کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
"من سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له طريقا إلى الجنة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں وہ علم تلاش کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6298
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. العلم لأبي خيثمة ٢٥: م.
«من سل علينا السيف فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے ہم پر تلوار سونتی وہ ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6299
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن سلمة بن الأكوع. المشكاة ٣٥٢١.
«من سمع النداء فلم يأته فلا صلاة له إلا من عذر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اذان سنے اور مسجد میں نہ آئے اس کی نماز نہیں مگر یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6300
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ حب ك] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ٥٦٠: د، الإرواء ٥٥١.
«من سمع بالدجال فلينأ عنه فوالله إن الرجل ليأتيه وهو يحسب أنه مؤمن فيتبعه مما يبعث به الشبهات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو دجال کے بارے میں سنے وہ اس سے دور رہے، کیونکہ اللہ کی قسم! آدمی اس کے پاس اس گمان میں جاتا ہے کہ وہ مومن ہے، پھر وہ اس کے پھیلائے ہوئے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن عمران بن الحصين. المشكاة ٥٤٨٨.
«من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا ردها الله عليك فإن المساجد لم تبن لهذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کسی آدمی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے یہ چیز واپس نہ دے، کیونکہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6302
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٥٤، صحيح أبي داود ٤٩٢.
«من سمع سمع الله به ومن راءى راءى الله به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے عمل کی شہرت کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے مشہور کر دے گا (رسوا کرے گا)، اور جو دکھاوے کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے دکھا دے گا (رسوا کر دے گا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن عباس. مختصر مسلم ٢٠٩٠.
«من سمع سمع الله به ومن راءى راءى الله به ومن شاق شق الله عليه يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے عمل کی شہرت کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے مشہور (رسوا) کر دے گا، جو دکھاوے کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے دکھا دے گا، اور جو لوگوں کے لیے مشکل پیدا کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر مشکل کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6304
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ هـ] عن جندب. م ٨/٢٢٣.
«من سن في الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء ومن سن في الإسلام سنة سيئة فعليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کیا اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6305
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ٥٣٣، صحيح الترغيب ٦٠، أحكام الجنائز ١٧٦.
«من سن سنة حسنة عمل بها بعده كان له أجره ومثل أجورهم من غير أن ينقص من أجورهم شيء ومن سن سنة سيئة فعمل بها بعده كان عليه وزرها ومثل أوزارهم من غير أن ينقص من أوزارهم شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کوئی اچھا طریقہ رائج کیا جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اسے اس کا اجر اور ان جیسا اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے کوئی برا طریقہ رائج کیا جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اس پر اس کا گناہ اور ان جیسا گناہ ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي جحيفة. صحيح الترغيب ١/٤٨.
«من شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے سر میں اسلام کی حالت میں ایک بال بھی سفید ہوا وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن] عن كعب بن مرة. الصحيحة ١٢٤٤.
«من شاب شيبة في سبيل الله كانت له نورا يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے سر میں اللہ کی راہ میں ایک بال بھی سفید ہوا وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث المشكاة ٤٤٥٩، الصحيحة ١٢٤٤.
«من شرب الخمر فاجلدوه فإن عاد الثانية فاجلدوه فإن عاد الثالثة فاجلدوه فإن عاد الرابعة فاقتلوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شراب پیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر دوبارہ پیے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر تیسری بار پیے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پیے تو اسے قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن ك] عن ابن عمر [د ت ك] عن معاوية [د هق] عن ذؤيب [حم د ت ك] عن أبي هريرة [طب ك الضياء] عن شرحبيل بن أوس [طب قط ك الضياء] عن جرير [حم ك] عن ابن عمرووابن خزيمة [ك] عن جابر [طب] عن غضيف [ن ك الضياء] عن الشريد بن سويد [ك] عن نفر من الصحابة. الترغيب ٣/١٨٧.
«من شرب الخمر في الدنيا ثم لم يتب منها حرمها في الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دنیا میں شراب پی اور اس سے توبہ نہ کی تو آخرت میں وہ اس پر حرام کر دی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن ابن عمر. الروض النضير ٥٦٢.
«من شرب الخمر في الدنيا لم يشربها في الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٨٤: ك، ابن عساكر. ك - ابن عمر.
"من شرب الخمر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد الرابعة لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن تاب لم يتب الله عليه وسقاه من نهر الخبال"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے شراب پی اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر چوتھی بار لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اور اگر اس بار توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا اور اسے نہرِ خبال سے پلائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث إيمان أبي عبيد ٩١، المشكاة ٣٦٤٣، ٣٦٤٤.
«من شرب الخمر وسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار فإن تاب تاب الله عليه وإن عاد فشرب فسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار وإن تاب تاب الله عليه وإن عاد فشرب فسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار وإن تاب تاب الله عليه فإن عاد كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال يوم القيامة: عصارة أهل النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے شراب پی اور نشہ کیا تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ شراب پی کر نشہ کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ شراب پی کر نشہ کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، لیکن اگر وہ پھر لوٹے تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے قیامت کے دن ردغۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ (کا مواد) پلائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمرو. المشكاة ٣٦٤٤.
«من شرب في إناء فضة فكأنما يجرجر في بطنه نار جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کوئی چاندی کے برتن میں پیے تو گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیل رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عائشة. صحيح الترغيب ١/١١٧: حم.
