کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«ابغوني الضعفاء فإنما ترزقون وتنصرون بضعفائكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے اپنے کمزوروں میں تلاش کرو، کیونکہ بلاشبہ تمہیں تمہارے کمزوروں ہی کی بدولت رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 41
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م حب خد ك] عن أبي الدرداء. الصحيحة ٧٧٩: د, ن.
«ابن آدم ستون وثلاثمائة مفصل على كل واحد منها في كل يوم صدقة فالكلمة الطيبة يتكلم بها الرجل صدقة وعون الرجل أخاه على الشيء صدقة والشربة من الماء يسقيها صدقة وإماطة الأذى عن الطريق صدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور ہر دن ان میں سے ہر ایک جوڑ پر صدقہ واجب ہے، پس کوئی شخص جو اچھی بات کہتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، کسی شخص کا اپنے بھائی کی کسی کام میں مدد کرنا بھی صدقہ ہے، پانی کا ایک گھونٹ جو وہ کسی کو پلاتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 42
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الإرواء ٤٦١.
«ابن أخت القوم منهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی قوم کا بھانجا انہی (قوم) میں سے شمار ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 43
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن أنس [د] عن أبى موسى [طب] عن جبير بن مطعم وعن ابن عباس وعن أبى مالك الأشعرى. الروض ٩٦١, الصحيحة ٧٧٦.
«ابن السبيل أول شارب يعني من زمزم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسافر سب سے پہلا پینے والا ہے، یعنی آبِ زمزم سے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 44
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طص] عن أبى هريرة. الروض ١٠٣٣.
«ابنا العاص مؤمنان: هشام وعمرو»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عاص کے دونوں بیٹے مومن ہیں: ہشام اور عمرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 45
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد حم ك طب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٥٦.
«أبن القدح عن فيك ثم تنفس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(پانی پیتے وقت) پیالے کو اپنے منہ سے دور ہٹاؤ اور پھر سانس لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 46
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [سمويه في فوائده هب] عن أبى سعيد. الصحيحة ٣٨٤: مالك, ت, الحاكم.
«ابناي هذان: الحسن والحسين: سيدا شباب أهل الجنة وأبوهما خير منهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے یہ دونوں بیٹے، حسن اور حسین، جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والد ان دونوں سے بہتر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 47
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن علي وعن ابن عمر. الصحيحة ٧٩٦: ك.
«ابن سمية ما عرض عليه أمران قط إلا اختار الأرشد منهما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سمیہ کے بیٹے (عمار بن یاسر) کے سامنے جب بھی دو معاملے پیش کیے گئے تو انہوں نے ہمیشہ ان میں سے زیادہ درست اور ہدایت والے معاملے کا ہی انتخاب کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 48
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, ك] عن ابن مسعود. الصحيحة ٨٣٥.
«أبني! لا ترموا جمرة العقبة حتى تطلع الشمس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے میرے بیٹو! جمرہ عقبہ کو اس وقت تک کنکریاں نہ مارنا جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 49
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤] عن ابن عباس١. المشكاة ٢٦١٣, الإرواء ١٠٧٦.
«أبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد بن أبي وقاص في الجنة وسعيد بن زيد في الجنة وأبو عبيدة بن الجراح في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنت میں ہیں، سعد بن ابی وقاص جنت میں ہیں، سعید بن زید جنت میں ہیں اور ابو عبیدہ بن الجراح جنت میں ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 50
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الضياء] عن سعيد بن زيد [ت] عن عبد الرحمن بن عوف. شرح العقيدة الطحاوية ٧٢٧.
«أبو بكر وعمر: سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابوبکر اور عمر، انبیاء اور رسولوں کے سوا، اولین و آخرین میں سے جنت کے تمام ادھیڑ عمر لوگوں کے سردار ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 51
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ] عن علي [هـ] عن أبي جحيفة [ع الضياء في المختارة] عن أنس [طص] عن جابر وعن أبي سعيد. الصحيحة ٨٢٠.
«أبو سفيان بن الحارث خير أهلي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابوسفیان بن حارث میرے گھر والوں میں سب سے بہتر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 52
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب, ك] عن أبي حبة البدري. الصحيحة ٨٢٠.
