کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أما إنك لو لم تعطه شيئا كتب عليك كذبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”«أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَ عَلَيْكَ كِذْبَةٌ» (ترجمہ: خبردار! اگر تم اس (بچے) کو کچھ نہ دیتیں، تو تمہارے نامہ اعمال میں ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔)“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د] عن عبد الله بن عامر بن ربيعة. الصحيحة ٧٤٨.
«أما إنها ستكون لكم الأنماط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خبردار! عنقریب تمہارے پاس (بہتر اور کشادہ رہائش کے لیے) غالیچے اور گدے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1320
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ت] عن جابر. مختصر مسلم ٧٤٨.
«أما إنه لئن حلف على ماله ليأكله ظلما ليلقين الله وهو عنه معرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! اگر اس نے (کسی کے) مال کو ناحق ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض اور منہ پھیرے ہوئے ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ت] عن وائل بن حجر. ش ٤/٢٤٨.
«أما إنه لم تهلك الأمم قبلكم حتى وقعوا في مثل هذا يضربون القرآن بعضه ببعض ما كان من حلال فأحلوه وما كان من حرام فحرموه وما كان من متشابه فآمنوا به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! تم سے پہلی امتیں اسی وقت ہلاک ہوئیں جب وہ اس جیسی گمراہی میں مبتلا ہوئیں کہ وہ اللہ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے ٹکرانے (اور تضاد پیدا کرنے) لگیں۔ تمہارے لیے ضروری ہے کہ جو حلال ہے اسے حلال جانو، جو حرام ہے اسے حرام مانو، اور جو متشابہ (جس کا مفہوم پوری طرح واضح نہ ہو) ہے اس پر فقط ایمان لاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٥٢٢: ابن سعد.
«أما إنه لو قال: بسم الله لكفاكم فإذا أكل أحدكم طعاما فليقل: بسم الله فإن نسي أن يقول: بسم الله في أوله فليقل: بسم الله أوله وآخره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یاد رکھو! اگر اس نے کھانے سے پہلے «بِسْمِ اللَّهِ» پڑھ لیا ہوتا تو وہ کھانا تم سب کے لیے کافی ہو جاتا، لہٰذا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ «بِسْمِ اللَّهِ» پڑھے، اور اگر وہ شروع میں پڑھنا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے: «بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ» (ترجمہ: اللہ کے نام سے اس کے شروع اور آخر میں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1323
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ حب هق] عن عائشة. الكلم الطيب ١٨٢، الإرواء ١٩٦٥.
«أما إنه لو قال حين أمسى: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق ما ضره لدغ عقرب حتى يصبح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یاد رکھو! اگر اس نے شام کے وقت یہ دعا پڑھ لی ہوتی: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» (میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے) تو صبح ہونے تک اسے بچھو کا ڈسنا ہرگز نقصان نہ پہنچاتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1324
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٦٤٩.
«أما إنه لا يدرك قوم بعدكم صاعكم ولا مدكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یاد رکھو! تمہارے بعد آنے والے لوگ تمہارے صاع (ایک مخصوص پیمانہ) اور مد (صاع کا چوتھائی حصہ) کی برکت و فضیلت کو ہرگز نہیں پا سکیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1325
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي سعيد١. الصحيحة ١٥٤٧.
"أما بلغكم أني لعنت من وسم البهيمة في وجهها أو
ضربها في وجهها"؟
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی کہ میں نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانور کے چہرے پر داغ لگا کر نشان بنائے یا اس کے چہرے پر مارے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1326
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن جابر. الصحيحة ١٥٤٩، الإرواء ٢١٨٦.
«أما ترضى أن تكون لهم الدنيا ولنا الآخرة؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان (کافروں) کے لیے یہ دنیاوی مال و متاع ہو اور ہمارے لیے آخرت (کی ابدی نعمتیں) ہوں؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق هـ] عن عمر. مختصر مسلم ٨٥٧.
«أما رأيت العارض الذي عرض لي قبيل؟ هو ملك من الملائكة لم يهبط إلى الأرض قط قبل هذه الليلة استأذن ربه عز وجل أن يسلم علي ويبشرني أن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة وأن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم نے اس (فرشتے) کو نہیں دیکھا جو ابھی کچھ دیر پہلے میرے سامنے ظاہر ہوا؟ وہ فرشتوں میں سے ایک ایسا فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا۔ اس نے اپنے رب عزوجل سے مجھے سلام کرنے اور یہ خوشخبری سنانے کی اجازت طلب کی تھی کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور فاطمہ (رضی اللہ عنہا) اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1328
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ن حب] عن حذيفة. الصحيحة ٧٩٦.
