کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أدوا صاعا من بر أو قمح بين اثنين أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير على كل حر وعبد صغير وكبير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر آزاد اور غلام، چھوٹے اور بڑے کی طرف سے (صدقہ فطر کے طور پر) ایک صاع گندم دو آدمیوں کے درمیان (یعنی فی کس نصف صاع)، یا ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو ادا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 241
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم قط الضياء] عن عبد الله بن ثعلبة. الصحيحة ١١٧٧.
«أدوا صاعا من طعام في الفطر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عید الفطر کے موقع پر ایک صاع غلہ (بطور صدقہ فطر) ادا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 242
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل هق] عن ابن عباس. الصحيحة ١١٧٩.
«أدخل الله الجنة رجلا كان سهلا مشتريا وبائعا وقاضيا ومقتضيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو جنت میں داخل فرما دیا جو خریدتے وقت، فروخت کرتے وقت، فیصلہ کرتے وقت اور اپنا حق مانگتے وقت نرمی اور کشادہ دلی اختیار کرنے والا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 243
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث حم ن هـ هب عن عثمان. الصحيحة ١١٨١: تخ, الخرائطي.
«ادع إلى ربك الذي إن مسك ضر فدعوته كشف عنك, والذي إن أضللت بأرض قفر فدعوته رد عليك, والذي إن أصابتك سنة فدعوته أنبت لك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے اس رب کو پکارو کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے اور تم اسے پکارو تو وہ اسے تم سے دور کر دے گا، اور اگر تم کسی ویران اور بنجر زمین میں راستہ بھٹک جاؤ اور اسے پکارو تو وہ تمہیں تمہاری منزل کی طرف لوٹا دے گا، اور اگر تم پر قحط سالی آ جائے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے غلہ اور سبزہ اگا دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هق] عن أبي جري. المشكاة ٩١٨.
«ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ سے اس حال میں دعا کرو کہ تمہیں قبولیت کا کامل یقین ہو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کسی غافل اور لاپرواہ دل سے نکلنے والی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 245
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٦٤.
«ادعوا الناس وبشروا ولا تنفروا ويسروا ولا تعسروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں کو (دین کی طرف) دعوت دو اور خوشخبری سناؤ اور انہیں متنفر نہ کرو، اور ان کے لیے آسانی پیدا کرو اور سختی نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 246
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي موسى. الصحيحة ٤٢٢.
«ادعي أبا بكر أباك وأخاك حتى أكتب كتابا فإني أخاف أن يتمنى متمن ويقول قائل: أنا أولى ويأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں (خلافت کا) زیادہ حقدار ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر کے سوا کسی اور کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 247
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عائشة.
«ادفعوها إلى خالتها فإن الخالة أم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس (بچی) کو اس کی خالہ کے سپرد کر دو، کیونکہ خالہ ماں کے مقام پر ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن علي.
«ادفنوا القتلى في مصارعهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شہداء کو ان کی جائے شہادت پر ہی دفن کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 249
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٤] عن جابر. الجنائز ص ١٤, ١٣٨: حم, حب, هق.
«أدن اليتيم منك وألطفه وامسح برأسه وأطعمه من طعامك فإن ذلك يلين قلبك ويدرك حاجتك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یتیم کو اپنے قریب کرو، اس کے ساتھ شفقت سے پیش آؤ، اس کے سر پر ہاتھ پھیرو اور اسے اپنے کھانے میں سے کھلاؤ، یقیناً یہ عمل تمہارے دل کو نرم کر دے گا اور تمہاری حاجت پوری ہونے کا سبب بنے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 250
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث الخرائطي في مكارم الأخلاق ابن عساكر عن أبي الدرداء. الأحاديث الصحيحة ٨٥٤: الضياء, البيهقي.
«أدن يا بني فسم الله وكل بيمينك وكل مما يليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے میرے بیٹے! قریب آ جاؤ، اللہ کا نام (بسم اللہ) پڑھو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 251
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت حب] عن عمر١ بن أبي سلمة. الصحيحة ١١٨٤: حم.
«أدنى أهل النار عذابا ينتعل بنعلين من نار يغلي دماغه من حرارة نعليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہنمیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ شخص ہوگا جسے آگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے جن کی تپش سے اس کا دماغ ابلنے لگے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 252
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي سعيد. صحيح مسلم ١/١٣٥.
