کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إنها ليست بنجس إنها من الطوافين عليكم والطوافات» - يعني الهرة -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک یہ (بلی) نجس (ناپاک) نہیں ہے، یہ تو تمہارے اردگرد کثرت سے گھومنے پھرنے اور چکر لگانے والوں اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ٤ حب ك] عن أبي قتادة [د هق] عن عائشة. صحيح أبي داود ٦٨ - ٦٩، الإرواء ١٧٣.
«إنها مباركة إنها طعام طعم» - يعني زمزم -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً یہ (آبِ زمزم) بہت بابرکت ہے، یہ کھانے والے کے لیے بہترین خوراک ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي ذر. مختصر مسلم ١٧٠٤: طب.
«إنها لا يرمى بها لموت أحد ولا لحياته ولكن ربنا تبارك وتعالى إذا قضى أمرا سبح حملة العرش: ماذا قال ربكم؟ فيخبرونهم ماذا قال فيستخبر بعض أهل السموات بعضا حتى يبلغ الخبر هذه السماء الدنيا فيخطف الجن السمع فيقذفون إلى أوليائهم ويرمون فما جاءوا به على وجهه فهو حق ولكنهم يفرقون فيه فيزيدون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ (ٹوٹنے والے ستارے) کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں پھینکے جاتے، بلکہ ہمارا پروردگار تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو عرش اٹھانے والے فرشتے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، (پھر دوسرے فرشتے ان سے پوچھتے ہیں:) تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ تو وہ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے کیا فرمایا ہے۔ پھر آسمانوں والے فرشتے ایک دوسرے سے (اسی طرح) دریافت کرتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر اس دنیا والے (پہلے) آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ تو جنات (شیاطین) کان لگا کر خبر اچک لیتے ہیں اور اسے اپنے دوستوں (دنیاوی کاہنوں) کی طرف منتقل کر دیتے ہیں، اور ان (شیاطین) پر ستارے مارے جاتے ہیں۔ پس جو بات وہ جوں کی توں (بغیر کسی اضافے کے) لاتے ہیں وہ تو سچ ہوتی ہے، لیکن وہ اس میں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر اضافہ کر دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن ابن عباس [م ت] عنه عن رجل من الأنصار.
«إنهما ليعذبان وما يعذبان في كبير أما أحدهما فكان لا يستنزه من البول وأما الآخر فكان يمشي بالنميمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ان دونوں (قبر والوں) کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور انہیں کسی ایسی بات پر عذاب نہیں دیا جا رہا (جس سے بچنا ان کے لیے مشکل ہو)۔ ان میں سے ایک شخص پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2440
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن ابن عباس [حم] عن أبي أمامة. صحيح أبي داود ١٥ صحيح الترغيب١٥٤.
«إنهما ليعذبان وما يعذبان في كبير أما أحدهما فيعذب في البول وأما الآخر فيعذب في الغيبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور انہیں کسی بہت بڑی (یا مشکل سے بچنے والی) بات پر عذاب نہیں دیا جا رہا۔ ان میں سے ایک کو پیشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے اور دوسرے کو غیبت کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي بكرة. صحيح الترغيب ١٥١: الطيالسي، ابن أبي شيبة، عد.
«إنهم كانوا يسمون بأنبيائهم والصالحين قبلهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک وہ (پہلی امتوں کے لوگ) اپنے بچوں کے نام اپنے سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء اور نیک لوگوں کے ناموں پر رکھا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2442
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن المغيرة. مختصر مسلم ١٤٠٢.
«إنهم يبعثون على نياتهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً وہ سب لوگ (قیامت کے دن) اپنی اپنی نیتوں کے مطابق ہی اٹھائے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن أم سلمة. ق – عائشة صحيح الترغيب ٩، وانظر ٢٣٨٠.
