کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إن لم تجدوا إلا مرابض الغنم وأعطان الإبل
فصلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في أعطان الإبل فإنها خلقت من الشياطين"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہیں بکریوں کے باڑوں اور اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہوں کے سوا (نماز کے لیے) کوئی اور جگہ نہ ملے، تو بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کرو لیکن اونٹوں کے باڑوں میں نماز ادا نہ کرو، کیونکہ وہ شیاطین (کی خصلتوں) سے پیدا کیے گئے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة١. المشكاة ٧٣٩، الضعيفة ٢٢٠٩.
«إن لم تجدي له شيئا تعطينه إياه إلا ظلفا محرقا فادفعيه إليه في يده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہیں سائل کو دینے کے لیے جلے ہوئے کھر کے سوا اور کچھ بھی نہ ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں تھما دیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1440
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت ن حب ك] عن أم بجيد. صحيح الترغيب ٨٧٦.
«إن نزلتم بقوم فأمروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا فإن لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف الذي ينبغي لهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم کسی قوم کے ہاں بطور مہمان ٹھہرو اور وہ تمہارے لیے وہ سب مہیا کریں جو ایک مہمان کے لیے مناسب ہے، تو اسے قبول کر لو۔ لیکن اگر وہ ایسا نہ کریں تو تم ان سے مہمان کا وہ حق وصول کر لو جو ان پر لازم ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د هـ] عن عقبة بن عامر. الإرواء ٢٥٢٤.
«إن وجدتم غير آنيتهم - يعني أهل الكتاب - فلا تأكلوا فيها وإن لم تجدوا فاغسلوها وكلوا فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تمہیں ان (یعنی اہل کتاب) کے برتنوں کے علاوہ دوسرے برتن مل جائیں تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ۔ اور اگر تمہیں (ان کے سوا کوئی اور برتن) نہ ملیں تو انہیں اچھی طرح دھو لو اور پھر ان میں کھا لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1442
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي ثعلبة الخشني. الإرواء ٣٧: خ.
«إن يعش هذا الغلام فعسى أن لا يبلغ الهرم حتى تقوم الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو قریب ہے کہ یہ بڑھاپے کو نہ پہنچے یہاں تک کہ قیامت (یعنی تمہاری موت کا وقت) قائم ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس وعن المغيرة وعن عائشة. مختصر مسلم ٢٠٦٣.
«إن يكن هو فلن تسلط عليه وإن لم يكن هو فلا خير لك في قتله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر یہ وہی (یعنی دجال) ہے تو تم اس پر ہرگز غلبہ نہیں پا سکو گے (کیونکہ اسے قتل کرنا عیسیٰ علیہ السلام کا کام ہے)، اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1444
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت] عن ابن عمر. الإرواء ٢٧٨١.
"إن يمنح أحدكم أخاه خير له من أن يأخذ عليه
خرجا معلوما"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو اپنی زمین (کاشت کے لیے) مفت دے دے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس پر کوئی مقررہ معاوضہ (لگان) وصول کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1445
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عباس.
«أنا ابن العواتك من سليم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں قبیلہ بنو سلیم کی عواتک (یعنی عاتکہ نامی خواتین) کا بیٹا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1446
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ص طب] عن سبابة بن عاصم. الصحيحة ١٥٦٩.
«أنا أبوالقاسم الله يعطي وأنا أقسم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں ابوالقاسم ہوں، دینے والا تو (اصل میں) اللہ ہی ہے جبکہ میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦٢٨.
«أنا أتقاكم لله وأعلمكم بحدود الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے بڑھ کر اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن رجل من الأنصار. الصحيحة ٣٢٩.
«إناء كإناء وطعام كطعام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”برتن کے بدلے برتن ہے اور کھانے کے بدلے کھانا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عائشة. الروض النضير ٩٣: حم، د، ت، طص، - أنس.
«أنا أكثر الأنبياء تبعا يوم القيامة وأنا أول من يقرع باب الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن تمام انبیاء کرام میں سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے اور سب سے پہلے میں ہی جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1450
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس. الصحيحة ١٥٧٠: أبوعوانة.
«أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن البراء. مختصر مسلم ١١٨٩.