«أديموا الحج والعمرة فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ اور میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 253
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [قط٣ في الأفراد طس] عن جابر. الصحيحة ١٠٨٥.
«إذا آتاك الله مالا فلير أثر نعمة الله عليك وكرامته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ تمہیں مال و دولت عطا فرمائے تو تم پر اللہ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم کا اثر نظر آنا چاہیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 254
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٣ ك] عن والد أبي الأحوص. الروض ٨٥٢, غاية المرام ٧٥, المشكاة ٤٣٥٢: حم, ن, د, ابن سعد.
«إذا آتاك الله مالا فلير عليك فإن الله يحب أن يرى أثره على عبده حسنا ولا يحب البؤس ولا التباؤس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ تمہیں مال عطا فرمائے تو اس کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کے بندے پر اس کی دی ہوئی نعمت کا اچھا اثر دکھائی دے، اور وہ خستہ حالی اور جان بوجھ کر خود کو خستہ حال ظاہر کرنے کو ناپسند فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 255
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث تخ طب الضياء عن زهير بن أبي علقمة. غاية المرام ٧٦, الصحيحة ١٢٩٠, ١٣٢٠.
«إذا آتاك الله تعالى مالا لم تسأله ولم تشره إليه نفسك فاقبله فإنما هو رزق ساقه الله إليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی مال عطا فرمائے جس کا تم نے سوال نہ کیا ہو اور نہ ہی تمہارے دل میں اس کی کوئی لالچ ہو تو اسے قبول کر لو، کیونکہ یہ تو وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھیجا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 256
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن عمر. الصحيحة ١١٨٧: ك, البيهقي.
«إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کوئی غلہ خریدو تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچو جب تک کہ اسے پوری طرح اپنے قبضے میں نہ لے لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 257
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جابر. الإرواء ١٣٢٨.
«إذا ابتلى الله العبد المسلم ببلاء في جسده قال الله عز وجل: أكتب له صالح عمله فإن شفاه غسله وطهره وإن قبضه غفر له ورحمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو اس کے جسم میں کسی بیماری میں مبتلا فرماتا ہے تو اللہ عزوجل (فرشتوں سے) فرماتا ہے: اس کے لیے اس کے وہ نیک اعمال لکھتے رہو (جو وہ تندرستی میں کیا کرتا تھا)، پھر اگر اللہ اسے شفا دے دے تو اسے گناہوں سے دھو کر پاک کر دیتا ہے، اور اگر اسے وفات دے دے تو اس کی مغفرت فرما دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 258
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أنس. الإرواء ٥٦٠.
«إذا أبردتم إلي بريدا فابعثوه حسن الوجه حسن الاسم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میری طرف کوئی قاصد بھیجو تو ایسے شخص کو بھیجا کرو جو خوبصورت چہرے اور اچھے نام والا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 259
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن بريدة. الصحيحة ١١٨٦ انظر ٤١٠.
«إذا أبق العبد لم تقبل له صلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب غلام (اپنے مالک سے) بھاگ جائے تو اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 260
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جرير. المشكاة ٣٥٤٩: ن, مختصر مسلم ٥٨.
«إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال فليصنع كما يصنع الإمام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے آئے اور امام جس حالت میں بھی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بھی ویسا ہی کرے جیسا امام کر رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 261
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن علي ومعاذ. الصحيحة ١١٨٨.
«إذا أتى أحدكم الغائط فلا يستقبل القبلة ولا يولها ظهره ولكن شرقوا أو غربوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی قضاء حاجت کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پیٹھ کرے، بلکہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کر لیا کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 262
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي أيوب. مختصر مسلم ١٠٩.
«إذا أتى أحدكم أهله ثم أراد أن يعود فليتوضأ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے (ہمبستری کرے) اور پھر دوبارہ ایسا کرنے کا ارادہ کرے، تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 263
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٤] عن أبي سعيد زاد [حب ك هق] : فإنه أنشط للعود. آداب الزفاف ٣٢, صحيح السنن ٢٦٦, ابن أبي شيبة, أبو نعيم في الطب, مختصر مسلم ١٦٤, صحيح سنن أبي داود ٢١٦.