«أما علمت أن الإسلام يهدم ما كان قبله وأن الهجرة تهدم ما كان قبلها وأن الحج يهدم ما كان قبله؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام لانا اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو ڈھا دیتا ہے، اور ہجرت کرنا اپنے سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے، اور حج کرنا بھی اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عمرو بن العاص. الإرواء ١٢٨٠.
«أما علمت أن الملائكة لا تدخل بيتا فيه صورة وأن من صنع الصور يعذب يوم القيامة فيقال: أحيوا ما خلقتم؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر (جاندار کی) موجود ہو، اور تصویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو پیدا کیا ہے اب اسے زندہ بھی کرو؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عائشة. مختصر البخاري ٢٠٩.
[أما علمت أنك ومالك من كسب أبيك]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ ہی کی کمائی کا حصہ ہو؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمر. الصحيحة ١٥٤٨.
«أما علمت أن ملكا ينادي في السماء يقول: اللهم اجعل لمال منفق خلفا واجعل لمال ممسك تلفا؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آسمان میں ایک فرشتہ آواز لگاتا ہے اور یہ دعا کرتا ہے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِمَالِ مُنْفِقٍ خَلَفًا وَاجْعَلْ لِمَالِ مُمْسِكٍ تَلَفًا» (اے اللہ! راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کو اس کا بہترین نعم البدل عطا فرما، اور بخیل کے مال کو تباہ و برباد کر دے)؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1332
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن عبد الرحمن بن سبرة١. مجمع الزوائد ٣/١٢٢.
«أما كان يجد هذا ما يسكن به رأسه؟ أما كان يجد هذا ما يغسل به ثيابه؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا اس شخص کو کوئی ایسی چیز میسر نہیں تھی جس سے یہ اپنے سر کے بکھرے بالوں کو سنوار لیتا؟ کیا اس شخص کو کوئی ایسی چیز (پانی وغیرہ) نہیں ملی جس سے یہ اپنے کپڑے دھو لیتا؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1333
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د حب ك] عن جابر. الصحيحة ٤٩٣.
«أما مررت بوادي قومك ممحلا ثم تمر به خضرا ثم تمر به ممحلا ثم تمر به خضرا؟ {كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم اپنی قوم کی وادی سے اس حال میں نہیں گزرے کہ وہ بالکل بنجر اور قحط زدہ تھی، پھر تم وہاں سے گزرے تو وہ سرسبز و شاداب تھی، پھر تم گزرے تو وہ بنجر تھی، پھر گزرے تو وہ سرسبز تھی؟ (بالکل اسی طرح موت کے بعد زندگی ملے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:) ﴿كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى﴾ ”اسی طرح اللہ تعالیٰ مُردوں کو زندہ فرماتا ہے۔“ [سورة البقرة: 73]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1334
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم طب] عن أبي رزين. المشكاة ٥٥٣١.
«أما والله إني لأتقاكم لله وأخشاكم له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! اللہ کی قسم، بے شک میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے بڑھ کر اس کا تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1335
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عمرو بن أبي سلمة. الإرواء ١٧٨٢.
«أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له لكني أصوم وأفطر وأصلي وأرقد وأتزوج النساء فمن رغب عن سنتي فليس مني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! اللہ کی قسم، میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کا تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں، لیکن (اس کے باوجود) میں روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، میں (رات کو نفل) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور میں نے عورتوں سے نکاح بھی کیا ہے۔ پس جس شخص نے میری سنت سے اعراض کیا (منہ موڑا)، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1336
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أنس. الإرواء ١٧٨٢.
«أما والله إني لأمين في السماء وأمين في الأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! اللہ کی قسم، میں آسمان والوں کے نزدیک بھی امانت دار (امین) ہوں اور زمین والوں کے نزدیک بھی امانت دار ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي رافع. مسلم ٣/١١٠ - أبي سعيد.
«أما والله لو كان أسامة جارية حليتها وزينتها حتى أنفقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! اللہ کی قسم، اگر اسامہ کوئی لڑکی ہوتی تو میں ضرور اسے زیور پہناتا اور اس کا بناؤ سنگھار کرتا تاکہ میں اسے رخصت کر دوں (یعنی اس کی شادی کروا دوں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1338
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن أبي السفر مرسلا١. الصحيحة ١٠١٩.
