حدیث نمبر: 1713
«إن الله إذا كان يوم القيامة ينزل إلى العباد ليقضي بينهم وكل أمة جاثية فأول من يدعو به رجل جمع القرآن ورجل قتل في سبيل الله ورجل كثير المال فيقول الله للقارئ: ألم أعلمك ما أنزلت على رسولي قال: بلى يا رب قال: فماذا عملت بما علمت؟ قال: كنت أقوم به آناء الليل وآناء النهار فيقول الله له: كذبت وتقول له الملائكة: كذبت ويقول الله له: بل أردت أن يقال فلان قارئ فقد قيل ذلك; ويؤتى بصاحب المال فيقول الله له: ألم أوسع عليك حتى لم أدعك تحتاج إلى أحد؟ قال: بلى يا رب قال: فماذا عملت فيما آتيتك؟ قال: كنت أصل الرحم وأتصدق فيقول الله له: كذبت وتقول الملائكة: كذبت ويقول الله: بل أردت أن يقال: فلان جواد فقد قيل ذلك; ويؤتى بالذي قتل في سبيل الله فيقول الله: في ماذا قتلت؟ فيقول: أمرت بالجهاد في سبيلك فقاتلت حتى قتلت فيقول الله له: كذبت وتقول له الملائكة: كذبت ويقول الله: بل أردت أن يقال فلان جريء فقد قيل ذلك; يا أبا هريرة أولئك الثلاثة أول خلق الله تسعر بهم النار يوم القيامة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نزول اجلال فرمائے گا اور ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی، تو سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ان میں وہ شخص ہوگا جس نے قرآن یاد کیا، وہ شخص جو اللہ کی راہ میں قتل ہوا اور وہ شخص جو بہت مالدار تھا۔ اللہ تعالیٰ قاریِ قرآن سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے وہ نہیں سکھایا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ پوچھے گا: تو نے اپنے علم پر کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں دن رات اس کے ذریعے قیام کرتا تھا۔ تو اللہ اسے فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ اور فرشتے بھی اس سے کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا قاری ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ پھر مالدار شخص کو لایا جائے گا تو اللہ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھ پر اتنی وسعت نہیں کی تھی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں چھوڑا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اے میرے رب! اللہ پوچھے گا: جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا، تو نے اس کا کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ دیتا تھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ اور فرشتے بھی کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ فرمائے گا: بلکہ تیرا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا سخی ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں مارا گیا، اللہ اس سے پوچھے گا: تو کس لیے قتل ہوا؟ وہ کہے گا: تو نے اپنے راستے میں جہاد کا حکم دیا تھا، تو میں نے لڑائی کی یہاں تک کہ مارا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ فرشتے بھی اسے کہیں گے: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ فرمائے گا: بلکہ تو نے تو یہ چاہا تھا کہ کہا جائے کہ فلاں بڑا بہادر ہے، تو وہ کہا جا چکا۔ (پھر آپ ﷺ نے فرمایا:) اے ابو ہریرہ! یہی وہ تین قسم کے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن سب سے پہلے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٢٠.