کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف تا سے شروع ہونے والی احادیث
«تابعوا بين الحج والعمرة فإن متابعة بينهما تنفي الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حج اور عمرے کو یکے بعد دیگرے (پے در پے) کیا کرو، کیونکہ ان دونوں کو لگاتار ادا کرنا محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2899
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عمر. الصحيحة ١٢٠٠: حم، الطبري، المحاملي، ابن عساكر.
«تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حج اور عمرے کو یکے بعد دیگرے (پے در پے) کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2900
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عباس. الصحيحة ١٢٠٠: طب، العقيلي، الضياء.
«تابعوا بين الحج وعمرة فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة وليس للحجة المبرورة ثواب إلا الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حج اور عمرہ یکے بعد دیگرے (پے در پے) کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، اور حج مبرور (مقبول حج) کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2901
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن] عن ابن مسعود. الترغيب ١/١١٧، الإرواء ٢٥٢٤، الصحيحة ١٢٠٠: ابن خزيمة، ابن حبان، الطبراني، العقيلي، حل.
«تأتي الإبل على ربها على خير ما كانت إذا هي لم يعط فيها حقها تطؤه بأخفافها وتأتي الغنم على ربها على خير ما كانت إذا لم يعط فيها حقها تطؤه بأظلافها وتنطحه بقرونها ومن حقها أن تحلب على الماء ألا لا يأتين أحدكم يوم القيامة ببعير يحمله على رقبته له رغاء فيقول: يا محمد! فأقول: لا أملك لك شيئا قد بلغت ألا لا يأتين أحدكم يوم القيامة بشاة يحملها على رقبته لها يعار فيقول: يا محمد! فأقول: لا أملك لك شيئا قد بلغت ويكون كنز أحدكم يوم القيامة شجاعا أقرع يفر منه صاحبه ويطلبه: أنا كنزك فلا يزال حتى يلقمه إصبعه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اونٹ قیامت کے دن اپنے مالک کے پاس اپنی بہترین اور موٹی تازی حالت میں آئیں گے، اگر اس نے ان میں اللہ کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کیا ہوگا تو وہ اسے اپنے پاؤں سے روندیں گے۔ اور بکریاں اپنے مالک کے پاس بہترین حالت میں آئیں گی، اگر اس نے ان کا حق ادا نہیں کیا ہوگا تو وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ اور ان کا ایک حق یہ بھی ہے کہ انہیں پانی پلانے کی جگہ پر دوہا جائے۔ خبردار! تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس نے اپنی گردن پر ایسا اونٹ اٹھا رکھا ہو جو بلبلا رہا ہو اور وہ مجھے پکارے: اے محمد! تو میں اسے جواب دوں گا کہ میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔ خبردار! تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس نے اپنی گردن پر بکری اٹھا رکھی ہو جو ممیا رہی ہو اور وہ مجھے پکارے: اے محمد! تو میں اسے جواب دوں گا کہ میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔ اور تم میں سے کسی (زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے) کا خزانہ قیامت کے دن ایک گنجا زہریلا سانپ بن جائے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ سانپ اس کا پیچھا کرتے ہوئے کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں، وہ مسلسل اس کا پیچھا کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ شخص اپنی انگلیاں اس کے منہ میں دے دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2902
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أبي هريرة. الترغيب ٢/٢٦٦.
«تأخذ إحداكن ماءها وسدرها فتطهر فتحسن الطهور ثم تصب على رأسها فتدلكه دلكا شديدا حتى يبلغ شئون رأسها ثم تصب عليها الماء ثم تأخذ فرصة ممسكة فتطهر بها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کوئی عورت (غسلِ حیض کے لیے) اپنا پانی اور بیری کے پتے لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرے، پھر اپنے سر پر پانی بہائے اور اسے زور سے ملے یہاں تک کہ پانی اس کے سر کی جڑوں (اور مانگوں) تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی بہائے، پھر مشک لگی ہوئی روئی یا کپڑے کا ایک ٹکڑا لے اور اس کے ذریعے (خون کی جگہ کو صاف کر کے) پاکی حاصل کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2903
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د هـ] عن عائشة. مختصر مسلم ١٧٢، صحيح أبي داود ٣٣٣.
«تؤخذ صدقات المسلمين على مياههم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمانوں کے صدقات (یعنی جانوروں کی زکوٰۃ) ان کے چشموں اور گھاٹوں پر (جہاں وہ پانی پینے آتے ہیں) وصول کیے جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2904
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٧٧٩: الطيالسي، هق. هق - عائشة.
«تأكل النار ابن آدم إلا أثر السجود حرم الله عز وجل على النار أن تأكل أثر السجود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہنم کی آگ ابنِ آدم کے پورے جسم کو جلا دے گی سوائے سجدے کے نشانات کے، کیونکہ اللہ عزوجل نے آگ پر یہ حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدے کے نشانات کو جلائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2905
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. صفة الصلاة ١٣١، ق.
