کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«اقرأ المعوذات في دبر كل صلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر فرض نماز کے بعد پناہ مانگنے والی سورتیں (معوذات: سورۃ الإخلاص، الفلق اور الناس) پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ١٥١٤.
«اقرأ المعوذتين فإنك لن تقرأ بمثلهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرو، کیونکہ تم ان جیسی (پناہ مانگنے کی کوئی اور) چیز ہرگز نہیں پڑھو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عقبة بن عامر. تخريج الترغيب ٢/٢٢٦: حم، ن، حب، - جابر.
"اقرأ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} . عند منامك فإنها براءة من الشرك
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے سونے کے وقت ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شرک سے برات (نجات) کا ذریعہ ہے۔“ [سورة الكافرون: 1]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1161
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أنس. الترغيب ١/٢٠٩: حم، تخ، د، ت، حب، ك، ابن السني –نوفل.
«أقرأني جبريل القرآن على حرف فراجعته فلم أزل استزيده فيزيدني حتى انتهى إلى سبعة أحرف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے قرآن ایک ہی حرف (قراءت) پر پڑھایا، تو میں نے ان سے رجوع کیا اور میں مسلسل ان سے اضافے کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ میرے لیے اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ یہ بات سات حروف (قراءتوں) تک پہنچ گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ ... ] حم ق" عن ابن عباس. الروض ٣٩٣.
«اقرءوا القرآن على سبعة أحرف فأيما قرأتم أصبتم ولا تماروا فيه فإن المراء فيه كفر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید کو سات حروف پر پڑھو، پس تم ان میں سے جس پر بھی پڑھو گے درست پڑھو گے، اور اس کے بارے میں جھگڑا نہ کرو، کیونکہ اس کے متعلق جھگڑنا کفر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1163
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن عمرو بن العاص. الصحيحة ١٥٢٢: حم.
«اقرءوا القرآن فإنكم تؤجرون عليه أما إني لا أقول: ألم حرف ولكن ألف عشر ولام عشر وميم عشر فتلك ثلاثون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید پڑھا کرو کیونکہ تمہیں اس پر اجر دیا جائے گا، خبردار! میں یہ نہیں کہتا کہ «الٓمّٓ» ایک حرف ہے، بلکہ «ألف» پر دس نیکیاں ہیں، «لام» پر دس ہیں اور «ميم» پر دس ہیں، تو یہ مجموعی طور پر تیس نیکیاں ہو گئیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو جعفر النحاس في الوقف والابتداء١ السجزي في الإبانة خط] عن ابن مسعود. الصحيحة ٦٦٠.
«اقرءوا القرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعا لأصحابه، اقرءوا الزهراوين: البقرة وآل عمران فإنهما يأتيان يوم القيامة كأنهما غمامتان أو غيايتان أو كأنهما فرقان من طير صواف يحاجان عن أصحابهما، اقرءوا سورة البقرة فإن أخذها بركة وتركها حسرة ولا تستطيعها البطلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید پڑھا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔ دو روشن سورتیں یعنی سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران پڑھا کرو، کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی گویا وہ دو بادل ہیں، یا دو سائبان ہیں، یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کی دو ڈاریں ہیں جو اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے دفاع کریں گی۔ سورۃ البقرہ پڑھا کرو، کیونکہ اس کا پڑھنا باعثِ برکت اور اس کا چھوڑنا باعثِ حسرت ہے، اور جادوگر اس (کی طاقت) کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي أمامة. مختصر مسلم ٢٠٩٥.
«اقرءوا القرآن ما ائتلفت عليه قلوبكم فإذا اختلفتم فيه فقوموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید اس وقت تک پڑھتے رہو جب تک تمہارے دل اس پر متوجہ اور یکسو رہیں، اور جب تم اس (کے معانی یا قراءت) میں اختلاف کرنے لگو تو کھڑے ہو جایا کرو (یعنی تلاوت روک دو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن جندب. مختصر مسلم ٢١٢٢.
«اقرءوا القرآن وابتغوا به الله تعالى من قبل أن يأتي قوم يقيمونه إقامة القدح يتعجلونه ولا يتأجلونه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید پڑھا کرو اور اس کے ذریعے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرو، اس سے پہلے کہ ایسے لوگ آ جائیں جو اسے تیر کی طرح سیدھا کریں گے (یعنی ظاہری الفاظ خوب سنواریں گے)، وہ اس کا دنیاوی اجر (داد و تحسین یا مال) جلدی چاہیں گے اور اسے آخرت کے لیے مؤخر نہیں کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1167
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د] عن جابر. الصحيحة ٢٥٩.
«اقرءوا القرآن واعملوا به ولا تجفوا عنه ولا تغلوا فيه ولا تأكلوا به ولا تستكثروا به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید پڑھا کرو اور اس پر عمل کیا کرو، اور نہ اس سے بے رخی اختیار کرو، نہ اس میں غلو (حد سے تجاوز) کرو، اور نہ ہی اسے کھانے (روزگار) کا ذریعہ بناؤ اور نہ اس کے ذریعے دنیاوی مال و متاع زیادہ اکٹھا کرنے کی کوشش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1168
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ع هب] عن عبد الرحمن بن شبل. تخريج فقه السيرة ٤٢، الصحيحة ٢٦٠: الطحاوي، طس، ابن عساكر.
