حدیث نمبر: 77
«أتاني جبريل من عند الله تبارك وتعالى فقال: يا محمد! إن الله عز وجل يقول: إني قد فرضت على أمتك خمس صلوات فمن وافى بهن على وضوئهن ومواقيتهن وركوعهن وسجودهن كان له عندي بهن عهد أن ادخله بهن الجنة ومن لقيني قد انتقص من ذلك شيئا فليس له عندي عهد إن شئت عذبته وإن شئت رحمته»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے جبریل آئے اور کہا: اے محمد! اللہ عزوجل فرماتا ہے: بے شک میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، پس جو کوئی انہیں ان کے کامل وضو، ان کے مقررہ اوقات، ان کے رکوع اور ان کے سجود کی پابندی کے ساتھ ادا کر کے لائے گا تو اس کے لیے میرے پاس یہ عہد ہے کہ میں ان کے سبب اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو کوئی مجھ سے اس حال میں ملا کہ اس نے ان میں کچھ کمی کی ہوگی تو اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں، میں چاہوں تو اسے عذاب دوں اور چاہوں تو اس پر رحم فرما دوں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 77
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي محمد بن نصر في كتاب الصلاة طب الضياء في المختارة] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ٨٤٢.