«تبايعوا الذهب بالفضة كيف شئتم والفضة بالذهب كيف شئتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سونے کو چاندی کے بدلے جیسے چاہو خرید و فروخت کرو، اور چاندی کو سونے کے بدلے جیسے چاہو خرید و فروخت کرو (یعنی اگر نقد ہو تو کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2906
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي بكرة. بيوع الموسوعة: حم، ق.
«تبا للذهب والفضة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت (اور تباہی) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم في الزهد] عن رجل [هب] عن عمر. الروض النضير ١٧٩.
«تبسمك في وجه أخيك لك صدقة وأمرك بالمعررف ونهيك عن المنكر صدقة وإرشادك الرجل في أرض الضلال لك صدقة وإماطتك الحجر والشوك والعظم عن الطريق لك صدقة وإفراغك من دلوك في دلو أخيك لك صدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، کسی بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ دکھانا تمہارے لیے صدقہ ہے، راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی ہٹانا تمہارے لیے صدقہ ہے، اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالنا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد ت حب] عن أبي ذر. الصحيحة ٥٧٢.
«تبعث الملائكة يوم الجمعة إلى أبواب المسجد يكتبون الأول فالأول فإذا صعد الإمام على المنبر طويت الصحف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بھیجے جاتے ہیں، وہ سب سے پہلے آنے والے کا نام لکھتے ہیں، پھر اس کے بعد آنے والے کا۔ پھر جب امام منبر پر چڑھ جاتا ہے تو اعمال نامے لپیٹ دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2909
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. صحيح الترغيب ٧١٢.
«تبعث النخامة في القبلة يوم القيامة وهي في وجه صاحبها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس شخص نے قبلہ کی طرف رخ کر کے تھوکا ہوگا، قیامت کے دن اس کا وہ بلغم (یا تھوک) اس طرح لایا جائے گا کہ وہ اس کے چہرے پر لگا ہوا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2910
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن ابن عمر. صحيح الترغيب ٢٨٣: ابن خزيمة، حب.
«تبلغ الحلية من المؤمن حيث يبلغ الوضوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کا زیور (جنت میں) وہاں تک پہنچے گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2911
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٣٤، المشكاة ٢٩١، الصحيحة ٢٥٢.
«تبلغ المساكن إهاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(مدینہ کی) آبادیاں (پھیل کر) مقامِ اہاب تک پہنچ جائیں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٢٠٣١، المشكاة ٥٤٤٠.
«تتركون المدينة على خير ما كانت لا يغشاها إلا العوافي وآخر من يحشر راعيان من مزينة يريدان المدينة ينعقان بغنمهما فيجدانها وحوشا حتى إذا بلغا ثنية الوداع خرا على وجوههما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم مدینہ کو اس کی بہترین حالت میں چھوڑ دو گے، اس میں صرف پرندے اور درندے (آ کر) رہا کریں گے۔ اور سب سے آخر میں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے جمع کیے جائیں گے جو مدینہ آنا چاہیں گے، وہ اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے لائیں گے تو انہیں جنگلی جانوروں کی شکل میں پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ ثنیۃ الوداع (کی گھاٹی) پر پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے (یعنی وفات پا جائیں گے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. الصحيحة ٦٨٣.
«تجافوا عن عقوبة ذوي المروءة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شریف اور باوقار لوگوں کی (چھوٹی موٹی) لغزشوں پر انہیں سزا دینے سے درگزر کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2914
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو بكر بن المزربان في كتاب المروءة طب في مكارم الأخلاق] عن ابن عمر. الصحيحة ٦٣٨: الطحاوي، ابن الأعرابي، السهمي.
«تجب الجمعة على كل مسلم إلا امرأة أو صبيا أو مملوكا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر مسلمان پر جمعہ (کی نماز) پڑھنا فرض ہے، سوائے عورت، بچے یا غلام کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2915
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشافعي هق] عن رجل من بني وائل. الإرواء ٥٩٢: ابن مندة.