«اقرءوا القرآن وسلوا الله به قبل أن يأتي قوم يقرءون القرآن فيسألون به الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید پڑھا کرو اور اس کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے مانگا کرو، اس سے پہلے کہ ایسی قوم آ جائے جو قرآن پڑھے گی تو اس کے ذریعے لوگوں سے (دنیاوی مال) مانگا کرے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1169
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب هب] عن عمران بن حصين. الصحيحة ٢٥٩.
«اقرءوا سورة البقرة في بيوتكم فإن الشيطان لا يدخل بيتا يقرأ فيه سورة البقرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے گھروں میں سورۃ البقرہ پڑھا کرو، کیونکہ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هب] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٥٢١.
«اقرءوا كما علمتم فإنما أهلك من كان قبلكم اختلافهم على أنبيائهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(قرآن مجید کو) اسی طرح پڑھو جس طرح تمہیں سکھایا گیا ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے اپنے نبیوں پر اختلاف کرنے ہی نے ہلاک کیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن جرير في تفسيره] عن ابن مسعود. الصحيحة: ١٥٢٢: حم، حب.
«اقرءوا هاتين الآيتين اللتين في آخر سورة البقرة فإن ربي أعطانيهما من تحت العرش»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سورۃ البقرہ کے آخر میں موجود ان دو آیتوں کو پڑھا کرو، کیونکہ میرے رب نے مجھے یہ دونوں آیات عرش کے نیچے سے عطا فرمائی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1172
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ١٤٨٢: ابن نصر.
«أقرب ما يكون الرب من العبد في جوف الليل الآخر فإن استطعت أن تكون ممن يذكر الله في تلك الساعة فكن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رب تعالیٰ اپنے بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری پہر میں ہوتا ہے، لہٰذا اگر تم سے ہو سکے کہ اس گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ تو ضرور ہو جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن ك] عن عمرو بن عبسة. الترغيب ٢/٢٧٦، المشكاة ١٢٢٩.
«أقرب ما يكون العبد إلى الله وهو ساجد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بندہ اللہ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن ابن مسعود. صحيح أبي داود ٨١٩.
«أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فأكثروا الدعاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) کثرت سے دعا کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1175
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ن] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٨١٩، الإرواء ٤٥٦: حم، أبو عوانة، هق.
«أقربكم مني مجلسا يوم القيامة أحسنكم خلقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ ہوں گے جن کے اخلاق تم میں سب سے اچھے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1176
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن النجار] عن علي. المشكاة ٤٦٩٧، الصحيحة ٧٩١: حم، حب، طب: هب –أبو ثعلبة الخشني. ت، خط – جابر.
«أقروا الطير على مكناتها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو (یعنی انہیں اڑا کر ان سے بدشگونی مت لو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1177
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أم كرز. الإرواء ١١٦٦.
«اقسموا المال بين أهل الفرائض على كتاب الله فما تركت الفرائض فلأولى رجل ذكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(میت کا) مال اللہ کی کتاب کے مطابق حق داروں کے درمیان تقسیم کرو، پھر مقررہ حصوں کے بعد جو بچ جائے وہ سب سے قریبی مرد (عصبہ) کا حق ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د هـ] عن ابن عباس. الإرواء ١٦٩٠.
«أقصر من جشائك فإن أكثر الناس شبعا في الدنيا أكثرهم جوعا في الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی ڈکار کو کم کرو (یعنی زیادہ پیٹ بھر کر نہ کھایا کرو)، کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے ہی آخرت میں سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1179
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أبي جحيفة. الصحيحة ٣٤٣.
«اقضوا الله فالله أحق بالوفاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کا قرض (یعنی نذر، روزہ، حج وغیرہ) ادا کرو، کیونکہ اللہ سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1180
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عباس. الإرواء ٧٩٠.
«اقطعوا في ربع الدينار ولا تقطعوا فيما هو أدنى من ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چوتھائی دینار (کی چوری) پر ہاتھ کاٹو، اور جو اس سے کم مالیت کا ہو اس پر ہاتھ نہ کاٹو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1181
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق] عن عائشة. الإرواء ٢٤٠٢.
«أقل أمتي أبناء السبعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے بہت کم لوگ ستر سال کی عمر تک پہنچیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1182
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحكيم] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٥١٧: أبو يعلى، عد.
«أقل أمتي الذين يبلغون السبعين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں ستر سال کی عمر کو پہنچنے والے بہت کم لوگ ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمر. الصحيحة ١٥١٧.