«أما والله لولا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سن لو! اللہ کی قسم، اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا کہ قاصدوں (سفیروں) کو قتل نہیں کیا جاتا، تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1339
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ك] عن نعيم بن مسعود. المشكاة ٣٩٨٢.
"أما يخشى أحدكم إذا رفع رأسه في الصلاة أن لا يرجع
إليه بصره؟ "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے نہیں ڈرتا کہ جب وہ نماز میں اپنا سر (آسمان کی طرف) اٹھائے تو اس کی بینائی واپس نہ لوٹائی جائے (یعنی چھین لی جائے)؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1340
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن جابر بن سمرة.
«أما يخشى أحدكم إذا رفع رأسه قبل الإمام أن يجعل الله رأسه رأس حمار أو يجعل الله صورته صورة حمار؟»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے نہیں ڈرتا کہ جب وہ امام سے پہلے اپنا سر (رکوع یا سجدے سے) اٹھائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر میں بدل دے، یا اللہ تعالیٰ اس کی صورت کو گدھے کی صورت بنا دے؟“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن أبي هريرة. الروض النضير ١٠٦٧، صحيح أبي داود ٦٣٤، الإرواء ٥١٠, مختصرمسلم ٢٩١.
«أما إبراهيم فانظروا إلى صاحبكم وأما موسى فجعد آدم كأني أنظر إليه انحدر في الوادي يلبي على جمل أحمر مخطوم بخلبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق ہے تو تم اپنے ساتھی (یعنی مجھے) دیکھ لو (میں ان کے مشابہ ہوں)، اور جہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کی بات ہے تو وہ گندمی رنگت اور گھنگھریالے بالوں والے تھے۔ گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی میں اتر رہے ہیں اور ایک سرخ اونٹ پر سوار تلبیہ پڑھ رہے ہیں، جس کی نکیل کھجور کی چھال کی رسی سے بنی ہوئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1342
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عباس.
«أما الرجل فلينثر رأسه فليغسله حتى يبلغ أصول الشعر وأما المرأة فلا عليها أن لا تنقضه لتغرف على رأسها ثلاث غرفات تكفيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مرد کو چاہیے کہ (غسل کرتے وقت) اپنے سر کے بالوں کو اچھی طرح کھولے اور دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، اور عورت پر اپنے گندھے ہوئے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں، بس وہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لے، یہی اس کے لیے کافی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1343
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ثوبان. صحيح أبي داود ٢٤٩.
«أما أنا فآخذ بكفي ثلاثا فأصب على رأسي ثم أفيض على سائر جسدي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بہر حال میں تو اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے تین بار پانی لے کر اپنے سر پر ڈالتا ہوں، پھر اپنے باقی تمام جسم پر پانی بہاتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1344
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن هـ] عن جبير بن مطعم. صحيح أبي داود ٢٣٩.
«أما أنا فأفيض على رأسي ثلاثا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہاں تک میری بات ہے تو میں (غسل کرتے وقت) اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1345
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر. صحيح أبي داود ٢٣٩.
«أما أنا فلا آكل متكئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بہر حال میں تو ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1346
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي جحيفة. الإرواء ١٩٦٦: خ.
«أما أنت يا جعفر فأشبهت خلقي وخلقي وأما أنت يا علي فمني وأنا منك وأما أنت يا زيد فأخونا ومولانا والجارية عند خالتها فإن الخالة والدة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے جعفر! تم میری صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو، اور اے علی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، اور اے زید! تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ (دوست) ہو، اور یہ بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی، کیونکہ خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1347
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم١] عن علي. الإرواء ٢١٩٠: د، ك، خ، ت، هق – البراء.
«أما أنت يا جعفر فأشبه خلقك خلقي وأشبه خلقي خلقك وأنت مني وشجرتي وأما أنت يا علي فختني وأبوولدي وأنا منك وأنت مني وأما أنت يا زيد فمولاي ومني وإلي وأحب القوم إلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے جعفر! تمہاری صورت میری صورت جیسی ہے اور میری سیرت تمہاری سیرت جیسی ہے، اور تم مجھ سے اور میرے شجرے (خاندان) سے ہو۔ اور اے علی! تم میرے داماد اور میرے نواسوں کے والد ہو، میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔ اور اے زید! تم میرے مولیٰ (آزاد کردہ) ہو، مجھ سے ہو، میری طرف ہو اور ان سب لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1348
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ك] عن أسامة بن زيد. الصحيحة ١٥٥٠: تخ.
