کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف صاد سے شروع ہونے والی احادیث
«صاحب الدابة أحق بصدرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جانور کا مالک اس کے اگلے حصے (پر بیٹھنے) کا زیادہ حق دار ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3750
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن بريدة [حم طب] عن قيس بن سعد وحبيب بن مسلمة [حم] عن عمر [طب] عن عصمة بن مالك الخطمي وعروة بن مغيث الأنصاري [طس] عن علي [البزار] عن أبي هريرة [أبونعيم] عن فاطمة الزهراء. المشكاة ٣٩١٨.
«صاحب الدابة أحق بصدرها، إلا من أذن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہے، سوائے اس کے جسے وہ اجازت دے دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3751
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن بشير. المصدر السابق.
«صاحب الصور واضع الصور على فيه منذ خلق ينتظر متى يؤمر أن ينفخ فيه فينفخ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صور کا ذمہ دار فرشتہ اپنی تخلیق کے وقت سے صور کو منہ سے لگائے ہوئے ہے، وہ اس انتظار میں ہے کہ کب اسے حکم دیا جائے کہ اس میں پھونک مارے تو وہ پھونک مار دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3752
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خط] عن البراء. الصحيحة ١٠٧٩: ت, حم, حب, ك, أبي سعيد.
«صاحب العلم يستغفر له كل شيء حتى الحوت في البحر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صاحبِ علم کے لیے ہر چیز استغفار کرتی ہے، حتیٰ کہ سمندر کی مچھلی بھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3753
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] عن أنس. صحيح الترغيب ٧٨: ت - أبي أمامة١.
«صبيحة ليلة القدر تطلع الشمس لا شعاع لها كأنها طست حتى ترتفع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کی صبح کو سورج بغیر کرنوں کے طلوع ہوتا ہے، گویا وہ ایک طشت ہے، یہاں تک کہ بلند ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3754
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٣] عن أبي. مختصر مسلم ٦٣٨.
«صدق ابن مسعود زوجك وولدك أحق من تصدقت به عليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن مسعود نے سچ کہا، تمہاری بیوی اور تمہاری اولاد اس صدقے کی زیادہ حق دار ہیں جو تم انہیں دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3755
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي سعيد. الإرواء ٨٧٨
«صدق الله فصدقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ سے سچا رہا، اللہ نے اسے سچا کر دکھایا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3756
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث أحكام الجنائز ص ٦١: الطحاوي, ك, هق.
«صدق الله ورسوله: {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأولادُكُمْ فِتْنَةٌ} نظرت إلى هذين الصبيين يمشيان ويعثران فلم أصبر حتى قطعت حديثي ورفعتهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: تمہارے مال اور تمہاری اولاد محض ایک آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں بچوں کو چلتے اور لڑکھڑاتے دیکھا تو صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی بات (خطبہ) روک دی اور انہیں اٹھا لیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3757
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ حب ك] عن بريدة. صحيح أبي داود ١٠١٦
«صدقت المسلم أخوالمسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم نے سچ کہا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3758
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ك] عن سويد بن حنظلة. الصحيحة ٥٠٣
«صدقة السر تطفئ غضب الرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پوشیدہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3759
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طص] عن عبد الله بن جعفر ... [العسكري في السرائر] عن أبي سعيد. الروض النضير ٣٧٥, صحيح الترغيب ٢/٣١, الصحيحة ١٩٠٨: ك, طس, القضاعي - عبد الله. العسكري - أبي سعيد. ابن عساكر - ابن عباس. أبو بكر الذكواني - عمر. القطاعي ابن مسعود. طس. أم سلمة. طب, لؤلؤ - أبي أمامة. طس, القضاعي, الضياء في مسموعات مرو - معاوية بن حيدة. ت, حب - أنس١.
«صدقة السر تطفئ غضب الرب وصلة الرحم تزيد في العمر وفعل المعروف يقي مصارع السوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پوشیدہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے، صلہ رحمی عمر میں اضافہ کرتی ہے، اور نیکی کرنا بری موت سے بچاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3760
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٩٠٨: العسكري - أبي سعيد. ابن عساكر - ابن عباس. أبو بكر الذكواني - عمر. طس. أم سلمة. طس, لؤلؤ - أبي أمامة. طس, القضاعي, المقدسي في مسموعات مرو - معاوية بن حيدة.
«صدقة الفطر صاع من تمر أو صاع من شعير أو مدان من حنطة عن كل صغير وكبير وحر وعبد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا دو مد گندم ہے، ہر چھوٹے بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3761
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط] عن ابن عمر. الصحيحة ١١٧٧
«صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے، پس اس کے صدقے کو قبول کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق١ ٤] عن عمر. مختصر مسلم ٤٣٣, صحيح أبي داود ١٠٨٣.
«صدقة ذي الرحم على ذي الرحم صدقة وصلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رشتہ دار کی طرف سے رشتہ دار کو دیا گیا صدقہ، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3763
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس] عن سلمان بن عامر. الإرواء ٨٨٣.
