کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«من كان منكم ذا طول فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لا فالصوم له وجاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے جو استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کے لیے زیادہ مؤثر ہے، اور جو استطاعت نہ رکھے وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کے لیے حفاظت کا ذریعہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6498
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عثمان. الترغيب ٣/٦٧: حم.
«من كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل أربعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے جو جمعہ کے بعد نفل پڑھنا چاہے وہ چار رکعتیں پڑھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6499
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ١٠٣٦، الإرواء ٦١٨: م١.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فإذا شهد أمرا فليتكلم بخير أو ليسكت واستوصوا بالنساء فإن المرأة خلقت من ضلع وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه إن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج استوصوا بالنساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ جب کسی معاملے کا مشاہدہ کرے تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے، اور عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا اوپری حصہ ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو تو اسے توڑ دو گے، اور اگر اسے چھوڑ دو تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی، پس عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6500
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٨٤٤.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليحسن إلى جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليسكت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6501
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أبي شريح وأبي هريرة. مختصر مسلم ٣٢.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته يوم وليلة والضيافة ثلاثة أيام فما بعد ذلك فهو صدقة ولا يحل له أن يثوي عنده حتى يخرجه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اس کی خصوصی مہمان نوازی ایک دن رات ہے، اور مہمان نوازی تین دن ہے، اس کے بعد جو کچھ ہے وہ صدقہ ہے، اور مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اتنا ٹھہرے کہ میزبان کو تنگ کر دے یہاں تک کہ وہ اسے نکالنے پر مجبور ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي شريح. المشكاة ٢٢٤٤، الإرواء ٢٥٢٣، ك ٤/١٦٤.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يأخذن إلا مثلا بمثل» - يعني الذهب بالذهب
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ برابر کے بدلے برابر کے سوا نہ لے، یعنی سونے کے بدلے سونا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6503
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن فضالة بن عبيد. أحاديث البيوع.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره واستوصوا بالنساء خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6504
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. قلت: فهذا موقوف على سهيل. وفي رواية على أبيه أبي صالح، وقد توهم بعض الطلاب أنه مرفوع فتبنى التفصيل المذكور وهو خطأ. فتنبه.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بمئزر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6505
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح الترغيب ١٥٩، غاية المرام ١٩٠، الإرواء ٢٠٠٩، آداب الزفاف٥٩.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام بغير إزار ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل حليلته الحمام ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يجلس على مائدة يدار عليها الخمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو حمام میں جانے کی اجازت نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چل رہا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6506
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ك] عن جابر. المصادر السابقة.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يسق ماءه زرع غيره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يأت سبيا من السبي حتى يستبرئها ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يبيعن مغنما حتى يقسم ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يركبن دابة من فيء المسلمين حتى إذا أعجفها ردها فيه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يلبسن ثوبا من فيء المسلمين حتى إذا أخلقه رده فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنا پانی کسی دوسرے کی کھیتی میں نہ ڈالے (یعنی حاملہ باندی سے ہم بستری نہ کرے)، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی قیدی عورت سے اس وقت تک ہم بستری نہ کرے جب تک اس کا استبراء (حمل کی تصدیق) نہ کر لے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مالِ غنیمت میں سے کچھ اس وقت تک نہ بیچے جب تک اس کی تقسیم نہ ہو جائے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مالِ فَے میں سے کسی جانور پر اس وقت تک سوار نہ ہو کہ جب اسے کمزور کر دے تو اسے واپس اسی میں لوٹا دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مالِ فَے میں سے کوئی کپڑا اس وقت تک نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو اسے واپس اسی میں لوٹا دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6507
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن رويفع بن ثابت. الإرواء ٢١٣٧.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يسق ماءه ولد غيره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ حاملہ باندی سے ہم بستری کر کے اپنا پانی کسی اور کی اولاد کو نہ پلائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6508
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن رويفع. الإرواء ٢١٣٧.
