کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن العرق يوم القيامة ليذهب في الأرض سبعين باعا وإنه ليبلغ إلى أفواه الناس أو إلى آذانهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن (لوگوں کا) پسینہ زمین میں ستر ہاتھ گہرائی تک چلا جائے گا اور یقیناً وہ (اوپر چڑھ کر) لوگوں کے مونہوں تک یا ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٥٩٤.
«إن العلماء إذا حضروا ربهم كان معاذ بن جبل بين أيديهم رتوة بحجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب تمام علماء اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے، تو معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) ان سب سے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے کے برابر آگے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن عمر. الصحيحة ١٠٩٠: ابن سعد، المحاملي.
«إن العين لتولع بالرجل بإذن الله تعالى حتى يصعد حالقا ثم يتردى منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ نظرِ بد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آدمی کے پیچھے پڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی اونچی جگہ پر چڑھتا ہے اور وہاں سے نیچے گر جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع] عن أبي ذر. الصحيحة ٨٨٩.
«إن الغادر ينصب له لواء يوم القيامة فيقال: ألا هذه غدرة فلان بن فلان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن غدار (عہد شکن) کے لیے ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا: خبردار! یہ فلاں بن فلاں کی غداری (کا نشان) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق د ت] عن ابن عمر.
«إن الفخذ عورة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ران ستر (پردے کی جگہ) میں شامل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن جرهد. تمام المنة في تخريج فقه السنة.
«إن القبر أول منازل الآخرة فإن نجا منه فما بعده أيسر منه وإن لم ينج منه فما بعده أشد منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ پس اگر انسان اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہوں گی، اور اگر وہ اس سے نجات نہ پا سکا تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے بھی زیادہ سخت ہوں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ ك] عن عثمان بن عفان. المشكاة ١٣٢: تخ، ك، خط.
«إن القلوب بين أصبعين من أصابع الله يقلبها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ (انسانوں کے) دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ انہیں (جس طرح چاہتا ہے) پھیرتا رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن أنس. الإيمان ٥٥.
«إن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم ولو كنت في السجن ما لبث ثم أتاني الرسول لأجبت ورحمة الله على لوط إن كان ليأوي إلى ركن شديد {قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} فما بعث الله بعده نبيا إلا في ذروة من قومه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ معزز بن معزز بن معزز بن معزز، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہیں۔ اور اگر میں اتنی مدت قید خانے میں رہتا جتنا عرصہ یوسف (علیہ السلام) رہے، پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں اس کی دعوت فوراً قبول کر لیتا (اور باہر آ جاتا)۔ اور لوط (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو، بلاشبہ وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لینا چاہتے تھے جب انہوں نے فرمایا تھا: ﴿قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ ”کاش میرے پاس تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔“ [سورة هود: 80] پس ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا وہ اپنی قوم کے معزز اور طاقتور قبیلے میں ہی بھیجا گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦١٧: حم، خد.
"إن الذي أمشاهم على أرجلهم في الدنيا قادر
على أن يمشيهم على وجوههم يوم القيامة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جس ذات نے دنیا میں انہیں ان کے پاؤں پر چلایا ہے، وہ اس بات پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے کہ قیامت کے دن انہیں ان کے چہروں کے بل چلائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أنس.
«إن الذي أنزل الداء أنزل الشفاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جس ذات نے بیماری اتاری ہے، اسی نے اس کی شفا بھی نازل فرمائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1688
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. ك ٤/١٩٩.
«إن الذي حرم شربها حرم بيعها» - يعني الخمر -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جس ذات نے اسے پینا حرام کیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ (یہ بات آپ ﷺ نے شراب کے بارے میں فرمائی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن ابن عباس. مختصر مسلم ٩٣٠.
«إن الذي لا يؤدي زكاة ماله يمثل إليه ماله يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان فيلزمه أو يطوقه يقول: أنا كنزك أنا كنزك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے (زہریلے) سانپ کی شکل اختیار کر لے گا جس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ پس وہ اس سے چمٹ جائے گا یا اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1690
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن ابن عمر. صحيح الترغيب ٧٥٨.
