کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا ولج الرجل بيته فليقل: اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج باسم الله ولجنا وباسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توكلنا ثم يسلم على أهله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلَجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ بِاسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا وَبِاسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا» (اے اللہ! میں تجھ سے داخل ہونے اور نکلنے کی بھلائی مانگتا ہوں، اللہ کے نام کے ساتھ ہم گھر میں داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ ہی ہم نکلے، اور ہم نے اپنے رب اللہ پر ہی بھروسا کیا)۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 839
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د طب] عن أبي مالك الأشعري. المشكاة ٢٤٤٤، الصحيحة ٢٢٥.
«إذا ولغ الكلب في الإناء فاغسلوه سبع مرات وعفروه الثامنة بالتراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کتا برتن میں منہ مار دے تو اسے سات مرتبہ دھو لیا کرو، اور آٹھویں مرتبہ اسے مٹی کے ساتھ اچھی طرح رگڑ کر صاف کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 840
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن هـ] عن عبد الله بن مغفل. صحيح أبي داود ٦٧، الإرواء ١٦٧: الدارمي، أبو عوانة مختصر مسلم ١١٩.
«إذا ولغ الكلب في إناء أحدكم فليرقه ثم ليغسله سبع مرات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ مار دے تو وہ اس (میں موجود چیز) کو گرا دے، پھر اسے سات مرتبہ دھوئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 841
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن أبي هريرة. الإرواء ٢٤.
«إذا ولغ الكلب في إناء أحدكم فليغسله سبع مرات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ مار دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن أبي هريرة [هـ٢] عن ابن عمر [البزار] عن ابن عباس. الإرواء ٢٤: مالك، حم، ق، أبو عوانة.
«إذا ولغ الكلب في إناء أحدكم فليغسله سبع مرات أولاهن بالتراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ مار دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے، اور ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے دھوئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 843
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٦٤ الإرواء ١٦٧: م، أبو عوانة، د، ت.
«إذا ولي أحدكم أخاه فليحسن كفنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار بنے تو اسے چاہیے کہ اسے عمدہ کفن پہنائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 844
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن جابر [ت هـ] عن أبي قتادة. الجنائز٥٨: ت، ابن الجارود، ك.
«إذا ولي أحدكم أخاه فليحسن كفنه فإنهم يبعثون في أكفانهم ويتزاورون في أكفانهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار بنے تو اسے چاہیے کہ اسے عمدہ کفن پہنائے، کیونکہ وہ (مردے) اپنے کفنوں ہی میں اٹھائے جائیں گے اور انہی کفنوں میں ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 845
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [سمويه عق خط] عن أنس١. الصحيحة ١٤٢٥.
«إذا هلك كسرى فلا كسرى بعده وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده والذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ان دونوں (بادشاہوں) کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 846
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن جابر بن سمرة [حم ق ت] عن أبي هريرة.
«إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب، اللهم فإن كنت تعلم هذا الأمر وتسميه باسمه خيرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه، اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی (اہم) کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے، پھر یہ دعا کرے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ وَتُسَمِّيهِ بِاسْمِهِ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ» (اے اللہ! میں تیرے علم کی مدد سے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے تجھ سے طاقت مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو تمام غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اس کام کا نام لے) میرے دین، میری دنیا، میری زندگی اور میرے انجام کے حق میں بہتر ہے تو اسے میرے مقدر میں کر دے، اسے میرے لیے آسان فرما دے، پھر میرے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ اور اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، میری دنیا اور میرے انجام کے حق میں برا ہے تو مجھے اس سے اور اسے مجھ سے پھیر دے، اور میرے لیے بھلائی مقدر فرما دے جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 847
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ٤] عن جابر٢. صحيح الكلم الطيب ٩٨ الصفحة ٥٠.
«اذبحوا لله في أي شهر كان وبروا لله وأطعموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم اللہ کی رضا کے لیے ذبح کیا کرو خواہ کوئی بھی مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیکی کے کام کرو اور لوگوں کو کھانا کھلاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 848
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ ك] عن نبيشة. الإرواء ١١٥٦.
