حدیث نمبر: 1466
"أنا سيد الناس يوم القيامة وهل تدرون مم ذلك؟ يجمع الله الأولين والآخرين في صعيد واحد يسمعهم الداعي وينفذهم البصر وتدنوالشمس منهم فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون فيقول بعض الناس لبعض: ألا ترون ما قد بلغكم؟ ألا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيقول بعض الناس لبعض: ائتوا آدم فيأتون آدم فيقولون: يا آدم أنت أبونا أنت أبوالبشر خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه وأمر الملائكة فسجدوا لك اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم آدم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإنه نهاني عن الشجرة فعصيته نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى نوح; فيأتون نوحا فيقولون: أنت أول الرسل إلى أهل الأرض وسماك الله {عَبْداً شَكُوراً} اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم نوح: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإنه قد كانت لي دعوة دعوت بها على قومي نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى إبراهيم; فيأتون إبراهيم فيقولون: يا إبراهيم؟ أنت نبي الله وخليله من أهل الأرض اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما
نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم إبراهيم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإني قد كنت كذبت ثلاث كذبات نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى موسى; فيأتون موسى فيقولون: يا موسى! أنت رسول الله فضلك الله برسالاته وبكلامه على الناس اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإني قتلت نفسا لم أومر بقتلها نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى عيسى; فيأتون عيسى! فيقولون: يا عيسى أنت رسول الله وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه وكلمت الناس في المهد اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم عيسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى محمد; فيأتوني فيقولون: يا محمد! أنت رسول الله وخاتم الأنبياء وغفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر اشفع لنا إلى ربك ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجدا لربي ثم يفتح الله علي ويلهمني من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه لأحد قبلي ثم يقال: يا محمد! ارفع رأسك سل تعط واشفع تشفع فأرفع رأسي فأقول: يا رب! أمتي أمتي فيقال: يا محمد أدخل الجنة من أمتك من لا حساب عليه من الباب الأيمن من أبواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب والذي نفسي بيده إن ما بين مصراعين من مصاريع الجنة لكما بين مكة وهجر أوكما بين مكة وبصرى"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا، اور کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس وجہ سے ہوگا؟ اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع فرمائے گا، پکارنے والے کی آواز سب تک پہنچے گی اور نگاہ سب کو دیکھ سکے گی، اور سورج ان کے بالکل قریب آ جائے گا۔ لوگوں کو اس قدر غم اور تکلیف پہنچے گی جسے برداشت کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہوگی۔ پس لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کس حال کو پہنچ گئے ہو؟ کیا تم کسی ایسے شخص کو تلاش نہیں کرتے جو تمہارے رب کے حضور تمہاری سفارش کرے؟ پھر کچھ لوگ دوسروں سے کہیں گے: آدم (علیہ السلام) کے پاس چلو۔ وہ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ابوالبشر ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، آپ میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ آدم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ اور اس نے مجھے اس درخت (کے پھل کھانے) سے منع فرمایا تھا مگر میں نے نافرمانی کی۔ آج مجھے خود اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ پس وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: (اے نوح!) آپ زمین والوں کی طرف بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو ﴿عَبْدًا شَكُورًا﴾ ”نہایت شکر گزار بندہ“ [سورة الإسراء: 3] کا نام دیا ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ نوح (علیہ السلام) ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ مجھے ایک دعا کا حق ملا تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی تھی۔ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ پس وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ہیں۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ ابراہیم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ میں نے (اپنی زندگی میں) تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا۔ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ پس وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ذریعے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ وہ کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ میں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا حالانکہ مجھے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ پس وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف القا کیا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں، اور آپ نے پنگھوڑے میں لوگوں سے کلام کیا تھا۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ عیسیٰ (علیہ السلام) ان سے کہیں گے: بے شک میرا رب آج اس قدر غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضب ناک ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب ناک ہوگا۔ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، میری جان، میری جان، میری جان۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ۔ پس وہ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس مصیبت کو پہنچ چکے ہیں؟ پھر میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر اپنے رب کے حضور سجدے میں گر پڑوں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد اور بہترین ثناء کے ایسے کلمات کھولے گا جو مجھ سے پہلے کسی پر نہیں کھولے تھے۔ پھر کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو دیا جائے گا، اور سفارش کیجیے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت۔ تو کہا جائے گا: اے محمد! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر کوئی حساب نہیں ہے، جنت کے دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کر دیجیے، اور اس کے علاوہ باقی دروازوں میں بھی وہ عام لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت کے دروازوں کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان، یا جتنا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1466
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أبي هريرة. شرح الطحاوية ١٢٤، ١٩٨.