کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا مرض العبد أو سافر كتب الله تعالى له من الأجر مثل ما كان يعمل صحيحا مقيما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی بندہ بیمار ہو جاتا ہے یا سفر پر جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے ان (نیک) اعمال کے برابر اجر لکھ دیتا ہے جو وہ صحت مندی اور اقامت کی حالت میں کیا کرتا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 799
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي موسى. الروض ١٠١٥، الإرواء ٥٦٠.
«إذا مرض العبد قال الله للكرام الكاتبين: اكتبوا لعبدي مثل الذي كان يعمل حتى أقبضه أو أعافيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی بندہ بیمار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کراماً کاتبین (اعمال لکھنے والے معزز فرشتوں) سے فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے ان اعمال کے مثل ثواب لکھتے رہو جو وہ (صحت کی حالت میں) کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اسے موت دے دوں یا اسے شفا عطا فرما دوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ش] عن عطاء بن يسار مرسلا. الإرواء ٥٦٠.
«إذا مشت أمتي المطيطاء وخدمها أبناء الملوك أبناء فارس والروم سلط شرارها على خيارها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب میری امت اکڑ کر (تکبر سے) چلے گی اور بادشاہوں یعنی فارس اور روم کے شہزادے ان کی خدمت گزاری کریں گے، تو اس وقت امت کے بدترین لوگوں کو بہترین لوگوں پر مسلط کر دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 801
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمر. الصحيحة ٩٥٦.
«إذا مضى شطر الليل أو ثلثاه ينزل الله إلى السماء الدنيا فيقول: هل من سائل فيعطى؟ هل من داع فيستجاب له؟ هل من مستغفر فيغفر له؟ حتى ينفجر الصبح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب آدھی رات یا اس کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے عطا کیا جائے؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے؟ (اللہ تعالیٰ کا یہ ندا فرمانا جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ صبح صادق طلوع ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 802
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مسلم ٢/١٧٦، السنة لابن أبي عاصم ٤٩٨ وأحمد، وابن خزيمة في [التوحيد] وغيرهم*.
«إذا نادى المنادي فتحت أبواب السماء واستجيب الدعاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب ندا دینے والا (مؤذن) اذان دیتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 803
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع ك] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٤١٣.
«إذا نام أحدكم وفي يده ريح غمر فلم يغسل يده فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گوشت کی چکنائی (یا بو) ہو اور اس نے ہاتھ نہ دھوئے ہوں، پھر اسے کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 804
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الروض النضير ٨٢٣: حم، خد، د، ت، الدارمي، حب.
«إذا نزل أحدكم منزلا فليقل: أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق فإنه لا يضره شيء حتى يرتحل عنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی منزل پر اترے تو اسے چاہیے کہ یہ پڑھے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» (میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے اس کی پیدا کردہ مخلوق کے شر سے پناہ مانگتا ہوں)، تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن خولة بنت حكيم. مسلم ٨/٧٦.
«إذا نسي أحدكم اسم الله على طعامه فليقل إذا ذكر: باسم الله أوله وآخره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے اور پھر اسے یاد آئے تو یہ کہے: «بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ» (اس کے شروع اور آخر میں اللہ کے نام کے ساتھ)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 806
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث ع" عن امرأة. الإرواء ١٩٦٥.
«إذا نسي أحدكم صلاة أو نام عنها فليصليها إذا ذكرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سوتا رہ جائے تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے تب اسے پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي قتادة. صحيح أبي داود ٣/١٢٨: ن، ابن ماجه، الطحاوي.
«إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه من المال والخلق فلينظر إلى من هو أسفل منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے شخص کو دیکھے جسے اس پر مال اور جسمانی ساخت (یا مرتبے) میں فضیلت دی گئی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اس شخص کی طرف بھی دیکھے جو (ان چیزوں میں) اس سے کمتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
«إذا نعس أحدكم وهو في المسجد فليتحول من مجلسه ذلك إلى غيره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہیے کہ اپنی اس جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ چلا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت] عن ابن عمر. الصحيحة ٤٦٨، المشكاة ١٣٩٤، صحيح أبي داود ١٠٢٥: حم، ابن خزيمة، حب، ك، هق.
«إذا نعس أحدكم وهو يصلي فليرقد حتى يذهب عنه النوم فإن أحدكم إذا صلى وهو ناعس لا يدري لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند دور ہو جائے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا، ہو سکتا ہے وہ مغفرت مانگنے کے بجائے (غلطی سے) خود کو بددعا دے بیٹھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق د ت هـ] عن عائشة. صحيح أبي داود ١١٨٣ مختصر مسلم ٣٨٦.
«إذا نعس أحدكم وهو يصلي فلينصرف فلينم حتى يعلم ما يقول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران اونگھ آنے لگے تو اسے چاہیے کہ نماز چھوڑ دے اور سو جائے، یہاں تک کہ اسے سمجھ آنے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن أنس. صحيح أبي داود ١١٨٣.
