کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا رفع فارفعوا وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا ولك الحمد وإذا سجد فاسجدوا وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام تو اسی لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی اقتدا (پیروی) کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ (رکوع سے سر) اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب (بھی) بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2357
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم خ د] عن أنس [حم ق د هـ] عن عائشة. صحيح أبي داود ٦١٤، ٦١٨، الإرواء ٣٩٤.
«إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا: ربنا لك الحمد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام تو بس اسی لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش (رہ کر توجہ سے) سنو، اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي هريرة. الإرواء ٣٣٢، ٣٩٤.
«إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا وإذا قال {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} فقولوا: آمين وإذا ركع فاركعوا وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا ولك الحمد وإذا سجد فاسجدوا وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام تو اسی لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ش هـ هق] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٦١٧: د.
"إنما جعل الإمام ليؤتم به فلا تختلفوا عليه وإذا كبر فكبروا وإذا ركع فاركعوا وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: ربنا لك الحمد وإذا سجد فاسجدوا وإذا صلى جالسا
فصلوا جلوسا أجمعين"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام تو اسی لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا تم اس (کے افعال) سے اختلاف نہ کرو، اور جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب مل کر بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن أبي هريرة. الإرواء ٣٩٤.
«إنما خيرني الله فقال: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً} وسأزيده على سبعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً﴾ [سورة التوبة: 80] (آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے)، تو میں ان کے لیے ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٦٣٦.
«إنما ذلك جبريل ما رأيته في الصورة التي خلق فيها غير هاتين المرتين رأيته منهبطا من السماء سادا عظم خلقه ما بين السماء والأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً وہ تو جبریل (علیہ السلام) تھے، میں نے انہیں ان کی اس (اصلی) صورت میں جس پر وہ پیدا کیے گئے ہیں ان دو مرتبہ کے سوا کبھی نہیں دیکھا، میں نے انہیں آسمان سے اترتے ہوئے اس حالت میں دیکھا کہ ان کی عظیم جسامت نے آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن عائشة. حم ٦/٢٣٦، ٢٤١، م ١/١١٠.
«إنما ذلك عرق فانظري فإذا أتى قرؤك فلا تصلي فإذا مر قرؤك فتطهري ثم صلي ما بين القرء إلى القرء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک یہ تو ایک رگ (کا خون یعنی استحاضہ) ہے، پس تم غور کرو، جب تمہارے حیض کے دن آئیں تو نماز نہ پڑھو، اور جب تمہارے حیض کے دن گزر جائیں تو پاکی حاصل کرو، پھر ایک حیض سے دوسرے حیض کے درمیانی عرصے میں نماز پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن] عن فاطمة بنت أبي حبيش. صحيح أبي داود ٢٧١.
«إنما سمي الخضر خضرا لأنه جلس على فروة بيضاء فإذا هي تهتز تحته خضراء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خضر کو خضر (سبز) اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مرتبہ سفید خشک گھاس (یا زمین) پر بیٹھے، تو وہ اچانک ان کے نیچے سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2364
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن أبي هريرة [طب] عن ابن عباس.
«إنما سمي القلب من تقلبه إنما مثل القلب مثل ريشة بالفلاة تعلقت في أصل شجرة يقلبها الريح ظهرا لبطن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قلب (دل) کو قلب اس کے الٹنے پلٹنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے، دل کی مثال تو کسی چٹیل میدان میں اس پرندے کے پر جیسی ہے جو کسی درخت کی جڑ میں اٹک گیا ہو اور ہوا اسے مسلسل اوپر نیچے الٹ پلٹ رہی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2365
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي موسى. المشكاة ١٠٣: حم، وأبو الحسن الحلبي في [الفوائد] .
«إنما فاطمة بضعة مني يؤذيني ما آذاها وينصبني ما أنصبها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فاطمہ تو میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جو چیز اسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے اور جو چیز اسے مشقت میں ڈالتی ہے وہ مجھے مشقت میں ڈالتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2366
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن الزبير. الإرواء ٢٧٤٣.
"إنما كان يكفيك أن تضرب بيديك إلى
الأرض فتمسح بهم وجهك وكفيك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے لیے (تیمم میں) بس اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے، پھر ان سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2367
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن عمار. صحيح أبي داود ٣٥٠، الإرواء ١٥٨، ١٦١: ق، مختصر البخاري ١٨٨، مختصر مسلم.
