حدیث نمبر: 1686
«إن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم ولو كنت في السجن ما لبث ثم أتاني الرسول لأجبت ورحمة الله على لوط إن كان ليأوي إلى ركن شديد {قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} فما بعث الله بعده نبيا إلا في ذروة من قومه»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ معزز بن معزز بن معزز بن معزز، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہیں۔ اور اگر میں اتنی مدت قید خانے میں رہتا جتنا عرصہ یوسف (علیہ السلام) رہے، پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں اس کی دعوت فوراً قبول کر لیتا (اور باہر آ جاتا)۔ اور لوط (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو، بلاشبہ وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لینا چاہتے تھے جب انہوں نے فرمایا تھا: ﴿قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ ”کاش میرے پاس تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔“ [سورة هود: 80] پس ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا وہ اپنی قوم کے معزز اور طاقتور قبیلے میں ہی بھیجا گیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٦١٧: حم، خد.