حدیث نمبر: 5822
«ما ينقم ابن جميل إلا أنه كان فقيرا فأغناه الله وأما خالد فإنكم تظلمون خالدا وقد احتبس أدراعه وأعتده في سبيل الله وأما العباس فهي علي ومثلها معها يا عمر! أما شعرت أن عم الرجل صنو أبيه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن جمیل کو زکوٰۃ دینے میں اس کے سوا کوئی عذر نہیں کہ وہ پہلے فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا۔ رہے خالد تو تم خالد پر ظلم کر رہے ہو، حالانکہ اس نے اپنی زرہیں اور سامانِ جنگ اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے۔ رہے عباس تو ان کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے اور اتنی ہی اور بھی۔ اے عمر! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے برابر ہوتا ہے؟“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5822
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٥٠٥، الإرواء ٨٥٨.