«أتاكم أهل اليمن هم أرق أفئدة وألين قلوبا الإيمان يمان والحكمة يمانية والفخر والخيلاء في أصحاب الإبل والسكينة والوقار في أهل الغنم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، وہ دلوں کے اعتبار سے بہت نرم اور رقّت والے ہیں۔ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔ فخر اور تکبر اونٹ والوں میں ہے، جبکہ سکون اور وقار بکریاں چرانے والوں (یعنی اہل غنم) میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 53
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة.
«أتاكم أهل اليمن هم أضعف قلوبا وأرق أفئدة الفقه يمان والحكمة يمانية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں، وہ بہت نرم دل اور رقّت والے ہیں۔ فقہ یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 54
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت] عن أبي هريرة. الروض ١٠٣٤.
«أتاكم شهر رمضان شهر مبارك فرض الله عليكم صيامه تفتح فيه أبواب الجنة وتغلق فيه أبواب الجحيم وتغل فيه مردة الشياطين وفيه ليلة هي خير من ألف شهر من حرم خيرها فقد حرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے پاس ماہِ رمضان آ گیا ہے جو کہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو طوق پہنا کر قید کر دیا جاتا ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس رات کی بھلائی سے محروم رہا، وہ حقیقتاً (ہر بھلائی سے) محروم ہی رہا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 55
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, ن, هب] عن أبي هريرة. المشكاة ١٩٦٢.
«أتاني آت من عند ربي فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة وهي لمن مات لا يشرك بالله شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا (فرشتہ) آیا، پس اس نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے اور یا پھر مجھے شفاعت کا حق دے دیا جائے، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا اور یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہوگی جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 56
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي موسى [ت١, حب] عن عوف بن مالك الأشجعي. الروض ١٠١٩, المشكاة ٥٦٠٠.
«أتاني آت من عند ربي عز وجل فقال: من صلى عليك من أمتك صلاة كتب الله له بها عشر حسنات ومحا عنه عشر سيئات ورفع له عشر درجات ورد عليه مثلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس میرے رب عزوجل کی طرف سے ایک آنے والا (فرشتہ) آیا اور اس نے کہا: آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دے گا، اس کے دس گناہ مٹا دے گا، اس کے دس درجات بلند فرما دے گا اور اسے اسی کی مثل (رحمت و برکت کا) جواب دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 57
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي طلحة. الترغيب ٢/٢٧٩: ن.
«أتاني الليلة آت من عند ربي فقال: صل في هذا الوادي المبارك - يعني العقيق - وقل عمرة في حجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: اس بابرکت وادی یعنی وادیِ عقیق میں نماز پڑھیے اور کہیے کہ میں حج کے ساتھ عمرہ ملانے کی نیت کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 58
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, خ, د,] عن عمر. الإرواء ١٠٠٥.
"أتاني الليلة ربي تبارك وتعالى في أحسن صورة فقال: يا محمد هل تدري فيم يختصم الملأ الأعلى؟ قلت لا فوضع يده بين كتفي حتى وجدت بردها بين ثديي فعلمت ما في السموات وما في الأرض فقال: يا محمد هل تدري فيم يختصم الملأ الأعلى؟ قلت: نعم في الكفارات والدرجات والكفارات: المكث في المساجد بعد الصلوات والمشي على الأقدام إلى الجماعات وإسباغ الوضوء في المكاره قال: صدقت يا محمد! ومن فعل ذلك عاش بخير ومات بخير وكان من خطيئته كيوم ولدته أمه وقال: يا محمد إذا صليت فقل اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وأن تغفر لي وترحمني وتتوب علي وإذا أردت بعبادك فتنة فاقبضني إليك غير مفتون والدرجات: إفشاء السلام وإطعام الطعام والصلاة بالليل والناس نيام"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آج رات میرے پاس میرا رب تبارک و تعالیٰ نہایت حسین صورت میں آیا اور فرمایا: اے محمد! کیا آپ جانتے ہیں کہ مقرب فرشتے (ملا اعلیٰ) کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اپنا دستِ مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، میں نے جان لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! کیا آپ جانتے ہیں کہ مقرب فرشتے کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، کفارات (گناہ مٹانے والے اعمال) اور درجات (بلند کرنے والے اعمال) کے بارے میں۔ کفارات یہ ہیں: نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا، باجماعت نمازوں کے لیے پیدل چل کر جانا اور ناپسندیدگی (سردی یا تکلیف) کے باوجود کامل وضو کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! آپ نے سچ کہا، اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ خیر کے ساتھ زندہ رہے گا، خیر پر ہی اسے موت آئے گی اور وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جائے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! جب آپ نماز پڑھ چکیں تو یہ دعا مانگیں: اے اللہ! میں تجھ سے نیک کام کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور میری توبہ قبول فرما، اور جب تو اپنے بندوں کو کسی فتنے میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں پڑے بغیر اپنی طرف اٹھا لے۔ اور درجات (بلند کرنے والے اعمال) یہ ہیں: سلام کو پھیلانا، کھانا کھلانا اور رات کو اس وقت نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 59
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عب, حم, وعبد بن حميد, ت] عن ابن عباس. صحيح الترغيب رقم ٤٠٥ و *٤٥١.