«أنا أولى الناس بعيسى بن مريم في الدنيا والآخرة ليس بيني وبينه نبي والأنبياء أولاد علات أمهاتهم شتى ودينهم واحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں، میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں گزرا۔ تمام انبیاء کرام علاتی بھائی (یعنی ایک باپ اور مختلف ماؤں کی اولاد) ہیں، ان کی مائیں (شریعتیں) مختلف ہیں جبکہ ان سب کا دین (توحید) ایک ہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٦١٨.
"أنا أولى بالمؤمنين في كتاب الله فأيكم ما ترك دينا أو ضيعة فادعوني فأنا وليه وأيكم ما ترك مالا فليؤثر بماله عصبته
من كان"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کتاب اللہ کی رو سے میں مومنوں کے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس تم میں سے جو کوئی مرتے وقت قرض یا کمزور و بے سہارا اہل و عیال چھوڑ جائے تو مجھے بلاؤ، کیونکہ میں اس کا سرپرست ہوں۔ اور جو شخص کوئی مال چھوڑ کر مرے تو اس کا مال اس کے ورثاء کو دیا جائے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. الإرواء ١٤١٦، ١٤٣٣.
«أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي من المؤمنين فترك دينا فعلي قضاؤه ومن ترك مالا فهو لورثته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں مومنوں کے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس مومنوں میں سے جو کوئی وفات پا جائے اور اپنے ذمے کوئی قرض چھوڑے تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے ورثاء کا حق ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1454
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أبي هريرة. المصدر السابق.
«أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فمن ترك دينا أو ضيعة فإلي ومن ترك مالا فلورثته وأنا مولى من لا مولى له أرث ماله وأفك عانيه والخال مولى من لا مولى له يرث ماله ويعقل عنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں ہر مومن کے اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس جو کوئی قرض یا کمزور اہل و عیال چھوڑے تو ان کی ذمہ داری مجھ پر ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثاء کا حق ہے۔ اور جس کا کوئی وارث (سرپرست) نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، میں ہی اس کے مال کا وارث ہوں گا اور اس کے قیدی کا فدیہ ادا کروں گا۔ اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہوتا ہے اور اس کی طرف سے دیت (خون بہا) ادا کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن المقدام. الإرواء ١٧٠٠، المشكاة ٣٠٥٢: حم، سعيد بن منصور، ابن ماجه، الطحاوي، حب، ابن الجارود، هق.
«أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فمن ترك دينا فعلي ومن ترك مالا فلورثته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں ہر مومن کے اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس جو کوئی قرض چھوڑ کر فوت ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1456
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن] عن جابر. أحكام الجنائز ٨٦، الإرواء ١٤١٦، المشكاة ٩١.
«أنا أول الناس يشفع في الجنة وأنا أكثر الأنبياء تبعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت کے معاملے میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا، اور تمام انبیاء میں سب سے زیادہ پیروکاروں والا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1457
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس. الصحيحة ١٥٧٠: أبو عوانة، خط.
«أنا أول شفيع في الجنة لم يصدق نبي من الأنبياء ما صدقت وإن من الأنبياء نبيا ما يصدقه من أمته إلا رجل واحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں جنت کے لیے سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں، کسی بھی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری تصدیق کی گئی ہے، اور بے شک انبیاء میں سے کوئی نبی تو ایسا بھی گزرا ہے جس کی امت میں سے صرف ایک ہی آدمی نے اس کی بات مانی (اور ایمان لایا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1458
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أنس. الصحيحة ١٥٧٠: أبو عوانة.
«أنا أول من يأخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو جنت کے دروازے کا حلقہ (کنڈا) پکڑ کر اسے کھٹکھٹائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1459
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن أنس. الصحيحة ١٥٧٠: الدارمي.
«أنا بريء ممن حلق وسلق وخرق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اس شخص سے بری ہوں جو (مصیبت اور صدمے کے وقت غم میں) سر منڈوائے، چیخ پکار کر کے روئے اور کپڑے پھاڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1460
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن هـ] عن أبي موسى. الإرواء ٧٦١، الجنائز ٣٠: خ.
«أنا بريء من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين لا تراءى نارهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں ہر اس مسلمان سے بری (لاتعلق) ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش پذیر ہو۔ ان دونوں (یعنی مسلمان اور مشرک) کی آگ ایک دوسرے کو دکھائی نہیں دینی چاہیے (یعنی انہیں اتنے فاصلے پر رہنا چاہیے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1461
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ت الضياء] عن جرير. الإرواء ١٢٠٧، الصحيحة ٦٣٦.
