«ما يكون عندي من خير فلن أدخره عنكم وإنه من يستعف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله ومن يتصبر يصبره الله وما أعطي أحد عطاء خيرا وأوسع من الصبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جو بھی بھلائی ہوگی میں اسے تم سے ہرگز نہیں چھپاؤں گا، اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، اور جو بے نیازی چاہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، اور جو صبر کرنا چاہے اللہ اسے صبر عطا فرما دیتا ہے، اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع تر کوئی عطیہ نہیں دیا گیا۔“
”میرے پاس جو بھی بھلائی ہوگی میں اسے تم سے ہرگز نہیں چھپاؤں گا، اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، اور جو بے نیازی چاہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، اور جو صبر کرنا چاہے اللہ اسے صبر عطا فرما دیتا ہے، اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع تر کوئی عطیہ نہیں دیا گیا۔“
«ما يمنعك أن تسمعي ما أوصيك به؟ أن تقولي إذا أصبحت وإذا أمسيت: يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہیں اس بات کے سننے سے کیا چیز روکتی ہے جس کی میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں؟ کہ جب تم صبح کرو اور جب شام کرو تو یہ کہا کرو: اے زندہ! اے سب کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے ذریعے فریاد کرتا ہوں، میرا سارا معاملہ درست فرما دے، اور مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے نفس کے حوالے نہ کر۔“
”تمہیں اس بات کے سننے سے کیا چیز روکتی ہے جس کی میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں؟ کہ جب تم صبح کرو اور جب شام کرو تو یہ کہا کرو: اے زندہ! اے سب کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے ذریعے فریاد کرتا ہوں، میرا سارا معاملہ درست فرما دے، اور مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے نفس کے حوالے نہ کر۔“
«ما ينبغي لنبي أن يقول: إني خير من يونس بن متى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“
”کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“
«ما ينقم ابن جميل إلا أنه كان فقيرا فأغناه الله وأما خالد فإنكم تظلمون خالدا وقد احتبس أدراعه وأعتده في سبيل الله وأما العباس فهي علي ومثلها معها يا عمر! أما شعرت أن عم الرجل صنو أبيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن جمیل کو زکوٰۃ دینے میں اس کے سوا کوئی عذر نہیں کہ وہ پہلے فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا۔ رہے خالد تو تم خالد پر ظلم کر رہے ہو، حالانکہ اس نے اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے۔ رہے عباس تو ان کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے اور اتنی ہی اور بھی۔ اے عمر! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے برابر ہوتا ہے؟“
”ابن جمیل کو زکوٰۃ دینے میں اس کے سوا کوئی عذر نہیں کہ وہ پہلے فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا۔ رہے خالد تو تم خالد پر ظلم کر رہے ہو، حالانکہ اس نے اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے۔ رہے عباس تو ان کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے اور اتنی ہی اور بھی۔ اے عمر! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے برابر ہوتا ہے؟“
"متعها فإنه لا بد من المتاع ولو نصف صاع من تمر"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسے متاع (تحفہ) دو، کیونکہ متاع دینا ضروری ہے، خواہ کھجور کا آدھا صاع ہی کیوں نہ ہو۔“
”اسے متاع (تحفہ) دو، کیونکہ متاع دینا ضروری ہے، خواہ کھجور کا آدھا صاع ہی کیوں نہ ہو۔“
«متعها ولو بصاع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسے متاع دو، خواہ ایک صاع ہی کیوں نہ ہو۔“
”اسے متاع دو، خواہ ایک صاع ہی کیوں نہ ہو۔“
«مثل ابن آدم وإلى جنبه تسعة وتسعون منية إن أخطأته المنايا وقع في الهرم حتى يموت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم کی مثال یہ ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے موت کے اسباب لگے ہوئے ہیں، اگر یہ اسباب اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ بڑھاپے کا شکار ہو کر مر جاتا ہے۔“
