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”واہ واہ! پانچ چیزیں میزانِ عمل میں کس قدر بھاری ہیں: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنا، «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہنا، «الْحَمْدُ لِلَّهِ» کہنا، «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہنا، اور کسی مسلمان شخص کا کوئی نیک بچہ فوت ہو جائے اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن ثوبان [ن حب ك] عن أبي سلمى١, [حم] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٢٠٤.
«برئت الذمة ممن أقام مع المشركين في ديارهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص مشرکوں کے درمیان ان کے علاقوں میں اقامت اختیار کرے (وہاں مستقل سکونت پزیر ہو جائے)، اس سے (اسلامی ریاست کی) حفاظت کی ضمانت بری ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2818
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن جرير. الصحيحة ٧٦٨.
«بر الحج إطعام الطعام وطيب الكلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حج کی نیکی (یا حج مبرور کی علامت) لوگوں کو کھانا کھلانا اور ان سے نرمی و عمدگی کے ساتھ بات چیت کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2819
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن جابر. الصحيحة ١٢٦٤: الطيالسي، حم، طس، عد، الخرائطي.
«بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد; فإني أدعوك بدعاية الإسلام أسلم تسلم يؤتك الله أجرك مرتين فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيين و {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد کی طرف سے روم کے عظیم حکمران ہرقل کے نام۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ سلامت رہو گے، اللہ تمہیں تمہارا اجر دوگنا دے گا۔ اور اگر تم نے منہ موڑا تو تم پر اریوسیوں (یعنی کسانوں اور رعایا) کا بھی گناہ ہوگا۔ اور ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ ”اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں۔“ [سورة آل عمران: 64]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أبي سفيان. مختصر مسلم ١١٢٢.
«بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما اشترى العداء بن خالد بن هوذة من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى منه عبدا أو أمة على أن لا داء ولا غائلة ولا خبثة بيع المسلم للمسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ یہ وہ تحریر ہے جس کی رو سے العداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے خریداری کی۔ اس نے آپ ﷺ سے ایک غلام یا لونڈی خریدی ہے، اس شرط پر کہ اس میں کوئی بیماری، کوئی عیب اور کوئی پوشیدہ برائی (یا دھوکہ) نہیں ہے۔ یہ ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے ساتھ (صاف ستھری) خرید و فروخت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2821
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ] عن العداء بن خالد. بيوع الموسوعة: الطحاوي، ابن الجارود، قط، هق، خ تعليقا.
«بشرى الدنيا الرؤيا الصالحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا کی خوشخبری (سے مراد) نیک خواب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2822
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. الصحيحة ١٧٨٦: حم، ابن جرير عنه وعن عبادة بن الصامت.
«بشر المشائين في الظلم إلى المساجد بالنور التام يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اندھیروں میں چل کر مسجدوں کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن ملنے والے مکمل نور کی خوشخبری دے دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2823
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت] عن بريدة [هـ ك] عن أنس وسهل بن سعد. المشكاة ٧٢١، صحيح أبي داود ٥٧٠، صحيح الترغيب ٣١٣.
«بشر الناس أنه من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له وجبت له الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں کو خوشخبری دے دو کہ جس نے سچے دل سے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» کہہ دیا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن سهل بن حنيف وعن زيد بن خالد الجهني. الصحيحة ٧١٢: طب – زيد.
«بشر هذه الأمة بالسناء والدين والرفعة والنصر والتمكين في الأرض فمن عمل منهم عمل الآخرة للدنيا لم يكن له في الآخرة من نصيب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس امت کو بلندی، دین (کی سربلندی)، رفعت، مدد اور زمین میں غلبہ ملنے کی خوشخبری دے دو، پس ان میں سے جو شخص دنیا پانے کے لیے آخرت والا (نیک) عمل کرے گا تو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2825
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب ك هب] عن أبي. أحكام الجنائز ٥٢.
«بشروا خديجة ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خدیجہ کو جنت میں خولدار موتی کے ایک ایسے محل کی خوشخبری دے دو جس میں نہ کوئی شور و غل ہوگا اور نہ ہی کوئی تھکاوٹ اور مشقت ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2826
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن عبد الله ابن أبي أوفى وعن عائشة.
«بطحان على بركة من برك الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بطحان (مدینہ منورہ کی وادی) جنت کے تالابوں میں سے ایک تالاب پر واقع ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البزار] عن عائشة. الصحيحة ٧٦٩.
«بعثت إلى أهل البقيع لأصلي عليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے اہلِ بقیع کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ میں ان کے لیے (دعائے مغفرت کی) نماز پڑھوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2828
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن عائشة. الصحيحة ١٧٧٤: مالك، ن.
«بعثت أنا والساعة كهاتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ (قریب ترین دور میں) بھیجے گئے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2829
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أنس [حم ق] عن سهل بن سعد.
«بعثت بجوامع الكلم ونصرت بالرعب وبينا أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے جوامع الکلم (یعنی وہ جامع کلمات جن کے الفاظ مختصر اور معانی وسیع ہوں) دے کر بھیجا گیا ہے اور (دشمن پر) رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور اسی دوران کہ میں سویا ہوا تھا، مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2830
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن أبي هريرة.
"بعثت بين يدي الساعة بالسيف حتى يعبد الله تعالى
وحده لا شريك له وجعل رزقي تحت ظل رمحي وجعل الذل والصغار على من خالف أمري ومن تشبه بقوم فهو منهم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے قیامت سے کچھ پہلے تلوار دے کر مبعوث کیا گیا ہے یہاں تک کہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، اور میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے رکھا گیا ہے، اور جو میرے حکم کی مخالفت کرے اس پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی گئی ہے، اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے تو وہ انہی میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2831
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع طب] عن ابن عمر. حجاب المرأة ١٠٤، الإرواء ١٢٦٩.