«إن الذي يأتي امرأته في دبرها لا ينظر الله إليه يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جو شخص اپنی بیوی سے پچھلے راستے (دبر) میں ہمبستری کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1691
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أبي هريرة. المشكاة ٣١٩٤.
«إن الذي يأكل أو يشرب في آنية الفضة والذهب إنما يجرجر في بطنه نار جهنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جو شخص چاندی اور سونے کے برتنوں میں کھاتا یا پیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ کو غٹ غٹ کر کے انڈیل رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1692
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن أم سلمة زاد [طب] : إلا أن يتوب. غاية المرام ١١٦ الإرواء ٣٣.
«إن الذي يجر ثيابه من الخيلاء لا ينظر الله إليه يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا (زمین پر) گھسیٹ کر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن هـ] عن ابن عمر. مختصر مسلم ١٣٦١.
«إن الذي يكذب علي يبني له بيت في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے، اس کے لیے جہنم میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1694
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عمر. الصحيحة ١٦١٨.
«إن الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة فيقال لهم: أحيوا ما خلقتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جو لوگ یہ تصویریں (یا مجسمے) بناتے ہیں، انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کچھ بنایا ہے اب اسے زندہ بھی کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن ابن عمر. غاية المرام ١٢١.
«إن الذين يقطعون السدر يصبون في النار على رءوسهم صبا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جو لوگ (سائے دار) بیری کے درختوں کو ناحق کاٹتے ہیں، انہیں جہنم کی آگ میں سر کے بل اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1696
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق] عن عائشة. المشكاة ٢٩٧٠، الصحيحة ٦١٤، ٦١٥.
«إن الله أبى ذلك لكم ورسوله أن يجعل لكم أوساخ أيدي الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے تمہارے (اہلِ بیت کے) لیے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ وہ تمہارے لیے لوگوں کے ہاتھوں کا میل کچیل (یعنی زکوٰۃ و صدقات) مقرر کریں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1697
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبد المطلب بن ربيعة. حم ٤/١٦٦ وم ٣/١١٨.
«إن الله أبى علي فيمن قتل مؤمنا ثلاثا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مومن کو (ناحق) قتل کرنے والے کے حق میں میری سفارش کو تین بار رد فرما دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك] عن عقبة بن مالك. الصحيحة ٦٨٩: ابن سعد.
«إن الله احتجر التوبة على كل صاحب بدعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی شخص کے لیے توبہ کا دروازہ بند کر رکھا ہے (جب تک کہ وہ اپنی بدعت کو چھوڑ نہ دے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن فيل طس هب الضياء] عن أنس. الصحيحة ١٦٢٠.
«إن الله أحدث في الصلاة أن لا تكلموا إلا بذكر الله وما ينبغي لكم وأن تقوموا لله قانتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے حوالے سے یہ نیا حکم جاری فرمایا ہے کہ تم اس میں سوائے اللہ کے ذکر اور جو کچھ تمہارے لیے مناسب ہے، کوئی اور بات چیت نہ کرو اور اللہ کے سامنے باادب اور فرمانبردار بن کر کھڑے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن مسعود. صحيح أبي داود ٨٥٧.
"إن الله أخذ الميثاق من ظهر آدم بنعمان يوم عرفة وأخرج من صلبه كل ذرية ذرأها فنثرهم بين يديه كالذر ثم
كلمهم قبلا قال: {َألَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى} "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عرفہ کے دن مقام نعمان (عرفات کی ایک وادی) میں آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے عہد و پیمان لیا، اور ان کی پشت سے ان کی تمام وہ ذریت نکال لی جسے وہ پیدا کرنے والا تھا، پھر انہیں ان کے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلا دیا۔ پھر ان سے روبرو کلام کرتے ہوئے فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا: کیوں نہیں! (تو ہی ہمارا رب ہے)۔“ [سورة الأعراف: 172]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك هق١ في الأسماء] عن ابن عباس. شرح الطحاوية: ٢١٩، الصحيحة ١٦٢٣، السنة ٨٧.