”ابن آدم کی مثال یہ ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے موت کے اسباب لگے ہوئے ہیں، اگر یہ اسباب اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ بڑھاپے کا شکار ہو کر مر جاتا ہے۔“
«مثل البخيل والمتصدق كمثل رجلين عليهما جبتان من حديد من ثديهما إلى تراقيهما فأما المنفق فلا ينفق شيئا إلا سبغت على جلده حتى تخفي بنانه وتعفوأثره وأما البخيل فلا يريد أن ينفق شيئا إلا لزقت كل حلقة مكانها فهو يوسعها فلا تتسع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن کے سینے سے لے کر ہنسلی کی ہڈیوں تک لوہے کی زرہیں پہنی ہوئی ہوں، خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ اس کے جسم پر کشادہ ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو چھپا لیتی ہے اور اس کے نشانات مٹا دیتی ہے، اور بخیل جب بھی کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر چمٹ جاتا ہے، وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتی۔“
”بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن کے سینے سے لے کر ہنسلی کی ہڈیوں تک لوہے کی زرہیں پہنی ہوئی ہوں، خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ اس کے جسم پر کشادہ ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو چھپا لیتی ہے اور اس کے نشانات مٹا دیتی ہے، اور بخیل جب بھی کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر چمٹ جاتا ہے، وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتی۔“
«مثل البيت الذي يذكر الله فيه والبيت الذي لا يذكر الله فيه مثل الحي والميت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جس گھر میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس گھر میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“
”جس گھر میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس گھر میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“
«مثل الجليس الصالح كمثل العطار إن لم يعطك من عطره أصابك من ريحه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیک ساتھی کی مثال عطر فروش جیسی ہے، اگر وہ تمہیں اپنے عطر میں سے کچھ نہ بھی دے تو تمہیں اس کی خوشبو ضرور پہنچے گی۔“
”نیک ساتھی کی مثال عطر فروش جیسی ہے، اگر وہ تمہیں اپنے عطر میں سے کچھ نہ بھی دے تو تمہیں اس کی خوشبو ضرور پہنچے گی۔“
«مثل الجليس الصالح والجليس السوء كمثل صاحب المسك وكير الحداد لا يعدمك من صاحب المسك إما أن تشتريه أو تجد ريحه وكير الحداد يحرق بيتك أو ثوبك أو تجد منه ريحا خبيثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور لوہار کی بھٹی جیسی ہے، مشک بیچنے والے سے تمہیں کچھ نہ کچھ ضرور ملے گا، یا تم اسے خرید لو گے یا کم از کم اس کی خوشبو تمہیں پہنچے گی، اور لوہار کی بھٹی یا تو تمہارا گھر یا کپڑا جلا دے گی، یا تمہیں اس سے بدبو ضرور پہنچے گی۔“
”نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور لوہار کی بھٹی جیسی ہے، مشک بیچنے والے سے تمہیں کچھ نہ کچھ ضرور ملے گا، یا تم اسے خرید لو گے یا کم از کم اس کی خوشبو تمہیں پہنچے گی، اور لوہار کی بھٹی یا تو تمہارا گھر یا کپڑا جلا دے گی، یا تمہیں اس سے بدبو ضرور پہنچے گی۔“
«مثل الصلوات الخمس كمثل نهر جار عذب على باب أحدكم يغتسل فيه كل يوم خمس مرات فما يبقي ذلك من الدنس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پانچوں نمازوں کی مثال اس میٹھے بہتے دریا جیسی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر ہو، اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ نہائے، تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گا؟“
”پانچوں نمازوں کی مثال اس میٹھے بہتے دریا جیسی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر ہو، اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ نہائے، تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گا؟“
«مثل العالم الذي يعلم الناس الخير وينسى نفسه كمثل السراج يضيء للناس ويحرق نفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ عالم جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے مگر خود کو بھول جاتا ہے، اس کی مثال چراغ جیسی ہے جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے مگر خود جل جاتا ہے۔“