«أتاني جبريل بالحمى والطاعون فأمسكت الحمى في المدينة وأرسلت الطاعون إلى الشام فالطاعون شهادة لأمتي ورحمة لهم ورجس على الكافرين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل بخار اور طاعون لے کر آئے، تو میں نے بخار کو مدینہ میں رکھ لیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیج دیا، پس طاعون میری امت کے لیے شہادت اور رحمت ہے، جبکہ کافروں کے لیے عذاب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 60
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث حم, ابن سعد" عن أبي عسيب. الصحيحة ٧٦١.
«أتاني جبريل فأخبرني أن أمتي ستقتل ابني هذا - يعني الحسين - وأتاني بتربة من تربتة حمراء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے مجھے خبر دی کہ میری امت میرے اس بیٹے، یعنی حسین، کو قتل کر دے گی، اور وہ میرے پاس وہاں کی سرخ مٹی لے کر آئے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 61
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أم الفضل بنت الحارث. الصحيحة ٨٢١.
«أتاني جبريل فأمرني أن آمر أصحابي ومن معي أن يرفعوا أصواتهم بالتلبية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ اور اپنے ساتھیوں کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ (یعنی لبیک) پکارتے وقت اپنی آوازیں بلند کریں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 62
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, ٤, حب, ك, هق] عن السائب بن خلاد. المشكاة ٢٥٤٩.
«أتاني جبريل فبشرني أن الحسن والحسين: سيدا شباب أهل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے تو انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ حسن اور حسین دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 63
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن حذيفة. الصحيحة ٧٩٦: حم.
«أتاني جبريل فبشرني أنه من مات من أمتك لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة فقلت: وإن زنى وإن سرق؟ فقال: وإن زنى وإن سرق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے مجھے خوشخبری دی کہ آپ کی امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے پوچھا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 64
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي ذر. الصحيحة ٨٢٦.
«أتاني جبريل فقال: إن الله يأمرك أن تقرئ أمتك القرآن على حرف فقلت: أسأل الله معافاته ومغفرته فإن أمتي لا تطيق ذلك ثم أتاني الثانية فقال: إن الله يأمرك أن تقرئ أمتك القرآن على حرفين فقلت: أسأل الله معافاته ومغفرته إن أمتي لا تطيق ذلك ثم جاءني الثالثة فقال: إن الله يأمرك أن تقرئ أمتك القرآن على ثلاثة أحرف فقلت: أسأل الله معافاته ومغفرته وإن أمتي لا تطيق ذلك ثم جاءني الرابعة فقال: إن الله عز وجل يأمرك أن تقرئ أمتك القرآن على سبعة أحرف فأيما حرف قرءوا عليه فقد أصابوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور کہا: بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک ہی حرف (قراءت) پر قرآن پڑھائیں۔ میں نے کہا: میں اللہ سے اس کی معافی اور مغفرت مانگتا ہوں، یقیناً میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر وہ میرے پاس دوسری مرتبہ آئے اور کہا: بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں۔ میں نے کہا: میں اللہ سے اس کی معافی اور مغفرت مانگتا ہوں، یقیناً میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر وہ میرے پاس تیسری مرتبہ آئے اور کہا: بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو تین حرفوں پر قرآن پڑھائیں۔ میں نے کہا: میں اللہ سے اس کی معافی اور مغفرت مانگتا ہوں، یقیناً میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر وہ چوتھی مرتبہ میرے پاس آئے اور کہا: بے شک اللہ عزوجل آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حروف (قراءتوں) پر قرآن پڑھائیں، پس وہ ان میں سے جس حرف پر بھی پڑھیں گے، انہوں نے درست پڑھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 65
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م, د, ن] عن أبي بن كعب.