«أما أول أشراط الساعة فنار تخرج من المشرق فتحشر الناس إلى المغرب وأما أول ما يأكل أهل الجنة فزيادة كبد الحوت وأما شبه الولد أباه وأمه فإذا سبق ماء الرجل ماء المرأة نزع إليه الولد وإذا سبق ماء المرأة ماء الرجل نزع إليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کی سب سے پہلی نشانی ایک آگ ہوگی جو مشرق سے نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کر مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اور جنتیوں کو سب سے پہلی جو چیز کھانے کو ملے گی وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا حصہ (یعنی بہترین ٹکڑا) ہوگا۔ اور جہاں تک بچے کا اپنے ماں یا باپ کے مشابہ ہونے کا تعلق ہے، تو جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچہ باپ کی طرف کھنچتا ہے (یعنی اس کے مشابہ ہوتا ہے)، اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچہ ماں کے مشابہ ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1349
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن أنس.
«أما أهل النار الذين هم أهلها فإنهم لا يموتون فيها ولا يحيون ولكن ناس أصابتهم النار بذنوبهم فأماتتهم إماتة حتى إذا كانوا فحما أذن بالشفاعة فجيء بهم ضبائر ضبائر فبثوا على أنهار الجنة ثم قيل: يا أهل الجنة أفيضوا عليهم فينبتون نبات الحبة تكون في حميل السيل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہنم کے وہ مستقل باشندے جو اسی کے لائق ہیں، وہ اس میں نہ مریں گے اور نہ جئیں گے (بلکہ مسلسل عذاب میں رہیں گے)، البتہ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ چھوئے گی اور انہیں جلا کر مار دے گی، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں گے تو شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی بہاؤ۔ تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے کرکٹ میں کوئی دانہ اگ آتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1350
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٥٥١: أبوعوانة، الدارمي، عبد ابن حميد، الطبري.
"أما بعد ألا أيها الناس! فإنما أنا بشر يوشك أن يأتيني
رسول ربي فأجيب وأنا تارك فيكم ثقلين أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور من استمسك به وأخذ به كان على الهدى ومن أخطأه ضل فخذوا بكتاب الله تعالى واستمسكوا به وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! اے لوگو! سن لو، میں بھی ایک انسان ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد (موت کا فرشتہ) میرے پاس آئے اور میں اس کی پکار پر لبیک کہوں۔ اور میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے، جس نے اسے مضبوطی سے تھاما اور اس پر عمل کیا وہ ہدایت پر رہا، اور جس نے اس سے چوک کی وہ گمراہ ہو گیا۔ پس اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں، میں اپنے اہل بیت کے حق میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے حق میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم عبد بن حميد م] عن زيد بن أرقم. شرح العقيدة الطحاوية ٧٣٨.
«أما بعد أيها الناس! فإن الناس يكثرون ويقل الأنصار حتى يكونوا في الناس بمنزلة الملح في الطعام فمن ولي منكم أمرا يضر فيه أحدا وينفع فيه أحدا فليقبل من محسنهم ويتجاوز عن مسيئهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! اے لوگو! لوگوں کی تعداد تو بڑھتی جائے گی لیکن انصار کم ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ لوگوں میں ایسے رہ جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے۔ پس تم میں سے جو کوئی کسی ایسے معاملے کا ذمے دار بنے جس میں وہ کسی کو نقصان یا کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ ان (انصار) کے نیکوکاروں کی نیکی قبول کرے اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عباس.
«أما بعد فإن أصدق الحديث كتاب الله وإن أفضل الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار، أتتكم الساعة بغتة بعثت أنا والساعة هكذا صبحتكم الساعة ومستكم أنا أولى بكل مؤمن من نفسه من ترك مالا فلأهله ومن ترك دينا أوضياعا فإلي وعلي وأنا ولي المؤمنين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! یقیناً سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد (ﷺ) کا طریقہ ہے، اور سب سے برے کام (دین میں) نئی نکالی گئی چیزیں ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔ قیامت تمہارے پاس اچانک آئے گی۔ میں اور قیامت ان دو (انگلیوں) کی طرح ایک ساتھ بھیجے گئے ہیں، قیامت تمہارے سروں پر آپہنچی ہے۔ میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی جان سے زیادہ حق دار ہوں، جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے اہل و عیال کا ہے، اور جو کوئی قرض یا بے سہارا بچے چھوڑے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر اور میری طرف ہے۔ اور میں مومنوں کا ولی اور سرپرست ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1353
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن جابر.