”وہ عالم جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے مگر خود کو بھول جاتا ہے، اس کی مثال چراغ جیسی ہے جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے مگر خود جل جاتا ہے۔“
«مثل القائم على حدود الله والمدهن فيها كمثل قوم استهموا على سفينة في البحر فأصاب بعضهم أعلاها وأصاب بعضهم أسفلها فكان الذين في أسفلها إذا استقوا من الماء مروا على من فوقهم فقال الذين في أعلاها: لا ندعكم تصعدون فتؤذونا فقالوا: لوأنا خرقنا في نصيبنا خرقا ولم نؤذ من فوقنا فإن يتركوهم وما أرادوا هلكوا جميعا وإن أخذوا على أيديهم نجوا ونجوا جميعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی حدود پر قائم رہنے والے اور ان میں کوتاہی برتنے والے کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے سمندر میں ایک کشتی کے لیے قرعہ ڈالا، تو کچھ لوگوں کو کشتی کا اوپر والا حصہ ملا اور کچھ کو نچلا حصہ ملا۔ نچلے حصے والے جب پانی لینا چاہتے تو اوپر والوں کے پاس سے گزرتے، تو اوپر والوں نے کہا: ہم تمہیں اوپر نہیں آنے دیں گے کہ تم ہمیں تکلیف دو۔ نچلے حصے والوں نے کہا: اگر ہم اپنے حصے میں ایک سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہ دیں (تو کیسا رہے)؟ پس اگر اوپر والے انہیں ان کے ارادے پر چھوڑ دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے، اور اگر وہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی بچ جائیں گے اور سب بچ جائیں گے۔“
”اللہ کی حدود پر قائم رہنے والے اور ان میں کوتاہی برتنے والے کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے سمندر میں ایک کشتی کے لیے قرعہ ڈالا، تو کچھ لوگوں کو کشتی کا اوپر والا حصہ ملا اور کچھ کو نچلا حصہ ملا۔ نچلے حصے والے جب پانی لینا چاہتے تو اوپر والوں کے پاس سے گزرتے، تو اوپر والوں نے کہا: ہم تمہیں اوپر نہیں آنے دیں گے کہ تم ہمیں تکلیف دو۔ نچلے حصے والوں نے کہا: اگر ہم اپنے حصے میں ایک سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کو تکلیف نہ دیں (تو کیسا رہے)؟ پس اگر اوپر والے انہیں ان کے ارادے پر چھوڑ دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے، اور اگر وہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو وہ بھی بچ جائیں گے اور سب بچ جائیں گے۔“
«مثل القلب مثل الريشة تقلبها الرياح بفلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دل کی مثال اس پر کی جیسی ہے جسے ہوائیں کھلے میدان میں الٹتی پلٹتی رہتی ہیں۔“
”دل کی مثال اس پر کی جیسی ہے جسے ہوائیں کھلے میدان میں الٹتی پلٹتی رہتی ہیں۔“
«مثل الذي يتصدق ثم يرجع في صدقته كمثل الكلب يقيء ثم يعود في قيئه فيأكله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص صدقہ دے کر پھر اسے واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے جیسی ہے جو قے کرے پھر اپنی قے کی طرف لوٹ کر اسے کھا لے۔“
”جو شخص صدقہ دے کر پھر اسے واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے جیسی ہے جو قے کرے پھر اپنی قے کی طرف لوٹ کر اسے کھا لے۔“
«مثل الذي يتعلم العلم ثم لا يحدث به كمثل الذي يكنز الكنز فلا ينفق منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص علم سیکھے پھر اسے آگے بیان نہ کرے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو خزانہ جمع کرے مگر اس میں سے خرچ نہ کرے۔“
”جو شخص علم سیکھے پھر اسے آگے بیان نہ کرے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو خزانہ جمع کرے مگر اس میں سے خرچ نہ کرے۔“
«مثل الذي يسترد ما وهب كمثل الكلب يقيء فيأكل قيئه فإذا استرد الواهب فليوقف فليعرف بما استرد ثم ليدفع إليه ما وهب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنا دیا ہوا تحفہ واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے جیسی ہے جو قے کرے پھر اپنی قے کھا لے، پس اگر دینے والا اپنا دیا ہوا واپس لینا چاہے تو اسے روک کر بتایا جائے کہ وہ کس چیز کے بدلے واپس لے رہا ہے، پھر اسے وہی ادا کر دی جائے جو اس نے دیا تھا۔“
”جو شخص اپنا دیا ہوا تحفہ واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے جیسی ہے جو قے کرے پھر اپنی قے کھا لے، پس اگر دینے والا اپنا دیا ہوا واپس لینا چاہے تو اسے روک کر بتایا جائے کہ وہ کس چیز کے بدلے واپس لے رہا ہے، پھر اسے وہی ادا کر دی جائے جو اس نے دیا تھا۔“
