حدیث نمبر: 1357
«أما بعد فما بال العامل نستعمله فيأتينا فيقول: هذا من عملكم وهذا أهدي إلي أفلا قعد في بيت أبيه وأمه فينظر هل يهدى له أم لا؟ فوالذي نفس محمد بيده لا يغل أحدكم منها شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله على عنقه إن كان بعيرا جاء به له رغاء وإن كانت بقرة جاء بها لها خوار وإن كانت شاة جاء بها تيعر فقد بلغت»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! اس عامل (زکوٰۃ وصول کرنے والے) کا کیا حال ہے جسے ہم کام پر مقرر کرتے ہیں، پھر وہ ہمارے پاس آکر کہتا ہے: یہ آپ لوگوں کے کام کا مال (یعنی زکوٰۃ) ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا رہا کہ پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! تم میں سے جو کوئی اس میں سے کچھ بھی خرد برد کرے گا، وہ قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر وہ اونٹ ہوگا تو وہ بلبلا رہا ہوگا، اگر گائے ہوگی تو وہ رنبا رہی ہوگی، اور اگر بکری ہوگی تو وہ ممیا رہی ہوگی۔ یقیناً میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1357
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن أبي حميد الساعدي. مختصر مسلم ١٢١٥.