«إن الله أخذ ذرية آدم من ظهره ثم {أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى} ثم أفاض بهم في كفيه فقال: هؤلاء في الجنة وهؤلاء في النار فأهل الجنة ميسرون لعمل أهل الجنة وأهل النار ميسرون لعمل أهل النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا، پھر ﴿أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ ”انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں!“ [سورة الأعراف: 172] پھر انہیں اپنی دونوں مٹھیوں میں لے کر فرمایا: یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور یہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔ پس جنتیوں کے لیے جنتیوں والے اعمال آسان کر دیے جاتے ہیں اور جہنمیوں کے لیے جہنمیوں والے اعمال آسان کر دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار طب هق] عن هشام بن حكيم. الصحيحة ٤٨.
«إن الله أخرجني من النكاح ولم يخرجني من السفاح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے (جائز) نکاح کے ذریعے پیدا فرمایا ہے اور مجھے زنا (بدکاری کے راستے) سے پیدا نہیں فرمایا۔ (یعنی میرا سلسلہ نسب پاکیزہ اور شرعی نکاح پر مبنی ہے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هب] عن محمد بن علي مرسلا.
«إن الله إذا أحب أهل بيت أدخل عليهم الرفق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی گھر والوں سے محبت کرتا ہے تو ان کے اندر نرمی اور ملائمت پیدا فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في ذم الغضب الضياء] عن جابر. الصحيحة ١٢٣٩.
«إن الله تعالى إذا أحب عبدا دعا جبريل فقال: إني أحب فلانا فأحبه فيحبه جبريل ثم ينادي في السماء فيقول: إن الله تعالى يحب فلانا فأحبوه فيحبه أهل السماء ثم يوضع له القبول في الأرض وإذا أبغض عبدا دعا جبريل فيقول: إني أبغض فلانا فأبغضه فيبغضه جبريل ثم ينادي في أهل السماء: إن الله يبغض فلانا فأبغضوه فيبغضونه ثم يوضع له البغضاء في الأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت (بغض) کرتا ہے تو جبریل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں، تم بھی اس سے بغض رکھو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں۔ پھر وہ آسمان والوں میں ندا دیتے ہیں کہ: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو۔ پس وہ سب بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کے لیے نفرت و بغض رکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٧٧١.
«إن الله إذا أحب قوما ابتلاهم فمن صبر فله الصبر ومن جزع فله الجزع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے، پس جس نے (ان آزمائشوں پر) صبر کیا اس کے لیے صبر کا (بہترین اجر) ہے، اور جس نے بے صبری دکھائی اس کے لیے بے صبری کا (وبال) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن محمود بن لبيد. الصحيحة ١٤٦.
«إن الله تعالى إذا أراد رحمة أمة من عباده قبض نبيها قبلها فجعله لها فرطا وسلفا بين يديها وإذا أراد هلكة أمة عذبها ونبيها حي فأهلكها وهو ينظر فأقر عينه بهلكتها حين كذبوه وعصوا أمره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحم فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نبی کو اس سے پہلے وفات دے دیتا ہے، اور اسے اس امت کے لیے آگے پیش خیمہ اور میرِ سامان بنا دیتا ہے۔ اور جب اللہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں اس حالت میں عذاب دیتا ہے کہ ان کا نبی زندہ ہوتا ہے، پس وہ انہیں اس کے سامنے ہلاک کر دیتا ہے اور ان کی ہلاکت کے ذریعے اس نبی کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] ١ عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٥٩٦.
«إن الله إذا استودع شيئا حفظه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سپرد جب کوئی چیز امانت کے طور پر کی جاتی ہے تو وہ اس کی (بہترین) حفاظت فرماتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1708
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب هق] عن ابن عمر. الكلم ١٦٨، الصحيحة ١٤.
«إن الله إذا أطعم نبيا طعمة فهي للذي يقوم من بعده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو کوئی روزی (جائیداد یا مال) عطا فرماتا ہے، تو وہ (اس کی وفات کے بعد) اس شخص کا حق ہوتا ہے جو اس کے بعد اس کا جانشین (یعنی خلیفہ) بنتا ہے (اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1709
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي بكر. الإرواء ١٢٤١.