«إنهم يخيروني بين أن يسألوني بالفحش أو يبخلوني ولست بباخل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک یہ لوگ مجھے اس بات کے درمیان مجبور کرتے ہیں کہ یا تو وہ مجھ سے حد سے بڑھ کر (چپک کر اور سختی سے) مانگیں یا پھر (نہ دینے کی صورت میں) مجھے کنجوس قرار دیں، اور (تم جانتے ہو کہ) میں کنجوس نہیں ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2444
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عمر.
«إني أبرأ إلى الله أن يكون لي منكم خليل فإن الله قد اتخذني خليلا كما اتخذ إبراهيم خليلا ولو كنت متخذا من أمتي خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ألا وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد ألا فلا تتخذوا القبور مساجد إني أنهاكم عن ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اللہ کے سامنے اس بات سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل (جانی دوست) ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی طرح اپنا خلیل بنا لیا ہے جس طرح اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا تھا۔ اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا۔ خبردار! تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ (مسجد) بنا لیا کرتے تھے۔ سن لو! تم قبروں کو سجدہ گاہ مت بنانا، یقیناً میں تمہیں اس کام سے سختی سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2445
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جندب. تحذير الساجد ص ١٤ الإرواء ٢٨٦.
«إني أحدثكم الحديث فليحدث الحاضر منكم الغائب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تمہیں حدیث (بات) بیان کرتا ہوں، پس تم میں سے جو حاضر ہے اسے چاہیے کہ وہ غائب (جو موجود نہیں) کو پہنچا دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2446
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ١٧٢: الديلمي.
«إني أحرج عليكم حق الضعيفين: اليتيم والمرأة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تم پر دو کمزوروں کے حق کے بارے میں سختی سے تنبیہ کرتا ہوں (یعنی ان کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں): یتیم اور عورت۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٠١٥: ابن ماجه، حب، حم.
«إني أحرم ما بين لابتي المدينة أن يقطع عضاهها أو يقتل صيدها المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون لا يدعها أحد رغبة عنها إلا أبدل الله فيها من هو خير منه ولا يثبت أحد على لأوائها وجهدها إلا كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة ولا يريد أحد أهل المدينة بشر إلا أذابه الله في النار ذوب الرصاص أو ذوب الملح في الماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں مدینہ کے دونوں سنگلاخ میدانوں (حرہ شرقیہ اور حرہ غربیہ) کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں، اس بات سے کہ اس کے خاردار درخت کاٹے جائیں یا اس کا شکار کیا جائے۔ مدینہ ان کے لیے بہت بہتر ہے کاش وہ جانتے ہوں۔ جو شخص بھی مدینہ سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ کر جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ مدینہ میں کسی ایسے شخص کو لے آئے گا جو اس سے بہتر ہوگا۔ اور جو شخص مدینہ کی سختی اور تنگی پر ثابت قدم رہے گا، تو میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا۔ اور جو شخص بھی اہل مدینہ کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے آگ میں اس طرح پگھلا دے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے یا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن سعد. مختصر مسلم ٧٧٤، الإرواء ١٠٥٨.
«إني أرى ما لا ترون وأسمع ما لا تسمعون أطت السماء وحق لها أن تئط ما فيها موضع أربع أصابع إلا وملك واضع جبهته لله تعالى ساجدا والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرش ولخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان (فرشتوں کے بوجھ سے) چرچرا رہا ہے اور اس کا حق بنتا ہے کہ وہ چرچرائے، کیونکہ اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں اپنی پیشانی نہ رکھے ہوئے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ حقیقت جان لو جو میں جانتا ہوں تو یقیناً تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور بستروں پر عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوتے، اور تم (گھر بار چھوڑ کر) میدانوں اور راستوں کی طرف نکل پڑتے اور اللہ کے حضور گڑگڑاتے اور فریادیں کرتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن أبي ذر. المشكاة ٥٣٤٧، الصحيحة ١٠٥٩، ١٠٦٠، ١٧٢٢.
