کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا سرتك حسنتك وساءتك سيئتك فأنت مؤمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہاری نیکی تمہیں خوشی دے اور تمہارا گناہ تمہیں رنجیدہ کر دے، تو (جان لو کہ) تم سچے مومن ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب طب ك هب الضياء] عن أبي أمامة. الصحيحة ٥٥٠.
«إذا سقطت لقمة أحدكم فليمط عنها الأذى وليأكلها ولا يدعها للشيطان وليسلت أحدكم الصحفة فإنكم لا تدرون في أي طعامكم تكون البركة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس سے گندگی (مٹی وغیرہ) صاف کر کے اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ پیالے (یا پلیٹ) کو انگلیوں سے اچھی طرح صاف کر لے، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٣] عن أنس. الإرواء ١٩٧٠.
«إذا سقطت لقمة أحدكم فليمط ما بها من الأذى وليأكلها ولا يدعها للشيطان ولا يمسح يده بالمنديل حتى يلعقها أو يلعقها فإنه لا يدري في أي طعامه البركة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگی ہوئی گندگی کو دور کر دے اور اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ نیز وہ اپنے ہاتھ کو تولیے (یا رومال) سے اس وقت تک صاف نہ کرے جب تک کہ وہ اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے یا (اپنی بیوی وغیرہ کو) چٹوا نہ دے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت رکھی گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 602
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن جابر. الإرواء ١٩٧٠.
[إذا سقى الرجل امرأته الماء أجر]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے تو اسے اس پر بھی ثواب دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 602M
تخریج حدیث [تخ طب] عن العرباض. الضعيفة ٢٦٥١: حم العقيلي.
«إذا سكر أحدكم فاجلدوه ثم إن سكر فاجلدوه ثم إن سكر فاجلدوه فإن عاد الرابعة فاقتلوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نشہ آور چیز پی لے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ دوبارہ پئے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر وہ تیسری بار پئے تو پھر کوڑے مارو، پس اگر وہ چوتھی بار بھی ایسا کرے تو اسے قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 603
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٦٠: حب.
«إذا سل أحدكم سيفا لينظر إليه فأراد أن يناوله أخاه فليغمده ثم يناوله إياه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص تلوار کو دیکھنے کے لیے میان سے نکالے اور پھر وہ اسے اپنے بھائی کو پکڑانا چاہے، تو اسے چاہیے کہ پہلے اسے میان میں رکھے اور پھر اسے (میان سمیت) پکڑائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 604
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم طب ك] عن أبي بكرة. المشكاة ٣٥٢٧.
«إذا سلم عليكم أحدا من أهل الكتاب فقولوا: وعليكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) میں سے کوئی تمہیں سلام کرے، تو (جواب میں صرف) یوں کہو: «وَعَلَيْكُمْ» (اور تم پر بھی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 605
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أنس. الإرواء ١٢٧٦: د، حب، الطيالسي.
«إذا سلم عليكم اليهود فإنما يقول أحدهم: السام عليك فقل: وعليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب یہودی تمہیں سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی (السلام علیکم کی بجائے) یہ کہتا ہے: «السَّامُ عَلَيْكَ» (تم پر موت آئے)، تو تم (جواب میں) کہو: «وَعَلَيْكَ» (اور تجھ پر بھی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 606
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق] عن ابن عمر. الإرواء ١٢٧١: هق.
«إذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص (فجر کی) اذان سنے اور (سحری کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو، تو وہ اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک کہ اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 607
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك د] عن أبي هريرة. المشكاة ١٩٨٨ الصحيحة ١٣٩٤: الطبري، هق.
«إذا سمعت الرجل يقول: هلك الناس فهو أهلكهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ ’لوگ ہلاک ہو گئے (یا تباہ ہو گئے)‘ تو درحقیقت وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا (یا اپنی اس مایوسی پھیلانے کی وجہ سے انہیں ہلاک کرنے والا) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم خد م د] عن أبي هريرة.