«أتاني جبريل فقال: بشر أمتك أنه من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة قلت: يا جبريل وإن سرق وإن زنى؟ قال: نعم قلت: وإن سرق وإن زنى؟ قال: نعم قلت: وإن سرق وإن زنى؟ قال: نعم وإن شرب الخمر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور کہا: اپنی امت کو خوشخبری دے دیں کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور اگرچہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے (دوبارہ) پوچھا: اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور اگرچہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے (تیسری بار) پوچھا: اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور اگرچہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اور اگرچہ اس نے شراب پی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 66
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, ت, ن, حب] عن أبي ذر. الصحيحة ٨٢٦.
«أتاني جبريل فقال لي: إن الله يأمرك أن تأمر أصحابك أن يرفعوا أصواتهم بالتلبية فإنها من شعائر الحج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے تو انہوں نے مجھ سے کہا: بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ میں اپنی آوازیں بلند کریں، کیونکہ یہ حج کے شعائر میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 67
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, هـ, حب, ك] عن زيد بن خالد. الصحيحة ٨٣٠.
"أتاني جبريل فقال: إني كنت أتيتك البارحة فلم يمنعني أن أكون دخلت عليك البيت الذي كنت فيه إلا أنه كان على الباب
تماثيل وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل وكان في البيت كلب فمر برأس التمثال الذي في البيت فليقطع فيصير كهيئة الشجرة ومر بالستر فليقطع فيجعل وسادتين منبذتين توطئان ومر بالكلب فليخرج"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور فرمایا: میں گزشتہ رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن جس گھر میں آپ موجود تھے، مجھے اس میں داخل ہونے سے صرف اس چیز نے روکا کہ اس کے دروازے پر مجسمے تھے، اور گھر کے اندر ایک پردہ تھا جس پر تصویریں تھیں، اور گھر کے اندر ایک کتا تھا۔ پس آپ گھر میں موجود مجسمے کے سر کے بارے میں حکم دیں کہ اسے کاٹ دیا جائے تاکہ اس کی شکل درخت جیسی ہو جائے، اور پردے کے بارے میں حکم دیں کہ اسے کاٹ کر اس سے دو تکیے بنا لیے جائیں جو روندے جائیں (استعمال ہوں)، اور کتے کے بارے میں حکم دیں کہ اسے گھر سے نکال دیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 68
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, د, ت, هق] عن أبي هريرة. آداب الزفاف ٧٦, ٩٨*.
«أتاني جبريل فقال: يا رسول الله هذه خديجة قد أتتك معها إناء فيه إدام أو طعام أو شراب فإذا هي قد أتتك فاقرأ عليها السلام من ربها ومني وبشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيها ولا نصب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آپ کے پاس آ رہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن، کھانا یا پینے کی کوئی چیز ہے۔ پس جب وہ آپ کے پاس آ جائیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیے گا، اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک ایسے گھر کی خوشخبری دیجیے گا جس میں نہ کوئی شور و غل ہو گا اور نہ کوئی تھکاوٹ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 69
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة.
«أتاني جبريل, فقال: يا محمد! اشتكيت؟ قلت: نعم, قال: بسم الله أرقيك, من كل شيء يؤذيك, من شر كل نفس, وعين حاسد, بسم الله أرقيك, والله يشفيك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے تو انہوں نے پوچھا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے، ہر جان کے شر سے اور ہر حاسد کی نظر سے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، اور اللہ آپ کو شفا عطا فرمائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 70
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث حم, م, ت, هـ, أبي سعيد [حم, هـ, حب, ك] عن عبادة بن الصامت.
