حدیث نمبر: 2452
«إني أعطي رجالا حديثي عهد بكفر أتألفهم أما ترضون أن يذهب الناس بالأموال وترجعون إلى رحالكم برسول الله؟ فوالله لما تنقلبون به خير مما ينقلبون به إنكم سترون بعدي أثرة شديدة فاصبروا حتى تلقوا الله ورسوله فإني فرطكم على الحوض»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ میں کچھ ایسے لوگوں کو (زیادہ مال) دیتا ہوں جو کفر سے قریب کے زمانے میں نکل کر آئے ہیں (یعنی نو مسلم ہیں) تاکہ میں ان کی دلجوئی کر سکوں۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ مال و دولت لے کر جائیں اور تم اپنے خیموں (اور گھروں) کی طرف اللہ کے رسول کو لے کر لوٹو؟ پس اللہ کی قسم! جو کچھ تم لے کر لوٹ رہے ہو وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ لے کر لوٹ رہے ہیں۔ یقیناً تم میرے بعد اپنے اوپر دوسروں کو سخت ترجیح دیا جانا دیکھو گے، تو تم (اس حق تلفی پر) صبر کرنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، بے شک میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رو (تمہارا استقبال کرنے والا) ہوں گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أنس. مختصر مسلم ١٥٤٨ - ١٥٥٢عن جندب وجابر نحوه.