کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إذا دخل العشر وأراد أحدكم أن يضحي فلا يمس من شعره ولا من بشره شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب (ذوالحجہ کا) پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بالوں اور جسم (کے ناخنوں یا کھال) میں سے کسی چیز کو نہ کاٹے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 520
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن هـ] عن أم سلمة. الإرواء ١١٦٣.
«إذا دخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار نادى مناد: يا أهل الجنة إن لكم عند الله موعدا يريد أن ينجزكموه فيقولون: وما هو؟ ألم يثقل الله موازيننا ويبيض وجوهنا ويدخلنا الجنة وينجنا من النار؟ فيكشف الحجاب فينظرون إليه فوالله ما أعطاهم الله شيئا أحب إليهم من النظر إليه ولا أقر لأعينهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اے اہل جنت! تمہارے لیے اللہ کے پاس ایک وعدہ ہے جسے وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ وہ کہیں گے: وہ کیا ہے؟ کیا اللہ نے ہمارے پلڑے بھاری نہیں کر دیے، ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا، ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دے دی؟ تب پردہ ہٹا دیا جائے گا اور وہ اللہ کا دیدار کریں گے، پس اللہ کی قسم! اللہ نے انہیں کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی ہوگی جو انہیں اس کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو اور ان کی آنکھوں کو اس سے زیادہ ٹھنڈک پہنچانے والی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 521
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ ابن خزيمة حب] عن صهيب. شرح العقيدة الطحاوية ١٦١.
«إذا دخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار يجاء بالموت كأنه كبش أملح فيوقف بين الجنة والنار فيقال: يا أهل الجنة هل تعرفون هذا؟ فيشرئبون فينظرون ويقولون: نعم هذا الموت وكلهم قد رآه, ثم ينادى: يا أهل النار هل تعرفون هذا؟ فيشرئبون فينظرون فيقولون: نعم هذا الموت وكلهم قد رآه فيؤمر به فيذبح ويقال: يا أهل الجنة خلود ولا موت ويا أهل النار خلود ولا موت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور اسے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے اہل جنت! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ اپنی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ اور ان سب نے اسے دیکھا ہوگا۔ پھر پکارا جائے گا: اے اہل جہنم! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ بھی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ اور ان سب نے اسے دیکھا ہوگا۔ پھر حکم دیا جائے گا تو اسے ذبح کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اے اہل جنت! اب تم نے ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور کوئی موت نہیں، اور اے اہل جہنم! اب تم نے ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور کوئی موت نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 522
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أبي سعيد.
«إذا دخل أهل الجنة الجنة يقول الله تعالى: تريدون شيئا أزيدكم؟ فيقولون: ألم تبيض وجوهنا؟ ألم تدخلنا الجنة وتنجنا من النار؟ فيكشف الحجاب فما أعطوا شيئا أحب إليهم من النظر إلى ربهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم کچھ اور چاہتے ہو جو میں تمہیں مزید دوں؟ وہ عرض کریں گے: کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا اور جہنم سے نجات نہیں دے دی؟ تب پردہ ہٹا دیا جائے گا، پس انہیں اپنے رب کے دیدار سے زیادہ محبوب کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 523
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن صهيب. رياض الصالحين ١٩٠٥.
«إذا دخل أهل الجنة الجنة يقول الله عز وجل: هل تشتهون شيئا فأزيدكم؟ فيقولون: ربنا وما فوق ما أعطيتنا؟ فيقول: رضواني أكبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ عزوجل فرمائے گا: کیا تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو کہ میں تمہیں وہ مزید عطا کروں؟ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! جو تو نے ہمیں عطا کیا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے؟ تو اللہ فرمائے گا: میری رضا سب سے بڑی نعمت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 524
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن جابر. الصحيحة ١٣٣٦: حب، أبو نعيم – صفة الجنة.
"إذا دخلت ليلا فلا تدخل على أهلك حتى
تستحد المغيبة، وتمتشط الشعثة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم رات کے وقت (سفر سے) واپس آؤ تو اچانک اپنے گھر والوں کے پاس نہ جاؤ، تاکہ وہ عورت جس کا خاوند دور تھا اپنے زیر ناف بال صاف کر لے اور بکھرے بالوں والی عورت اپنے بالوں میں کنگھی کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 525
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن جابر.
«إذا دخلتم بيتا فسلموا على أهله فإذا خرجتم فأودعوا أهله بسلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو اس کے رہنے والوں کو سلام کرو، اور جب تم وہاں سے نکلو تو اس کے مکینوں کو سلام کے ساتھ رخصت کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 526
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث هب عن قتادة مرسلا. المشكاة ٤٦٥١.
«إذا دخلت مسجدا فصل مع الناس وإن كنت قد صليت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم مسجد میں داخل ہو تو لوگوں کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھو، خواہ تم (پہلے اکیلے) نماز پڑھ چکے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 527
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ص] عن محجن الديلي٢. الصحيحة أبي داود ٥٩٠.
«إذا دخل شهر رمضان فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب جهنم وسلسلت الشياطين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 528
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٠٧: ن.
«إذا دعا أحدكم أخاه فليجب عرسا كان أو نحوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے، خواہ وہ دعوت ولیمہ ہو یا اس جیسی کوئی اور تقریب۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 529
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن ابن عمر. مختصر مسلم ٨٢٥، آداب الزفاف ٧٢: م.
