"من سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له طريقا إلى الجنة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں وہ علم تلاش کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔“
”جو شخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں وہ علم تلاش کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔“
«من سل علينا السيف فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے ہم پر تلوار سونتی وہ ہم میں سے نہیں۔“
”جس نے ہم پر تلوار سونتی وہ ہم میں سے نہیں۔“
«من سمع النداء فلم يأته فلا صلاة له إلا من عذر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اذان سنے اور مسجد میں نہ آئے اس کی نماز نہیں مگر یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو۔“
”جو اذان سنے اور مسجد میں نہ آئے اس کی نماز نہیں مگر یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو۔“
«من سمع بالدجال فلينأ عنه فوالله إن الرجل ليأتيه وهو يحسب أنه مؤمن فيتبعه مما يبعث به الشبهات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو دجال کے بارے میں سنے وہ اس سے دور رہے، کیونکہ اللہ کی قسم! آدمی اس کے پاس اس گمان میں جاتا ہے کہ وہ مومن ہے، پھر وہ اس کے پھیلائے ہوئے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگتا ہے۔“
”جو دجال کے بارے میں سنے وہ اس سے دور رہے، کیونکہ اللہ کی قسم! آدمی اس کے پاس اس گمان میں جاتا ہے کہ وہ مومن ہے، پھر وہ اس کے پھیلائے ہوئے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگتا ہے۔“
«من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا ردها الله عليك فإن المساجد لم تبن لهذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کسی آدمی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے یہ چیز واپس نہ دے، کیونکہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں۔“
”جو کسی آدمی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے یہ چیز واپس نہ دے، کیونکہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں۔“
«من سمع سمع الله به ومن راءى راءى الله به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے عمل کی شہرت کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے مشہور کر دے گا (رسوا کرے گا)، اور جو دکھاوے کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے دکھا دے گا (رسوا کر دے گا)۔“
”جو اپنے عمل کی شہرت کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے مشہور کر دے گا (رسوا کرے گا)، اور جو دکھاوے کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے دکھا دے گا (رسوا کر دے گا)۔“
«من سمع سمع الله به ومن راءى راءى الله به ومن شاق شق الله عليه يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنے عمل کی شہرت کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے مشہور (رسوا) کر دے گا، جو دکھاوے کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے دکھا دے گا، اور جو لوگوں کے لیے مشکل پیدا کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر مشکل کرے گا۔“
”جو اپنے عمل کی شہرت کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے مشہور (رسوا) کر دے گا، جو دکھاوے کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اسے دکھا دے گا، اور جو لوگوں کے لیے مشکل پیدا کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر مشکل کرے گا۔“
«من سن في الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء ومن سن في الإسلام سنة سيئة فعليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کیا اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“
”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کیا اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“
«من سن سنة حسنة عمل بها بعده كان له أجره ومثل أجورهم من غير أن ينقص من أجورهم شيء ومن سن سنة سيئة فعمل بها بعده كان عليه وزرها ومثل أوزارهم من غير أن ينقص من أوزارهم شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے کوئی اچھا طریقہ رائج کیا جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اسے اس کا اجر اور ان جیسا اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے کوئی برا طریقہ رائج کیا جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اس پر اس کا گناہ اور ان جیسا گناہ ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“
”جس نے کوئی اچھا طریقہ رائج کیا جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اسے اس کا اجر اور ان جیسا اجر ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو، اور جس نے کوئی برا طریقہ رائج کیا جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اس پر اس کا گناہ اور ان جیسا گناہ ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“
«من شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے سر میں اسلام کی حالت میں ایک بال بھی سفید ہوا وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“
”جس کے سر میں اسلام کی حالت میں ایک بال بھی سفید ہوا وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“
«من شاب شيبة في سبيل الله كانت له نورا يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس کے سر میں اللہ کی راہ میں ایک بال بھی سفید ہوا وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“
”جس کے سر میں اللہ کی راہ میں ایک بال بھی سفید ہوا وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“
«من شرب الخمر فاجلدوه فإن عاد الثانية فاجلدوه فإن عاد الثالثة فاجلدوه فإن عاد الرابعة فاقتلوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شراب پیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر دوبارہ پیے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر تیسری بار پیے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پیے تو اسے قتل کر دو۔“