«أتاني جبريل فقال: يا محمد! أما يرضيك أن ربك عز وجل يقول: إنه لا يصلي عليك من أمتك أحد صلاة إلا صليت عليه بها عشر ولا يسلم عليك أحد من أمتك تسليمة إلا سلمت عليه عشرا فقلت: بلى أي رب!»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور کہا: اے محمد! کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کا رب عزوجل فرماتا ہے: بلاشبہ آپ کی امت میں سے جو کوئی آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا تو میں اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا، اور آپ کی امت میں سے جو کوئی آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے گا تو میں اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجوں گا۔ تو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے میرے رب!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 71
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب ك الضياء] عن أبي طلحة.
«أتاني جبريل فقال: يا محمد! إن الله عز وجل لعن الخمر وعاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة إليه وبائعها ومبتاعها وساقيها ومسقيها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور فرمایا: اے محمد! بلاشبہ اللہ عزوجل نے شراب پر لعنت فرمائی ہے، اور اسے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، پینے والے پر، اسے اٹھا کر لے جانے والے پر، جس کی طرف لے جائی جائے اس پر، اسے بیچنے والے پر، اسے خریدنے والے پر، اسے پلانے والے پر اور جس کے لیے پلائی جائے اس پر بھی لعنت فرمائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 72
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب, ك, هب, الضياء] عن ابن عباس. الصحيحة ٨٣٩: حم.
«أتاني جبريل فقال: يا محمد! عش ما شئت فإنك ميت وأحبب من شئت فإنك مفارقه واعمل ما شئت فإنك مجزي به واعلم أن شرف المؤمن قيامه بالليل وعزه استغناؤه عن الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور فرمایا: اے محمد! آپ جتنا چاہیں جی لیں، بالآخر آپ کو موت آنی ہے، اور آپ جس سے چاہیں محبت کر لیں، آپ کو اس سے جدا ہونا ہے، اور آپ جو چاہیں عمل کر لیں، آپ کو اس کا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ جان لیں کہ مومن کا شرف رات کو قیام کرنے میں ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 73
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الشيرازي في الألقاب, ك, هب] عن سهل بن سعد [هب] عن جابر, [حل] عن علي. الصحيحة٨٣١.
«أتاني جبريل فقال: يا محمد! قل قلت: وما أقول؟ قال: قل أعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرأ وبرأ ومن شر ما ينزل من السماء ومن شر ما يعرج فيها ومن شر ما ذرأ في الأرض وبرأ ومن شر ما يخرج منها ومن شر فتن الليل والنهار ومن شر كل طارق يطرق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور کہا: اے محمد! آپ کہیے۔ میں نے پوچھا: میں کیا کہوں؟ انہوں نے کہا: آپ یہ کہیے کہ میں اللہ کے ان کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتا ہوں جن سے کوئی نیک و بد تجاوز نہیں کر سکتا، اس ہر چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور وجود میں لائی، اور اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو اس نے زمین میں پیدا کی اور پھیلائی، اور اس چیز کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے، اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے، اور رات کو آنے والے ہر حادثے کے شر سے سوائے اس آنے والے کے جو بھلائی لے کر آئے، اے رحمن!“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 74
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, طب] عن عبد الرحمن بن خنبش١. الصحيحة ٨٤٠.
«أتاني جبريل فقال: يا محمد! من أدرك أحد والديه فمات فدخل النار فأبعده الله قل: آمين فقلت: آمين قال: يا محمد من أدرك شهر رمضان فمات فلم يغفر له فأدخل النار فأبعده الله قل: آمين فقلت: آمين قال: ومن ذكرت عنده فلم يصل عليك فمات فدخل النار فأبعده الله قل: آمين فقلت: آمين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور کہا: اے محمد! جس شخص نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پایا، پھر وہ مر گیا اور (ان کی خدمت نہ کرنے کے سبب) جہنم میں داخل ہوا تو اللہ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا، آپ کہیے: آمین، تو میں نے کہا: آمین۔ انہوں نے کہا: اے محمد! جس شخص نے رمضان کا مہینہ پایا، پھر وہ مر گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی تو وہ جہنم میں داخل ہوا، اللہ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا، آپ کہیے: آمین، تو میں نے کہا: آمین۔ انہوں نے کہا: اور جس شخص کے پاس آپ کا ذکر کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہ بھیجا، پھر وہ مر گیا اور جہنم میں داخل ہوا، تو اللہ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا، آپ کہیے: آمین، تو میں نے کہا: آمین۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 75
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن جابر بن سمرة. تخريج الترغيب ٣/٢١٦: حب.
"أتاني جبريل في أول ما أوحي إلي فعلمني الوضوء
والصلاة فلما فرغ [من] ١ الوضوء أخذ غرفة من الماء فنضح بها فرجه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وحی کے ابتدائی زمانے میں میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے مجھے وضو اور نماز کا طریقہ سکھایا، پس جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ایک چلو پانی لیا اور اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑک دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 76
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, قط, ك] عن أسامة عن أبيه زيد بن حارثة. الصحيحة ٨٤١: هـ, وهق.
«أتاني جبريل من عند الله تبارك وتعالى فقال: يا محمد! إن الله عز وجل يقول: إني قد فرضت على أمتك خمس صلوات فمن وافى بهن على وضوئهن ومواقيتهن وركوعهن وسجودهن كان له عندي بهن عهد أن ادخله بهن الجنة ومن لقيني قد انتقص من ذلك شيئا فليس له عندي عهد إن شئت عذبته وإن شئت رحمته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے جبریل آئے اور کہا: اے محمد! اللہ عزوجل فرماتا ہے: بے شک میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، پس جو کوئی انہیں ان کے کامل وضو، ان کے مقررہ اوقات، ان کے رکوع اور ان کے سجود کی پابندی کے ساتھ ادا کر کے لائے گا تو اس کے لیے میرے پاس یہ عہد ہے کہ میں ان کے سبب اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو کوئی مجھ سے اس حال میں ملا کہ اس نے ان میں کچھ کمی کی ہوگی تو اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں، میں چاہوں تو اسے عذاب دوں اور چاہوں تو اس پر رحم فرما دوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 77
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي محمد بن نصر في كتاب الصلاة طب الضياء في المختارة] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ٨٤٢.
«أتاني جبريل وميكائيل فقعد جبريل عن يميني وميكائيل عن يساري فقال جبريل: يا محمد اقرأ القرآن على حرف فقال ميكائيل: استزده فقلت: زدني فقال: اقرأه على ثلاثة أحرف فقال ميكائيل: استزده فقلت: زدني كذلك حتى بلغ سبعة أحرف فقال: اقرأه على سبعة أحرف كلها شاف كاف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل اور میکائیل آئے، پس جبریل میری دائیں جانب اور میکائیل میری بائیں جانب بیٹھ گئے۔ جبریل نے کہا: اے محمد! آپ قرآن کو ایک حرف (قراءت) پر پڑھیں۔ تو میکائیل نے کہا: ان سے مزید کا مطالبہ کریں۔ پس میں نے کہا: میرے لیے مزید اضافہ فرمائیں۔ تو جبریل نے کہا: آپ اسے تین حروف پر پڑھیں۔ میکائیل نے پھر کہا: ان سے مزید کا مطالبہ کریں۔ میں نے کہا: میرے لیے اور اضافہ فرمائیں۔ اسی طرح ہوتا رہا یہاں تک کہ بات سات حروف تک پہنچ گئی، تو جبریل نے کہا: آپ اسے سات حروف پر پڑھیں، یہ سب کے سب شفا دینے والے اور کفایت کرنے والے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 78
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, عبد بن حميد, ن] عن أبي بن كعب [حم, طب] عن أبي بكرة [ابن الضريس] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ٨٤٣.
«أتاني ملك فسلم علي نزل من السماء لم ينزل قبلها فبشرني أن الحسن والحسين: سيدا شباب أهل الجنة وأن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھے سلام کیا، وہ آسمان سے اترا تھا اور اس سے پہلے وہ کبھی نازل نہیں ہوا تھا۔ پس اس نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور بلاشبہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 79
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن حذيفة. الصحيحة ٨٤٣.حم
«أتحب أن يلين قلبك وتدرك حاجتك؟ ارحم اليتيم وامسح رأسه وأطعمه من طعامك يلن قلبك وتدرك حاجتك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے اور تمہاری حاجت پوری ہو جائے؟ یتیم پر رحم کرو، اس کے سر پر ہاتھ پھیرو اور اسے اپنے کھانے میں سے کھلاؤ، تمہارا دل نرم ہو جائے گا اور تم اپنی حاجت پا لو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 80
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. الصحيحة ٨٥٤.