حدیث نمبر: 2439
«إنها لا يرمى بها لموت أحد ولا لحياته ولكن ربنا تبارك وتعالى إذا قضى أمرا سبح حملة العرش: ماذا قال ربكم؟ فيخبرونهم ماذا قال فيستخبر بعض أهل السموات بعضا حتى يبلغ الخبر هذه السماء الدنيا فيخطف الجن السمع فيقذفون إلى أوليائهم ويرمون فما جاءوا به على وجهه فهو حق ولكنهم يفرقون فيه فيزيدون»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ (ٹوٹنے والے ستارے) کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں پھینکے جاتے، بلکہ ہمارا پروردگار تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو عرش اٹھانے والے فرشتے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، (پھر دوسرے فرشتے ان سے پوچھتے ہیں:) تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ تو وہ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے کیا فرمایا ہے۔ پھر آسمانوں والے فرشتے ایک دوسرے سے (اسی طرح) دریافت کرتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر اس دنیا والے (پہلے) آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ تو جنات (شیاطین) کان لگا کر خبر اچک لیتے ہیں اور اسے اپنے دوستوں (دنیاوی کاہنوں) کی طرف منتقل کر دیتے ہیں، اور ان (شیاطین) پر ستارے مارے جاتے ہیں۔ پس جو بات وہ جوں کی توں (بغیر کسی اضافے کے) لاتے ہیں وہ تو سچ ہوتی ہے، لیکن وہ اس میں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر اضافہ کر دیتے ہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن ابن عباس [م ت] عنه عن رجل من الأنصار.