«صغاركم دعاميص الجنة يتلقى أحدهم أباه فيأخذ بثوبه فلا ينتهي حتى يدخله الله وأباه الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے چھوٹے بچے (جو فوت ہو جائیں) جنت کے کیڑے (چھوٹی مخلوق) ہیں، ان میں سے کوئی اپنے باپ سے ملے گا تو اس کا کپڑا پکڑ لے گا اور اس وقت تک نہیں چھوڑے گا جب تک اللہ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3764
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد م] عن أبي هريرة. الصحيحة ٤٣٢.
«صفوة الله من أرضه الشام وفيها صفوته من خلقه وعباده وليدخلن الجنة من أمتي ثلة لا حساب عليهم ولا عذاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی چنی ہوئی سرزمین شام ہے، اور اس میں اس کی مخلوق اور بندوں میں سے اس کے چنیدہ لوگ ہیں، اور میری امت میں سے ایک جماعت ضرور جنت میں داخل ہو گی، ان پر نہ کوئی حساب ہو گا اور نہ عذاب۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3765
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٩٠٩: ابن عساكر
«صلة الرحم تزيد في العمر وصدقة السر تطفئ غضب الرب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صلہ رحمی عمر میں اضافہ کرتی ہے اور پوشیدہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3766
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [القضاعي] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٩٠٨.
«صلة الرحم وحسن الخلق وحسن الجوار يعمرن الديار ويزدن في الأعمار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور اچھا پڑوس، یہ گھروں کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3767
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هب] عن عائشة. الصحيحة ٥١٩
«صلة القرابة مثراة في المال محبة في الأهل منسأة في الأجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رشتہ داری جوڑنا مال میں اضافہ، گھر والوں میں محبت اور موت کی مہلت (عمر میں اضافے) کا سبب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3768
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن عمروبن سهل. الصحيحة ٢٧٦: حم, ت, ك - أبي هريرة. طب - العلاء بن خارجة. الخطيب - علي.
«صل من قطعك وأحسن إلى من أساء إليك وقل الحق ولو على نفسك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑے رکھو، جو تمہارے ساتھ برائی کرے اس کے ساتھ بھلائی کرو، اور حق بات کہو چاہے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3769
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن النجار] عن علي. الصحيحة ١٩١١: ابن السماك.
«صل الصلاة لوقتها فإن أدركت الإمام يصلي بهم فصل معهم وقد أحرزت صلاتك وإلا فهي نافلة لك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز اس کے وقت پر پڑھو، پس اگر تم امام کو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھاتے پاؤ تو ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لو، تمہاری (پہلی) نماز تمہارے لیے کافی ہو چکی ہے، ورنہ یہ (دوسری نماز) تمہارے لیے نفل ہو گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3770
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي ذر. الإرواء ٤٨٣: م
«صل الصلاة لوقتها فإن أدركت معهم فصل ولا تقل إني قد صليت فلا أصلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز اس کے وقت پر پڑھو، پس اگر تم انہیں (نماز پڑھتے) پاؤ تو ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لو، اور یہ مت کہو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں، اس لیے (دوبارہ) نہیں پڑھوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3771
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن حب] عن أبي ذر. الإرواء ٤٨٣: م
«صل بـ {الشَّمْسِ وَضُحَاهَا} ونحوها من السور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز میں ”والشمس وضحاھا“ اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3772
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن بريدة. الإرواء ٢٩٥
«صل بصلاة أضعف القوم ولا تتخذ مؤذنا يأخذ على أذانه أجرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز اتنی (ہلکی) پڑھاؤ جتنی کمزور ترین آدمی برداشت کر سکے، اور ایسا مؤذن مقرر نہ کرو جو اپنی اذان پر اجرت لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3773
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن المغيرة. صحيح أبي داود ٥٤١: حم, د, ن, الطحاوي, أبو عوانة - عثمان بن أبي العاص.
