حدیث نمبر: 5839
«مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن كمثل الأترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمثل التمرة طعمها طيب ولا ريح لها ومثل الفاجر الذي يقرأ القرآن كمثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر ومثل الفاجر الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحنظلة طعمها مر ولا ريح لها ومثل الجليس الصالح كمثل صاحب المسك إن لم يصبك منه شيء أصابك من ريحه ومثل جليس السوء كمثل صاحب الكير إن لم يصبك من سواده أصابك من دخانه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال اترج (میٹھے لیموں) جیسی ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہے، اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور جیسی ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں، اور وہ فاجر جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحان (خوشبودار پودے) جیسی ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہے، اور وہ فاجر جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظل (اندرائن) جیسی ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور اس میں خوشبو بھی نہیں، اور نیک ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے جیسی ہے، اگر تمہیں اس میں سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی خوشبو ضرور پہنچے گی، اور برے ساتھی کی مثال بھٹی والے جیسی ہے، اگر تمہیں اس کی کالک نہ بھی لگے تو اس کا دھواں ضرور پہنچے گا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5839
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أنس. نقد الكتاني ص ٤٣.