«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يلبس حريرا ولا ذهبا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ریشم اور سونا نہ پہنے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6509
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن أبي أمامة. الصحيحة ٣٣٧.
«من كانت الآخرة همه جعل الله غناه في قلبه وجمع له شمله وأتته الدنيا وهي راغمة ومن كانت الدنيا همه جعل الله فقره بين عينيه وفرق عليه شمله ولم يأته من الدنيا إلا ما قدر له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کی فکر آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کی بےنیازی اس کے دل میں ڈال دیتا ہے، اس کے بکھرے ہوئے معاملات جمع کر دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے، اور جس کی فکر دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے، اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے اور دنیا میں سے اسے صرف اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لیے مقدر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6510
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أنس. الصحيحة ٩٤٩ - ٩٥٠.
«من كانت لأخيه عنده مظلمة من عرض أو مال فليتحلله اليوم قبل أن يؤخذ منه يوم لا دينار ولا درهم فإن كان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته وإن لم يكن له عمل أخذ من سيئات صاحبه فجعلت عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنے بھائی کی عزت یا مال میں کوئی ظلم کیا ہو تو وہ آج ہی اس سے معافی مانگ لے قبل اس کے کہ وہ دن آئے جب نہ دینار ہوگا نہ درہم، اگر اس کے پاس نیک عمل ہوں گے تو اس کے ظلم کے بقدر اس سے لے لیے جائیں گے، اور اگر اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی تو اس کے ساتھی کے گناہوں میں سے لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6511
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي هريرة. شرح الطحاوية ٣٧٨، الضعيفة ٣٦٤١.
«من كانت له أرض فأراد بيعها فليعرضها على جاره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے پاس زمین ہو اور وہ اسے بیچنا چاہے تو وہ اسے پہلے اپنے پڑوسی کو پیش کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6512
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عباس. الصحيحة ٢٣٥٨: الضياء.
«من كانت له أرض فليزرعها أو ليزرعها أخاه ولا يكرها بثلث ولا ربع ولا بطعام مسمى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے پاس زمین ہو وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو کھیتی کرنے دے، اور اسے تہائی، چوتھائی یا کسی مقررہ مقدار غلے کے عوض کرائے پر نہ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6513
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ] عن رافع بن خديج. م ٥/٢٣١.
«من كانت له أرض فليزرعها فإن لم يستطع أن يزرعها وعجز عنها فليمنحها أخاه المسلم ولا يؤاجرها فإن لم يفعل فليمسك أرضه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں کھیتی کرے، اور اگر وہ کھیتی نہ کر سکے اور اس سے عاجز ہو تو وہ اپنے مسلمان بھائی کو بلامعاوضہ دے دے اور اسے کرائے پر نہ دے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اپنی زمین خالی روکے رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6514
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن جابر [ق ن] عن أبي هريرة [حم ت ن] عن رافع بن خديج [حم د] عن رافع بن رفاعة.
«من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف جھک جائے (میلان رکھے) تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الصحيحة ٢٠٧٧: الترغيب ٣/٧٩: الطيالسي، حب، ك. الإرواء ٢١٧.
"من كانت همه الآخرة جمع الله له شمله، وجعل غناه في قلبه وأتته الدنيا راغمة ومن كانت همه الدنيا فرق الله عليه أمره وجعل فقره بين عينيه ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب الله له "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کی فکر آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کے بکھرے ہوئے معاملات جمع کر دیتا ہے، اس کی بےنیازی اس کے دل میں ڈال دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے، اور جس کی فکر دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے، اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور دنیا میں سے اسے صرف اتنا ہی ملتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6516
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن زيد بن ثابت. الصحيحة ٩٤٩: حب.
«من كتم علما عن أهله ألجم يوم القيامة لجاما من نار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے علم کو اس کے حق داروں سے چھپایا اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6517
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح الترغيب ١/٧٣، تحذير الساجد ص ٤: حب، ك - ابن عمرو.
