حدیث نمبر: 1455
«أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فمن ترك دينا أو ضيعة فإلي ومن ترك مالا فلورثته وأنا مولى من لا مولى له أرث ماله وأفك عانيه والخال مولى من لا مولى له يرث ماله ويعقل عنه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں ہر مومن کے اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، پس جو کوئی قرض یا کمزور اہل و عیال چھوڑے تو ان کی ذمہ داری مجھ پر ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثاء کا حق ہے۔ اور جس کا کوئی وارث (سرپرست) نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، میں ہی اس کے مال کا وارث ہوں گا اور اس کے قیدی کا فدیہ ادا کروں گا۔ اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہوتا ہے اور اس کی طرف سے دیت (خون بہا) ادا کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن المقدام. الإرواء ١٧٠٠، المشكاة ٣٠٥٢: حم، سعيد بن منصور، ابن ماجه، الطحاوي، حب، ابن الجارود، هق.