«إني أراك تحب الغنم والبادية فإذا كنت في غنمك أو باديتك فأذنت للصلاة فارفع صوتك بالنداء فإنه لا يسمع مدى صوت المؤذن جن ولا إنس ولا حجر ولا شيء إلا شهد له يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور کھلے میدان (دیہات) کو پسند کرتے ہو۔ پس جب تم اپنی بکریوں یا اپنے کھلے میدان میں ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو پکارتے وقت اپنی آواز کو بلند کیا کرو، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو جن، انسان، پتھر یا کوئی بھی چیز اسے سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے حق میں ضرور گواہی دے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2450
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم مالك خ ن هـ] عن أبي سعيد. مختصر البخاري ٣٣٨.
«إني أريت ليلة القدر ثم أنسيتها فالتمسوها في العشر الأواخر في الوتر وإني رأيت أني أسجد في ماء وطين من صبيحته ا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر مجھے بھلا دی گئی۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اور یقیناً میں نے (خواب میں) یہ دیکھا ہے کہ میں اس (شبِ قدر) کی صبح کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ن هـ] عن أبي سعيد. مختصر البخاري الصفحة ٤٧١ نحوه، مختصر مسلم ٦٣٢.
«إني أعطي رجالا حديثي عهد بكفر أتألفهم أما ترضون أن يذهب الناس بالأموال وترجعون إلى رحالكم برسول الله؟ فوالله لما تنقلبون به خير مما ينقلبون به إنكم سترون بعدي أثرة شديدة فاصبروا حتى تلقوا الله ورسوله فإني فرطكم على الحوض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ میں کچھ ایسے لوگوں کو (زیادہ مال) دیتا ہوں جو کفر سے قریب کے زمانے میں نکل کر آئے ہیں (یعنی نو مسلم ہیں) تاکہ میں ان کی دلجوئی کر سکوں۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ مال و دولت لے کر جائیں اور تم اپنے خیموں (اور گھروں) کی طرف اللہ کے رسول کو لے کر لوٹو؟ پس اللہ کی قسم! جو کچھ تم لے کر لوٹ رہے ہو وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ لے کر لوٹ رہے ہیں۔ یقیناً تم میرے بعد اپنے اوپر دوسروں کو سخت ترجیح دیا جانا دیکھو گے، تو تم (اس حق تلفی پر) صبر کرنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، بے شک میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رو (تمہارا استقبال کرنے والا) ہوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أنس. مختصر مسلم ١٥٤٨ - ١٥٥٢عن جندب وجابر نحوه.
"إني أعطي قريشا لأتألفهم لأنهم حديثو عهد
بجاهلية"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں قریش کو (اموالِ غنیمت میں سے زیادہ) دیتا ہوں تاکہ میں ان کی دلجوئی کر سکوں، کیونکہ ان کا دورِ جاہلیت سے نکلنے کا زمانہ ابھی قریب کا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أنس.
«إني أعطي قوما أخاف ظلعهم وجزعهم وأكل قوما إلى ما جعل الله في قلوبهم من الخير والغنى منهم عمرو بن تغلب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ میں ایک ایسی قوم کو (مال) دیتا ہوں جن کے ڈگمگا جانے اور بے صبری دکھانے کا مجھے ڈر ہوتا ہے، اور ایک قوم کو میں اس بھلائی اور غنا (بے نیازی) کے سپرد کر دیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا فرما دی ہے، انہی (صابر اور بے نیاز) لوگوں میں عمرو بن تغلب بھی شامل ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2454
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عمرو بن تغلب.
«إني أوعك كما يوعك رجلان منكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک مجھے اس قدر سخت بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو (اکٹھا) ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن مسعود. فقه السيرة ٤٩٩: خ.