«إنما مثل الجليس الصالح وجليس السوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد ريحا خبيثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اچھے اور برے ہم نشین کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے جیسی ہے۔ پس کستوری اٹھانے والا یا تو تمہیں تحفے میں کچھ دے دے گا، یا تم اس سے خرید لو گے، یا (کم از کم) تم اس سے عمدہ خوشبو تو پاؤ گے۔ اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا (کم از کم) تم اس سے بدبو تو ضرور پاؤ گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٧٧٩.
«إنما مثل الذي يصلي ورأسه معقوص مثل الذي يصلي وهو مكتوف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس شخص کی مثال جو اپنے سر کے بالوں کا جوڑا (پشت پر) باندھ کر نماز پڑھے، اس شخص جیسی ہے جو ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کی حالت میں نماز پڑھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م طب] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ٦٥٤: د، مختصر مسلم ٣٤٩.
«إنما مثل المؤمن حين يصيبه الوعك أو الحمى كمثل حديدة تدخل النار فيذهب خبثها ويبقى طيبها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کو جب بخار یا کوئی درد پہنچتا ہے تو اس کی مثال اس لوہے کی سی ہے جسے آگ میں ڈالا جائے تو اس کا سارا زنگ اور میل کچیل دور ہو جاتا ہے اور اس کا خالص پن باقی رہ جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2370
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن عبد الرحمن بن أزهر. الصحيحة ١٧١٤: البزار.
«إنما مثل المهجر إلى الصلاة كمثل الذي يهدي البدنة ثم الذي على أثره كالذي يهدي البقرة ثم الذي على أثره كالذي يهدي الكبش ثم الذي على أثره كالذي يهدي الدجاجة ثم الذي على أثره كالذي يهدي البيضة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جمعہ کی نماز کے لیے اول وقت میں جانے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اللہ کی راہ میں ایک اونٹ قربان کرے، پھر جو اس کے بعد آئے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گائے قربان کرے، پھر جو اس کے بعد آئے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مینڈھا قربان کرے، پھر جو اس کے بعد آئے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مرغی اللہ کی راہ میں دے، پھر جو اس کے بعد آئے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایک انڈا صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2371
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي هريرة. صحيح حم ٢٣٩، ٢٥٩، ٢٨٠, ٤٩٩, ٥٠٥, ٥١٢، خ ٤٩٥، ١/٢٣٦، ٣/٨.
«إنما مثل صاحب القرآن كمثل صاحب الإبل المعقلة إن عاهد عليها أمسكها وإن أطلقها ذهبت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صاحبِ قرآن (قرآن یاد رکھنے والے) کی مثال تو رسی سے بندھے ہوئے اونٹوں کے مالک جیسی ہے، اگر وہ ان کی دیکھ بھال (اور نگرانی) کرتا رہے گا تو انہیں روکے رکھے گا اور اگر وہ انہیں کھلا چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ن هـ] عن ابن عمر. مختصر مسلم ٢١٠٩.
«إنما نسمة المؤمن طائر يعلق في شجر الجنة حتى يبعثه الله إلى جسده يوم يبعثه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مومن کی روح ایک پرندے کی صورت میں جنت کے درختوں میں کھاتی پھرتی (یا لٹکتی) رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس کے جسم کی طرف دوبارہ لوٹا دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2373
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ن هـ حب] عن كعب بن مالك. الطحاوية ٥١٨، الصحيحة ٩٩٥.
«إنما هلك من كان قبلكم باختلافهم في الكتاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سے پہلے کے لوگ اپنی (آسمانی) کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ ہی سے ہلاک ہوئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمرو. مختصر مسلم ٢١٢١.
«إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذ هذه نساؤهم» - يعني قصة من شعر - "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنی اسرائیل تو اسی وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے یہ (مصنوعی بال) پہننے شروع کر دیے، یعنی بالوں کا گچھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٣] عن معاوية. مختصر مسلم ١٣٨٥.
«إنما هم قبضتان فقبضة في النار وقبضة في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً وہ (لوگ) دو مٹھیوں میں ہیں، پس ایک مٹھی (کے لوگ) دوزخ میں جائیں گے اور ایک مٹھی (کے لوگ) جنت میں جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن معاذ. الصحيحة ٥٠.