«من كتم غيظا وهو قادر على أن ينفذه دعاه الله على رءوس الخلائق حتى يخيره من الحور العين يزوجه منها ما شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے حورعین میں سے اختیار دے گا کہ وہ جسے چاہے اپنے نکاح میں لے لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6518
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [٤] عن معاذ بن أنس. الترغيب ٣/٢٧٩: حم، حل، هـ.
«من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6519
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح متواتر
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن أنس [١] ... [حم خ د ن هـ] عن الزبير [٢] ... [م] عن أبي هريرة [٣] ... [ت] عن علي [٤] ... [حم هـ] عن جابر [٥] . وعن أبي سعيد [٦] ... [ت هـ] عن ابن مسعود [٧] ... [حم ك] عن خالد بن عرفطة [٨] , وعن زيد بن أرقم [٩] ... [حم] عن سلمة بن الأكوع [١٠] ، وعن عقبة بن عامر [١١] ، وعن معاوية بن أبي سفيان [١٢] ... [طب] عن السائب بن يزيد [١٣] ، وعن سلمان بن خالد الخزاعي [١٤] ، وعن صهيب [١٥] ، وعن طارق بن أشيم [١٦] ، وعن طلحة بن عبيد الله [١٧] ، وعن ابن عباس [١٨] ، وعن ابن عمر [١٩] ، وعتبة بن غزوان [٢٠] ، وعن العرس بن عميرة [٢١] ، وعن عمار بن ياسر [٢٢] ، وعن عمران بن حصين [٢٣] ، وعن عمرو بن حريث [٢٤] ، وعن عمرو بن عبسة [٢٥] ، وعن عمرو بن مرة الجهني [٢٦] ، وعن المغيرة بن شعبة [٢٧] ، وعن يعلى بن مرة [٢٨] ، وعن أبي عبيدة بن الجراح [٢٩] ، وعن أبي موسى الأشعري [٣٠] ... [طس] عن البراء [٣١] ، وعن معاذ بن جبل [٣٢] ، وعن نبيط بن شريط [٣٣] ، وعن أبي ميمون [٣٤] ... [قط في] الأفراد [" عن أبي رمثة] ٣٥ [، وعن ابن الزبير] ٣٦ [، وعن أبي رافع] ٣٧ [، وعن أم أيمن] ٣٨ [ ... ] خط [عن سلمان الفارسي] ٣٩ [، وعن أبي أمامة] ٤٠ [ ... ] ابن عساكر [عن رافع بن خديج] ٤١ [، وعن يزيد بن أسد] ٤٢ [، وعن عائشة] ٤٣ [ ... ] ابن صاعد في [طرقه] [عن أبي بكر الصديق] ٤٤ [، وعن عمر بن الخطاب] ٤٥ [، وعن سعد بن أبي وقاص] ٤٦ [، وعن حذيفة بن أسيد] ٤٧ [، وعن حذيفة بن اليمان] ٤٨ [ ... ] أبو مسعود بن الفرات في [جزئه] [عن عثمان بن عفان] ٤٩ [ ... ] البزار [عن سعيد بن زيد] ٥٠ [ ... ] عد [عن أسامة بن زيد] ٥١ [، وعن بريدة] ٥٢"، وعن سفينة [٥٣] ، وعن أبي قتادة [٥٤] ... [أبو نعيم في] المعرفة [ " عن جندع بن عمرو] ٥٥ [, وعن سعد بن المدحاس] ٥٦ [، وعن عبد الله بن زغب] ٥٧ [ ... ] ابن قانع [عن عبد الله بن أبي أوفى] ٥٨ [ ... ] ك في المدخل [عن عفان بن حبيب] ٥٩ [ ... ] عق [عن غزوان] ٦٠ [، وعن أبي كبشة] ٦١ [ ... ] ابن الجوزي في [مقدمة الموضوعات] ١ [عن أبي ذر] ٦٢ [، وعن أبي موسى الغافقي] ٦٣" ". الروض النضير ٧٠٧، مختصر مسلم ١٨٦١، ١٨٦٢.