«إذا سمعت النداء فأجب داعي الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اذان کی آواز سنو تو اللہ کی طرف بلانے والے (مؤذن) کی پکار پر لبیک کہو (یعنی نماز کے لیے مسجد جاؤ)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 609
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن كعب بن عجرة. الصحيحة ١٣٥٤.
«إذا سمعت جيرانك يقولون: قد أحسنت فقد أحسنت وإذا سمعتهم يقولون: قد أسأت فقد أسأت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اپنے پڑوسیوں کو (اپنے بارے میں) یہ کہتے ہوئے سنو کہ ’تم نے اچھا کام کیا ہے‘ تو واقعی تم نے اچھا کیا ہے، اور جب تم انہیں یہ کہتے ہوئے سنو کہ ’تم نے برا کیا ہے‘ تو یقیناً تم نے برا کیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ طب] عن ابن مسعود [هـ] عن كلثوم الخزاعي. المشكاة ٤٩٨٨: حب، ك، الصحيحة ١٣٢٧: ن - أبي هريرة.
«إذا سمعتم أصوات الديكة فسلوا الله من فضله فإنها رأت ملكا وإذا سمعتم نهيق الحمير فتعوذوا بالله من الشيطان فإنها رأت شيطانا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم مرغوں کی بانگ سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ انہوں نے فرشتے کو دیکھا ہوتا ہے، اور جب تم گدھوں کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ انہوں نے شیطان کو دیکھا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن أبي هريرة. [مختصر مسلم ١٨٨١] .
«إذا سمعتم الحديث عني تعرفه قلوبكم وتلين له أشعاركم وأبشاركم وترون أنه منكم قريب فأنا أولاكم به، وإذا سمعتم الحديث عني تنكره قلوبكم وتنفر منه أشعاركم وأبشاركم وترون أنه بعيد منكم فأنا أبعدكم منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میری طرف سے کوئی ایسی حدیث سنو جسے تمہارے دل پہچان لیں، جس سے تمہارے رونگٹے اور جلد نرم پڑ جائیں اور تم محسوس کرو کہ وہ (بات) تمہارے قریب (یعنی حق کے مطابق) ہے، تو میں اس کا تم سے زیادہ حق دار ہوں (یعنی وہ میری ہی بات ہے)، اور جب تم میری طرف سے کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمہارے دل انکار کریں، تمہارے رونگٹے اور جلد اس سے نفرت کریں اور تم محسوس کرو کہ وہ تم سے بہت دور (یعنی بعید از عقل و شریعت) ہے، تو میں اس سے تم سے بھی زیادہ دور ہوں (یعنی میرا اس سے کوئی تعلق نہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 612
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ع] عن أبي أسيد وأبي حميد. الصحيحة ٧٣٢.
«إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي فإنه من صلى علي صلاة صلى الله عليه بها عشرا ثم سلوا الله لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله وأرجوا أن أكون أنا هو فمن سأل لي الوسيلة حلت عليه الشفاعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، پھر میرے لیے اللہ سے وسیلہ مانگو، کیونکہ وہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لائق ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، پس جس نے میرے لیے وسیلہ مانگا، اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 613
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٣] عن ابن عمرو. مختصر مسلم ١٩٨، الإرواء ٢٤٢.
«إذا سمعتم المؤذن يثوب بالصلاة فقولوا كما يقول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم مؤذن کو نماز کے لیے پکارتے ہوئے (اذان یا اقامت کہتے) سنو تو تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 614
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن معاذ بن أنس. الصحيحة ١٣٢٨.
«إذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم اذان کی آواز سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 615
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ٤] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٥٣٥، رياض الصالحين ١٠٤٥، ومختصر مسلم ١٩٨ عن ابن عمر بلفظ قريب.
«إذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تدخلوا عليه وإذا وقع وأنتم بأرض فلا تخرجوا فرارا منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی علاقے میں طاعون (کی وبا پھیلنے) کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ، اور اگر وہ اس علاقے میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو، تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 616
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أسامة بن زيد [حم ق] عن عبد الرحمن بن عوف [د] عن ابن عباس. مختصر مسلم ١٤٨٤، ١٤٨٥.
«إذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تدخلوا عليه وإذا وقع وأنتم بأرض فلا تخرجوا منها فرارا منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی علاقے میں طاعون (کی وبا) کے بارے میں سنو تو اس میں داخل نہ ہو، اور اگر یہ اس علاقے میں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو، تو اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 617
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أسامة بن زيد. مختصر مسلم ١٤٨٤، ١٤٨٥.
«إذا سمعتم بقوم قد خسف فيهم هاهنا قريبا فقد أظلت الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی ایسی قوم کے بارے میں سنو جو یہاں قریب ہی زمین میں دھنسا دی گئی ہو، تو (جان لو کہ) قیامت بالکل قریب آ گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم الحاكم في الكنى طب] عن بقيرة الهلالية. الصحيحة ١٣٥٥.
«إذا سمعتم من يعتزي بعزاء الجاهلية فأعضوه ولا تكنوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی شخص کو سنو کہ وہ جاہلیت کے طریقے پر فخر و غرور کر رہا ہے (اور اپنے آباء و اجداد کے نام پر عصبیت دکھا رہا ہے)، تو اسے (اس کے باپ کی شرمگاہ کاٹنے کا کہہ کر) صاف الفاظ میں شرمندہ کرو، اور اس بات میں کوئی کنایہ یا گول مول الفاظ استعمال نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 619
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب طب الضياء] عن أبي. الصحيحة ٢٦٩: خد، د، أبو عبيد، عم، ابن السني، الضياء.
«إذا سمعتم نباح الكلاب ونهيق الحمير بالليل فتعوذا بالله من الشيطان فإنهن يرين ما لا ترون وأقلوا الخروج إذا هدأت الرجل فإن الله عز وجل يبث في ليلة من خلقه ما يشاء وأجيفوا الأبواب واذكروا اسم الله عليها فإن الشيطان لا يفتح بابا أجيف وذكر اسم الله عليه وغطوا الجرار وأوكئوا القرب وأكفئوا الآنية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم رات کے وقت کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کا رینکنا سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں (شیاطین کو) دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ اور جب پاؤں کی آہٹیں تھم جائیں (لوگ سو جائیں) تو رات کے وقت باہر نکلنا کم کر دو، کیونکہ اللہ عزوجل رات کے وقت اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے۔ اور دروازے بند کر لیا کرو اور ان پر اللہ کا نام لیا کرو، کیونکہ شیطان اس دروازے کو نہیں کھولتا جسے بند کر دیا گیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور مٹکوں کو ڈھانپ دو، مشکیزوں کا منہ باندھ دو، اور برتنوں کو الٹا کر کے رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 620
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد د حب ك] عن جابر. الكلم الطيب ٢٢٠، المشكاة ٤٣٠٣.
«إذا سميت الكيل فكله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم ناپ تول (کا پیمانہ اور وزن) مقرر کر لو تو اسے پورا پورا ناپ کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عثمان. الإرواء ١٣٣١.
«إذا سها أحدكم في صلاته فلم يدر واحدة صلى أو اثنتين فليبن على واحدة فإن لم يدر ثلاثا صلى أو أربعا فليبن على ثلاث وليسجد سجدتين قبل أن يسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں بھول جائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، تو وہ ایک رکعت پر بنیاد رکھے (یعنی اسے ایک ہی شمار کرے)، اور اگر اسے یاد نہ رہے کہ تین پڑھی ہیں یا چار، تو تین پر بنیاد رکھے، اور سلام پھیرنے سے پہلے (سجدہ سہو کے) دو سجدے کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن عبد الرحمن بن عوف. الصحيحة ١٣٥٦: حم، الطحاوي، هـ، ك، هق.