”جو شراب پیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر دوبارہ پیے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر تیسری بار پیے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پیے تو اسے قتل کر دو۔“
«من شرب الخمر في الدنيا ثم لم يتب منها حرمها في الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دنیا میں شراب پی اور اس سے توبہ نہ کی تو آخرت میں وہ اس پر حرام کر دی جائے گی۔“
”جس نے دنیا میں شراب پی اور اس سے توبہ نہ کی تو آخرت میں وہ اس پر حرام کر دی جائے گی۔“
«من شرب الخمر في الدنيا لم يشربها في الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا۔“
”جس نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا۔“
"من شرب الخمر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد الرابعة لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن تاب لم يتب الله عليه وسقاه من نهر الخبال"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے شراب پی اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر چوتھی بار لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اور اگر اس بار توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا اور اسے نہرِ خبال سے پلائے گا۔“
”جس نے شراب پی اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، پھر اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر چوتھی بار لوٹے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اور اگر اس بار توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا اور اسے نہرِ خبال سے پلائے گا۔“
«من شرب الخمر وسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار فإن تاب تاب الله عليه وإن عاد فشرب فسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار وإن تاب تاب الله عليه وإن عاد فشرب فسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار وإن تاب تاب الله عليه فإن عاد كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال يوم القيامة: عصارة أهل النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے شراب پی اور نشہ کیا تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ شراب پی کر نشہ کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ شراب پی کر نشہ کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، لیکن اگر وہ پھر لوٹے تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے قیامت کے دن ردغۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ (کا مواد) پلائے۔“
”جس نے شراب پی اور نشہ کیا تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ شراب پی کر نشہ کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ شراب پی کر نشہ کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، لیکن اگر وہ پھر لوٹے تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے قیامت کے دن ردغۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ (کا مواد) پلائے۔“
«من شرب في إناء فضة فكأنما يجرجر في بطنه نار جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کوئی چاندی کے برتن میں پیے تو گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیل رہا ہے۔“
”جو کوئی چاندی کے برتن میں پیے تو گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیل رہا ہے۔“
«من شرب في إناء من ذهب أو فضة فإنما يجرجر في بطنه نارا من جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو کوئی سونے یا چاندی کے برتن میں پیے تو گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیل رہا ہے۔“
”جو کوئی سونے یا چاندی کے برتن میں پیے تو گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیل رہا ہے۔“
«من شفع لأخيه شفاعة فأهدى له هدية عليها فقبلها منه فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنے بھائی کی سفارش کی اور اس نے اس پر اسے ہدیہ دیا اور اس نے وہ قبول کر لیا تو اس نے سود کے بڑے دروازوں میں سے ایک دروازے میں قدم رکھا۔“
”جس نے اپنے بھائی کی سفارش کی اور اس نے اس پر اسے ہدیہ دیا اور اس نے وہ قبول کر لیا تو اس نے سود کے بڑے دروازوں میں سے ایک دروازے میں قدم رکھا۔“
«من شهد الجنازة حتى يصلي عليها فله قيراط ومن شهدها حتى تدفن كان له قيراطان مثل الجبلين العظيمين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو جنازے میں شریک ہو یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے اسے ایک قیراط اجر ملے گا، اور جو اس میں شریک رہے یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے اسے دو قیراط ملیں گے جو دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہوں گے۔“
”جو جنازے میں شریک ہو یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے اسے ایک قیراط اجر ملے گا، اور جو اس میں شریک رہے یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے اسے دو قیراط ملیں گے جو دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہوں گے۔“
«من شهد أن لا إله إلا الله دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
«من شهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله حرم الله عليه النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)، اللہ تعالیٰ اس پر آگ حرام کر دے گا۔“
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)، اللہ تعالیٰ اس پر آگ حرام کر دے گا۔“
«من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وأن عيسى عبده ورسوله وابن أمته وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه وأن الجنة حق وأن النار حق وأن البعث حق أدخله الله الجنة على ما كان من عمل من أي أبواب الجنة الثمانية شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)، اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کی بندی (مریم) کے بیٹے ہیں اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور دوبارہ اٹھایا جانا حق ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے وہ چاہے جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال کچھ بھی ہوں۔“