«إذا نعس أحدكم يوم الجمعة فليتحول إلى مقعد صاحبه وليتحول صاحبه إلى مقعده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اونگھ آئے تو اسے چاہیے کہ اپنے ساتھی کی جگہ پر چلا جائے اور اس کے ساتھی کو چاہیے کہ وہ اس کی جگہ پر آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 812
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق الضياء] عن سمرة. الصحيحة ٤٦٨.
«إذا نعس الرجل وهو يصلي فلينصرف لعله يدعو على نفسه وهو لا يدري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کسی شخص کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو وہ نماز چھوڑ دے، مبادا وہ بے خبری میں اپنے ہی خلاف بددعا کر بیٹھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 813
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن حب] عن عائشة. صحيح أبي داود ١١٨٣.
«إذا نكح العبد بغير إذن مولاه فنكاحه باطل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 814
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن ابن عمر. الإرواء ١٩٣٣: الدارمي، ابن ماجه.
«إذا نمتم فأطفئوا المصباح فإن الفأرة تأخذ الفتيلة فتحرق أهل البيت وأغلقوا الأبواب وأوكئوا الأسقية وخمروا الشراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا (جلتی ہوئی) بتی کھینچ لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا دیتی ہے، نیز دروازے بند کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو اور پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب ك] عن عبد الله بن سرجس. المشكاة ٤٣٠٣: حم.
«إذا نمتم فأطفئوا سرجكم فإن الشيطان يدل مثل هذه على هذا فيحرقكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم سویا کرو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان اس (چوہیا) جیسی چیزوں کی اس (جلتے ہوئے چراغ) پر رہنمائی کرتا ہے جس سے وہ تمہیں جلا دیتی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 816
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب ك هب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٤٢٦.
«إذا نودي بالصلاة أدبر الشيطان وله ضراط، حتى لا يسمع التأذين فإذا قضي النداء أقبل حتى إذا ثوب بالصلاة أدبر حتى إذا قضي التثويب أقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه يقول: اذكر كذا واذكر كذا لما لم يكن يذكر حتى يظل الرجل لا يدري كم صلى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے۔ پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو وہ واپس آ جاتا ہے، یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو وہ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے۔ اور جب اقامت ختم ہو جاتی ہے تو وہ دوبارہ آ جاتا ہے یہاں تک کہ انسان اور اس کے دل کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر، یعنی وہ باتیں جو اسے پہلے یاد نہیں تھیں، یہاں تک کہ انسان کو یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق د ن] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٥٢٩ مختصر مسلم ١٩٦.
«إذا نودي بالصلاة فتحت أبواب السماء واستجيب الدعاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 818
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي، ع١ الضياء] عن أنس. الصحيحة ١٤١٣.
«إذا نهق الحمار فتعوذا بالله من الشيطان الرجيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب گدھا ہینکے (آواز نکالے) تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 819
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن صهيب٢.
«إذا وجد أحدكم ألما فليضع يده حيث يجد ألمه وليقل سبع مرات: أعوذ بعزة الله وقدرته على كل شيء من شر ما أجد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو درد محسوس ہو تو وہ اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھے اور سات مرتبہ یہ پڑھے: «أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ» (میں جو تکلیف محسوس کر رہا ہوں اس کے شر سے اللہ کی عزت اور ہر چیز پر اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن كعب بن مالك. الصحيحة ١٤١٥: مالك، د، ن، ك، - عثمان بن أبي العاص.
«إذا وجد أحدكم ذلك يعني المذي فلينضح فرجه وليتوضأ وضوءه للصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اسے یعنی مذی کو پائے (نکلتا ہوا دیکھے)، تو اسے چاہیے کہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز کے لیے کیے جانے والے وضو کی طرح وضو کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 821
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم هـ حب] عن المقداد بن الأسود. صحيح أبي داود ٢٠١:د.
"إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج
منه شيء أم لا؟ فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ گڑبڑ محسوس کرے اور اسے شک پڑ جائے کہ اس سے کوئی چیز (ہوا) خارج ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ مسجد سے ہرگز نہ نکلے جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 822
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. الإرواء ١٠٧ و ١١٩.
«إذا وجد أحدكم في صلاته رزا فلينصرف فليتوضأ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی نماز کے دوران ہوا خارج ہونے کی آواز یا پیٹ کی گڑبڑ محسوس کرے، تو اسے چاہیے کہ وہ (نماز سے) واپس چلا جائے اور وضو کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 823
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن ابن عمر. الأحاديث الصحيحة ١٤١٤.
«إذا وجدت المرأة في المنام ما يجد الرجل فلتغتسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب عورت خواب میں وہی کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی اسے احتلام ہو جائے)، تو اس پر غسل کرنا واجب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [سمويه] عن أنس. صحيح أبي داود. ٢٣٤: الدارمي، أبو عوانة.
«إذا وزنتم فأرجحوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم (کوئی چیز) تولو تو جھکتا ہوا (یعنی کچھ زیادہ) تولو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 825
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ، الضياء] عن جابر. أحاديث البيوع.
«إذا وسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو پھر قیامت کا انتظار کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 826
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. البخاري: العلم - ٢.