«مثل الذي يعلم الناس الخير وينسى نفسه مثل الفتيلة تضيء للناس وتحرق نفسها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے مگر خود کو بھول جاتا ہے، اس کی مثال بتی جیسی ہے جو لوگوں کو روشنی دیتی ہے مگر خود جل جاتی ہے۔“
”جو لوگوں کو بھلائی سکھاتا ہے مگر خود کو بھول جاتا ہے، اس کی مثال بتی جیسی ہے جو لوگوں کو روشنی دیتی ہے مگر خود جل جاتی ہے۔“
«مثل الذي يعين قومه على غير الحق مثل بعير تردى وهو يجر بذنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے اس کی مثال اس اونٹ جیسی ہے جو گڑھے میں گر پڑا ہو اور اسے اس کی دم سے کھینچا جا رہا ہو۔“
”جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے اس کی مثال اس اونٹ جیسی ہے جو گڑھے میں گر پڑا ہو اور اسے اس کی دم سے کھینچا جا رہا ہو۔“
«مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن كمثل الأترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمثل التمرة طعمها طيب ولا ريح لها ومثل الفاجر الذي يقرأ القرآن كمثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر ومثل الفاجر الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحنظلة طعمها مر ولا ريح لها ومثل الجليس الصالح كمثل صاحب المسك إن لم يصبك منه شيء أصابك من ريحه ومثل جليس السوء كمثل صاحب الكير إن لم يصبك من سواده أصابك من دخانه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال اترج (میٹھے لیموں) جیسی ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہے، اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور جیسی ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں، اور وہ فاجر جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحان (خوشبودار پودے) جیسی ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہے، اور وہ فاجر جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل (اندرائن) جیسی ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور اس میں خوشبو بھی نہیں، اور نیک ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے جیسی ہے، اگر تمہیں اس میں سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی خوشبو ضرور پہنچے گی، اور برے ساتھی کی مثال بھٹی والے جیسی ہے، اگر تمہیں اس کی کالک نہ بھی لگے تو اس کا دھواں ضرور پہنچے گا۔“
”وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال اترج (میٹھے لیموں) جیسی ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہے، اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور جیسی ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں، اور وہ فاجر جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحان (خوشبودار پودے) جیسی ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہے، اور وہ فاجر جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل (اندرائن) جیسی ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور اس میں خوشبو بھی نہیں، اور نیک ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے جیسی ہے، اگر تمہیں اس میں سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی خوشبو ضرور پہنچے گی، اور برے ساتھی کی مثال بھٹی والے جیسی ہے، اگر تمہیں اس کی کالک نہ بھی لگے تو اس کا دھواں ضرور پہنچے گا۔“
«مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن كمثل الأترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلوومثل المنافق الذي يقرأ القرآن كمثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر ومثل المنافق الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحنظلة ليس لها ريح وطعمها مر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال اترج جیسی ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہے، اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور جیسی ہے، اس میں خوشبو نہیں مگر اس کا ذائقہ میٹھا ہے، اور وہ منافق جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحان جیسی ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہے، اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل جیسی ہے، نہ اس میں خوشبو ہے اور نہ اس کا ذائقہ اچھا ہے۔“
”وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال اترج جیسی ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہے، اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور جیسی ہے، اس میں خوشبو نہیں مگر اس کا ذائقہ میٹھا ہے، اور وہ منافق جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحان جیسی ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہے، اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل جیسی ہے، نہ اس میں خوشبو ہے اور نہ اس کا ذائقہ اچھا ہے۔“
«مثل المؤمن كمثل الخامة من الزرع تفيؤها الريح مرة وتعدلها مرة ومثل المنافق كمثل الأرزة لا تزال حتى يكون انجفافها مرة واحدة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کی مثال کھیتی کے نرم تنے جیسی ہے جسے ہوا کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کر دیتی ہے، اور منافق کی مثال دیودار کے درخت جیسی ہے جو سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک ہی بار اکھڑ جاتا ہے۔“
”مومن کی مثال کھیتی کے نرم تنے جیسی ہے جسے ہوا کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کر دیتی ہے، اور منافق کی مثال دیودار کے درخت جیسی ہے جو سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک ہی بار اکھڑ جاتا ہے۔“
«مثل المؤمن كمثل الزرع لا تزال الريح تفيؤه ولا يزال المؤمن يصيبه بلاء ومثل المنافق كمثل شجرة الأرز لا يهتز حتى يستحصد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کی مثال کھیتی جیسی ہے جسے ہوا مسلسل جھکاتی رہتی ہے، اور مومن پر بھی مسلسل آزمائشیں آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال دیودار کے درخت جیسی ہے جو ہلتا نہیں یہاں تک کہ ایک ہی بار اکھڑ جاتا ہے۔“
”مومن کی مثال کھیتی جیسی ہے جسے ہوا مسلسل جھکاتی رہتی ہے، اور مومن پر بھی مسلسل آزمائشیں آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال دیودار کے درخت جیسی ہے جو ہلتا نہیں یہاں تک کہ ایک ہی بار اکھڑ جاتا ہے۔“
«مثل المؤمن كمثل خامة الزرع من حيث أتتها الريح كفأتها فإذا سكنت اعتدلت وكذلك المؤمن يكفأ بالبلاء ومثل الفاجر كالأرزة صماء معتدلة حتى يقصمها الله تعالى إذا شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کی مثال کھیتی کے نرم تنے جیسی ہے، جدھر سے بھی ہوا آئے وہ اسے جھکا دیتی ہے، پھر جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ سیدھا ہو جاتا ہے، اسی طرح مومن بھی آزمائشوں سے جھک جاتا ہے، اور فاجر کی مثال دیودار کے مضبوط اور سیدھے درخت جیسی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اسے توڑ ڈالے۔“
”مومن کی مثال کھیتی کے نرم تنے جیسی ہے، جدھر سے بھی ہوا آئے وہ اسے جھکا دیتی ہے، پھر جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ سیدھا ہو جاتا ہے، اسی طرح مومن بھی آزمائشوں سے جھک جاتا ہے، اور فاجر کی مثال دیودار کے مضبوط اور سیدھے درخت جیسی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اسے توڑ ڈالے۔“
«مثل المؤمن مثل السنبلة تستقيم مرة وتخر مرة ومثل الكافر مثل الأرزة لا تزال مستقيمة حتى تخر ولا تشعر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کی مثال بالی جیسی ہے جو کبھی سیدھی کھڑی رہتی ہے اور کبھی جھک جاتی ہے، اور کافر کی مثال دیودار کے درخت جیسی ہے جو ہمیشہ سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اچانک بغیر خبر کیے گر جاتا ہے۔“
”مومن کی مثال بالی جیسی ہے جو کبھی سیدھی کھڑی رہتی ہے اور کبھی جھک جاتی ہے، اور کافر کی مثال دیودار کے درخت جیسی ہے جو ہمیشہ سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اچانک بغیر خبر کیے گر جاتا ہے۔“
«مثل المؤمن مثل السنبلة تميل أحيانا وتقوم أحيانا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کی مثال بالی جیسی ہے جو کبھی جھک جاتی ہے اور کبھی سیدھی کھڑی ہو جاتی ہے۔“
”مومن کی مثال بالی جیسی ہے جو کبھی جھک جاتی ہے اور کبھی سیدھی کھڑی ہو جاتی ہے۔“
«مثل المؤمن مثل النحلة إن أكلت أكلت طيبا وإن وضعت وضعت طيبا وإن وقعت على عود نخر لم تكسره ومثل المؤمن مثل سبيكة الذهب إن نفخت عليها احمرت وإن وزنت لم تنقص»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، اگر وہ کھائے تو پاکیزہ چیز کھاتی ہے، اور اگر کچھ رکھے تو پاکیزہ چیز رکھتی ہے، اور اگر کسی کمزور ٹہنی پر بیٹھے تو اسے توڑتی نہیں، اور مومن کی مثال سونے کی ڈلی جیسی بھی ہے، اگر اسے پھونک ماری جائے تو وہ سرخ ہو جاتی ہے، اور اگر اسے تولا جائے تو وہ کم نہیں ہوتی۔“
”مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، اگر وہ کھائے تو پاکیزہ چیز کھاتی ہے، اور اگر کچھ رکھے تو پاکیزہ چیز رکھتی ہے، اور اگر کسی کمزور ٹہنی پر بیٹھے تو اسے توڑتی نہیں، اور مومن کی مثال سونے کی ڈلی جیسی بھی ہے، اگر اسے پھونک ماری جائے تو وہ سرخ ہو جاتی ہے، اور اگر اسے تولا جائے تو وہ کم نہیں ہوتی۔“
«مثل المؤمن مثل النحلة لا تأكل إلا طيبا ولا تضع إلا طيبا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، وہ صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی رکھتی ہے۔“
”مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، وہ صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی رکھتی ہے۔“
«مثل المؤمن مثل النخلة ما أخذت منها من شيء نفعك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے، تم اس میں سے جو بھی چیز لو وہ تمہیں فائدہ دیتی ہے۔“
”مومن کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے، تم اس میں سے جو بھی چیز لو وہ تمہیں فائدہ دیتی ہے۔“
«مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد إذا اشتكى منه عضوتداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں کی مثال آپس کی محبت، رحم دلی اور شفقت میں ایک جسم جیسی ہے، جب اس کے کسی عضو کو تکلیف پہنچے تو باقی سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کا ساتھ دیتا ہے۔“
”مومنوں کی مثال آپس کی محبت، رحم دلی اور شفقت میں ایک جسم جیسی ہے، جب اس کے کسی عضو کو تکلیف پہنچے تو باقی سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کا ساتھ دیتا ہے۔“
«مثل المجاهد في سبيل الله والله أعلم بمن يجاهد في سبيله كمثل الصائم القائم الخاشع الراكع الساجد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال - اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے - اس روزے دار، قیام کرنے والے، عاجزی کرنے والے، رکوع و سجدہ کرنے والے جیسی ہے۔“
”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال - اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے - اس روزے دار، قیام کرنے والے، عاجزی کرنے والے، رکوع و سجدہ کرنے والے جیسی ہے۔“
«مثل المجاهد في سبيل الله والله أعلم بمن يجاهد في سبيله كمثل الصائم القائم الدائم الذي لا يفتر من صيام ولا صدقة حتى يرجع وتوكل الله تعالى للمجاهد في سبيله إن توفاه أن يدخله الجنة أو يرجعه سالما مع أجر أو غنيمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال - اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے - اس مسلسل روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے جیسی ہے جو واپسی تک روزے اور صدقے سے نہیں تھکتا، اور اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے یہ ذمہ لیا ہے کہ اگر اسے وفات دے دے تو اسے جنت میں داخل فرمائے، ورنہ اسے اجر یا مالِ غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس لوٹا دے۔“
”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال - اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے - اس مسلسل روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے جیسی ہے جو واپسی تک روزے اور صدقے سے نہیں تھکتا، اور اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے یہ ذمہ لیا ہے کہ اگر اسے وفات دے دے تو اسے جنت میں داخل فرمائے، ورنہ اسے اجر یا مالِ غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس لوٹا دے۔“
"مثل المسلمين واليهود والنصارى كمثل رجل استأجر قوما يعملون له عملا إلى الليل فعملوا إلى نصف النهار فقالوا: لا حاجة لنا إلى أجرك الذي شرطت لنا وما عملنا لك فقال لهم: لا تفعلوا أكملوا بقية عملكم وخذوا أجركم كاملا فأبوا وتركوه فاستأجر أجراء بعدهم فقال: اعملوا بقية يومكم ولكم الذي شرطت لهم من الأجر فعملوا حتى إذا كان حين صلاة العصر قالوا: لك ما عملنا ولك الأجر الذي جعلت لنا فيه فقال: أكملوا بقية عملكم فإنما بقي من النهار شيء يسير فأبوا فاستأجر قوما أن يعملوا له بقية يومهم فعملوا بقية يومهم حتى غابت الشمس واستكملوا أجر الفريقين كليهما فذلك مثلهم ومثل ما قبلوا من هذا النور "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے کچھ لوگوں کو رات تک کام کرنے کے لیے مزدوری پر رکھا۔ انہوں نے آدھے دن تک کام کیا، پھر کہنے لگے: ہمیں تمہاری اس اجرت کی کوئی حاجت نہیں جو تم نے ہمارے لیے مقرر کی تھی اور نہ ہی جو کام ہم نے تمہارے لیے کیا اس کی۔ اس نے ان سے کہا: ایسا مت کرو، اپنا باقی کام مکمل کر لو اور اپنی پوری اجرت لے لو، مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کام چھوڑ دیا۔ پھر اس نے ان کے بعد دوسرے مزدور رکھے اور کہا: باقی دن کام کرو، تمہیں وہی اجرت ملے گی جو میں نے پہلوں کے لیے مقرر کی تھی۔ انہوں نے کام کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آیا تو کہنے لگے: جو کام ہم نے کیا وہ تمہارا رہا اور جو اجرت تم نے ہمارے لیے مقرر کی تھی وہ بھی تمہاری رہی۔ اس نے کہا: اپنا باقی کام مکمل کر لو، دن کا بس تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے کچھ اور لوگوں کو باقی دن کے لیے کام پر رکھا، انہوں نے دن کا باقی حصہ کام کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور انہوں نے دونوں پہلے گروہوں کی پوری اجرت حاصل کر لی۔ تو یہی مثال ہے ان کی اور اس نور کی جسے انہوں نے قبول کیا۔“
”مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے کچھ لوگوں کو رات تک کام کرنے کے لیے مزدوری پر رکھا۔ انہوں نے آدھے دن تک کام کیا، پھر کہنے لگے: ہمیں تمہاری اس اجرت کی کوئی حاجت نہیں جو تم نے ہمارے لیے مقرر کی تھی اور نہ ہی جو کام ہم نے تمہارے لیے کیا اس کی۔ اس نے ان سے کہا: ایسا مت کرو، اپنا باقی کام مکمل کر لو اور اپنی پوری اجرت لے لو، مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کام چھوڑ دیا۔ پھر اس نے ان کے بعد دوسرے مزدور رکھے اور کہا: باقی دن کام کرو، تمہیں وہی اجرت ملے گی جو میں نے پہلوں کے لیے مقرر کی تھی۔ انہوں نے کام کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آیا تو کہنے لگے: جو کام ہم نے کیا وہ تمہارا رہا اور جو اجرت تم نے ہمارے لیے مقرر کی تھی وہ بھی تمہاری رہی۔ اس نے کہا: اپنا باقی کام مکمل کر لو، دن کا بس تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے کچھ اور لوگوں کو باقی دن کے لیے کام پر رکھا، انہوں نے دن کا باقی حصہ کام کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور انہوں نے دونوں پہلے گروہوں کی پوری اجرت حاصل کر لی۔ تو یہی مثال ہے ان کی اور اس نور کی جسے انہوں نے قبول کیا۔“
«مثل المنافق كمثل الشاة العائرة بين الغنمين تعير إلى هذه مرة وإلى هذه مرة لا تدري أيهما تتبع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”منافق کی مثال اس بھٹکی ہوئی بکری جیسی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان کبھی اس ریوڑ کی طرف بھاگتی ہے اور کبھی اس ریوڑ کی طرف، اسے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس کی پیروی کرے۔“
”منافق کی مثال اس بھٹکی ہوئی بکری جیسی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان کبھی اس ریوڑ کی طرف بھاگتی ہے اور کبھی اس ریوڑ کی طرف، اسے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس کی پیروی کرے۔“
«مثل أمتي مثل المطر لا يدرى أوله خير أم آخره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، معلوم نہیں کہ اس کا شروع بہتر ہے یا اس کا آخر۔“
”میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، معلوم نہیں کہ اس کا شروع بہتر ہے یا اس کا آخر۔“
«مثل ما بعثني الله به من الهدى والعلم كمثل الغيث الكثير أصاب أرضا فكان منها نقية قبلت الماء فأنبتت الكلأ والعشب الكثير وكانت منها أجادب أمسكت الماء فنفع الله بها الناس شربوا منها وسقوا ورعوا وأصاب طائفة منها أخرى إنما هي قيعان لا تمسك ماء ولا تنبت كلأ فذلكم مثل من فقه في دين الله ونفعه ما بعثني الله به فعلم وعلم ومثل من لم يرفع بذلك رأسا ولم يقبل هدى الله الذي أرسلت به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو ہدایت اور علم دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس زوردار بارش جیسی ہے جو زمین پر برسے، اس میں سے ایک حصہ زرخیز ہو جو پانی جذب کر لے اور کثرت سے گھاس اور سبزہ اگائے، اور اس میں سے ایک حصہ سخت زمین ہو جو پانی روک لے اور اللہ اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچائے، وہ اس سے پیئیں، اپنے جانوروں کو پلائیں اور کھیتی باڑی کریں، اور اس میں سے ایک اور حصہ چٹیل میدان ہو جو نہ پانی روکے اور نہ کوئی سبزہ اگائے۔ تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کرے اور جو کچھ لے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس سے فائدہ اٹھائے، پس خود بھی سیکھے اور دوسروں کو بھی سکھائے، اور یہ اس شخص کی مثال ہے جو اس کی طرف سر اٹھا کر بھی نہ دیکھے اور جس ہدایت کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہ کرے۔“