«صل ركعتين تجوز فيهما وإذا جاء أحدكم والإمام يخطب يوم الجمعة فليصل ركعتين وليخففهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دو رکعتیں پڑھو اور انہیں مختصر رکھو، اور جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اس حال میں آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور انہیں ہلکا رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3774
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن جابر. صحيح أبي داود ١٠٢٢, ١٠٢٣: م
"صل صلاة الصبح ثم أقصر عن الصلاة حتى تطلع الشمس حتى ترتفع فإنها تطلع حين تطلع بين قرني شيطان وحينئذ يسجد لها الكفار ثم صل فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى يستقل الظل بالرمح ثم أقصر عن الصلاة فإن حينئذ تسجر جهنم فإذا أقبل الفيء فصل فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى تصلي العصر ثم أقصر عن الصلاة حتى تغرب الشمس فإنها تغرب بين قرني شيطان وحينئذ يسجد لها الكفار"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فجر کی نماز پڑھو، پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو کر بلند ہو جائے، کیونکہ یہ طلوع کے وقت شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھو، کیونکہ اس وقت کی نماز میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ پھر نماز سے رک جاؤ، کیونکہ اس وقت جہنم کو دہکایا جاتا ہے۔ پھر جب سایہ (زوال کے بعد) بڑھنے لگے تو نماز پڑھو، کیونکہ اس وقت کی نماز میں بھی (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو۔ پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، کیونکہ یہ غروب کے وقت شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3775
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عمروبن عنبسة. صحيح أبي داود ١١٥٨, الإرواء ٢٧٧٩
«صل صلاة مودع كأنك تراه فإن كنت لا تراه فإنه يراك وايأس مما في أيدي الناس تعش غنيا وإياك وما يعتذر منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز اس طرح پڑھو جیسے کوئی رخصت ہونے والا پڑھتا ہو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اور لوگوں کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس سے مایوس ہو جاؤ، تم غنی بن کر زندگی گزارو گے۔ اور اس چیز سے بچو جس کی معذرت کرنی پڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [أبومحمد الإبراهيمي في كتاب الصلاة ابن النجار] عن ابن عمر. الصحيحة ١٤
«صل قائما إلا أن تخاف الغرق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کھڑے ہو کر نماز پڑھو، سوائے اس کے کہ تمہیں ڈوبنے کا خطرہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3777
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن ابن عمر. صفة الصلاة: ٥٩, البزار, قط
«صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کروٹ کے بل۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3778
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ٤] عن عمران بن حصين. صحيح ابي داود٨٧٨، الارواء ٢٩٩، ٥٥٧
«صلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل الصلاة صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ سب سے افضل نماز آدمی کی اپنے گھر میں پڑھی گئی نماز ہے، سوائے فرض نماز کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3779
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن زيد بن ثابت. صحيح الترغيب ٤٤٠: حم, ن
«صلوا صلاة المغرب مع سقوط الشمس بادروا بها طلوع النجم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سورج غروب ہوتے ہی مغرب کی نماز پڑھ لیا کرو، ستارے نکلنے سے پہلے اس میں جلدی کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3780
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أيوب. الصحيحة ١٩١٥: حم
«صلوا على النبيين إذا ذكرتموني فإنهم قد بعثوا كما بعثت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میرا ذکر کرو تو انبیاء پر بھی درود بھیجا کرو، کیونکہ وہ بھی اسی طرح مبعوث کیے گئے جیسے میں مبعوث کیا گیا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3781
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الشاشي ابن عساكر] عن وائل بن حجر. فضل الصلاة ٤٥.
«صلوا على أنبياء الله ورسله فإن الله بعثهم كما بعثني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے انبیاء اور رسولوں پر درود بھیجا کرو، کیونکہ اللہ نے انہیں اسی طرح مبعوث کیا جیسے مجھے مبعوث کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3782
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن أبي عمر هب] عن أبي هريرة [خط] عن أنس. فضل الصلاة ٤٢
«صلوا علي واجتهدوا في الدعاء وقولوا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ پر درود بھیجا کرو اور دعا میں خوب کوشش کیا کرو، اور یوں کہا کرو: اے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما اور محمد اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کیا گیا، بزرگی والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3783
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ابن سعد سمويه البغوي البأوردي ابن قانع طب] عن زيد بن خارجة. صفة الصلاة ١٤٦ - ١٤٨: تخ, الطحاوي, ابن الأعرابي.
«صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں مت بناؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3784
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن] عن ابن عمر. الصحيحة ١٩١٠: حم, م
«صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا ولا تتخذوا بيتي عيدا وصلوا علي وسلموا فإن صلاتكم تبلغني حيثما كنتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں مت بناؤ، اور میرے گھر (قبر) کو میلے کی جگہ مت بناؤ، اور مجھ پر درود اور سلام بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا سلام مجھ تک پہنچتا ہے، تم جہاں بھی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3785
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع الضياء] عن الحسن بن علي. تحذير الساجد ٩٥ - ٩٦
«صلوا في بيوتكم ولا تتركوا النوافل فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان میں نفل نمازیں ترک نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3786
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط في] الأفراد "" عن أنس وجابر. الصحيحة ١٩١٠: الديلمي.
«صلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھو اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3787
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. المشكاة ٧٣٩, الإرواء ١٧٦.
«صلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل فإنها خلقت من الشياطين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھو اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ وہ شیاطین سے پیدا کیے گئے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3788
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الإرواء ١٧٦, حقيقة الصيام ٦٢ - ٦٣, الضعيفة ٢٢٠٩: حم, حب
«صلوا في مراح الغنم وامسحوا رغامها فإنها من دواب الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اور ان کے ناک پونچھو (ان پر شفقت کرو)، کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3789
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد، هق] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٢٨: البراز