«اذكر الموت في صلاتك فإن الرجل إذا ذكر الموت في صلاته لحري أن يحسن صلاته وصل صلاة رجل لا يظن أنه يصلي صلاة غيرها وإياك وكل أمر يعتذر منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی نماز میں موت کو یاد کیا کرو، کیونکہ جب آدمی اپنی نماز میں موت کو یاد کرتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنی نماز کو عمدہ طریقے سے ادا کرے گا، اور تم اس آدمی کی طرح نماز پڑھو جسے یقین نہ ہو کہ وہ اس کے بعد کوئی اور نماز بھی پڑھ سکے گا (یعنی اسے اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھو)، اور اپنے آپ کو ہر اس کام سے بچاؤ جس کے کرنے پر معذرت کرنی پڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 849
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [فر] عن أنس وحسنه ابن حجر وهو نادر في مفاريد مسند الفردوس فإن أكثرها ضعاف. الصحيحة ١٤٢١.
«أذن في الناس أن من كان أكل فليصم بقية يومه ومن لم يكن أكل فليصم فإن اليوم يوم عاشوراء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں اعلان کر دو کہ جس نے (کچھ کھا پی لیا ہے) وہ اپنے دن کے بقیہ حصے میں روزے داروں کی طرح رہے، اور جس نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا وہ روزہ رکھ لے، کیونکہ آج عاشورہ کا دن ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 850
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن سلمة بن الأكوع [م] عن الربيع بنت معوذ.
«أذن في الناس أنه من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له مخلصا دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جس شخص نے خلوصِ دل سے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 851
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار ع] عن عمر. الصحيحة ١١٣٥.
«إذنك علي أن يرفع الحجاب وأن تستمع لسوادي حتى أنهاك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے لیے میری طرف سے اندر آنے کی اجازت کی علامت یہ ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور تم میری آواز (یا راز کی باتیں) سن سکو، یہاں تک کہ میں تمہیں (کسی خاص وقت) اس سے منع کر دوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 852
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م هـ] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٤٢٧: ابن سعد، أبو عبيد.
«أذن لي أن أحدث عن ملك من حملة العرش رجلاه في الأرض السفلى وعلى قرنه العرش وبين شحمة أذنيه وعاتقه خفقان الطير سبعمائة عام يقول ذلك الملك سبحانك حيث كنت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بتانے کی اجازت دی گئی ہے کہ اس کے پاؤں سب سے نچلی زمین میں ہیں اور اس کے سینگ (سر) پر عرش ہے، اور اس کے کان کی لو سے لے کر اس کے کندھے تک کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا ایک اڑنے والا پرندہ سات سو سال میں طے کرتا ہے، اور وہ فرشتہ یہ تسبیح پڑھتا رہتا ہے: «سُبْحَانَكَ حَيْثُ كُنْتَ» (اے اللہ! تو پاک ہے جہاں کہیں بھی ہو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 853
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أنس. الصحيحة ١٥٠.
«أذن لي أن أحدث عن ملك من ملائكة الله تعالى حملة العرش ما بين شحمة أذنه إلى عاتقه مسيرة سبعمائة سنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے اللہ تعالیٰ کے عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بتانے کی اجازت دی گئی ہے، کہ اس کے کان کی لو سے لے کر اس کے کندھے کے درمیانی فاصلے کی مسافت سات سو سال کے برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 854
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د الضياء] عن جابر. الطحاوية ٢٩٨، الصحيحة ١٥١.
«أذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ دعا پڑھا کرو: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» (اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما دے اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا عطا فرما جو کسی بھی قسم کی بیماری کو نہ چھوڑے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ] عن ابن مسعود [حم هـ] عن عائشة. المشكاة ٤٥٥٢: حم، ق، حب، عائشة، حب، ك، جميلة بنت المجلل.