”جو ہدایت اور علم دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس زوردار بارش جیسی ہے جو زمین پر برسے، اس میں سے ایک حصہ زرخیز ہو جو پانی جذب کر لے اور کثرت سے گھاس اور سبزہ اگائے، اور اس میں سے ایک حصہ سخت زمین ہو جو پانی روک لے اور اللہ اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچائے، وہ اس سے پیئیں، اپنے جانوروں کو پلائیں اور کھیتی باڑی کریں، اور اس میں سے ایک اور حصہ چٹیل میدان ہو جو نہ پانی روکے اور نہ کوئی سبزہ اگائے۔ تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کرے اور جو کچھ لے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس سے فائدہ اٹھائے، پس خود بھی سیکھے اور دوسروں کو بھی سکھائے، اور یہ اس شخص کی مثال ہے جو اس کی طرف سر اٹھا کر بھی نہ دیکھے اور جس ہدایت کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہ کرے۔“
«مثل مؤخرة الرحل يكون بين يدي أحدكم ثم لا يضره من مر بين يديه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز تم میں سے کسی کے آگے ہو تو پھر اس کے آگے سے گزرنے والا اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔“
”کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز تم میں سے کسی کے آگے ہو تو پھر اس کے آگے سے گزرنے والا اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔“
" مثلي في النبيين كمثل رجل بنى دارا فأحسنها، وأكملها وأجملها وترك فيها موضع لبنة لم يضعها فجعل الناس يطوفون بالبنيان ويعجبون منه ويقولون: لو تم موضع هذه اللبنة فأنا في النبيين موضع تلك اللبنة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انبیاء میں میری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا، اسے خوب اچھا، مکمل اور خوبصورت بنایا، مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی، تو لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے اور اس پر تعجب کرتے اور کہتے: کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری کر دی جاتی! تو انبیاء میں، میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں۔“
”انبیاء میں میری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا، اسے خوب اچھا، مکمل اور خوبصورت بنایا، مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی، تو لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے اور اس پر تعجب کرتے اور کہتے: کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری کر دی جاتی! تو انبیاء میں، میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں۔“
«مثلي كمثل رجل استوقد نارا فلما أضاءت ما حولها جعل الفراش وهذه الدواب التي يقعن في النار يقعن فيها وجعل يحجزهن ويغلبنه فيقتحمن فيها فذلك مثلي ومثلكم أنا آخذ بحجزكم عن النار: هلم عن النار هلم عن النار فتغلبوني فتقتحمون فيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس نے اپنے ارد گرد کو روشن کر دیا تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ میں گرتے ہیں اس میں گرنے لگے، وہ انہیں روکنے لگا مگر وہ اس پر غالب آ گئے اور اس میں کود پڑے، تو یہی میری اور تمہاری مثال ہے، میں تمہیں آگ سے روک رہا ہوں: آگ سے بچو، آگ سے بچو، مگر تم مجھ پر غالب آ کر اس میں کود پڑتے ہو۔“
”میری مثال اس آدمی جیسی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس نے اپنے ارد گرد کو روشن کر دیا تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ میں گرتے ہیں اس میں گرنے لگے، وہ انہیں روکنے لگا مگر وہ اس پر غالب آ گئے اور اس میں کود پڑے، تو یہی میری اور تمہاری مثال ہے، میں تمہیں آگ سے روک رہا ہوں: آگ سے بچو، آگ سے بچو، مگر تم مجھ پر غالب آ کر اس میں کود پڑتے ہو۔“
…