حدیث نمبر: 875
«أربع بقين في أمتي من أمر الجاهلية ليسوا بتاركيها: الفخر بالأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة على الميت، وإن النائحة إذا لم تتب قبل الموت جاءت يوم القيامة عليها سربال من قطران ودرع من لهب النار»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں جاہلیت کی چار باتیں (ایسی) باقی رہ گئی ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے: اپنے حسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعنے مارنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔ اور بلاشبہ نوحہ کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہ کرے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گی کہ اس پر گندھک (تارکول) کا لباس اور آگ کے شعلوں کی قمیص ہوگی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 875
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ك] عن أبي مالك الأشعري. الصحيحة ٧٣٤، أحكام الجنائز ص ٢٧:م، هق٢.