"أما بعد فإن الله أنزل في كتابه {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} إلى آخر الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} إلى قوله: {هُمُ الْفَائِزُونَ} ,
تصدقوا قبل أن لا تصدقوا تصدق رجل من ديناره تصدق رجل من درهمه تصدق رجل من بره تصدق رجل من تمره من شعيره لاتحقرن شيئا من الصدقة ولو بشق تمرة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا“ [سورة النساء: 1] آیت کے آخر تک۔ اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر جان یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔“ [سورة الحشر: 18] اور یہ آیت ﴿هُمُ الْفَائِزُونَ﴾ [سورة الحشر: 20] تک پڑھی۔ پھر فرمایا: اس سے پہلے صدقہ کر لو کہ تم صدقہ نہ کر سکو۔ کوئی شخص اپنے دینار سے صدقہ کرے، کوئی اپنے درہم سے صدقہ کرے، کوئی اپنی گندم سے، کوئی اپنی کھجوروں سے اور کوئی اپنے جو سے صدقہ کرے۔ صدقے کی کسی بھی چیز کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، خواہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1354
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن جرير.
«أما بعد فإنه لم يخف على شأنكم الليلة ولكني خشيت أن يفرض عليكم صلاة الليل فتعجزوا عنها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! آج رات تمہاری حالت اور شوق مجھ سے پوشیدہ نہیں رہا (کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنے کے منتظر تھے)، لیکن مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں رات کی نماز (تراویح) تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور پھر تم اسے ادا کرنے سے عاجز آ جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1355
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة.
«أما بعد فما بال أقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرط قضاء الله أحق وشرط الله أوثق وإنما الولاء لمن أعتق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا اللہ کی کتاب میں کوئی ثبوت نہیں؟ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ سراسر باطل ہے، خواہ وہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ ہی سب سے برحق ہے اور اللہ کی شرط ہی سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ اور ولاء (وراثت کا حق جو غلام آزاد کرنے پر ملتا ہے) اسی کا ہے جو آزاد کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1356
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن عائشة. الإرواء ١٣٠٨، مختصر مسلم ٨٩٦.
«أما بعد فما بال العامل نستعمله فيأتينا فيقول: هذا من عملكم وهذا أهدي إلي أفلا قعد في بيت أبيه وأمه فينظر هل يهدى له أم لا؟ فوالذي نفس محمد بيده لا يغل أحدكم منها شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله على عنقه إن كان بعيرا جاء به له رغاء وإن كانت بقرة جاء بها لها خوار وإن كانت شاة جاء بها تيعر فقد بلغت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! اس عامل (زکوٰۃ وصول کرنے والے) کا کیا حال ہے جسے ہم کام پر مقرر کرتے ہیں، پھر وہ ہمارے پاس آکر کہتا ہے: یہ آپ لوگوں کے کام کا مال (یعنی زکوٰۃ) ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا رہا کہ پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! تم میں سے جو کوئی اس میں سے کچھ بھی خرد برد کرے گا، وہ قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر وہ اونٹ ہوگا تو وہ بلبلا رہا ہوگا، اگر گائے ہوگی تو وہ رنبا رہی ہوگی، اور اگر بکری ہوگی تو وہ ممیا رہی ہوگی۔ یقیناً میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1357
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن أبي حميد الساعدي. مختصر مسلم ١٢١٥.
«أما بعد فوالله إني لأعطي الرجل وأدع الرجل والذي أدع أحب إلي من الذي أعطي ولكني أعطي أقواما لما أرى في قلوبهم من الجزع والهلع وأكل أقواما إلى ما جعل الله في قلوبهم من الغنى والخير منهم عمرو بن تغلب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! اللہ کی قسم، میں کسی شخص کو مال دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں، حالانکہ جسے میں چھوڑ دیتا ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جسے میں دیتا ہوں۔ لیکن میں کچھ لوگوں کو اس لیے دیتا ہوں کہ میں ان کے دلوں میں بے صبری اور گھبراہٹ دیکھتا ہوں، اور کچھ لوگوں کو میں اس غنا (بے نیازی) اور خیر کے سپرد کر دیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے، ان ہی (صابر و قانع) لوگوں میں سے عمرو بن تغلب ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عمرو بن تغلب.