حدیث نمبر: 74
«أتاني جبريل فقال: يا محمد! قل قلت: وما أقول؟ قال: قل أعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرأ وبرأ ومن شر ما ينزل من السماء ومن شر ما يعرج فيها ومن شر ما ذرأ في الأرض وبرأ ومن شر ما يخرج منها ومن شر فتن الليل والنهار ومن شر كل طارق يطرق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے پاس جبریل آئے اور کہا: اے محمد! آپ کہیے۔ میں نے پوچھا: میں کیا کہوں؟ انہوں نے کہا: آپ یہ کہیے کہ میں اللہ کے ان کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتا ہوں جن سے کوئی نیک و بد تجاوز نہیں کر سکتا، اس ہر چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور وجود میں لائی، اور اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو اس نے زمین میں پیدا کی اور پھیلائی، اور اس چیز کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے، اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے، اور رات کو آنے والے ہر حادثے کے شر سے سوائے اس آنے والے کے جو بھلائی لے کر آئے، اے رحمن!“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 74
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم, طب] عن عبد الرحمن بن خنبش١. الصحيحة ٨٤٠.