«إذا سها الإمام فاستتم قائما فعليه سجدتا السهو وإذا لم يستتم قائما فلا سهو عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب امام بھول جائے اور (قعدہ کرنے کے بجائے) سیدھا کھڑا ہو جائے، تو اس پر سجدہ سہو کے دو سجدے لازم ہیں، اور اگر وہ پوری طرح سیدھا کھڑا نہ ہوا ہو (اور واپس بیٹھ جائے) تو اس پر کوئی سجدہ سہو واجب نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن المغيرة. الإرواء ٤٠٨، صحيح أبي داود ٩٤٩.
«إذا شرب أحدكم فلا يتنفس في الإناء فإذا أراد أن يعود فلينح الإناء ثم ليعد إن كان يريده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص پانی (یا مشروب) پیے تو برتن میں سانس نہ لے، پھر اگر وہ دوبارہ پینا چاہے تو برتن کو (منہ سے) دور ہٹائے، اور پھر اگر چاہے تو دوبارہ پی لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 624
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٨٦.
"إذا شرب أحدكم فلا يتنفس في الإناء وإذا أتى الخلاء فلا
يمس ذكره بيمينه ولا يتمسح بيمينه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیے تو برتن میں سانس نہ لے، اور جب وہ قضائے حاجت کے لیے جائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہ چھوئے اور نہ ہی دائیں ہاتھ سے طہارت (استنجاء) کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 625
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت] عن أبي قتادة.
«إذا شرب أحدكم فلا يشرب بنفس واحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص (کچھ) پیے تو وہ اسے ایک ہی سانس میں نہ پیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي قتادة. فتح الباري ١٠/٨١.
«إذا شرب الكلب في إناء أحدكم فليغسله سبع مرات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں (منہ ڈال کر) پانی پی لے تو اسے چاہیے کہ وہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 627
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق ن هـ] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود ١/٥٨: حم.
«إذا شربتم اللبن فتمضمضوا منه فإن له دسما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم دودھ پیو تو اس کے بعد (پانی سے) کلی کر لیا کرو، کیونکہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 628
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أم سلمة. الصحيحة ١٣٦١.
«إذا شربوا الخمر فاجلدوهم ثم إن شربوها فاجلدوهم ثم إن شربوها فاجلدوهم ثم إن شربوا فاقتلوهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب لوگ شراب پییں تو انہیں کوڑے مارو، پھر اگر وہ دوبارہ پییں تو انہیں کوڑے مارو، پھر اگر وہ (تیسری بار) پییں تو انہیں کوڑے مارو، اور اگر وہ (اس کے بعد پھر) پییں تو انہیں قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ حب] عن معاوية. الصحيحة ١٣٦٠.
«إذا شك أحدكم في الاثنتين والواحدة فليجعلها واحدة وإذا شك في الاثنتين والثلاث فليجعلها اثنتين وإذا شك في الثلاث والأربع فليجعلها ثلاثا حتى يكون الوهم في الزيادة ثم ليتم ما بقي من صلاته ثم يسجد سجدتين وهو جالس قبل أن يسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو دو اور ایک رکعت (پڑھنے) میں شک ہو جائے تو اسے ایک رکعت شمار کرے، اور جب دو اور تین میں شک ہو تو اسے دو شمار کرے، اور جب تین اور چار میں شک ہو تو اسے تین شمار کرے، تاکہ شک زیادتی کی طرف رہے، پھر وہ اپنی باقی نماز پوری کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھی ہوئی حالت میں دو سجدے (سجدہ سہو کے) کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 630
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ك هق] عن عبد الرحمن بن عوف. الصحيحة ١٣٥٦: ت، الطحاوي.
«إذا شك أحدكم في صلاته فلم يدر اثنتين صلى أو ثلاثا فليلق الشك وليبن على اليقين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین، تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقین (یعنی کم تعداد) پر بنیاد رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن أنس. الصحيحة ١٣٥٦.