«إنما هي أربعة أشهر وعشر وقد كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على رأس الحول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ (عدت کی مدت) تو بس چار ماہ اور دس دن ہے، اور دورِ جاہلیت میں تو تمہارا یہ حال تھا کہ تم میں سے کوئی عورت سال کے اختتام پر (عدت سے نکلتے وقت) مینگنی پھینکتی تھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2377
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق ت ن هـ] عن أم سلمة. مختصر مسلم ٨٣٦.
«إنما هي توبة نبي» - يعني سجدة [ص]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ تو محض ایک نبی کی توبہ (کا سجدہ) ہے، (اس سے آپ ﷺ کی مراد سورہ ص کا سجدہ تھا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2378
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ١٢٧١: الدارمي، الطحاوي، ابن ماجه، حب، هق.
«إنما يبعث الناس على نياتهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن لوگ اپنی اپنی نیتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2379
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. حسن، صحيح. صحيح الترغيب ١١ و١٢ عن جابر و٩ بعض حديث عائشة.
«إنما يخرج الدجال من غضبة يغضبها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دجال تو اس شدید غصے کی وجہ سے نکلے گا جو اسے آئے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2380
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن حفصة.
«إنما يرحم الله من عباده الرحماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے صرف رحم کرنے والوں ہی پر رحم فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2381
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن جرير. الضعيفة ٣٢٢٥، طب ٢٣٥٣.
«إنما يزرع ثلاثة: رجل له أرض فهو يزرعها ورجل منح أرضا فهو يزرع ما منح ورجل استكرى أرضا بذهب أو فضة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کھیتی باڑی تو بس تین طرح کے لوگ ہی کر سکتے ہیں: ایک وہ شخص جس کی اپنی زمین ہو اور وہ اس میں کاشتکاری کرے، دوسرا وہ شخص جسے کوئی زمین عطیہ (بطور عاریت) دی گئی ہو تو وہ اس عطا کردہ زمین میں کاشت کرے، اور تیسرا وہ شخص جو سونے یا چاندی (یعنی نقد رقم) کے بدلے زمین ٹھیکے (کرائے) پر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2382
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ن هـ] عن رافع بن خديج. الصحيحة ١٧١٥: الطحاوي.
«إنما يغسل من بول الأنثى وينضح من بول الذكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بچی کے پیشاب کو تو دھویا جائے گا جبکہ بچے (لڑکے) کے پیشاب پر صرف پانی چھڑک دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2383
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن أم الفضل. المشكاة ٥٠١، صحيح أبي داود ٣٩٩.
«إنما يكفي أحدكم ما كان في الدنيا مثل زاد الراكب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے کسی کو بھی دنیا میں بس اتنا ہی مال کافی ہونا چاہیے جتنا کسی مسافر کا زادِ راہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب هب] عن خباب. الصحيحة ١٧١٧: حل.
«إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات من ماء ثم تفيضي على سائر جسدك من الماء فإذا أنت قد طهرت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے لیے تو بس اتنا ہی کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو، پھر اپنے باقی سارے جسم پر پانی بہا لو، پس تم پاک ہو جاؤ گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤] عن أم سلمة. صحيح أبي داود ٢٤٥، الصحيحة ١٨٩، الإرواء ١٣٦: م.
«إنما يكفيك من جمع المال خادم ومركب في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مال جمع کرنے میں سے تمہارے لیے بس ایک خادم اور اللہ کی راہ (جہاد) کے لیے ایک سواری کافی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ن هـ] عن أبي هاشم بن عتبة. المشكاة ٥١٨٥.
"إنما يلبس الحرير في الدنيا من لا خلاق له في
الآخرة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا میں تو ریشم بس وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن هـ] عن عمر. صحيح أبي داود ٩٨٧، الإرواء ٢٧٨.
«إنما ينصر الله هذه الأمة بضعيفها بدعوتهم وصلاتهم وإخلاصهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی وجہ سے، ان کی دعاؤں، ان کی نمازوں اور ان کے خلوص کی برکت سے فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2388
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن سعد. صحيح الترغيب ٥.
«إنه اتبعنا رجل لم يكن معنا حين دعينا فإن أذنت له دخل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ایک شخص ہمارے پیچھے آ گیا ہے جو ہمارے ساتھ نہیں تھا جب ہمیں دعوت دی گئی تھی، پس اگر آپ اسے اجازت دیں تو وہ اندر آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2389
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي١ مسعود. مختصر مسلم ١٣٠٨.
