کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کا تہبند (یا شلوار) اس کی آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 919
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أبي هريرة وأبي سعيد وابن عمر [الضياء] عن أنس. المشكاة ٤٣٣١: حم، هب، - أنس.
«إزرة المؤمن إلى عضلة ساقيه ثم إلى الكعبين فما كان أسفل من ذلك ففي النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کا تہبند اس کی پنڈلی کے پٹھے (گوشت والے حصے) تک، اور پھر ٹخنوں تک ہونا چاہیے، پس جو حصہ اس سے نیچے لٹکے گا وہ آگ میں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 920
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي هريرة. المشكاة ٤٣٣١.
«إزرة المؤمن إلى نصف الساق ولا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين ما كان أسفل من الكعبين فهو في النار من جر إزاره بطرا لم ينظر الله إليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کا تہبند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے، اور اس کے اور ٹخنوں کے درمیان تک رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں، البتہ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکے گا وہ آگ میں جائے گا۔ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 921
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم د هـ حب هق] عن أبي سعيد. المشكاة ٤٣٣١: الحميدي.
«ازهد في الدنيا يحبك الله وازهد فيما أيدي الناس يحبك الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیازی برتو، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ طب ك هب] عن سهل بن سعد. الصحيحة ٩٤٤.
«ازهد في الدنيا يحبك الله وأما الناس فانبذ إليهم هذا يحبوك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور رہی بات لوگوں کی، تو ان کی چیزیں انہی کے حوالے کر دو (ان سے بے نیازی برتو)، وہ تم سے محبت کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن أنس. الصحيحة ٩٤٤.
«أسامة أحب الناس إلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 924
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن ابن عمر. الصحيحة ٧٤٥.
«إسباغ الوضوء شطر الإيمان والحمد لله تملأ الميزان والتسبيح والتكبير يملأ السموات والأرض والصلاة نور والزكاة برهان والصبر ضياء والقرآن حجة لك أو عليك كل الناس يغدو فبائع نفسه فمعتقها أو موبقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» میزان کو بھر دیتا ہے، اور تسبیح اور تکبیر (سبحان اللہ اور اللہ اکبر) آسمانوں اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، زکوٰۃ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے، اور قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے یا تمہارے خلاف۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنی جان کا سودا کرتا ہے، پھر یا تو وہ اسے (نیکی کر کے) آزاد کروا لیتا ہے یا (گناہ کر کے) ہلاک کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 925
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ حب] عن أبي مالك الأشعري. مسلم ١/١٤٠، أبو عوانة ١/٢٢٣.
«إسباغ الوضوء في المكاره وإعمال الأقدام إلى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة يغسل الخطايا غسلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، مساجد کی طرف زیادہ قدم اٹھا کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہ اعمال گناہوں کو پوری طرح دھو ڈالتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 926
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع ك هب] عن علي. صحيح الترغيب ١٨٦، ٤٤٩.
«أسبغ الوضوء وخلل بين الأصابع وبالغ في الاستنشاق إلا أن تكون صائما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کامل وضو کیا کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو، اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کیا کرو، سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 927
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشافعي حم ٤ حب ك] عن لقيط بن صبرة. صحيح أبي داود ١٣٠، الإرواء ٩٠.
«أسبغوا الوضوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کامل وضو کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 928
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمرو. حم ١٦٤، ١٩٣، ٢٠١، م ١/١٤٨.
«استأخرن فإنه ليس لكن أن تحققن الطريق عليكن بحافات الطريق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(اے عورتو!) تم پیچھے ہٹ جاؤ، کیونکہ تمہارے لیے راستے کے بیچوں بیچ چلنا درست نہیں، تم راستے کے کناروں پر چلا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 929
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن أسيد الأنصاري. الصحيحة ٨٥٦: الهيثم بن كليب، هب.
«استأمروا النساء في أبضاعهن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورتوں سے ان کے نکاح (کے معاملات) میں اجازت طلب کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 930
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب] عن عائشة. الصحيحة ٣٩٨.
«استبرءوهن بحيضة - يعني السبايا -»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ان قیدی عورتوں (لونڈیوں) کے رحم کو ایک حیض کے ذریعے پاک کرو (یعنی ایک حیض آنے تک انتظار کرو تاکہ حمل نہ ہونے کا یقین ہو جائے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 931
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن أبي سعيد. الإرواء ١٨٧.