«إذا شك أحدكم في صلاته فلم يدر كم صلى ثلاثا أم أربعا؟ فليطرح الشك وليبن على ما استيقن ثم ليسجد سجدتين قبل أن يسلم فإن كان صلى خمسا شفعن له صلاته وإن كان صلى إتماما لأربع كانتا ترغيما للشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جس پر یقین ہو اس پر بنیاد رکھے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے (سجدہ سہو) کرے۔ پس اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہوں گی تو وہ (سجدے) اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پوری پڑھی ہوں گی تو وہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و رسوا کرنے کا باعث ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن هـ] عن أبي سعيد. صحيح أبي داود ٩٣٩، الإرواء ٤١١، مختصر مسلم ٣٥١.
«إذا شك أحدكم في صلاته فليلق الشك وليبن على اليقين فإن استيقن التمام سجد سجدتين فإن كانت صلاته تامة كانت الركعة نافلة والسجدتان نافلة وإن كانت ناقصة كانت الركعة تمام الصلاة والسجدتان ترغمان أنف الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقین پر بنیاد رکھے۔ پس جب اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے۔ پس اگر اس کی نماز پوری تھی تو وہ (زائد) رکعت اور دونوں سجدے نفل ہو جائیں گے، اور اگر نماز نامکمل تھی تو وہ رکعت نماز کو پورا کرنے والی بن جائے گی اور دونوں سجدے شیطان کی ناک خاک آلود کرنے (اسے ذلیل کرنے) کا باعث ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حب ك] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٣٥٦.
«إذا شهدت إحداكن العشاء فلا تمس طيبا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم عورتوں میں سے کوئی عشاء کی نماز میں (مسجد میں) حاضر ہو تو وہ خوشبو نہ لگائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن زينب الثقفية. الصحيحة ١٠٩٣.
«إذا شهر المسلم على أخيه سلاحا فلا تزال ملائكة الله تلعنه حتى يشيمه عنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی مسلمان اپنے بھائی پر ہتھیار تان لیتا ہے تو اللہ کے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اسے اس سے ہٹا نہ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 635
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [البزار] عن أبي بكرة. فيض القدير.
«إذا صار أهل الجنة إلى الجنة وأهل النار إلى النار جيء بالموت حتى يجعل بين الجنة والنار ثم يذبح ثم ينادي مناد: يا أهل الجنة خلود لا موت، يا أهل النار خلود لا موت، فيزداد أهل الجنة فرحا إلى فرحهم، ويزداد أهل النار حزنا إلى حزنهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور اہل جہنم جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کر دیا جائے گا، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: اے اہل جنت! اب ہمیشہ رہنا ہے کوئی موت نہیں، اور اے اہل جہنم! اب ہمیشہ رہنا ہے کوئی موت نہیں۔ پس اہل جنت کی خوشی میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور اہل جہنم کے غم میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 636
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن ابن عمر. الضعيفة ٢٦٦٩.
«إذا صلى أحدكم إلى سترة فليدن منها لا يمر الشيطان بينه وبينها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص سترہ (آڑ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تو اس کے قریب کھڑا ہو، تاکہ شیطان اس کے اور سترے کے درمیان سے نہ گزر سکے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 637
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب الضياء] عن جبير بن مطعم. صحيح أبي داود ٦٩٢، الصحيحة ١٣٨٦: حم، د، ن، حب، ك، هق - سهل بن أبي حثمة.
«إذا صلى أحدكم إلى شيء يستره من الناس فأراد أحد أن يجتاز بين يديه فليدفعه فإن أبى فليقاتله فإنما هو شيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے آڑ فراہم کرے، اور کوئی شخص اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے روکے، پس اگر وہ نہ مانے تو اس سے سختی سے پیش آئے (لڑائی کی حد تک دھکا دے)، کیونکہ وہ شیطان ہی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 638
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي سعيد.