حدیث نمبر: 3775
"صل صلاة الصبح ثم أقصر عن الصلاة حتى تطلع الشمس حتى ترتفع فإنها تطلع حين تطلع بين قرني شيطان وحينئذ يسجد لها الكفار ثم صل فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى يستقل الظل بالرمح ثم أقصر عن الصلاة فإن حينئذ تسجر جهنم فإذا أقبل الفيء فصل فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى تصلي العصر ثم أقصر عن الصلاة حتى تغرب الشمس فإنها تغرب بين قرني شيطان وحينئذ يسجد لها الكفار"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فجر کی نماز پڑھو، پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو کر بلند ہو جائے، کیونکہ یہ طلوع کے وقت شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھو، کیونکہ اس وقت کی نماز میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ پھر نماز سے رک جاؤ، کیونکہ اس وقت جہنم کو دہکایا جاتا ہے۔ پھر جب سایہ (زوال کے بعد) بڑھنے لگے تو نماز پڑھو، کیونکہ اس وقت کی نماز میں بھی (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو۔ پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، کیونکہ یہ غروب کے وقت شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الصاد / حدیث: 3775
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عمروبن عنبسة. صحيح أبي داود ١١٥٨, الإرواء ٢٧٧٩