«إن الله تعالى إذا أنزل سطواته على أهل نقمته فوافت آجال قوم صالحين فأهلكوا بهلاكهم ثم يبعثون على نياتهم وأعمالهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب غضب کے مستحق لوگوں پر اپنے عذاب نازل فرماتا ہے اور اسی دوران کچھ نیک لوگوں کی موت کا وقت بھی آ جاتا ہے، تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پھر (قیامت کے دن) وہ اپنی نیتوں اور اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1710
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن عائشة. الصحيحة ١٦٢٢: حب.
«إن الله تعالى إذا أنعم على عبد نعمة يحب أن يرى أثر النعمة عليه ويكره البؤس والتباؤس ويبغض السائل الملحف ويحب الحيي العفيف المتعفف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر کوئی نعمت انعام کرتا ہے تو اسے پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس بندے پر نظر آئے، اور وہ خستہ حالی اور جان بوجھ کر مفلسی کا اظہار کرنے کو ناپسند کرتا ہے، چمٹ کر (اصرار سے) مانگنے والے سائل سے بغض رکھتا ہے، اور حیا دار، پاک دامن اور سوال کرنے سے بچنے والے کو پسند کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٢٠.
«إن الله إذا أنعم على عبد نعمة يحب أن يرى أثر نعمته على عبده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر اپنی کوئی نعمت نازل فرماتا ہے تو اسے یہ بات پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے بندے پر ظاہر ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1712
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب هق] عن عمران بن حصين. الصحيحة ١٢٩٠.
«إن الله إذا كان يوم القيامة ينزل إلى العباد ليقضي بينهم وكل أمة جاثية فأول من يدعو به رجل جمع القرآن ورجل قتل في سبيل الله ورجل كثير المال فيقول الله للقارئ: ألم أعلمك ما أنزلت على رسولي قال: بلى يا رب قال: فماذا عملت بما علمت؟ قال: كنت أقوم به آناء الليل وآناء النهار فيقول الله له: كذبت وتقول له الملائكة: كذبت ويقول الله له: بل أردت أن يقال فلان قارئ فقد قيل ذلك; ويؤتى بصاحب المال فيقول الله له: ألم أوسع عليك حتى لم أدعك تحتاج إلى أحد؟ قال: بلى يا رب قال: فماذا عملت فيما آتيتك؟ قال: كنت أصل الرحم وأتصدق فيقول الله له: كذبت وتقول الملائكة: كذبت ويقول الله: بل أردت أن يقال: فلان جواد فقد قيل ذلك; ويؤتى بالذي قتل في سبيل الله فيقول الله: في ماذا قتلت؟ فيقول: أمرت بالجهاد في سبيلك فقاتلت حتى قتلت فيقول الله له: كذبت وتقول له الملائكة: كذبت ويقول الله: بل أردت أن يقال فلان جريء فقد قيل ذلك; يا أبا هريرة أولئك الثلاثة أول خلق الله تسعر بهم النار يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نزول اجلال فرمائے گا اور ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی، تو سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ان میں وہ شخص ہوگا جس نے قرآن یاد کیا، وہ شخص جو اللہ کی راہ میں قتل ہوا اور وہ شخص جو بہت مالدار تھا۔ اللہ تعالیٰ قاریِ قرآن سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے وہ نہیں سکھایا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ پوچھے گا: تو نے اپنے علم پر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں دن رات اس کے ذریعے قیام کرتا تھا۔ تو اللہ اسے فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ اور فرشتے بھی اس سے کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا قاری ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ پھر مالدار شخص کو لایا جائے گا تو اللہ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھ پر اتنی وسعت نہیں کی تھی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں چھوڑا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ پوچھے گا: جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا، تو نے اس کا کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ دیتا تھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ اور فرشتے بھی کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا سخی ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں مارا گیا، اللہ اس سے پوچھے گا: تو کس لیے قتل ہوا؟ وہ کہے گا: تو نے اپنے راستے میں جہاد کا حکم دیا تھا، تو میں نے لڑائی کی یہاں تک کہ مارا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ فرشتے بھی اسے کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ فرمائے گا: بلکہ تو نے تو یہ چاہا تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا بہادر ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ (پھر آپ ﷺ نے فرمایا:) اے ابو ہریرہ! یہی وہ تین قسم کے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن سب سے پہلے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٢٠.