«من كذب في حلمه كلف يوم القيامة عقد شعيرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنے خواب کے بارے میں جھوٹ بولا اسے قیامت کے دن جو کے دانے کو گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6520
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن علي. الصحيحة ٢٣٥٩: الدارمي، عم - علي. خ، ت - ابن عباس.
«من كسر أو مرض أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى من قابل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ بیمار ہو جائے یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو جائے گا اور اس پر آئندہ سال دوسرا حج لازم ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6521
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ ك] عن الحجاج بن عمرو بن غزية. المشكاة ٢٧١٣.
«من كظم غيظا وهو قادر على أن ينفذه دعاه الله على رءوس الخلائق حتى يخيره من الحور العين يزوجه منها ما شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے حورعین میں سے اختیار دے گا کہ وہ جسے چاہے اپنے نکاح میں لے لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6522
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [٤] عن معاذ بن أنس. المشكاة ٥٠٨٨، الروض النضير ٨٥٤: حم، طص.
«من كنت مولاه فعلي مولاه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کا میں مولا (دوست و کارساز) ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6523
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن البراء [حم] عن بريدة [ت ن الضياء] عن زيد بن أرقم. الصحيحة ١٧٥٠، الروض النضير ١٧١، المشكاة ٦٠٨٢.
«من كنت وليه فعلي وليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کا میں ولی ہوں علی بھی اس کے ولی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6524
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك] عن بريدة. الروض النضير ١٧١: طص.
«من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6525
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أنس. الصحيحة ٣٨٤.
«من لبس ثوب شهرة ألبسه الله يوم القيامة ثوبا مثله ثم يلهب فيه النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے شہرت (دکھاوے) کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ویسا ہی لباس پہنائے گا پھر اس میں آگ بھڑکا دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6526
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د هـ] عن ابن عمر. حجاب المرأة المسلمة ١١٠.
«من لطم مملوكه أو ضربه فكفارته أن يعتقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے پیٹا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن ابن عمر. الإرواء ٢١٧٣.
«من لعب بالنردشير فكأنما غمس يده في لحم الخنزير ودمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے نرد (جوئے کا ایک کھیل) کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبویا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6528
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د هـ] عن بريدة. مختصر مسلم ١٥١١، الإرواء ٢٦٧٠.
«من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے نرد کھیلی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6529
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن أبي موسى. الإرواء ٢٦٧٠.
«من لعب بطلاق أو عتاق فهو كما قال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے طلاق یا آزادی کے بارے میں مذاق میں بھی کچھ کہا تو وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6530
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. الإرواء ١٨٢٦.
«من لقي الله لا يشرك به شيئا دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ سے اس حال میں ملا کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6531
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أنس. التوحيد ٣٣٣ - عن جابر.
«من لكعب بن الأشرف؟ فإنه قد آذى الله ورسوله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کعب بن اشرف کا معاملہ کون سنبھالے گا؟ بےشک اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن جابر. مختصر مسلم ١١٧٠.
«من لم يأخذ من شاربه فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنی مونچھیں نہ کترائیں وہ ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن الضياء] عن زيد بن أرقم. الروض النضير ٣١٣، المشكاة ٤٤٣٨.
«من لم يبيت الصيام قبل طلوع الفجر فلا صيام له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے فجر طلوع ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6534
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط هق] عن عائشة. الإرواء ٩١٤.
«من لم يبيت الصيام من الليل فلا صيام له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رات کو روزے کی نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن حفصة. الإرواء ٩١٤.
«من لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں سے نیچے کاٹ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6536
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عمر. الإرواء ١٠١٢.
«من لم يجد نعلين فليلبس خفين ومن لم يجد إزارا فليلبس سرأويل. - يعني - المحرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو (احرام کی حالت میں) جوتے نہ پائے وہ موزے پہن لے، اور جو تہبند نہ پائے وہ پاجامہ پہن لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6537
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر [حم ق ن هـ] عن ابن عباس. الإرواء ١٠١٢.