"تجدون الناس معادن فخيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا وتجدون خير الناس في هذا الشأن أشدهم له كراهية قبل أن يقع فيه وتجدون شر الناس يوم القيامة عند الله ذا الوجهين:
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم لوگوں کو کانوں (معدنیات) کی طرح پاؤ گے، ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہتر تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہتر ہیں بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔ اور تم اس (حکومت اور امارت کے) معاملے میں سب سے بہتر شخص اسے پاؤ گے جو اس عہدے میں پڑنے سے پہلے اس سے سب سے زیادہ کراہت محسوس کرتا ہو۔ اور تم قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برا شخص اسے پاؤ گے جو دوغلا (دو چہرے والا) ہو: (یعنی وہ جو ایک گروہ کے پاس ایک رخ لے کر جاتا ہے اور دوسرے کے پاس دوسرا رخ)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2916
«تجوزوا في الصلاة فإن خلفكم الضعيف والكبير وذا الحاجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز میں تخفیف کیا کرو، کیونکہ تمہارے پیچھے کمزور، بوڑھا اور حاجت مند شخص بھی ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2917
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ٧٥٩: الضياء –ابن عباس، حم – أبي هريرة. حل –أبي مسعود.
«تجيء ريح بين يدي الساعة! فيقبض فيها روح كل مؤمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت سے پہلے ایک ہوا چلے گی جس میں ہر مومن کی روح قبض کر لی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2918
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن عياش بن أبي ربيعة.
«تحاجت النار والجنة فقالت النار: أوثرت بالمتكبرين والمتجبرين وقالت الجنة: فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم وعجزهم؟ فقال الله عز وجل للجنة: إنما أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي وقال للنار: إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي ولكل واحدة منكما ملؤها فأما النار فلا تمتلئ حتى يضع الله قدمه عليها فتقول: قط قط فهنالك تمتلئ وينزوي بعضها إلى بعض فلا يظلم الله من خلقه أحدا وأما الجنة فإن الله ينشئ لها خلقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت اور جہنم نے آپس میں جھگڑا کیا، جہنم نے کہا: مجھے متکبرین اور جبار لوگوں کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، اور جنت نے کہا: مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میرے اندر صرف کمزور، حقیر اور بے بس لوگ ہی داخل ہوتے ہیں؟ تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا: تو تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں رحم فرماتا ہوں، اور جہنم سے فرمایا: تو تو میرا عذاب ہے، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دیتا ہوں، اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔ رہی جہنم، تو وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ اپنا قدم اس پر نہ رکھ دے، تب وہ کہے گی: بس بس! تب وہ بھر جائے گی اور اس کے حصے سمٹ کر ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں گے، اور اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ رہی جنت، تو اللہ اس کے لیے نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2919
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٩٨٠.
«تحروا ليلة القدر فمن كان متحريها فليتحرها في ليلة سبع وعشرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کو تلاش کرو، اور جو اسے تلاش کرنا چاہے تو وہ ستائیسویں شب میں تلاش کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2920
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ١٢٥٣: الطيالسي.
«تحروا ليلة القدر في السبع الأواخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کو رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2921
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك م د] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ١٢٥٣: حم، خ، حل.
«تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن عائشة.
«تحروا ليلة القدر ليلة ثلاث وعشرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کو تیئسویں شب میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبد الله بن أنيس. صحيح أبي داود ١٢٤٩: حم، د، ابن نصر.
«تحشرون حفاة عراة غرلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے اسی حالت میں اٹھائے جاؤ گے جس میں پیدا ہوئے تھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2924
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عائشة [ت ك] عن ابن عباس.
«تحول إلى الظل.. ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سائے کی طرف چلے جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2925
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي حازم. الصحيحة ٨٣٣١.
«تحولوا عن مكانكم الذي أصابتكم فيه الغفلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی اس جگہ سے ہٹ جاؤ جہاں تمہیں غفلت لاحق ہوئی تھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2926
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هق] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٤٦٣.
«تخرج الدابة فتسم الناس على خراطيمهم ثم يعمرون فيكم حتى يشتري الرجل الدابة فيقال: ممن اشتريت؟ فيقول: من الرجل المخطم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمین سے وہ جانور (دابۃ الارض) نکلے گا اور لوگوں کی ناک پر نشان لگا دے گا، پھر وہ تمہارے درمیان لمبی عمریں پائیں گے یہاں تک کہ کوئی آدمی جانور خریدے گا تو اس سے پوچھا جائے گا: تم نے کس سے خریدا؟ تو وہ کہے گا: اس آدمی سے جس کی ناک پر نشان لگا ہوا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2927
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي أمامة. الصحيحة ٣٢٢: تخ، البغوي، أبو نعيم.
«تخيروا لنطفكم فانكحوا الأكفاء وانكحوا إليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی نسل کے لیے اچھا انتخاب کرو، پس ہم پلہ لوگوں سے نکاح کرو اور انہی میں اپنی بیٹیوں کا نکاح کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2928
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك هق] عن عائشة. الصحيحة ١٠٦٧، الضعيفة ٧٣٠.
«تداووا بألبان البقر فإني أرجو أن يجعل الله فيها شفاء فإنها تأكل من كل الشجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گائے کے دودھ سے علاج کرو، مجھے امید ہے کہ اللہ نے اس میں شفا رکھی ہے، کیونکہ گائے ہر قسم کے درخت اور پودے سے کھاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2929
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. الصحيحة ٥١٨.