«أنا حرب لمن حاربتم وسلم لمن سالمتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری اس شخص سے جنگ ہے جس سے تم جنگ کرو، اور میری اس شخص سے صلح ہے جس سے تم صلح کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1462
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ حب ك] عن زيد بن أرقم. الروض النضير ٣١١: حم، ك، خط – أبي هريرة.
«أنا دعوة إبراهيم وكان آخر من بشر بي عيسى بن مريم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں (اپنے جدِ امجد) ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں، اور میری آمد کی خوشخبری سنانے والوں میں سب سے آخری عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1463
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ١٥٤٦.
«أنا زعيم بيت في ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا وبيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا وبيت في أعلى الجنة لمن حسن خلقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے، اور اس شخص کے لیے جنت کے وسط میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے، اور اس شخص کے لیے جنت کے اعلیٰ ترین درجے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے اپنے اخلاق سنوار لیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1464
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د الضياء] عن أبي أمامة. الضعيفة ١٣٥، الصحيحة ٢٧٣.
"أنا زعيم لمن آمن بي وأسلم وهاجر ببيت في
ربض الجنة وبيت في وسط الجنة وبيت في أعلى غرف الجنة، وأنا زعيم لمن آمن بي وأسلم وجاهد في سبيل الله ببيت في ربض الجنة وبيت في وسط الجنة وبيت في أعلى غرف الجنة، فمن فعل ذلك لم يدع للخير مطلبا ولا من الشر مهربا يموت حيث شاء أن يموت"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اس شخص کے لیے جس نے مجھ پر ایمان لایا، اسلام قبول کیا اور ہجرت کی، جنت کے اطراف میں ایک گھر کا، جنت کے وسط میں ایک گھر کا اور جنت کے بالا خانوں میں سب سے بلند گھر کا ضامن ہوں۔ اور میں اس شخص کے لیے جس نے مجھ پر ایمان لایا، اسلام قبول کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، جنت کے اطراف میں ایک گھر کا، جنت کے وسط میں ایک گھر کا اور جنت کے بالا خانوں میں سب سے بلند گھر کا ضامن ہوں۔ پس جس شخص نے ایسا کر لیا اس نے بھلائی کے حصول کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا اور شر سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا، اب وہ جہاں چاہے (جس حال میں چاہے) فوت ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1465
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن حب ك] عن فضالة بن عبيد. صحيح الترغيب ٢/١٧٣.
"أنا سيد الناس يوم القيامة وهل تدرون مم ذلك؟ يجمع الله الأولين والآخرين في صعيد واحد يسمعهم الداعي وينفذهم البصر وتدنوالشمس منهم فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون فيقول بعض الناس لبعض: ألا ترون ما قد بلغكم؟ ألا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيقول بعض الناس لبعض: ائتوا آدم فيأتون آدم فيقولون: يا آدم أنت أبونا أنت أبوالبشر خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه وأمر الملائكة فسجدوا لك اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم آدم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإنه نهاني عن الشجرة فعصيته نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى نوح; فيأتون نوحا فيقولون: أنت أول الرسل إلى أهل الأرض وسماك الله {عَبْداً شَكُوراً} اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم نوح: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإنه قد كانت لي دعوة دعوت بها على قومي نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى إبراهيم; فيأتون إبراهيم فيقولون: يا إبراهيم؟ أنت نبي الله وخليله من أهل الأرض اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما
نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم إبراهيم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإني قد كنت كذبت ثلاث كذبات نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى موسى; فيأتون موسى فيقولون: يا موسى! أنت رسول الله فضلك الله برسالاته وبكلامه على الناس اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإني قتلت نفسا لم أومر بقتلها نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى عيسى; فيأتون عيسى! فيقولون: يا عيسى أنت رسول الله وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه وكلمت الناس في المهد اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم عيسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى محمد; فيأتوني فيقولون: يا محمد! أنت رسول الله وخاتم الأنبياء وغفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجدا لربي ثم يفتح الله علي ويلهمني من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه لأحد قبلي ثم يقال: يا محمد! ارفع رأسك سل تعط واشفع تشفع فأرفع رأسي فأقول: يا رب! أمتي أمتي فيقال: يا محمد أدخل الجنة من أمتك من لا حساب عليه من الباب الأيمن من أبواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب والذي نفسي بيده إن ما بين مصراعين من مصاريع الجنة لكما بين مكة وهجر أوكما بين مكة وبصرى"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا، اور کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس وجہ سے ہوگا؟ اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع فرمائے گا، پکارنے والے کی آواز سب تک پہنچے گی اور نگاہ سب کو دیکھ سکے گی، اور سورج ان کے بالکل قریب آ جائے گا۔ لوگوں کو اس قدر غم اور تکلیف پہنچے گی جسے برداشت کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہوگی۔ پس لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کس حال کو پہنچ گئے ہو؟ کیا تم کسی ایسے شخص کو تلاش نہیں کرتے جو تمہارے رب کے حضور تمہاری سفارش کرے؟ پھر کچھ لوگ دوسروں سے کہیں گے: آدم (علیہ السلام) کے پاس چلو۔ وہ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ابوالبشر ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، آپ میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ آدم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ اور اس نے مجھے اس درخت (کے پھل کھانے) سے منع فرمایا تھا مگر میں نے نافرمانی کی۔ آج مجھے خود اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ پس وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: (اے نوح!) آپ زمین والوں کی طرف بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو ﴿عَبْدًا شَكُورًا﴾ ”نہایت شکر گزار بندہ“ [سورة الإسراء: 3] کا نام دیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ نوح (علیہ السلام) ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ مجھے ایک دعا کا حق ملا تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی تھی۔ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ پس وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ہیں۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ ابراہیم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ میں نے (اپنی زندگی میں) تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا۔ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ پس وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ذریعے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ وہ کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ میں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا حالانکہ مجھے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ پس وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف القا کیا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں، اور آپ نے پنگھوڑے میں لوگوں سے کلام کیا تھا۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ عیسیٰ (علیہ السلام) ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ۔ پس وہ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ پھر میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر پڑوں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد اور بہترین ثناء کے ایسے کلمات کھولے گا جو مجھ سے پہلے کسی پر نہیں کھولے تھے۔ پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو دیا جائے گا، اور سفارش کیجیے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت۔ تو کہا جائے گا: اے محمد! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر کوئی حساب نہیں ہے، جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کر دیجیے، اور اس کے علاوہ باقی دروازوں میں بھی وہ عام لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے دروازوں کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان، یا جتنا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1466
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أبي هريرة. شرح الطحاوية ١٢٤، ١٩٨.
«أنا سيد ولد آدم يوم القيامة وأول من ينشق عنه القبر وأول شافع وأول مشفع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، اور سب سے پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی قبر شق ہوگی (یعنی سب سے پہلے میں قبر سے اٹھوں گا)، اور میں ہی سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1467
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن أبي هريرة. شرح الطحاوية ١٢٣، ١٢٧: حم، ابن سعد.
«أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر وبيدي لواء الحمد ولا فخر وما من نبي يومئذ آدم فمن سواه إلا تحت لوائي وأنا أول شافع وأول مشفع ولا فخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں، اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور اس پر کوئی فخر نہیں، اور اس دن آدم (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ تمام انبیاء میرے ہی جھنڈے کے نیچے ہوں گے، اور میں ہی سب سے پہلا شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1468
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٥٧١: حب – عبد الله بن سلام.
«أنا فرطكم على الحوض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں حوضِ کوثر پر تم سے پہلے پہنچ کر تمہارا پیش رو ہوں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1469
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن جندب [خ] عن ابن مسعود [م] عن جابر بن سمرة. مختصر مسلم ١٥٤٨.
«أنا فرطكم على الحوض أنتظركم ليرفع لي رجال منكم حتى إذا عرفتهم اختلجوا دوني فأقول: رب أصحابي! رب أصحابي! فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا، میں تمہارا انتظار کروں گا یہاں تک کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا جائے گا، پھر جب میں انہیں پہچان لوں گا تو انہیں مجھ سے دور کر دیا جائے گا۔ تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں! اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں! تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1470
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن حذيفة. حم، خ عن حذيفة.