«من شرب في إناء من ذهب أو فضة فإنما يجرجر في بطنه نارا من جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کوئی سونے یا چاندی کے برتن میں پیے تو گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیل رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أم سلمة. الإرواء ٣٣.
«من شفع لأخيه شفاعة فأهدى له هدية عليها فقبلها منه فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنے بھائی کی سفارش کی اور اس نے اس پر اسے ہدیہ دیا اور اس نے وہ قبول کر لیا تو اس نے سود کے بڑے دروازوں میں سے ایک دروازے میں قدم رکھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6316
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د] عن أبي أمامة. المشكاة ٣٧٥٧.
«من شهد الجنازة حتى يصلي عليها فله قيراط ومن شهدها حتى تدفن كان له قيراطان مثل الجبلين العظيمين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو جنازے میں شریک ہو یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے اسے ایک قیراط اجر ملے گا، اور جو اس میں شریک رہے یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے اسے دو قیراط ملیں گے جو دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6317
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن أبي هريرة.
«من شهد أن لا إله إلا الله دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6318
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن ابن عمر. الصحيحة ٢٣٤٤.
«من شهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله حرم الله عليه النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)، اللہ تعالیٰ اس پر آگ حرام کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن عبادة. مختصر مسلم ١١.
«من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وأن عيسى عبده ورسوله وابن أمته وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه وأن الجنة حق وأن النار حق وأن البعث حق أدخله الله الجنة على ما كان من عمل من أي أبواب الجنة الثمانية شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)، اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کی بندی (مریم) کے بیٹے ہیں اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور دوبارہ اٹھایا جانا حق ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے وہ چاہے جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال کچھ بھی ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6320
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن عبادة بن الصامت. المشكاة ٢٧.
«من شهد صلاتنا هذه ووقف معنا حتى ندفع وقد وقف بعرفة قبل ذلك ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو ہماری اس نماز میں حاضر ہو اور ہمارے ساتھ اس وقت تک ٹھہرے جب تک ہم روانہ نہ ہو جائیں، اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے احرام کی میل کچیل دور کر لی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن عروة بن مضرس. الإرواء ١٠٦٦.
«من شهر سيفه ثم وضعه فدمه هدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنی تلوار سونتی پھر اسے چلایا تو اس کا خون رائیگاں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن ك] عن ابن الزبير. الصحيحة ٢٣٤٥: حل.
«من صام الأبد فلا صام ولا أفطر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے ہمیشہ (بلاناغہ) روزے رکھے اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6323
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ ك] عن عبد الله بن الشخير. صحيح الترغيب ٢/٨٨: حب. ن، طب - ابن عمر. ن، حب - عمران. ن - أبي قتادة.
«من صام ثلاثة أيام من كل شهر فقد صام الدهر كله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے ہر مہینے تین دن روزے رکھے اس نے گویا ہمیشہ روزے رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6324
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن هـ الضياء] عن أبي ذر. صحيح الترغيب ١٠٢٥، الإرواء ٩٤٧.
«من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه [وما تأخر] »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (ثواب کی نیت) سے رکھے اس کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6325
«من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (ثواب کی نیت) سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6326
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي هريرة.
«من صام رمضان وأتبعه ستا من شوال كان كصوم الدهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ گویا ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الإرواء ٩٥٠، الروض النضير ٩١١، مختصر مسلم ٦١٨.
«من صام ستة أيام بعد الفطر كان تمام السنة {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے عید الفطر کے بعد چھ دن روزے رکھے تو یہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہو گیا، کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:) جو ایک نیکی لے کر آئے اسے اس کی دس گنا نیکیاں ملیں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6328
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ثوبان. صحيح الترغيب ٩٩٧: ن، ابن خزيمة، حب.
«من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم حر جهنم عن وجهه سبعين خريفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس ایک دن کی وجہ سے جہنم کی گرمی کو اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أبي سعيد. م ٣/١٥٩.
«من صام يوما في سبيل الله باعد الله منه جهنم مسيرة مائة عام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ن] عن عقبة بن عامر.
«من صام يوما في سبيل الله باعد الله وجهه من جهنم سبعين عاما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي سعيد. م ٣/١٥٩.
«من صام يوما في سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6332
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن أبي سعيد. صحيح الترغيب ٩٧٨.
«من صام يوما في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار خندقا كما بين السماء والأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان ایک ایسی خندق بنا دے گا جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6333
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث المشكاة ٢٠٦٤، الصحيحة ٥٦٣، صحيح الترغيب ٩٨١.
«من صام يوما في سبيل الله زحزح الله وجهه عن النار بذلك اليوم سبعين خريفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس ایک دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت جتنا دور ہٹا دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6334
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح الترغيب ٩٨٠.
«من صام يوم عرفة غفر الله له سنتين: سنة أمامه وسنة خلفه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے یومِ عرفہ کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے دو سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے: ایک سال آگے کا اور ایک سال پیچھے کا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6335
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الأحاديث الضعيفة ٤١٢: صحيح الترغيب ١٠٠١: م - أبي قتادة١.
«من صرع عن دابته فهو شهيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنی سواری سے گر کر مر جائے وہ شہید ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6336
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الصحيحة ٢٣٤٦: الروياني؛ د، ك، هق - أبي مالك الأشعري.
«من صلى البردين دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دونوں ٹھنڈے وقتوں کی نماز (فجر اور عصر) پڑھی وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي موسى. مختصر مسلم ٢٠٩.