حدیث نمبر: 2459
«إني حدثتكم عن الدجال حتى خشيت أن لا تعقلوا إن المسيح الدجال رجل قصير أفحج جعد أعور مطموس العين ليست بناتئة ولا حجراء فإن ألبس عليكم فاعلموا أن ربكم ليس بأعور وأنكم لن تروا ربكم حتى تموتوا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً میں نے تمہیں دجال کے بارے میں اس قدر (تفصیل سے) بتایا ہے کہ مجھے ڈر محسوس ہونے لگا تھا کہ کہیں تم (ان باتوں کو خلط ملط کر کے) سمجھ نہ پاؤ۔ بے شک مسیح دجال ایک پستہ قد، ٹیڑھی ٹانگوں والا، سخت گھنگھریالے بالوں والا اور کانا آدمی ہے جس کی ایک آنکھ بالکل مٹی ہوئی (سپاٹ) ہے، جو نہ تو باہر کی طرف ابھری ہوئی ہے اور نہ ہی اندر کی طرف دھنسی ہوئی ہے۔ پس اگر تم پر (اس کا دعویِٰ خدائی سن کر) معاملہ مشتبہ ہونے لگے تو یہ جان لینا کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اور تم اپنے رب کا ہرگز دیدار نہیں کر سکو گے یہاں تک کہ تم وفات پا جاؤ۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2459
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن عبادة بن الصامت. المشكاة ٥٤٥٨.