حدیث نمبر: 797
"إذا مر بالنطفة اثنتان وأربعون ليلة بعث الله إليها ملكا فصورها وخلق سمعها وبصرها وجلدها ولحمها وعظامها، ثم قال: يا رب أذكر أم أنثى؟ فيقضي ربك ما شاء ويكتب الملك، ثم
يقول: يا رب أجله فيقول ربك ما شاء ويكتب الملك ثم يقول: يا رب رزقه فيقضي ربك ما شاء ويكتب الملك ثم يخرج الملك بالصحيفة في يده فلا يزيد على أمر ولا ينقص"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نطفے (کے رحم مادر میں ٹھہرنے) پر بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کی صورت بناتا ہے، اس کے کان، اس کی آنکھیں، اس کی کھال، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! کیا یہ لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ تو تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! اس کی موت کا وقت کب ہے؟ تو تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! اس کا رزق کتنا ہے؟ تو تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ پھر وہ فرشتہ اپنے ہاتھ میں وہ صحیفہ (نوشتہ تقدیر) لے کر نکل جاتا ہے، پس وہ اس حکم میں نہ کوئی اضافہ کرتا ہے اور نہ ہی کوئی کمی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 797
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن حذيفة بن أسيد. الضعيفة ٢٣٢٢.