"إذا أتى أحدكم خادمه بطعامه قد كفاه علاجه ودخانه,
فليجلسه معه فإن لم يجلسه معه فليناوله أكله أو أكلتين"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لائے، حالانکہ وہ اس کے پکانے کی مشقت اور دھویں کی تکلیف برداشت کر چکا ہوتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے، اور اگر وہ اسے اپنے ساتھ نہ بٹھا سکے تو اسے اس میں سے ایک یا دو لقمے ضرور دے دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 264
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ت هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٨٥: حم,
«إذا أتى أحدكم على ماشية فإن كان فيها صاحبها فليستأذن فإن أذن له فليحتلب وليشرب, وإن لم يكن فيها فليصوت ثلاثا فإن أجابه أحد فليستأذنه فإن لم يجبه أحد فليحتلب وليشرب ولا يحمل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص مویشیوں کے ریوڑ کے پاس آئے، تو اگر وہاں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت طلب کرے، اگر وہ اجازت دے دے تو وہ دودھ دوہ لے اور پی لے۔ اور اگر وہاں کوئی موجود نہ ہو تو تین مرتبہ آواز دے، پھر اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت طلب کرے، اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دودھ دوہ لے اور پی لے، لیکن اپنے ساتھ اٹھا کر نہ لے جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 265
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ت هق الضياء] عن سمرة. المشكاة ٢٩٥٣, الإرواء ٢٥٢١.
«إذا أتى الرجل القوم فقالوا له: مرحبا فمرحبا به يوم القيامة يوم يلقى ربه, وإذا أتى الرجل القوم فقالوا له: قحطا فقحطا له يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے خوش آمدید کہیں تو قیامت کے دن جب وہ اپنے رب سے ملے گا اس کے لیے بھی خوش آمدید ہوگی، اور اگر کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اس کے لیے پھٹکار اور دوری کے الفاظ کہیں تو قیامت کے دن اس کے لیے بھی دوری اور پھٹکار ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 266
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن الضحاك بن قيس. الصحيحة ١١٨٩.
«إذا أتاكم السائل فضعوا في يده ولو ظلفا محرقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہارے پاس کوئی سائل آئے تو اس کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ ضرور رکھ دو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد] عن جابر. المشكاة ١٨٧٩, ١٩٤٢.
«إذا أتاكم المصدق فلا يصدر عنكم إلا وهو راض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہارے پاس زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو وہ تمہارے پاس سے اس حال میں واپس لوٹے کہ وہ تم سے راضی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت ن هـ] عن جرير. مسلم ٣/٧٤.
«إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت و تکریم کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 269
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر [البزار ابن خزيمة طب عد هب] عن جرير [البزار] عن أبي هريرة [عد] عن معاذ وأبي قتادة [ك] عن جابر [طب] عن ابن عباس وعبد الله بن ضمرة١ [ابن عساكر] عن أنس وعدي بن حاتم [الدولابي في الكنى ابن عساكر] عن أبي راشد عبد الرحمن بن عبد بلفظ: [شريف قومه] . الروض ٢٦٨, الصحيحة ١٢٠٥.
«إذا أتاكم من ترضون خلقه ودينه فزوجوه إن لا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص (رشتہ مانگنے) آئے جس کے اخلاق اور دینداری سے تم مطمئن ہو تو اس کے ساتھ (اپنی بچیوں کا) نکاح کر دو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور وسیع بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 270
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ ك] عن أبي هريرة [عد] عن ابن عمر [ت هق] عن أبي حاتم المزني وماله غيره. الإرواء ١٨٦٨, الصحيحة ١٠٢٢.
«إذا اتسع الثوب فتعطف به على منكبيك ثم صل, وإن ضاق عن ذلك فشد به حقوك ثم صل بغير رداء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کپڑا کشادہ ہو تو اسے اپنے کندھوں پر لپیٹ لو پھر نماز پڑھو، اور اگر اس سے تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو اور بغیر چادر کے نماز پڑھ لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 271
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الطحاوي] عن جابر. صحيح السنن ٦٤٤: م, د, هق.