«أنا فرطكم على الحوض ولأنازعن أقواما ثم لأغلبن عليهم فأقول: يا رب أصحابي أصحابي! فيقول: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور میں کچھ لوگوں کو بچانے کے لیے کشمکش کروں گا پھر ان کے معاملے میں مجھ پر غلبہ پا لیا جائے گا (یعنی انہیں مجھ سے چھین لیا جائے گا)، تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں! یہ تو میرے صحابہ ہیں! تو وہ (اللہ) فرمائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں گھڑ لی تھیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1471
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن مسعود. مختصر مسلم ١٥٤٨.
«أنا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب إن الله تعالى خلق الخلق فجعلني في خيرهم ثم جعلهم فرقتين فجعلني في خيرهم فرقة ثم جعلهم قبائل فجعلني في خيرهم قبيلة ثم جعلهم بيوتا فجعلني في خيرهم بيتا فأنا خيركم بيتا وأنا خيركم نفسا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان میں سے بہترین گروہ میں رکھا، پھر انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے بہترین حصے میں رکھا، پھر انہیں قبیلوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے بہترین قبیلے میں پیدا فرمایا، پھر انہیں گھرانوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے بہترین گھرانے میں پیدا فرمایا۔ پس میں گھرانے کے لحاظ سے بھی تم سب سے بہتر ہوں اور ذات کے لحاظ سے بھی تم سب سے بہتر ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1472
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن المطلب بن أبي وداعة. المشكاة ٥٧٥٧.
«أنا محمد وأحمد والمقفي والحاشر ونبي التوبة ونبي الرحمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں محمد ہوں، اور احمد ہوں، اور مقفی (سب کے بعد آنے والا) ہوں، اور حاشر (لوگوں کو جمع کرنے والا) ہوں، اور توبہ کا نبی ہوں، اور رحمت کا نبی ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1473
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي موسى زاد [طب] : ونبي الملحمة. الروض ٤٠١، ١٠١٧: الطيالسي، حم، ابن سعد، الطحاوي طص، ك، وعندهم الزيادة.
«أنا وارث من لا وارث له أفك عانيه وأرث ماله والخال وارث من لا وارث له يفك عانيه ويرث ماله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اس شخص کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کی طرف سے قیدی کا فدیہ ادا کرتا ہوں اور اس کے مال کا وارث بنتا ہوں، اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی طرف سے قیدی کا فدیہ ادا کرتا ہے اور اس کے مال کا وارث ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن المقدام. المشكاة ٣٠٥٢، الإرواء ١٧٠٠: حم، سعيد بن منصور، ابن ماجه، الطحاوي، حب، ابن الجارود، هق.
«أنا وكافل اليتيم في الجنة هكذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں اس طرح (ایک ساتھ) ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ د ت] عن سهل بن سعد. الصحيحة ٨٠٠.
«أنا وكافل اليتيم له أولغيره في الجنة والساعي على الأرملة والمسكين كالمجاهد في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں اور اپنے یا کسی غیر کے یتیم کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں (اس طرح ساتھ) ہوں گے، اور بیوہ و مسکین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1476
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن عائشة. مسلم ٨/٢٢١ – أبي هريرة.
«انبذوه على غدائكم واشربوه على عشائكم وانبذوه على عشائكم واشربوه على غدائكم وانبذوه في الشنان ولا تنبذوه في القلل فإنه إذا تأخر عن عصره صار خلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسے (نبیذ کو) صبح کے وقت بھگو دیا کرو اور رات کو پی لیا کرو، اور رات کے وقت بھگو دیا کرو اور صبح کو پی لیا کرو، اور اسے مشکیزوں میں بھگویا کرو اور مٹکوں میں نہ بھگویا کرو، کیونکہ جب اس پر وقت گزر جاتا ہے تو وہ سرکہ بن جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1477
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن الديلمي. الصحيحة ١٥٧٣: حم.
«أنت أحق بصدر دابتك مني إلا أن تجعله لي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم اپنی سواری کے اگلے حصے (یعنی آگے بیٹھنے) کے مجھ سے زیادہ حق دار ہو، سوائے اس کے کہ تم وہ جگہ میرے لیے چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1478
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت] عن بريدة. المشكاة ٣٩١٨ الإرواء ٤٨٧.