«إني بين أيديكم فرط لكم وأنا شهيد عليكم وإن موعدكم الحوض وإني والله لأنظر إلى حوضي الآن وإني قد أعطيت مفاتيح خزائن الأرض وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي ولكني أخاف عليكم الدنيا أن تنافسوا فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں تمہارا پیش رو (حوضِ کوثر پر تمہارا استقبال کرنے والا) ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں۔ یقیناً تمہارے مجھ سے ملنے کی جگہ حوض ہے، اور اللہ کی قسم! میں اس وقت یہیں سے اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں۔ اور بے شک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں۔ اور اللہ کی قسم! مجھے تمہارے متعلق اس بات کا کوئی ڈر نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے، البتہ مجھے تمہارے متعلق دنیا کا خوف ضرور ہے کہ تم اس (کی محبت اور لالچ) میں پڑ کر ایک دوسرے سے مقابلہ اور رشک کرنے لگو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2456
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن عقبة بن عامر. فقه السيرة ٢٩٢، مختصر مسلم ١٥٥٥.
«إني تارك فيكم خليفتين: كتاب الله حبل ممدود ما بين السماء والأرض وعترتي أهل بيتي وإنهما لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں تمہارے درمیان دو جانشین (بھاری چیزیں) چھوڑ کر جا رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب جو آسمان اور زمین کے درمیان پھیلی ہوئی (یا تنی ہوئی) رسی ہے، اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہلِ بیت۔ اور یقیناً یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ یہ حوضِ کوثر پر میرے پاس آ جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن زيد بن ثابت. الروض النضير ٩٧٧، ٩٧٨.
«إني تارك فيكم ما إن تمسكتم به لن تضلوا بعدي أحدهما أعظم من الآخر كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض وعترتي أهل بيتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض فانظروا كيف تخلفوني فيهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، ان میں سے ایک چیز دوسری سے بڑی اور عظمت والی ہے: ایک اللہ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی رسی ہے، اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہلِ بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس آ جائیں گے۔ پس تم غور کرنا کہ میرے بعد تم ان دونوں کے حقوق ادا کرنے میں میری کیسی جانشینی کرتے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2458
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن زيد بن أرقم. الروض النضير ٩٧٧، المشكاة ٦١٤٤.
«إني حدثتكم عن الدجال حتى خشيت أن لا تعقلوا إن المسيح الدجال رجل قصير أفحج جعد أعور مطموس العين ليست بناتئة ولا حجراء فإن ألبس عليكم فاعلموا أن ربكم ليس بأعور وأنكم لن تروا ربكم حتى تموتوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً میں نے تمہیں دجال کے بارے میں اس قدر (تفصیل سے) بتایا ہے کہ مجھے ڈر محسوس ہونے لگا تھا کہ کہیں تم (ان باتوں کو خلط ملط کر کے) سمجھ نہ پاؤ۔ بے شک مسیح دجال ایک پستہ قد، ٹیڑھی ٹانگوں والا، سخت گھنگھریالے بالوں والا اور کانا آدمی ہے جس کی ایک آنکھ بالکل مٹی ہوئی (سپاٹ) ہے، جو نہ تو باہر کی طرف ابھری ہوئی ہے اور نہ ہی اندر کی طرف دھنسی ہوئی ہے۔ پس اگر تم پر (اس کا دعویِٰ خدائی سن کر) معاملہ مشتبہ ہونے لگے تو یہ جان لینا کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اور تم اپنے رب کا ہرگز دیدار نہیں کر سکو گے یہاں تک کہ تم وفات پا جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2459
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن عبادة بن الصامت. المشكاة ٥٤٥٨.
«إني حرمت ما بين لابتي المدينة كما حرم إبراهيم مكة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں نے مدینہ کے دونوں سنگلاخ میدانوں کے درمیانی حصے کو اسی طرح حرم (قابلِ احترام) قرار دیا ہے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2460
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي سعيد. مختصر مسلم ٧٧٤ نحوه عن سعد ابن أبي وقاص.