«استجيروا بالله من عذاب القبر فإن عذاب القبر حق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ قبر کا عذاب برحق ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص. الصحيحة ١٤٤٤.
«استحيوا فإن الله لا يستحيي من الحق لا تأتوا النساء في أدبارهن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا، عورتوں کے پاس ان کی پچھلی شرمگاہ (دبر) سے نہ جایا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هق] عن خزيمة بن ثابت. الإرواء ٢٠٠٥.
«استحيوا فإن الله لا يستحيي من الحق لا يحل مأتى النساء في حشوشهن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا، عورتوں کے پاس ان کے پاخانے کے مقام (دبر) سے جانا حلال نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 934
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [سمويه] عن جابر. الإرواء ٢٠٠٥: قط.
«استحيوا من الله تعالى حق الحياء من استحيا من الله حق الحياء فليحفظ الرأس وما وعى وليحفظ البطن وما حوى وليذكر الموت والبلا ومن أراد الآخرة ترك زينة الحياة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحيا من الله حق الحياء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیا کرو جیسا کہ اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔ جو شخص اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کرنا چاہے تو وہ سر اور جو کچھ اس میں ہے (یعنی آنکھ، کان، زبان وغیرہ) کی حفاظت کرے، اور پیٹ اور جو کچھ اس میں بھرا ہوا ہے اس کی حفاظت کرے، اور موت اور (قبر میں جسم کے) بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے، اور جو شخص آخرت کا ارادہ رکھتا ہے وہ دنیاوی زندگی کی زینت کو ترک کر دیتا ہے۔ پس جس نے یہ کام کر لیے، تحقیق اس نے اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت ك هب] عن ابن مسعود. الروض النضير ٦٠١، المشكاة ١٦٠٨.
"استذكروا القرآن فهو أشد تفصيا من صدور الرجال
من النعم من عقلها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن کا بار بار دور (تکرار) کیا کرو، کیونکہ یہ مردوں کے سینوں سے اس قدر تیزی سے نکل بھاگتا ہے کہ رسی سے بندھے ہوئے جانور بھی اتنی تیزی سے نہیں بھاگتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 936
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن ابن مسعود.
«استرقوا لها فإن بها النظرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس بچی پر دم کرواؤ، کیونکہ اسے نظرِ بد لگ گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 937
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أم سلمة. الصحيحة ١٢٤٧ والحاكم ٤/١٢.
«استعيذوا بالله من العين فإن العين حق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نظرِ بد سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ نظر لگنا برحق ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 938
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن عائشة. الصحيحة ٧٣٧.
«استعيذوا بالله من الفقر والعيلة ومن أن تظلموا أو تظلموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو فقر (محتاجی) سے، تنگدستی سے، اور اس بات سے کہ تم کسی پر ظلم کرو یا تم پر ظلم کیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 939
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ١٤٤٥.
«استعيذوا بالله من شر جار المقام فإن جار المسافر إذا شاء أن يزايل زايل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مستقل رہائش کے برے پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ سفر کا پڑوسی تو جب چاہے جدا ہو سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 940
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤٤٣.
«استعيذوا بالله من عذاب القبر استعيذوا بالله من عذاب جهنم استعيذوا بالله من فتنة المسيح الدجال استعيذوا بالله من فتنة المحيا والممات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، مسیح دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو، اور زندگی اور موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 941
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد ت ن] عن أبي هريرة. صفة الصلاة ١٦٣.
«استعيذوا بالله من عذاب القبر إنهم يعذبون في قبورهم عذابا تسمعه البهائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ مردوں کو ان کی قبروں میں ایسا عذاب دیا جاتا ہے جسے جانور سنتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 942
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن أم مبشر. الصحيحة ١٤٤٤: حب.
«استعينوا على إنجاح الحوائج بالكتمان فإن كل ذي نعمة محسود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی ضرورتوں (اور مقاصد) کو پورا کرنے کے لیے راز داری سے مدد لو، کیونکہ ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 943
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عق عد طب حل هب] عن معاذ بن جبل "الخرائطي في اعتلال القلوب [عن عمر] خط [عن ابن عباس] الخلعي في فوائده" عن علي.
«استغفروا ربكم إني استغفر الله وأتوب إليه كل يوم مئة مرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے رب سے بخشش مانگو، بیشک میں ہر روز سو مرتبہ اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 944
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البغوي] عن الأغر. الصحيحة ١٤٥٢: حم، الطحاوي.
