حدیث نمبر: 2448
«إني أحرم ما بين لابتي المدينة أن يقطع عضاهها أو يقتل صيدها المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون لا يدعها أحد رغبة عنها إلا أبدل الله فيها من هو خير منه ولا يثبت أحد على لأوائها وجهدها إلا كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة ولا يريد أحد أهل المدينة بشر إلا أذابه الله في النار ذوب الرصاص أو ذوب الملح في الماء»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میں مدینہ کے دونوں سنگلاخ میدانوں (حرہ شرقیہ اور حرہ غربیہ) کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں، اس بات سے کہ اس کے خاردار درخت کاٹے جائیں یا اس کا شکار کیا جائے۔ مدینہ ان کے لیے بہت بہتر ہے کاش وہ جانتے ہوں۔ جو شخص بھی مدینہ سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ کر جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ مدینہ میں کسی ایسے شخص کو لے آئے گا جو اس سے بہتر ہوگا۔ اور جو شخص مدینہ کی سختی اور تنگی پر ثابت قدم رہے گا، تو میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا۔ اور جو شخص بھی اہل مدینہ کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے آگ میں اس طرح پگھلا دے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے یا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن سعد. مختصر مسلم ٧٧٤، الإرواء ١٠٥٨.