«إني خرجت لأخبركم بليلة القدر وإنه تلاحى فلان وفلان فرفعت وعسى أن يكون خيرا لكم فالتمسوها في السبع والتسع والخمس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اس لیے نکلا تھا تاکہ تمہیں شبِ قدر کے بارے میں بتاؤں، لیکن فلان اور فلان (دو اشخاص) آپس میں لڑ پڑے، تو وہ (اس کی تعیین کا علم اٹھا لیا گیا)، اور شاید یہی تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہو، لہٰذا تم اسے (آخری عشرے کی) ساتویں، نویں اور پانچویں (طاق راتوں) میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2461
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن عبادة بن الصامت. مختصر البخاري ٩٩٠.
«إني ذاكر لك أمرا ولا عليك أن لا تعجلي حتى تستأمري أبويك إن الله تعالى قال: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ - إلى قوله - عَظِيماً} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تمہارے سامنے ایک بات کا ذکر کر رہا ہوں، اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم جلدی نہ کرو یہاں تک کہ اپنے والدین سے مشورہ کر لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ ... عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 28-29] (اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو... اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2462
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن هـ] عن عائشة.
«إني ذكرت وأنا في العصر شيئا من تبر كان عندنا فكرهت أن يبيت فأمرت بقسمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے عصر کے وقت سونے کے کچھ ٹکڑے (یا ذرات) یاد آ گئے جو ہمارے پاس تھے، تو مجھے یہ بات ناپسند آئی کہ وہ رات گزاریں (یعنی صبح تک باقی رہیں)، لہٰذا میں نے انہیں تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2463
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عقبة بن الحارث. خ - العمل في الصلاة.
"إني راكب غدا إلى يهود فمن انطلق منكم
معي فلا تبدءوهم بالسلام فإن سلموا عليكم فقولوا: وعليكم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں کل یہود کی طرف سوار ہو کر جا رہا ہوں، پس تم میں سے جو شخص میرے ساتھ چلے وہ انہیں پہلے سلام نہ کرے، اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو تم (جواب میں) کہو: «وَعَلَيْكُمْ» (اور تم پر بھی سلام ہو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2464
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي عبد الرحمن الجهني [حم ن الضياء] عن أبي بصرة. الإرواء ١٢٧٢.
«إني رأيت في المنام كأن جبريل عند رأسي وميكائيل عند رجلي يقول أحدهما لصاحبه: اضرب له مثلا فقال: اسمع سمعت أذنك واعقل عقل قلبك إنما مثلك ومثل أمتك كمثل ملك اتخذ دارا ثم بنى فيها بيتا ثم جعل فيها مائدة ثم بعث رسولا يدعو الناس إلى طعامه فمنهم من أجاب الرسول ومنهم من تركه فالله هو الملك والدار الإسلام والبيت الجنة وأنت يا محمد رسول من أجابك دخل الإسلام ومن دخل الإسلام دخل الجنة ومن دخل الجنة أكل ما فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے خواب میں دیکھا گویا جبریل (علیہ السلام) میرے سر کے پاس اور میکائیل (علیہ السلام) میرے پاؤں کے پاس بیٹھے ہیں، ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا ہے: ان کے لیے ایک مثال بیان کرو۔ تو اس نے کہا: سنو، تمہارے کان سنیں اور تمہارا دل اسے سمجھے، بے شک تمہاری اور تمہاری امت کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بادشاہ نے ایک گھر بنایا، پھر اس میں ایک مکان تعمیر کیا، پھر اس میں ایک دسترخوان بچھایا، پھر ایک قاصد کو بھیجا جو لوگوں کو اس کے کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ پس بعض لوگوں نے قاصد کی دعوت قبول کی اور بعض نے اسے چھوڑ دیا۔ تو اللہ ہی وہ بادشاہ ہے، گھر اسلام ہے، مکان جنت ہے، اور اے محمد! آپ وہ رسول ہیں جس نے آپ کی بات مان لی وہ اسلام میں داخل ہو گیا، جو اسلام میں داخل ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا، اور جو جنت میں داخل ہو گیا اس نے اس کی تمام نعمتیں حاصل کر لیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2465
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت] عن جابر. المستدرك ٢٢/٣٣٩، ٤/٣٩٣.