«إذا أتيت الصلاة فأتها بوقار وسكينة فصل ما أدركت واقض ما فاتك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز کے لیے آؤ تو وقار اور اطمینان کے ساتھ آؤ، پس جو (نماز امام کے ساتھ) مل جائے اسے پڑھ لو اور جو چھوٹ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 272
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن سعد. الصحيحة ١١٩٨.
«إذا أتيت أهلك فاعمل عملا كيسا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنی بیوی کے پاس آؤ (ہمبستری کے لیے) تو دانشمندی (اور شائستگی) کا مظاہرہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 273
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خط] عن جابر. الصحيحة ١١٩٠: ابن خزيمة.
«إذا أتيت على راعي إبل فناد يا راعي الإبل ثلاثا فإذا أجابك, وإلا فاحلب واشرب من غير أن تفسد, وإذا أتيت على حائط فناد يا صاحب الحائط ثلاثا فإن أجابك وإلا فكل من غير أن تفسد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی اونٹوں کے چرواہے کے پاس سے گزرو تو تین مرتبہ آواز دو: اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ جواب دے دے (تو اجازت لے لو)، ورنہ دودھ دوہ لو اور پی لو لیکن (اسے) خراب نہ کرو، اور جب تم کسی باغ پر آؤ تو تین مرتبہ آواز دو: اے باغ والے! اگر وہ جواب دے دے (تو ٹھیک ہے)، ورنہ کھا لو لیکن نقصان نہ پہنچاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 274
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ حب ك] عن أبي سعيد. المشكاة ٢٩٥٣.
«إذا أتيتم الصلاة فعليكم بالسكينة ولا تأتوها وأنتم تسعون فما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم نماز کے لیے آؤ تو تم پر سکون و اطمینان لازم ہے اور دوڑتے ہوئے نہ آؤ، پس جو رکعات تمہیں مل جائیں انہیں پڑھ لو اور جو چھوٹ جائیں انہیں مکمل کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 275
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي قتادة.
«إذا أتيت مضجعك فتوضأ وضوئك للصلاة ثم اضطجع على شقك الأيمن ثم قل: اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت فإن مت من ليلتك فأنت على الفطرة واجعلهن آخر ما تتكلم به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنے بستر پر آؤ تو نماز جیسا وضو کرو، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ، پھر یہ دعا پڑھو: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» (اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کر دیا، اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، اور اپنی پیٹھ کو تیری پناہ میں دے دیا، تیری رحمت کی امید اور تیرے عذاب کے ڈر سے، تجھ سے بچ کر بھاگنے کی کوئی جگہ اور کوئی ٹھکانہ نہیں مگر تیری ہی طرف، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل فرمائی اور تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا)۔ پس اگر تم اسی رات فوت ہو گئے تو دینِ فطرت (اسلام) پر مرو گے، اور ان کلمات کو اپنی آخری بات بناؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 276
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن البراء. رياض الصالحين ١٤٧٠.
«إذا أثنى عليك جيرانك أنك محسن فأنت محسن وإذا أثنى عليك جيرانك أنك مسيء فأنت مسيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہارے پڑوسی تمہاری تعریف کریں کہ تم نیکوکار ہو تو درحقیقت تم نیکوکار ہو، اور جب تمہارے پڑوسی تمہارے بارے میں کہیں کہ تم برے ہو تو یقیناً تم برے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن ابن مسعود. المشكاة ٤٩٨٨: حم, هـ, حب, ك, طب.
«إذا أجمرتم الميت فأجمروه ثلاثا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میت کو دھونی (خوشبو) دو تو تین مرتبہ دھونی دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق الضياء] عن جابر. الجنائز ٦٤: ابن أبي شيبة, حب, ك.
«إذا أحب أحدكم أخاه فليعلمه أنه يحبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد د ت حب ك] عن المقداد بن معدي كرب [حب] عن أنس [خد] عن رجل من الصحابة. الصحيحة ٤١٨, ٢٥١٥.
«إذا أحب أحدكم أخاه في الله فليعلمه فإنه أبقى في الألفة وأثبت في المودة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے کسی بھائی سے اللہ کی خاطر محبت کرے تو اسے بتا دے، کیونکہ یہ باہمی الفت کو زیادہ باقی رکھنے والا اور محبت کو زیادہ مضبوط کرنے والا عمل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 280
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في كتاب الإخوان] عن مجاهد مرسلا. الصحيحة ١١٩٩.