«إنه أوحي إلي أنكم تفتنون في القبور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میری طرف وحی کی گئی ہے کہ یقیناً تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2390
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عائشة. حم ٦/٨٩، خ ١/٣٣، م ٣/٣٢.
«إنه خلق كل إنسان من بني آدم على ستين وثلاثمائة مفصل فمن كبر الله وحمد الله وهلل الله وسبح الله واستغفر الله وعزل حجرا عن طريق الناس أو شوكة أو عظما عن طريق الناس وأمر بمعروف أو نهى عن منكر عدد تلك الستين والثلاثمائة السلامى فإنه يمسي يومئذ وقد زحزح نفسه عن النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں پر پیدا کیا گیا ہے۔ پس جس شخص نے اللہ کی بڑائی بیان کی، اللہ کی حمد بیان کی، اللہ کی وحدانیت بیان کی، اللہ کی پاکی بیان کی، اللہ سے بخشش مانگی، اور لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر، کانٹا یا ہڈی ہٹا دی، اور نیکی کا حکم دیا یا برائی سے روکا، اور یہ سب اعمال ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی گنتی کے برابر کر لیے، تو بے شک وہ اس دن اس حال میں شام کرے گا کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے دور کر لیا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2391
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة. الصحيحة ١٧١٧: أبو الشيخ، مختصر مسلم ٥٤٦.
«إنه ستكون فرقة واختلاف فإذا كان كذلك فاكسر سيفك واتخذ سيفا من خشب واقعد في بيتك حتى تأتيك يد خاطئة أو منية قاضية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً عنقریب پھوٹ اور شدید اختلاف پیدا ہوگا، پس جب ایسا ہو جائے تو اپنی تلوار توڑ دینا، لکڑی کی تلوار بنا لینا اور اپنے گھر میں بیٹھ جانا، یہاں تک کہ تجھے کوئی خطا کار ہاتھ (قتل کرنے) آ پہنچے یا تیری موت آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت] عن أهبان بن صيفي. الصحيحة ١٣٨٠: ابن ماجه.
«إنه ستكون هنات وهنات فمن أراد أن يفرق أمر هذه الأمة وهي جميع فاضربوه بالسيف كائنا من كان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک عنقریب کئی فتنے اور خرابیاں پیدا ہوں گی، پس جو شخص اس امت کے معاملات میں تفرقہ ڈالنے کا ارادہ کرے جبکہ وہ سب (ایک امیر پر) متفق ہوں، تو اسے تلوار سے مار دو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2393
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن عرفجة. الإرواء ٢٤٥٢، مختصر مسلم ١٢٣٤.
«إنه سيكون أمراء يؤخرون الصلاة عن مواقيتها ألا فصل الصلاة لوقتها ثم ائتهم فإن كانوا قد صلوا كنت قد أحرزت صلاتك وإلا صليت معهم فكانت تلك نافلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً عنقریب ایسے حکمران ہوں گے جو نمازوں کو ان کے مقررہ وقت سے لیٹ کر دیں گے، تو سن لو! تم اپنی نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر ان کے پاس جانا، پس اگر وہ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم نے اپنی نماز محفوظ کر لی، اور اگر (وہ پڑھ رہے ہوں تو) تم ان کے ساتھ بھی پڑھ لینا، یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2394
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن أبي ذر. مختصر مسلم ٢٩٢.
«إنه سيكون عليكم أئمة تعرفون وتنكرون فمن أنكر فقد برئ ومن كره فقد سلم ولكن من رضي وتابع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک عنقریب تم پر ایسے حکمران مقرر ہوں گے جن کی بعض باتیں تم پہچانو گے (شریعت کے موافق پاؤ گے) اور بعض کو ناپسند کرو گے (خلافِ شریعت پاؤ گے)۔ پس جس شخص نے (ان کے برے کاموں کا) انکار کیا وہ بری ہو گیا، اور جس نے ناپسند کیا وہ محفوظ رہا، لیکن ہلاک وہ ہوا جو (ان کے کاموں پر) راضی ہوا اور ان کی پیروی کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2395
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت] عن أم سلمة. مختصر مسلم ١٢٢٩.
«إنه سيكون في هذه الأمة قوم يعتدون في الطهور والدعاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت (وضو اور غسل) اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2396
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ حب ك] عن عبد الله بن مغفل. صحيح أبي داود ٨٦، الإرواء ١٤٠.