حدیث نمبر: 1353
«أما بعد فإن أصدق الحديث كتاب الله وإن أفضل الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار، أتتكم الساعة بغتة بعثت أنا والساعة هكذا صبحتكم الساعة ومستكم أنا أولى بكل مؤمن من نفسه من ترك مالا فلأهله ومن ترك دينا أوضياعا فإلي وعلي وأنا ولي المؤمنين»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! یقیناً سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد (ﷺ) کا طریقہ ہے، اور سب سے برے کام (دین میں) نئی نکالی گئی چیزیں ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں لے جانے والی ہے۔ قیامت تمہارے پاس اچانک آئے گی۔ میں اور قیامت ان دو (انگلیوں) کی طرح ایک ساتھ بھیجے گئے ہیں، قیامت تمہارے سروں پر آپہنچی ہے۔ میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی جان سے زیادہ حق دار ہوں، جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے اہل و عیال کا ہے، اور جو کوئی قرض یا بے سہارا بچے چھوڑے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر اور میری طرف ہے۔ اور میں مومنوں کا ولی اور سرپرست ہوں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1353
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن جابر.