"إن الله أذن لي أن أحدث عن ديك قد مرقت رجلاه الأرض وعنقه مثنية تحت العرش وهو يقول: سبحانك ما أعظمك!
فيرد عليه: لا يعلم ذلك من حلف بي كاذبا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں ایک ایسے مرغ (کی شکل والے فرشتے) کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں زمین کی گہرائیوں کو پار کر چکے ہیں اور اس کی گردن عرش کے نیچے مڑی ہوئی ہے اور وہ کہہ رہا ہے: «سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَكَ» (اے اللہ!) تو پاک ہے، تیری عظمت کس قدر بڑی ہے۔ تو اسے (اللہ کی طرف سے) جواب دیا جاتا ہے کہ: اس حقیقت کو وہ شخص نہیں جانتا جو جھوٹے طور پر میری قسم اٹھاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1714
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [أبو الشيخ في العظمة طس ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٥٠.
«إن الله أرسلني مبلغا ولم يرسلني متعنتا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے (دین کا) پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور مجھے مشقت میں ڈالنے والا (یا خوامخواہ کی سختی کرنے والا) بنا کر نہیں بھیجا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1715
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة. الصحيحة ١٥١٦: ت، حم، جابر.
«إن الله استقبل بي الشام وولى ظهري اليمن وقال لي: يا محمد إني جعلت لك ما تجاهك غنيمة ورزقا وما خلف ظهرك مددا ولا يزال الإسلام يزيد وينقص الشرك وأهله حتى تسير المرأتان لا تخشيان إلا جورا والذي نفسي بيده لا تذهب الأيام والليالي حتى يبلغ هذا الدين مبلغ هذا النجم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرا رخ شام کی طرف اور میری پیٹھ یمن کی جانب کی، اور مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں نے آپ کے سامنے والے حصے کو آپ کے لیے مالِ غنیمت اور رزق بنا دیا ہے، اور آپ کی پشت کے حصے کو آپ کے لیے مددگار بنا دیا ہے۔ اسلام ہمیشہ بڑھتا رہے گا اور شرک اور مشرکین گھٹتے رہیں گے، یہاں تک کہ دو عورتیں اکٹھی سفر کریں گی اور انہیں کسی ظلم کے سوا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دن اور رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک کہ یہ دین وہاں تک نہ پہنچ جائے جہاں تک یہ ستارہ پہنچتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1716
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ٣٥.
«إن الله تعالى اصطفى كنانة من ولد إسماعيل وصطفى قريشا من كنانة واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا، اور کنانہ میں سے قریش کو چن لیا، اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا، اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1717
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن واثلة. الصحيحة ٣٠٢، فقه السيرة ٥٨، مختصر مسلم ١٥٢٣.
«إن الله تعالى اصطفى من الكلام أربعا: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر فمن قال: سبحان الله كتبت له عشرون حسنة وحطت عنه عشرون سيئة ومن قال: الله أكبر مثل ذلك ومن قال: لا إله إلا الله مثل ذلك ومن قال: الحمد لله رب العالمين من قبل نفسه كتبت له ثلاثون حسنة وحط عنه ثلاثون خطيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے چار کلمات کو منتخب فرمایا ہے: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ»، «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، اور «وَاللَّهُ أَكْبَرُ»۔ پس جس شخص نے «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہا، اس کے لیے بیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، اور جس نے «وَاللَّهُ أَكْبَرُ» کہا، اس کے لیے بھی ایسا ہی اجر ہے، اور جس نے «وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہا، اس کے لیے بھی ایسا ہی ہے، اور جس نے اپنے سچے دل سے «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کہا، تو اس کے لیے تیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے تیس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك الضياء] عن أبي سعيد وأبي هريرة معا. الترغيب ٢/٢٤٦.