«اذهبا وتوخيا ثم استهما ثم اقتسما ثم ليحلل كل واحد منكما صاحبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم دونوں جاؤ اور (حق تک پہنچنے کی) پوری کوشش کرو، پھر قرعہ اندازی کر کے (حصے) تقسیم کر لو، اور پھر تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے معافی مانگ کر (اپنے معاملے کو) حلال کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أم سلمة. الإرواء ١٤٢٣: حم، د، قط، هق.
«اذهب بنعلي هاتين فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے یہ دونوں جوتے لے جاؤ اور اس باغ کے پیچھے تمہیں جو بھی ایسا شخص ملے جو دل کے پختہ یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو تم اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٢.
«اذهب فاغتسل بماء وسدر وألق عنك شعر الكفر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جاؤ اور پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرو، اور اپنے جسم سے کفر (کے زمانے) کے بال منڈوا دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 858
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن واثلة. صحيح أبي داود: ٣٨٣: طص، ك.
«اذهب فانظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جاؤ اور اس (عورت جس سے نکاح کرنا چاہتے ہو) کو دیکھ لو، کیونکہ ایسا کرنا تم دونوں کے درمیان محبت اور موافقت پیدا کرنے کا زیادہ باعث بنے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم قط ك هق] عن أنس [حم هـ قط طب هق] عن المغيرة بن شعبة. الصحيحة ٩٦.
"اذهب فإن في البيت ثلاثة منهم غلام قد صلى
فخذه ولا تضربه فإنا قد نهينا عن ضرب أهل الصلاة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جاؤ، اس گھر میں تین افراد ہیں جن میں سے ایک ایسا غلام ہے جو نماز پڑھ چکا ہے، تم اسے لے لو اور اسے مارنا مت، کیونکہ ہمیں نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 860
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٤٢٨.
«اذهب فقد ملكتكها بما معك من القرآن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جاؤ، میں نے تمہارے پاس موجود قرآن (یاد ہونے) کی بناء پر اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ق ن] عن سهل بن سعد. مختصر مسلم ٨٢٠.
«اذهبوا إلى صاحبكم فأخبروه أن ربي قد قتل ربه الليلة - يعني كسرى -»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم جاؤ اور اپنے ساتھی (گورنرِ یمن باذان) کو بتا دو کہ میرے رب نے آج رات اس کے رب یعنی کسریٰ کو ہلاک کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 862
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو نعيم] عن دحية. الصحيحة ١٤٢٩.
«اذهبوا بهذا الماء فإذا قدمتم بلدكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها من هذا الماء واتخذوها مسجدا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم یہ (بچا ہوا وضو کا) پانی لے جاؤ، پھر جب تم اپنے شہر پہنچو تو اپنے گرجے (یا معبد) کو گرا کر اس کی جگہ پر یہ پانی چھڑک دینا، اور اسے مسجد بنا لینا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 863
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب] عن طلق بن علي. الصحيحة ١٤٣٠: ن، ابن سعد، أبو نعيم.
«اذهبوا بهذه الخميصة إلى أبي جهم بن حذيفة وأتوني بأنبجانيته فإنها ألهتني آنفا في صلاتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ نقش و نگار والی چادر ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور ان کی کھردری (سادہ) چادر میرے پاس لے آؤ، کیونکہ اس (نقش و نگار والی چادر) نے ابھی نماز میں مجھے غافل کر دیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن هـ] عن عائشة. صحيح أبي داود ٨٤٨، الإرواء ٣٧٦، مختصر مسلم ٢٣٢.
«اذهبوا به - يعني بأبي قحافة - إلى بعض نسائه فليغيره بشيء وجنبوه السواد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انہیں یعنی ابوقحافہ کو ان کی کسی بیوی کے پاس لے جاؤ تاکہ وہ ان کے (بالوں کے) رنگ کو کسی چیز (خضاب) سے بدل دے، تاہم انہیں کالے رنگ سے بچانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 865
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر. غاية لمرام ١٠٥.
«أرى أن تجعلها في الأقربين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری رائے یہ ہے کہ تم اسے (اس باغ کو) اپنے قریبی رشتہ داروں میں (بطورِ صدقہ) تقسیم کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 866
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أنس.