«تداووا عباد الله فإن الله تعالى لم يضع داء إلا وضع له دواء غير داء واحد: الهرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے اللہ کے بندو! علاج کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں بنائی جس کی دوا نہ رکھی ہو، سوائے ایک بیماری کے: بڑھاپا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2930
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ حب ك] عن أسامة بن شريك. الروض النضير ١٢، غاية المرام ٢٩٢.
«تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول إلا ما يرضي الرب والله إنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آنکھ سے آنسو بہتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے، لیکن ہم صرف وہی بات کہیں گے جس سے رب راضی ہو۔ اللہ کی قسم! اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2931
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن أنس. فقه السيرة ٤٨٤: خ.
«تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول ما يسخط الرب ولولا أنه وعد صادق وموعود جامع وأن الآخر منا يتبع الأول لوجدنا عليك يا إبراهيم وجدا أشد مما وجدنا وإنا بك يا إبراهيم لمحزونون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آنکھ سے آنسو بہتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم وہ بات نہیں کہتے جو رب کو ناراض کرے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ یہ ایک سچا وعدہ اور جمع ہونے کی جگہ ہے، اور یہ کہ ہم میں سے پچھلا پہلے سے جا ملے گا، تو ہم تم پر اے ابراہیم! اس سے کہیں زیادہ غم کرتے جتنا ہم نے کیا ہے، اور بے شک ہم تمہاری جدائی پر، اے ابراہیم! غمگین ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن أسماء بنت يزيد. الصحيحة ١٧٣٢: ابن سعد.
«تدنوا الشمس يوم القيامة من الخلق حتى تكون منهم كمقدار ميل فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق فمنهم من يكون إلى كعبيه ومنهم من يكون إلى ركبتيه ومنهم من يكون إلى حقويه ومنهم من يلجمه العرق إلجاما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن سورج لوگوں کے اتنا قریب ہو جائے گا کہ ان سے صرف ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا، تو لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ہوں گے، کوئی اپنے ٹخنوں تک، کوئی اپنے گھٹنوں تک، کوئی اپنی کمر تک، اور کوئی ایسا ہو گا کہ پسینہ اسے لگام کی طرح جکڑ لے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن المقداد بن الأسود. مختصر مسلم ١٩٥٣، الصحيحة ١٣٨٢: حم، ت.
«تدور رحى الإسلام لخمس وثلاثين أوست وثلاثين أوسبع وثلاثين فإن يهلكوا فسبيل من هلك وإن يقم لهم دينهم يقم لهم سبعين عاما بما مضى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام کی چکی پینتیس، چھتیس یا سینتیس سال تک چلے گی، اگر وہ لوگ ہلاک ہو گئے تو یہ ہلاک ہونے والوں ہی کا راستہ ہے، اور اگر ان کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا، جس میں گزرا ہوا زمانہ بھی شامل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2934
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن ابن مسعود. الصحيحة ٩٧٦.
«تذهبون الخير فالخير حتى لا يبقى منكم إلا مثل هذه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے بھلے لوگ ایک کے بعد ایک ختم ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ تم میں سے صرف اتنے ہی باقی رہ جائیں گے جتنے یہ ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [تخ طب ك] عن رويفع بن ثابت. الصحيحة ١٧٨١: حب.
«ترد علي أمتي الحوض وأنا أذود الناس عنه كما يذود الرجل إبل الرجل عن إبله قالوا: يا نبي الله تعرفنا؟ قال: نعم لكم سيما ليست لأحد غيركم تردون علي غرا محجلين من آثار الوضوء وليصدن عني طائفة منكم فلا يصلون فأقول: يا رب هؤلاء من أصحابي! فيجيبني ملك فيقول: وهل تدري ما أحدثوا بعدك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی، اور میں لوگوں کو اس سے ہٹاؤں گا جیسے کوئی آدمی دوسرے کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تمہاری ایک ایسی نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی، تم وضو کے اثرات کی وجہ سے روشن پیشانیوں اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے، لیکن تم میں سے ایک گروہ کو ضرور مجھ سے ہٹا دیا جائے گا، وہ مجھ تک نہ پہنچ سکیں گے، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں! تو ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کہے گا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں ایجاد کیں؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2936
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«تركت فيكم شيئين لن تضلوا بعدهما: كتاب الله وسنتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، ان کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت، اور یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آ پہنچیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. المشكاة ١٨٦، الصحيحة ١٧٦١.
«تزوج ولو بخاتم من حديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نکاح کرو، خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی مہر میں کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف التاء / حدیث: 2938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن سهل بن سعد.