«إني صليت صلاة رغبة ورهبة وسألت الله لأمتي ثلاثا فأعطاني اثنتين ورد علي واحدة: سألته أن لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم فأعطانيها وسألته أن لا يهلكهم غرقا فأعطانيها وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فردها علي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں نے رغبت اور خوف کی نماز پڑھی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے تین چیزوں کا سوال کیا، تو اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک واپس کر دی (قبول نہ فرمائی): میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان پر ان کے غیروں میں سے کسی دشمن کو مسلط نہ کرے تو اس نے مجھے یہ عطا فرما دیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ انہیں غرق کر کے ہلاک نہ کرے تو اس نے مجھے یہ بھی عطا فرما دیا، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان کی آپس کی جنگ اور باہمی عداوت کو ختم کر دے، تو اس نے یہ بات مجھ سے واپس لے لی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2466
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن معاذ. الصحيحة ١٧٢٤: ابن خزيمة.
«إني على الحوض حتى أنظر من يرد علي منكم وسيؤخذ أناس دوني فأقول: يا رب مني ومن أمتي! فيقال: هل شعرت ما عملوا بعدك؟ والله ما برحوا بعدك يرجعون على أعقابهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں حوض (کوثر) پر موجود ہوں گا یہاں تک کہ میں دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے، اور کچھ لوگوں کو مجھ سے دور کھینچ لیا جائے گا، تو میں کہوں گا: اے رب! یہ تو میرے اور میری امت میں سے ہیں! تو جواب میں کہا جائے گا: کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کیا؟ اللہ کی قسم! وہ تیرے بعد برابر اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے پلٹتے رہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2467
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أسماء بنت أبي بكر [حم م] عن عائشة. مختصر مسلم ١٥٤٩.
"إني فرطكم على الحوض من مر بي شرب ومن شرب لم يظمأ أبدا وليردن علي أقوام أعرفهم ويعرفوني
ثم يحال بيني وبينهم فأقول: إنهم مني فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك فأقول: سحقا سحقا لمن بدل بعدي"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں حوض (کوثر) پر تمہارا پیش رو ہوں، جو میرے پاس سے گزرے گا وہ پانی پئے گا، اور جو پانی پئے گا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اور یقیناً میرے پاس ایسے لوگ لائے جائیں گے جنہیں میں بھی پہچانتا ہوں گا اور وہ بھی مجھے پہچانتے ہوں گے، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل کر دی جائے گی، تو میں کہوں گا: یہ تو میرے ہی لوگ ہیں! تو کہا جائے گا: تو نہیں جانتا کہ انہوں نے تیرے بعد کیا نئی چیزیں (بدعات) ایجاد کی تھیں؟ تو میں کہوں گا: دوری ہو، دوری ہو اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین میں) تبدیلی کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2468
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن سهل بن سعد وأبي سعيد.
«إني فرطكم على الحوض وإن عرضه كما بين أيلة إلى الجحفة، إني لست أخشى عليكم أن تشركوا بعدي ولكن أخشى عليكم الدنيا أن تنافسوا فيها وتقتتلوا فتهلكوا كما هلك من كان قبلكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں، اور اس کی چوڑائی اتنی ہے جتنی ایلہ اور جحفہ کے درمیان ہے، بے شک میں تم پر اس بات کا خوف نہیں رکھتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے تم پر دنیا کا خوف ہے کہ تم اس میں ایک دوسرے سے مسابقت کرو گے اور آپس میں لڑ پڑو گے اور ہلاک ہو جاؤ گے جیسا کہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2469
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عقبة بن عامر. مختصر مسلم ١٥٥٥ نحوه.