«استغفروا لأخيكم وسلوا له التثبيت فإنه الآن يسأل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے (مسلمان) بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو، کیونکہ اب اس سے (قبر میں منکر نکیر کی جانب سے) سوال کیا جا رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 945
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن عثمان. الجنائز ١٥٥:د.
«استغفروا لماعز بن مالك لقد تاب توبة لو قسمت بين أمة لوسعتهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ماعز بن مالک کے لیے مغفرت کی دعا کرو، یقیناً انہوں نے ایسی (سچی) توبہ کی ہے کہ اگر وہ پوری امت پر تقسیم کر دی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 946
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ن] عن بريدة.
«استغنوا عن الناس ولو بشوص السواك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں سے بے نیازی اختیار کرو، خواہ مسواک کے ریزے (یا استعمال شدہ مسواک) ہی کے معاملے میں کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 947
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار طب هب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٤٥٠: الضياء.
«استفت نفسك وإن أفتاك المفتون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے دل سے فتویٰ (رہنمائی) طلب کرو، چاہے فتویٰ دینے والے تمہیں فتویٰ دے دیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 948
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [تخ] عن وابصة. المشكاة ٢٧٧٤.
«استقبل صلاتك فلا صلاة لمن صلى خلف الصف وحده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی نماز دوبارہ پڑھو، کیونکہ جو شخص صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھے اس کی کوئی نماز نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 949
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ش هـ حب] عن علي بن شيبان. الإرواء ٥٤١: حم، ابن سعد، ابن خزيمة، الطحاوي، هق، ابن عساكر.
«استقرءوا القرآن من أربعة: من عبد الله بن مسعود وسالم مولى أبي حذيفة وأبي بن كعب ومعاذ بن جبل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید چار لوگوں سے پڑھا (سیکھا) کرو: عبداللہ بن مسعود، سالم مولیٰ ابوحذیفہ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمرو.
«استقم وليحسن خلقك للناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دین پر ثابت قدم رہو اور لوگوں کے ساتھ اپنے اخلاق کو بہتر بناؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب ك هب] عن ابن عمرو. الصحيحة ١٢٢٧.
«استقيموا ولن تحصوا واعلموا أن خير أعمالكم الصلاة ولا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(دین پر) ثابت قدم رہو اور تم (اس کا پورا ثواب) ہرگز شمار نہیں کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں سب سے بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی پابندی صرف مومن ہی کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 952
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ك هق] عن ثوبان [هـ طب] عن ابن عمرو [طب] عن سلمة بن الأكوع. المشكاة ٢٩٢ المساجلة العلمية ١٧، الإرواء ٤١٢.
«استقيموا ونعما إن استقمتم وخير أعمالكم الصلاة ولن يحافظ على الوضوء إلا مؤمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(دین پر) ثابت قدم رہو، اور اگر تم ثابت قدم رہے تو کیا ہی اچھی بات ہوگی، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی پابندی صرف مومن ہی کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 953
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي أمامة [طب] عن عبادة بن الصامت. الروض ١٧٧.
«استكثروا من النعال فإن الرجل لا يزال راكبا ما دام منتعلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جوتے زیادہ استعمال کیا کرو (یعنی چلتے وقت پہنے رکھا کرو)، کیونکہ جب تک آدمی جوتا پہنے رہتا ہے گویا وہ سوار ہوتا ہے (اسے تھکاوٹ اور تکلیف کم ہوتی ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 954
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم تخ م ن] عن جابر [طب] عن عمران بن حصين [طس] عن ابن عمرو. الصحيحة ٣٤٥، مختصر مسلم ١٣٨.
«استمتعوا من هذا البيت فإنه قد هدم مرتين ويرفع في الثالثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس گھر (خانہ کعبہ) سے فائدہ اٹھا لو (یعنی اس کا طواف اور زیارت کثرت سے کرو)، کیونکہ اسے دو مرتبہ گرایا جا چکا ہے اور تیسری مرتبہ اٹھا لیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن ابن عمر. الصحيحة ١٤٥١: ابن خزيمة، حب، أبو نعيم، الديلمي.
«استنثروا مرتين بالغتين أو ثلاثا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ناک میں پانی چڑھا کر دو مرتبہ یا تین مرتبہ اچھی طرح جھاڑ کر صاف کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ١٢٩: الطيالسي، تخ، هق.
«أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے انجام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت] عن ابن عمر. الكلم ١٦٩، الصحيحة ١٤.
«أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے پاس رکھی گئی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 958
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦.