کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا استجمر أحدكم فليوتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی پتھروں سے استنجاء کرے تو طاق عدد (یعنی ایک، تین، پانچ) پتھر استعمال کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر.
«إذا استطاب أحدكم فلا يستطب بيمينه ليستنج بشماله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی طہارت (استنجاء) کرے تو اپنے دائیں ہاتھ سے طہارت نہ کرے بلکہ اسے چاہیے کہ اپنے بائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. صحيح السنن ٦: حم، د, ن, الدارمي حب, وأبو عوانة.
«إذا استعطرت المرأة فمرت على القوم ليجدوا ريحها فهي زانية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی عورت خوشبو لگائے اور پھر لوگوں کے پاس سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ (ایک لحاظ سے) زانیہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 323
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٣] عن أبي موسى.
«إذا استقبلت القبلة فكبر ثم اقرأ بأم القرآن ثم اقرأ بما شئت فإذا ركعت فاجعل راحتيك على ركبتيك وامدد ظهرك ومكن لركوعك, فإذا رفعت رأسك فأقم صلبك حتى ترجع العظام إلى مفاصلها, فإذا سجدت فمكن سجودك فإذا جلست فاجلس على فخذك اليسرى ثم اصنع كذلك في كل ركعة وسجدة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم قبلہ رخ ہو جاؤ تو تکبیر کہو، پھر سورۃ الفاتحہ (ام القرآن) پڑھو، پھر جو چاہو پڑھو۔ پھر جب تم رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو، اپنی پیٹھ کو سیدھا بچھاؤ اور اطمینان سے رکوع کرو، پھر جب تم اپنا سر اٹھاؤ تو اپنی کمر کو بالکل سیدھا کھڑا کرو یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے جوڑوں پر واپس آ جائیں۔ پھر جب تم سجدہ کرو تو اطمینان سے سجدہ کرو، پھر جب تم بیٹھو تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو، پھر اسی طرح ہر رکعت اور ہر سجدے میں کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 324
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم حب] عن رفاعة بن رافع الزرقي. صحيح السنن ٨٠٦: د.
«إذا استلج أحدكم في اليمين فإنه آثم له عند الله من الكفارة التي أمر بها» . واسلج كرر الأيمان وأكدها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی قسم پر اصرار کرے (اور اسے توڑے نہیں حالانکہ توڑنا بہتر ہو) تو اللہ کے نزدیک اس کا یہ عمل اس کفارے سے زیادہ گناہ کا باعث ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 325
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٢٢٩: حم وأبو إسحاق الحربي.
«إذا استلقى أحدكم على قفاه فلا يضع إحدى رجليه على الأخرى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹے تو اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر نہ رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 326
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن البراء١ [حم] عن جابر [البزار] عن ابن عباس. الصحيحة ١٢٥٥: م, ت، الطحاوي - جابر, الطحاوي, حب - أبي هريرة.
«إذا استنشقت فاستنثر وإذا استجمرت فأوتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم ناک میں پانی ڈالو تو اسے جھاڑو، اور جب تم پتھروں سے استنجاء کرو تو طاق عدد استعمال کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن سلمة بن قيس. صحيح السنن ١٢٨.
«إذا استهل المولود ورث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب نومولود بچہ روئے (یعنی زندہ پیدا ہو) تو وہ وارث بنتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 328
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هق] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٥٣, الإرواء ١٧٠٧.
«إذا استيقظ أحدكم فليقل: الحمد لله الذي رد على روحي وعافاني في جسدي وأذن لي بذكره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ رُوحِي وَعَافَانِي فِي جَسَدِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ» (تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ پر میری روح لوٹا دی، مجھے میرے جسم میں عافیت دی اور مجھے اپنا ذکر کرنے کی اجازت عطا فرمائی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن السني] عن أبي هريرة. الكلم الطيب ٣٤, ٤٥, ١٥٦: ت.
«إذا استيقظ أحدكم من منامه فتوضأ فليستنثر ثلاث مرات فإن الشيطان يبيت على خياشيمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو اور وضو کرے تو اسے چاہیے کہ وہ تین مرتبہ اپنی ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بانسے (نتھنوں کے اوپری حصے) میں رات گزارتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٢٧.
[إذا استيقظ أحدكم من نومه فرأى بللا ولم ير أنه احتلم اغتسل وإذا رأى أنه قد احتلم ولم ير بللا فلا غسل عليه]
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو اور وہ تری دیکھے مگر اسے یہ یاد نہ ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے تو وہ غسل کرے، اور اگر وہ دیکھے کہ اسے احتلام ہوا ہے مگر وہ کوئی تری نہ دیکھے تو اس پر غسل واجب نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 330M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [سعد هـ] عن عائشة.
«إذا استيقظ أحدكم من نومه فلا يدخل يده الإناء حتى يغسلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٠٥.
«إذا استيقظ أحدكم من نومه فلا يدخل يده في الإناء حتى يغسلها ثلاثا فإن أحدكم لا يدري أين باتت يده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین بار دھو نہ لے، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 332
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك الشافعي حم ق ٤] عن أبي هريرة. صحيح السنن ٩٣٨, الإرواء ٢١, ١٦٤.
«إذا استيقظ الرجل من الليل وأيقظ أهله وصليا ركعتين كتبا من الذاكرين الله كثيرا والذاكرات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی آدمی رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور وہ دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو انہیں اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مردوں اور عورتوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 333
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن هـ حب ك] عن أبي هريرة وأبي سعيد معا. الروض النضير ٩٦٢, صحيح السنن١١٨٢.
«إذا استيقظت فصل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم (سو کر) بیدار ہو جاؤ تو نماز پڑھ لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 334
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د حب ك] عن أبي سعيد. الإرواء ٢٠٠٤, الصحيحة ٣٩٥.
«إذا أسلم الرجل فهو أحق بأرضه وماله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی آدمی اسلام لے آئے تو وہ اپنی زمین اور اپنے مال کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 335
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن صخر بن عبلة. الصحيحة ١٢٣٠.
«إذا أسلم العبد فحسن إسلامه كتب الله له كل حسنة كان أسلفها ومحيت عنه كل سيئة كان أزلفها, ثم كان بعد ذلك القصاص الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی بندہ اسلام لائے اور اس کا اسلام عمدہ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر وہ نیکی لکھ لیتا ہے جو اس نے پہلے (کفر کی حالت میں) کی تھی، اور اس کا ہر وہ گناہ مٹا دیا جاتا ہے جو اس نے پہلے کیا تھا، پھر اس کے بعد (نیکیوں اور برائیوں کا) بدلہ اس طرح ہوتا ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ اس جیسی دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے، اور برائی کا بدلہ صرف اسی برائی کے برابر ملتا ہے، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرما لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 336
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ن هب] عن أبي سعيد. الصحيحة ٢٤٧.
«إذا أسلم العبد فحسن إسلامه يكفر الله عنه كل سيئة كان زلفها وكان بعد ذلك القصاص الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی بندہ اسلام لائے اور اس کا اسلام عمدہ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا ہر وہ گناہ مٹا دیتا ہے جو اس نے پہلے کیا تھا، اور اس کے بعد بدلہ اس طرح ہوتا ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ اس جیسی دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے، اور برائی کا بدلہ اسی کے برابر ہوتا ہے، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرما لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي سعيد.
«إذا أشار الرجل على أخيه بالسلاح فهما على جرف جهنم فإذا قتله وقعا فيه جميعا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، پھر اگر وہ اسے قتل کر دے تو وہ دونوں اس (جہنم) میں گر جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 338
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي ن] عن أبي بكرة. الصحيحة ١٢٣١: حم, م, هـ.
«إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 339
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن أبي هريرة [حم ق د ت] عن أبي ذر [ق] عن ابن عمر. الروض النضير ١٠٣٨, صحيح السنن ٤٢٩ و ٤٣٠.
«إذا اشتد الحر فأبردوا بالظهر فإن شدة الحر من فيح جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے (تاخیر سے) پڑھو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 340
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث وتقدم برقم: ٣٠ [هـ] عن أبي هريرة. تقدم رقم ٣٠.
«إذا اشترى أحدكم الجارية فليقل: اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلتها عليه وليدع بالبركة, وإذا اشترى أحدكم بعيرا فليأخذ بذروة سنامه وليدع بالبركة وليقل مثل ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی لونڈی خریدے تو اسے چاہیے کہ کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ» (اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس خصلت کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس پر تو نے اسے پیدا کیا ہے، اور میں اس کی برائی اور اس خصلت کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس پر تو نے اسے پیدا کیا ہے) اور اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے۔ اور جب تم میں سے کوئی اونٹ خریدے تو وہ اس کے کوہان کی چوٹی پکڑے، برکت کی دعا کرے اور اسی طرح کے کلمات کہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمرو. آداب الزفاف ١٩: خ في أفعال العباد, د, ك, هق, أبو يعلى.
«إذا اشتريت مبيعا فلا تبعه حتى تقبضه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچو جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کر لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 342
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب] عن حكيم بن حزام. أحاديث البيوع.
«إذا اشتكى العبد المسلم قال الله تعالى للذين يكتبون: اكتبوا له أفضل ما كان يعمل إذا كان طلقا حتى أطلقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی مسلمان بندہ بیمار پڑ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اعمال لکھنے والے فرشتوں سے فرماتا ہے: اس کے لیے وہ بہترین اعمال لکھتے رہو جو یہ تندرستی کی حالت میں کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اسے (اس بیماری سے) شفایاب کر دوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 343
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن ابن عمرو٢. الصحيحة ١٢٣١: حم.
«إذا اشتكى المؤمن أخلصه من الذنوب كما يخلص الكير خبث الحديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مومن بیمار پڑتا ہے تو (وہ بیماری) اسے گناہوں سے اس طرح خالص (پاک) کر دیتی ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کر کے اسے خالص کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 344
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد حب طس] عن عائشة. الصحيحة ١٢٥٧.
«إذا اشتكى عينيه وهو محرم ضمدهما بالصبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب محرم کی آنکھیں دکھنے لگیں تو وہ ان پر ایلوے (صبر نامی جڑی بوٹی) کا لیپ کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 345
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عثمان. صحيح مسلم ٤/٢٢.
«إذا اشتكيت فضع يدك حيث تشتكي ثم قل: بسم الله أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا ثم ارفع يدك ثم أعد ذلك وترا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہیں کوئی تکلیف ہو تو اپنا ہاتھ اس جگہ رکھو جہاں تمہیں درد محسوس ہو، پھر یہ پڑھو: «بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا» (اللہ کے نام کے ساتھ، میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کی برائی سے جو میں محسوس کر رہا ہوں اور اپنے اس درد سے) پھر اپنا ہاتھ اٹھا لو، اور پھر اسے طاق عدد کے مطابق (تین، پانچ یا سات مرتبہ) دہراؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 346
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أنس. الصحيحة ١٢٥٨: الضياء.
«إذا أصاب أحدكم مصيبة فليذكر مصيبته بي فإنها من أعظم المصائب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے چاہیے کہ وہ میری (وفات کی) مصیبت کو یاد کر لے، کیونکہ یہ (امت کے لیے) سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 347
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد هب] عن ابن عباس [طب] عن سابط الجمحي. الصحيح ١١٠٦.
«إذا أصاب أحدكم هم أو لأواء فليقل: الله الله ربي لا أشرك به شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کوئی غم یا تنگی اور تکلیف پہنچے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے: «اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» (اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 348
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث طس عن عائشة. مجمع الزوائد ١٠/١٣٧، فيض القدير.
«إذا أصاب المكاتب حدا أو ورث ميراثا فإنه يورث على قدر ما عتق ويقام عليه بقدر ما عتق منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مکاتب (وہ غلام جس نے آزادی کے لیے قیمت ادا کرنے کا معاہدہ کیا ہو) کسی حد (شرعی سزا) کا مستحق ہو جائے یا اسے کوئی میراث ملے، تو اسے اسی قدر میراث دی جائے گی جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہے اور اس پر اسی قدر حد نافذ کی جائے گی جس قدر اس کا حصہ آزاد ہو چکا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 349
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت ك] عن ابن عباس. الإرواء ١٧٢٦.
«إذا أصاب ثوب إحداكن الدم من الحيضة فلتقرصه ثم لتنضحه بالماء ثم لتصلي فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی عورت کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے (انگلیوں سے) کھرچ دے، پھر اس پر پانی بہائے اور پھر اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 350
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د] عن أسماء بنت أبي بكر".
" إذا أصبح ابن آدم فإن الأعضاء كلها تكفر اللسان فتقول: اتق الله فينا فإنما نحن بك فإن استقمت استقمنا وإن
اعوججت اعوججنا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے جسم کے تمام اعضاء زبان کے سامنے جھکتے ہیں اور کہتے ہیں: ہمارے معاملے میں اللہ سے ڈر، کیونکہ ہمارا وجود تیرے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے، اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے، اور اگر تو ٹیڑھی ہو جائے گی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث ت ابن خزيمة هب عن أبي سعيد. المشكاة ٤٨٣٨، رياض الصالحين ١٥٢٩.
«إذا أصبح أحدكم فليقل: أصبحنا وأصبح الملك لله رب العالمين اللهم إني أسألك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه وأعوذ بك من شر ما فيه وشر ما قبله وشر ما بعده ثم إذا أمسى فليقل مثل ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو اسے چاہیے کہ کہے: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبَرَكَتَهُ وَهُدَاهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا قَبْلَهُ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ» (ہم نے صبح کی اور تمام جہانوں کے رب اللہ کی بادشاہت نے صبح کی، اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی، اس کی فتح، اس کی مدد، اس کے نور، اس کی برکت اور اس کی ہدایت کا سوال کرتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جو اس میں ہے اور اس برائی سے جو اس سے پہلے ہے اور اس برائی سے جو اس کے بعد ہے)۔ پھر جب شام کرے تو اسی طرح کے کلمات کہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث د عن أبي مالك الأشعري. المشكاة ٢٤١٢.
«إذا أصبح أحدكم فليقل: اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير، وإذا أمسى فليقل: اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو اسے چاہیے کہ کہے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» (اے اللہ! ہم نے تیری ہی توفیق سے صبح کی اور تیری ہی توفیق سے شام کی، ہم تیرے ہی حکم سے جیتے ہیں اور تیرے ہی حکم سے مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔ اور جب شام کرے تو کہے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» (اے اللہ! ہم نے تیری ہی توفیق سے شام کی اور تیری ہی توفیق سے صبح کی، ہم تیرے ہی حکم سے جیتے ہیں اور تیرے ہی حکم سے مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 353
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث ت عن أبي هريرة. المشكاة ٢٣٨٩، الصحيحة ٢٦٢، ٢٦٣.
«إذا أصبحتم فقولوا: اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم صبح کرو تو کہو: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» (اے اللہ! ہم نے تیری ہی توفیق سے صبح کی اور تیری ہی توفیق سے شام کی، ہم تیرے ہی حکم سے جیتے ہیں اور تیرے ہی حکم سے مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 354
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ابن السني] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٣٨٩، الصحيحة ٢٦٣.
«إذا اصطحب رجلان مسلمان فحال بينهما شجر أو حجر أو مدر فليسلم أحدهما على الآخر ويتباذلوا السلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب دو مسلمان آدمی ایک ساتھ چل رہے ہوں، پھر ان کے درمیان کوئی درخت، پتھر یا مٹی کا ڈھیلا حائل ہو جائے (اور وہ الگ ہو کر پھر ملیں)، تو ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرے اور وہ آپس میں سلام کا تبادلہ کریں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 355
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب] عن أبي الدرداء. فيض القدير.
«إذا أطال أحدكم الغيبة فلا يطرق أهله ليلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی لمبے عرصے تک گھر سے دور رہے تو وہ رات کے وقت اچانک اپنے گھر والوں کے پاس نہ پہنچ جایا کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 356
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن جابر. رياض الصالحين.
«إذا اطمأن الرجل إلى الرجل ثم قتله بعدما اطمأن إليه نصب له يوم القيامة لواء غدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب ایک آدمی دوسرے آدمی کو امن و امان دے دے اور پھر اس کے اطمینان دلانے کے بعد اسے قتل کر دے، تو قیامت کے دن اس (قاتل) کے لیے غداری کا جھنڈا نصب کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 357
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن عمرو بن الحمق. الصحيحة ٤٤١.
«إذا أعطى الله أحدكم خيرا فليبدأ بنفسه وأهل بيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو بھلائی اور وسعت عطا فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں سے (خرچ کرنے کی) ابتدا کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر بن سمرة. مختصر مسلم ١١٩٦.
«إذا أعطيت شيئا من غير أن تسأل فكل وتصدق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہیں مانگے بغیر کوئی چیز دی جائے تو اسے کھا لو اور (باقی ماندہ) صدقہ کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ن] عن عمر. الإرواء ٨٦٢، المشكاة ١٨٥٤.