حدیث نمبر: 2465
«إني رأيت في المنام كأن جبريل عند رأسي وميكائيل عند رجلي يقول أحدهما لصاحبه: اضرب له مثلا فقال: اسمع سمعت أذنك واعقل عقل قلبك إنما مثلك ومثل أمتك كمثل ملك اتخذ دارا ثم بنى فيها بيتا ثم جعل فيها مائدة ثم بعث رسولا يدعو الناس إلى طعامه فمنهم من أجاب الرسول ومنهم من تركه فالله هو الملك والدار الإسلام والبيت الجنة وأنت يا محمد رسول من أجابك دخل الإسلام ومن دخل الإسلام دخل الجنة ومن دخل الجنة أكل ما فيها»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے خواب میں دیکھا گویا جبریل (علیہ السلام) میرے سر کے پاس اور میکائیل (علیہ السلام) میرے پاؤں کے پاس بیٹھے ہیں، ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا ہے: ان کے لیے ایک مثال بیان کرو۔ تو اس نے کہا: سنو، تمہارے کان سنیں اور تمہارا دل اسے سمجھے، بے شک تمہاری اور تمہاری امت کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بادشاہ نے ایک گھر بنایا، پھر اس میں ایک مکان تعمیر کیا، پھر اس میں ایک دسترخوان بچھایا، پھر ایک قاصد کو بھیجا جو لوگوں کو اس کے کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ پس بعض لوگوں نے قاصد کی دعوت قبول کی اور بعض نے اسے چھوڑ دیا۔ تو اللہ ہی وہ بادشاہ ہے، گھر اسلام ہے، مکان جنت ہے، اور اے محمد! آپ وہ رسول ہیں جس نے آپ کی بات مان لی وہ اسلام میں داخل ہو گیا، جو اسلام میں داخل ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا، اور جو جنت میں داخل ہو گیا اس نے اس کی تمام نعمتیں حاصل کر لیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2465
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت] عن جابر. المستدرك ٢٢/٣٣٩، ٤/٣٩٣.