«أرى رؤياكم قد تواطأت في السبع الأواخر فمن كان متحريها فليتحرها في السبع الأواخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب (شبِ قدر کے حوالے سے) آخری سات راتوں پر متفق ہو گئے ہیں، لہٰذا جو شخص اس (شبِ قدر) کی تلاش میں ہو، وہ اسے (رمضان کی) آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 867
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق] عن ابن عمر.
«أرأف أمتي بأمتي أبو بكر وأشدهم في دين الله عمر وأصدقهم حياء عثمان وأقضاهم علي وأفرضهم زيد بن ثابت وأقرؤهم أبي وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل ألا وإن لكل أمة أمينا وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ مہربان شخص ابوبکر ہیں، اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت (مضبوط) عمر ہیں، ان میں سب سے سچی حیا والے عثمان ہیں، ان میں سب سے بہترین فیصلہ کرنے والے علی ہیں، علمِ فرائض (وراثت) کے سب سے بڑے ماہر زید بن ثابت ہیں، ان میں سب سے بہترین قاری ابی بن کعب ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں۔ خبردار! بلاشبہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 868
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] عن ابن عمر. الصحيحة ١٢٢٤.
«أراني الليلة عند الكعبة فرأيت رجلا آدم كأحسن ما أنت راء من أدم الرجال له لمة كأحسن ما أنت راء من اللمم قد رجلها فهي تقطر ماء متكئا على رجلين يطوف بالبيت فسألت من هذا؟ فقيل لي: المسيح ابن مريم، ثم إذا أنا برجل جعد قطط أعور العين اليمنى كأنها عنبة طافية فسألت من هذا؟ فقيل لي: المسيح الدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے آج رات (خواب میں) خود کو کعبہ کے پاس دیکھا، تو میں نے ایک گندم گوں شخص کو دیکھا جو گندم گوں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا جتنا تم دیکھ سکتے ہو، اس کے بال کانوں کی لو تک لمبے تھے جو اس قسم کے بالوں میں سب سے خوبصورت تھے، اس نے ان میں کنگھی کی ہوئی تھی اور ان سے پانی ٹپک رہا تھا، وہ دو آدمیوں پر سہارا دیے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو مجھے بتایا گیا: یہ مسیح ابن مریم (علیہما السلام) ہیں۔ پھر اچانک میں نے ایک انتہائی گھنگھریالے بالوں والے شخص کو دیکھا جس کی دائیں آنکھ کانی تھی گویا کہ وہ ایک ابھرا ہوا (پھولا ہوا) انگور ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا: یہ مسیح دجال ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 869
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق] عن ابن عمرو.
«أراني في المنام أتسوك بسواك فجاءني رجلان أحدهما أكبر من الآخر فناولت السواك الأصغر منهما فقيل لي: كبر فدفعته إلى الأكبر منهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں، پھر میرے پاس دو آدمی آئے جن میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا۔ میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک پکڑائی، تو مجھ سے کہا گیا: بڑے کو دیجیے۔ چناچہ میں نے وہ مسواک ان میں سے بڑے کو دے دی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 870
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمر.
«أرأيتكم ليلتكم هذه؟ فإن على رأس مئة سنة منها لا يبقى من هو على ظهر الأرض أحدا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم اپنی اس رات کو دیکھ رہے ہو؟ پس آج کی رات سے سو سال مکمل ہونے پر روئے زمین پر موجود لوگوں میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 871
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن ابن عمر.
«أربى الربا شتم الأعراض................. ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سود کا بدترین درجہ (بغیر حق کے) لوگوں کی عزتوں کو اچھالنا (ان پر زبان درازی کرنا) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عب هب] عن عمرو بن عثمان مرسلا. الصحيحة ١٤٣٣: الهيثم بن كليب – سعيد بن زيد.