«بعثت في نسم الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں قیامت کی ہواؤں (یعنی قیامت کے بالکل قریب کے وقت) میں مبعوث کیا گیا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2832
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحاكم في الكنى] عن أبي جبيرة. الصحيحة ٨٠٨.
«بعثت لأتمم صالح الأخلاق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے تو بس اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کروں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2833
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٨٠٩.
«بعثت من خير قرون بني آدم قرنا فقرنا حتى كنت من القرن الذي كنت فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے بنی آدم کے بہترین زمانوں میں یکے بعد دیگرے بھیجا گیا (یعنی میرا نور بہترین نسلوں میں منتقل ہوتا رہا)، یہاں تک کہ میں اس زمانے میں مبعوث ہوا جس میں اب میں موجود ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2834
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٨٠٩.
«بكروا بالإفطار وأخروا السحور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”افطار کرنے میں جلدی کیا کرو اور سحری کو مؤخر کرو (یعنی دیر سے کھایا کرو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2835
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد] عن أنس. الصحيحة ١٧٧٣.
«بل الله يخفض ويرفع وإني لأرجو أن ألقى الله وليس لأحد عندي مظلمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلکہ اللہ تعالیٰ ہی (قیمتوں کو) کم کرنے والا اور بڑھانے والا ہے، اور میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کسی کا مجھ پر کوئی ظلم (یا حق) باقی نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2836
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هق] عن أبي هريرة١. الروض النضير ٤٠٥: حم.
«بلغوا عني ولو آية وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج ومن كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری طرف سے (لوگوں تک) پہنچا دو خواہ وہ ایک آیت ہی ہو، اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ میں بنا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2837
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت] عن ابن عمرو. الروض النضير ٥٨٢، العلم لأبي خيثمة ٤٥.
«بلوا أرحامكم ولو بالسلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے رشتوں کو (صلہ رحمی کی تری سے) تر رکھو، خواہ یہ محض سلام کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2838
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البزار] عن ابن عباس [طب] عن أبي الطفيل [هب] عن أنس وسويد بن عمرو وقيل ابن عامر الأنصاري٢. الصحيحة ١٧٧٧: وكيع في [الزهد] ، حب في [الثقات] ، القضاعي، ابن عساكر – سويد. القطيعي – ابن عباس.
«بنو هاشم وبنو المطلب شيء واحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنو ہاشم اور بنو مطلب (مرتبے اور حکم میں) ایک ہی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2839
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن جبير بن مطعم. الإرواء ١٢٤٢: خ١.
«بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصوم رمضان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام کی عمارت پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2840
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن ابن عمر. وض ٢٧٠، إيمان أبي عبيد ص١٤، الإرواء ٧٨١.
«بورك لأمتي في بكورها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے لیے ان کے صبح سویرے (بیدار ہونے اور کام کاج کرنے) میں برکت ڈال دی گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2841
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أبي هريرة [عبد الغني في الإيضاح] عن ابن عمر. الروض النضير ٩٢٢، ٤٩٠، المشكاة ٣٩٠٨.
«بول الغلام ينضح وبول الجارية يغسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شیرخوار لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے (تو پاک ہو جاتا ہے) اور شیرخوار بچی کے پیشاب کو (باقاعدہ) دھویا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أم كرز. الإرواء ١٦٦.
«بؤسا لك يا ابن سمية تقتلك الفئة الباغية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”افسوس اے ابنِ سمیہ (عمار بن یاسر)! تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2843
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي قتادة. الصحيحة ٧١٠.
«بيت لا تمر فيه جياع أهله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ گھر جس میں کھجور نہ ہو، اس کے گھر والے بھوکے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2844
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت هـ] عن عائشة. مختصر مسلم ١٣١٨.
«بيت لا تمر فيه كالبيت لا طعام فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ گھر جس میں کھجور نہ ہو، بالکل اس گھر کی مانند ہے جس میں کوئی کھانا نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2845
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن سلمى. الصحيحة ١٧٧٦.
«بئس مطية الرجل زعموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کی بدترین سواری (یعنی گفتگو کا بدترین سہارا) یہ کہنا ہے کہ لوگوں کا ایسا گمان ہے (یعنی بغیر تحقیق کے سنی سنائی باتوں کو آگے پھیلاتے رہنا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2846
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن حذيفة. الصحيحة ٨٦٦.
«بئسما لأحدكم أن يقول: نسيت آية كيت وكيت بل هو نُسِّيَ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کا یہ کہنا کتنا برا ہے کہ میں نے فلاں فلاں آیت بھلا دی ہے، بلکہ درحقیقت اسے بھلا دیا گیا ہے (لہٰذا اسے یوں کہنا چاہیے کہ مجھے بھلا دی گئی ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2847
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن ابن مسعود.
«بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (حدِ فاصل صرف) نماز کا چھوڑ دینا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2848
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ت هـ] عن جابر. الروض ٢٢٤، ٢٢٥، صحيح الترغيب ٥٦٣.
«بين الكفر والإيمان ترك الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کفر اور ایمان کے درمیان فرق نماز کا چھوڑنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الباء / حدیث: 2849
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن جابر. الروض النضير ٢٢٤، ٢٢٥ صحيح الترغيب ٥٦٣.