«إذا وضع أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل فليصل ولا يبال من مر وراء ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی (نماز کے لیے) اپنے سامنے اونٹ کے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز (بطورِ سترہ) رکھ لے، تو وہ نماز پڑھے اور اس بات کی پرواہ نہ کرے کہ اس (سترہ) کے آگے سے کون گزر رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن طلحة. صفة الصلاة ٦٣.
«إذا وضع السيف في أمتي لم يرتفع عنها إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی (یعنی باہمی قتل و غارت شروع ہو جائے گا)، تو پھر قیامت تک ان سے وہ (تلوار) نہیں اٹھائی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 828
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ثوبان. المشكاة ٥٤٠٦: د، ك.
«إذا وضع الطعام فخذوا من حافته وذروا وسطه فإن البركة تنزل في وسطه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کھانا دسترخوان پر چن دیا جائے تو برتن کے کناروں سے کھایا کرو اور اس کے درمیان والے حصے کو چھوڑ دیا کرو، کیونکہ برکت برتن کے درمیان میں نازل ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 829
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عباس. مختار ٦٠/٢٣٧/٢.
"إذا وضعت الجنازة واحتملها الرجال على أعناقهم
فإن كانت صالحة قالت: قدموني وإن كانت غير صالحة قالت لأهلها: يا ويلها أين تذهبون بها؟ يسمع صوتها كل شيء إلا الإنسان ولو سمعها الإنسان لصعق"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب جنازہ تیار کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں، تو اگر وہ میت نیک ہو تو کہتی ہے: مجھے جلدی آگے لے چلو، اور اگر وہ نیک نہ ہو تو اپنے گھر والوں سے پکار کر کہتی ہے: ہائے بربادی! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟ انسان کے سوا ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے، اور اگر انسان اس آواز کو سن لے تو بے ہوش ہو کر گر پڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 830
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن أبي سعيد. أحكام الجنائز ٧٢: هق.
«إذا وضع عشاء أحدكم وأقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء ولا يعجل حتى يفرغ منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے شام کا کھانا لا کر رکھ دیا جائے اور نماز کی اقامت بھی ہو جائے، تو پہلے کھانا کھا لو اور جب تک کھانے سے فارغ نہ ہو جاؤ، (نماز کے لیے جانے میں) جلد بازی نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 831
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن ابن عمر.
«إذا وضعتم موتاكم في قبورهم فقولوا: بسم الله وعلى سنة رسول الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنے مُردوں کو ان کی قبروں میں اتارو تو یہ دعا پڑھا کرو: «بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ» (اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ کی سنت پر)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 832
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب طب ك هق] عن ابن عمر. الإرواء ٧٤٧.
«إذا وطئ الأذى أحدكم بنعله فإن التراب له طهور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے جوتوں سے کسی گندگی کو روند ڈالے، تو یقیناً (راستے کی پاک) مٹی اسے پاک کر دینے والی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 833
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي هريرة وعائشة. صحيح أبي داود٤٠٩, ٤١٣.
«إذا وطئ الأذى بخفيه فطهورهما التراب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص اپنے چمڑے کے موزوں سے کسی گندگی کو روند دے، تو ان دونوں موزوں کو پاک کرنے والی چیز مٹی ہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 834
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ٤١٠.
«إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فليغمسه فإن في أحد جناحيه داء وفي الآخر شفاء وإنه يتقي بجناحه الذي فيه الداء فليغمسه كله ثم لينزعه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ اسے (مشروب میں مکمل) غوطہ دے دے، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے پر میں شفا ہوتی ہے۔ اور وہ گرتے وقت اسی پر کو آگے کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، لہٰذا اسے مکمل طور پر ڈبو کر پھر باہر نکال پھینکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 835
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د حب] عن أبي هريرة. الإرواء ١٧٥، الصحيحة ٣٨: الطحاوي.
«إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فليمقله فيه فإن في أحد جناحيه سما وفي الآخر شفاء وإنه يقدم السم ويؤخر الشفاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ اسے اس (مشروب) میں اچھی طرح غوطہ دے، کیونکہ اس کے ایک پر میں زہر اور دوسرے پر میں شفا ہوتی ہے۔ اور وہ زہر والے پر کو آگے رکھتی ہے اور شفا والے پر کو پیچھے رکھتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 836
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك] عن أبي سعيد. الصحيحة ٣٩: الطيالسي، ابن ماجه، ع، حب.
«إذا وقع الذباب في شراب أحدكم فليغمسه ثم لينزعه فإن في أحد جناحيه داء وفي الآخر شفاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو وہ اسے غوطہ دے پھر اسے باہر نکال دے، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے پر میں شفا ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 837
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٨: حم، ابن ماجه، الطحاوي.
«إذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب جائیداد کی حد بندیاں ہو جائیں اور راستے الگ الگ کر دیے جائیں، تو پھر حقِ شفعہ باقی نہیں رہتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 838
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن جابر. الإرواء ١٥٣٧: حم، خ، د، ابن ماجه، ابن الجارود، هق.