«أربع إذا كن فيك فلا عليك ما فاتك من الدنيا صدق الحديث وحفظ الأمانة وحسن الخلق وعفة مطعم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر وہ تم میں پائی جائیں، تو پھر دنیا کی جو چیز بھی تم سے چھوٹ جائے اس کا تم پر کوئی افسوس (نقصان) نہیں: سچ بولنا، امانت کی حفاظت کرنا، اچھے اخلاق کا ہونا اور رزق (کھانے پینے) میں پاکیزگی (حلال کا اہتمام) ہونا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 873
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ك هب] عن ابن عمر [طب] عن ابن عمرو [عد ابن عساكر] عن ابن عباس. الأحاديث الصحيحة ٧٣٣، تخريج الترغيب٣/١٢.
«أربع أفضل الكلام لا يضرك بأيهن بدأت: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار کلمات سب سے بہترین کلام ہیں، تم ان میں سے جس کلمے سے بھی آغاز کرو کوئی حرج نہیں: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «الْحَمْدُ لِلَّهِ»، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «اللَّهُ أَكْبَرُ»۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 874
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن سمرة. المسند ٥/٢١، صحيح مسلم ٦/١٧٢.
«أربع بقين في أمتي من أمر الجاهلية ليسوا بتاركيها: الفخر بالأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة على الميت، وإن النائحة إذا لم تتب قبل الموت جاءت يوم القيامة عليها سربال من قطران ودرع من لهب النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں جاہلیت کی چار باتیں (ایسی) باقی رہ گئی ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے: اپنے حسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعنے مارنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔ اور بلاشبہ نوحہ کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہ کرے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گی کہ اس پر گندھک (تارکول) کا لباس اور آگ کے شعلوں کی قمیص ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 875
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ك] عن أبي مالك الأشعري. الصحيحة ٧٣٤، أحكام الجنائز ص ٢٧:م، هق٢.
«أربعة أنهار من أنهار الجنة سيحان وجيحان والنيل والفرات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنت کی نہروں میں سے چار (دنیا میں بھیجے جانے والے پانیوں کی) نہریں یہ ہیں: سیحان، جیحان، نیل اور فرات۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 876
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشيرازي في الألقاب] عن أبي هريرة. الأحاديث الصحيحة ١١١: حم، أبو يعلى.
"أربعة تجري عليهم أجورهم بعد الموت: من مات مرابطا
في سبيل الله ومن علم علما أجري له عمله ما عمل به ومن تصدق بصدقة فأجرها يجري له ما وجدت ورجل ترك ولدا صالحا فهو يدعو له"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چار لوگ ایسے ہیں جن کے لیے ان کا اجر موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے: وہ شخص جو اللہ کی راہ میں سرحدوں کی حفاظت (رباط) کرتے ہوئے وفات پا گیا، وہ شخص جس نے کسی کو (دین کا) علم سکھایا تو جب تک اس علم پر عمل کیا جاتا رہے گا اسے اس کا ثواب ملتا رہے گا، وہ شخص جس نے کوئی صدقہ کیا تو جب تک وہ صدقہ (بطورِ صدقہ جاریہ) موجود رہے گا اسے اس کا اجر ملتا رہے گا، اور وہ شخص جو کوئی نیک اولاد چھوڑ گیا جو اس کے لیے (مغفرت کی) دعا کرتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم طب] عن أبي أمامة. صحيح الترغيب ١١٠.
«أربعة دنانير: دينار أعطيته مسكينا ودينار أعطيته في رقبة ودينار أنفقته في سبيل الله ودينار أنفقته على أهلك أفضلها الذي أنفقته على أهلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(خرچ کیے جانے والے) چار (طرح کے) دینار ہیں: ایک وہ دینار جو تم نے کسی مسکین کو دیا، ایک وہ دینار جو تم نے کسی غلام کو آزاد کرانے میں خرچ کیا، ایک وہ دینار جو تم نے اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) خرچ کیا، اور ایک وہ دینار جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔ ان سب میں سے افضل (اور زیادہ ثواب والا) وہ دینار ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد] عن أبي هريرة. صحيح مسلم ٣/٧٨.