”جس نے گواہی دی کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)، اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کی بندی (مریم) کے بیٹے ہیں اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور دوبارہ اٹھایا جانا حق ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے وہ چاہے جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال کچھ بھی ہوں۔“
«من شهد صلاتنا هذه ووقف معنا حتى ندفع وقد وقف بعرفة قبل ذلك ليلا أو نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو ہماری اس نماز میں حاضر ہو اور ہمارے ساتھ اس وقت تک ٹھہرے جب تک ہم روانہ نہ ہو جائیں، اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے احرام کی میل کچیل دور کر لی۔“
”جو ہماری اس نماز میں حاضر ہو اور ہمارے ساتھ اس وقت تک ٹھہرے جب تک ہم روانہ نہ ہو جائیں، اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے احرام کی میل کچیل دور کر لی۔“
«من شهر سيفه ثم وضعه فدمه هدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے اپنی تلوار سونتی پھر اسے چلایا تو اس کا خون رائیگاں ہے۔“
”جس نے اپنی تلوار سونتی پھر اسے چلایا تو اس کا خون رائیگاں ہے۔“
«من صام الأبد فلا صام ولا أفطر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے ہمیشہ (بلاناغہ) روزے رکھے اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“
”جس نے ہمیشہ (بلاناغہ) روزے رکھے اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“
«من صام ثلاثة أيام من كل شهر فقد صام الدهر كله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے ہر مہینے تین دن روزے رکھے اس نے گویا ہمیشہ روزے رکھے۔“
”جس نے ہر مہینے تین دن روزے رکھے اس نے گویا ہمیشہ روزے رکھے۔“
«من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه [وما تأخر] »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (ثواب کی نیت) سے رکھے اس کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (ثواب کی نیت) سے رکھے اس کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
«من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (ثواب کی نیت) سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب (ثواب کی نیت) سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
«من صام رمضان وأتبعه ستا من شوال كان كصوم الدهر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ گویا ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے۔“
”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ گویا ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے۔“
«من صام ستة أيام بعد الفطر كان تمام السنة {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے عید الفطر کے بعد چھ دن روزے رکھے تو یہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہو گیا، کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:) جو ایک نیکی لے کر آئے اسے اس کی دس گنا نیکیاں ملیں گی۔“
”جس نے عید الفطر کے بعد چھ دن روزے رکھے تو یہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہو گیا، کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:) جو ایک نیکی لے کر آئے اسے اس کی دس گنا نیکیاں ملیں گی۔“
«من صام يوما في سبيل الله باعد الله بذلك اليوم حر جهنم عن وجهه سبعين خريفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس ایک دن کی وجہ سے جہنم کی گرمی کو اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس ایک دن کی وجہ سے جہنم کی گرمی کو اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
«من صام يوما في سبيل الله باعد الله منه جهنم مسيرة مائة عام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
«من صام يوما في سبيل الله باعد الله وجهه من جهنم سبعين عاما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
«من صام يوما في سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
«من صام يوما في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار خندقا كما بين السماء والأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان ایک ایسی خندق بنا دے گا جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔“
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان ایک ایسی خندق بنا دے گا جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔“
«من صام يوما في سبيل الله زحزح الله وجهه عن النار بذلك اليوم سبعين خريفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس ایک دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت جتنا دور ہٹا دے گا۔“
”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس ایک دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت جتنا دور ہٹا دے گا۔“
«من صام يوم عرفة غفر الله له سنتين: سنة أمامه وسنة خلفه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے یومِ عرفہ کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے دو سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے: ایک سال آگے کا اور ایک سال پیچھے کا۔“
”جس نے یومِ عرفہ کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے دو سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے: ایک سال آگے کا اور ایک سال پیچھے کا۔“
«من صرع عن دابته فهو شهيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو اپنی سواری سے گر کر مر جائے وہ شہید ہے۔“
”جو اپنی سواری سے گر کر مر جائے وہ شہید ہے۔“
«من صلى البردين دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے دونوں ٹھنڈے وقتوں کی نماز (فجر اور عصر) پڑھی وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
”جس نے دونوں ٹھنڈے وقتوں کی نماز (فجر اور عصر) پڑھی وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
…