«إني قد اتخذت خاتما من فضة ونقشت عليه محمد رسول الله فلا ينقش أحد على نقشه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» کندہ کروایا ہے، لہٰذا کوئی شخص اس کے نقش پر نقش نہ کروائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2470
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس. مختصر مسلم ١٣٧٥.
«إني قد بدنت فإن ركعت فاركعوا وإذا رفعت فارفعوا وإذا سجدت فاسجدوا ولا ألفين رجلا سبقني إلى الركوع ولا إلى السجود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میرا جسم بھاری ہو گیا ہے، پس جب میں رکوع کروں تو تم رکوع کرو، اور جب میں سر اٹھاؤں تو تم سر اٹھاؤ، اور جب میں سجدہ کروں تو تم سجدہ کرو، اور میں ہرگز ایسے شخص کو نہ پاؤں جو رکوع میں یا سجدے میں مجھ سے سبقت لے جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2471
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي موسى. الصحيحة ١٧٢٥.
«إني كرهت أن أذكر الله إلا على طهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2472
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن حب ك] عن المهاجر بن قنفذ. صحيح أبي داود ١٣، الصحيحة ٨٣٤.
«إني كنت أمرتكم أن تحرقوا فلانا وفلانا بالنار وإن النار لا يعذب بها إلا الله فإن أخذتموهما فاقتلوهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو آگ میں جلا دینا، اور آگ کے ذریعے تو صرف اللہ ہی عذاب دیتا ہے، پس اگر تم ان دونوں کو پکڑ لو تو انہیں (تلوار سے) قتل کر دینا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2473
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت] عن أبي هريرة.
"إني كنت نهيتكم: أن تأكلوا لحوم الأضاحي
إلا ثلاثا فكلوا وأطعموا وادخروا ما بدا لكم وذكرت لكم: أن لا تنبذوا في الظروف: الدباء والمزفت والنقير والحنتم انتبذوا فيما رأيتم واجتنبوا كل مسكر ونهيتكم عن زيارة القبور فمن أراد أن يزور فليزر ولا تقولوا هجرا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا، اب تم (اسے خود بھی) کھاؤ، دوسروں کو بھی کھلاؤ اور جتنا چاہو ذخیرہ کرو۔ اور میں نے تمہیں برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا: یعنی کدو کے برتن، روغنی برتن، لکڑی کو کھوکھلا کر کے بنائے گئے برتن اور مٹی کے سبز برتن؛ اب تم جس برتن میں چاہو نبیذ بناؤ لیکن ہر نشہ آور چیز سے بچو۔ اور میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا، پس جو شخص زیارت کرنا چاہے وہ زیارت کرے، اور کوئی بیہودہ بات نہ کہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن بريدة. الصحيحة ٨٨٦.
«إني كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها لتذكركم زيارتها خيرا وكنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي بعد ثلاث فكلوا وأمسكوا ما شئتم وكنت نهيتكم عن الأشربة في الأوعية فاشربوا في أي وعاء شئتم ولا تشربوا مسكرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس کی زیارت تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم خود بھی کھاؤ اور جتنا چاہو روکے رکھو۔ اور میں نے تمہیں برتنوں میں پینے کی چیزیں رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو پیو لیکن کوئی نشہ آور چیز نہ پیو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت ن] عن بريدة. أحكام الجنائز ١٧٧.
«إني كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث كيما تسعكم فقد جاء الله بالخير فكلوا وتصدقوا وادخروا إن هذه الأيام أيام أكل وشرب وذكر الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے اس لیے روکا تھا تاکہ تم سب کے لیے کافی ہو جائے، اب اللہ تعالیٰ نے خیر عطا فرما دی ہے، لہٰذا تم خود بھی کھاؤ، صدقہ بھی کرو اور ذخیرہ بھی کرو، بے شک یہ دن کھانے، پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2476
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن نيشة. حجة النبي صلى الله عليه وسلم ٨٥ نحوه، ومختصر مسلم ١٢٥٩.