«أقلوا الخروج بعد هدأة الرجل فإن لله تعالى دواب يبثهن في الأرض في تلك الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب لوگ سو جائیں (اور رات کا سناٹا چھا جائے) تو باہر نکلنا کم کر دو، کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی بہت سی مخلوقات ہوتی ہیں جنہیں وہ زمین پر پھیلا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1184
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن] عن جابر. الصحيحة ١٥١٨: خد، ابن خزيمة، حب.
«أقيلوا ذوي الهيئات عثراتهم إلا الحدود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شریف اور باعزت لوگوں کی لغزشوں کو معاف کر دیا کرو، سوائے ان گناہوں کے جن پر (شرعی) حد مقرر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1185
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد د] عن عائشة. الصحيحة ٣٦٨.
«أقيموا الركوع والسجود فوالله إني لأراكم من بعد ظهري إذا ركعتم وإذا سجدتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رکوع اور سجدے کو پوری طرح (سنت کے مطابق) ادا کیا کرو، اللہ کی قسم! جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1186
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أنس. مختصر مسلم ٢٩٠ نحوه.
«أقيموا الصفوف فإنما تصفون بصفوف الملائكة وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم ولا تذروا فرجات للشيطان ومن وصل صفا وصله الله ومن قطع صفا قطعه الله عز وجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں سیدھی رکھو، کیونکہ تم فرشتوں کی صفوں کی طرح صفیں بناتے ہو، کندھوں کو برابر رکھو، خالی جگہیں پُر کرو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں کے لیے نرم پڑ جاؤ، اور شیطان کے لیے خالی جگہیں نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو توڑے گا اللہ عزوجل اسے کاٹ دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1187
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د طب] عن ابن عمر. المشكاة ١٠٩١، صحيح أبي داود ٦٧٢، الصحيحة ٧٤٣، صحيح الترغيب ٤٩٥: ن، ك.
«أقيموا الصفوف في الصلاة فإن إقامة الصف من حسن الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز میں اپنی صفیں سیدھی رکھو، کیونکہ صفوں کو سیدھا رکھنا نماز کے حسن اور کمال کا حصہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1188
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«أقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وحجوا واعتمروا واستقيموا يستقم بكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، حج اور عمرہ کرو، اور (دین پر) مضبوطی سے قائم رہو، تمہارے معاملات بھی درست اور استوار کر دیے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن سمرة. الروض ٣٤٦، صحيح الترغيب ٧٤٥: طص.
«أقيموا حدود الله تعالى في البعيد والقريب ولا تأخذكم بالله لومة لائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دور اور قریب والے (یعنی غیر اور اپنے) سب پر اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرو، اور اللہ کے معاملے میں تمہیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ہرگز نہ روکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1190
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ٦٧٠.
«أقيموا صفوفكم فوالله لتقيمن صفوفكم أو ليخالفن الله بين قلوبكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں سیدھی کرو، اللہ کی قسم! تم ضرور اپنی صفوں کو سیدھا رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں اختلاف (اور پھوٹ) ڈال دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1191
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن النعمان بن بشير. صحيح أبي داود ٦٦٨، الصحيحة ٣٢.
«أقيموا صفوفكم لا تخللكم الشياطين كأنها أولاد الحذف قيل: يا رسول الله وما أولاد الحذف؟ قيل: سود جرد بأرض اليمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں سیدھی رکھو، کہیں ایسا نہ ہو کہ شیاطین حذف کے بچوں کی طرح تمہارے درمیان گھس آئیں۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! حذف کے بچے کیا ہیں؟ فرمایا: یہ یمن کے علاقے میں پائی جانے والی بغیر بالوں کی کالی بکریاں ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1192
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ش ك] عن البراء. صحيح أبي داود ٦٧٣.
«أقيموا صفوفكم وتراصوا فإني أراكم من خلف ظهري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں سیدھی رکھو اور آپس میں مل کر کھڑے ہو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أنس. الصحيحة ٣١.
"أقيموا صفوفكم وتراصوا فوالذي نفسي بيده إني
لأرى الشياطين بين صفوفكم كأنها غنم عفر"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی صفیں سیدھی رکھو اور آپس میں مل کر کھڑے ہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں شیاطین کو تمہاری صفوں کے درمیان یوں گھستا ہوا دیکھتا ہوں گویا کہ وہ مٹیالے رنگ کی بکریاں ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1194
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن أنس. صحيح أبي داود ٦٧٣.
«أكبر الكبائر الإشراك بالله وقتل النفس وعقوق الوالدين وشهادة الزور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی (بے گناہ) جان کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أنس. غاية المرام ٢٧٧.
«اكتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لکھا کرو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس (زبان) سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1196
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٥٣٢: الدارمي.
«اكتحلوا بالإثمد فإنه يجلوا البصر وينبت الشعر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اثمد (سرمہ) استعمال کیا کرو، کیونکہ یہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1197
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عباس. المشكاة ٤٤٧٢.
«أكثر الدعاء بالعافية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کثرت سے عافیت (سلامتی و بچاؤ) کی دعا کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1198
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن ابن عباس. الصحيحة ١٥٢٣: طب، الضياء.