حدیث نمبر: 6313
«من شرب الخمر وسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار فإن تاب تاب الله عليه وإن عاد فشرب فسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار وإن تاب تاب الله عليه وإن عاد فشرب فسكر لم تقبل له صلاة أربعين صباحا فإن مات دخل النار وإن تاب تاب الله عليه فإن عاد كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال يوم القيامة: عصارة أهل النار»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس نے شراب پی اور نشہ کیا تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ شراب پی کر نشہ کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، پھر اگر دوبارہ شراب پی کر نشہ کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ مر جائے تو آگ میں داخل ہوگا، اور اگر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، لیکن اگر وہ پھر لوٹے تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے قیامت کے دن ردغۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ (کا مواد) پلائے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمرو. المشكاة ٣٦٤٤.