حدیث نمبر: 847
«إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب، اللهم فإن كنت تعلم هذا الأمر وتسميه باسمه خيرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه، اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی (اہم) کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے، پھر یہ دعا کرے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ وَتُسَمِّيهِ بِاسْمِهِ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ» (اے اللہ! میں تیرے علم کی مدد سے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے تجھ سے طاقت مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو تمام غیب کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اس کام کا نام لے) میرے دین، میری دنیا، میری زندگی اور میرے انجام کے حق میں بہتر ہے تو اسے میرے مقدر میں کر دے، اسے میرے لیے آسان فرما دے، پھر میرے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ اور اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، میری دنیا اور میرے انجام کے حق میں برا ہے تو مجھے اس سے اور اسے مجھ سے پھیر دے، اور میرے لیے بھلائی مقدر فرما دے جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے)۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 847
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ٤] عن جابر٢. صحيح الكلم الطيب ٩٨ الصفحة ٥٠.