«إذا دعا أحدكم فلا يقل: اللهم اغفر لي إن شئت وليعزم المسألة وليعظم الرغبة فإن الله لا يعظم عليه شيء أعطاه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یوں نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ پختہ یقین کے ساتھ مانگے اور اپنی خواہش کو بلند رکھے، کیونکہ اللہ کے لیے کوئی بھی چیز جو وہ عطا کرتا ہے مشکل یا بڑی نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 530
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد] عن أبي سعيد [م] عن أبي هريرة.
«إذا دعا أحدكم فليعزم المسألة ولا يقل: اللهم إن شئت فأعطني فإن الله لا مستكره له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو پختہ یقین کے ساتھ مانگے اور یوں نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا کر دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر جبر کرنے والا (یعنی اسے مجبور کرنے والا) کوئی نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 531
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أنس. رياض الصالحين ١٧٥٣.
"إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان
عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے، اور شوہر اس پر غصے کی حالت میں رات گزارے، تو فرشتے صبح ہونے تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د] عن أبي هريرة.
«إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فلتجب وإن كانت على ظهر قتب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے تو اسے چاہیے کہ فوراً اس کی بات مانے، خواہ وہ اونٹ کے کجاوے پر ہی (سوار) کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] زيد بن أرقم. الصحيحة ١٢٠٣.
«إذا دعا الرجل زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی (جسمانی) حاجت کے لیے بلائے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اس کے پاس آ جائے، خواہ وہ تنور پر ہی کیوں نہ (کام کر رہی) ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 534
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن ت] عن طلق بن علي.
«إذا دعا الغائب لغائب قال له الملك: ولك مثل ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب کوئی شخص کسی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے: تمہارے لیے بھی اسی کے مثل ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عد] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٣٩: حم، م، ابن ماجه - أبو الالدرداء.
«إذا دعي أحدكم إلى الوليمة فليأتها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس میں ضرور شریک ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 536
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د] عن ابن عمر. آداب الزفاف ٧٣: أبو عوانة، أبو يعلى.
«إذا دعي أحدكم إلى طعام فليجب فإن شاء طعم وإن شاء لم يطعم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے، پھر اگر اس کا دل چاہے تو کھا لے اور اگر چاہے تو نہ کھائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 537
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن جابر. الصحيحة ٣٤٧، آداب الزفاف ٧٣.
«إذا دعي أحدكم إلى طعام فليجب فإن كان مفطرا فليأكل وإن كان صائما فليدع بالبركة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے، پھر اگر وہ روزے سے نہ ہو تو کھا لے اور اگر روزے سے ہو تو (میزبان کے لیے) برکت کی دعا کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 538
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. الإرواء ١٩٥٣.
«إذا دعي أحدكم إلى طعام فليجب فإن كان مفطرا فليأكل وإن كان صائما فليصل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے، پس اگر وہ روزے سے نہ ہو تو کھا لے اور اگر روزے سے ہو تو اس کے لیے دعا کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 539
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت هـ] عن أبي هريرة. الإرواء ١٩٥٣.
«إذا دعي أحدكم إلى طعام وهو صائم فليقل: إني صائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کہہ دے: میں روزے سے ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 540
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د ت هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٥٨٨، آداب الزفاف ٧٣، الإرواء ٢٠١٣.
«إذا دعي أحدكم إلى وليمة عرس فليجب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 541
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م هـ] عن ابن عمر. مختصر مسلم ٨٢٥.
«إذا دعي أحدكم إلى وليمة فليجب وإن كان صائما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے، خواہ وہ روزے سے ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 542
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن منيع] عن أبي أيوب. الإرواء ١٩٥٣.
«إذا دعي أحدكم فجاء مع الرسول: فإن ذلك له إذن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کو بلایا جائے اور وہ قاصد کے ساتھ ہی آ جائے تو یہی (ساتھ آنا) اس کے لیے (اندر داخل ہونے کی) اجازت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 543
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد د هب] عن أبي هريرة. الإرواء ١٩٥٥.
«إذا دعيتم إلى كراع فأجيبوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہیں (معمولی کھانے یعنی بکری کے) پائے کی بھی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 544
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر. حب: ١٠٦٣.
«إذا ذكر أصحابي فأمسكوا وإذا ذكرت النجوم فأمسكوا وإذا ذكر القدر فأمسكوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب میرے صحابہ کا (تنقیدی) ذکر کیا جائے تو (اپنی زبانوں کو) روک لو، اور جب ستاروں کی (تاثیر کا) ذکر کیا جائے تو خاموش رہو، اور جب تقدیر کے مسئلے پر بحث ہو تو اس سے باز رہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 545
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود [عد] عن ابن مسعود وثوبان [عد] عن عمر. الصحيحة ٣٤.
«إذا ذكرتم بالله فانتهوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کسی کام سے روکا جائے تو فوراً رک جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 546
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث البزار عن أبي سعيد المقبري مرسلا. الصحيحة ١٣١٩.
«إذا ذهب أحدكم إلى الغائط فليذهب معه بثلاثة أحجار يستطيب بهن فإنها تجزي عنه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے جن سے وہ طہارت حاصل کرے، پس یقیناً یہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 547
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن] عن عائشة. صحيح أبي داود ٣٠، الإرواء ٤٨.
«إذا رأى أحدكم الرؤيا الحسنة فليفسرها وليخبر بها وإذا رأى الرؤيا القبيحة فلا يفسرها ولا يخبر بها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس کی (اچھی) تعبیر نکالے اور اسے (دوسروں کو) بتائے، اور جب وہ کوئی برا خواب دیکھے تو نہ اس کی تعبیر نکالے اور نہ ہی کسی کو اس کے بارے میں بتائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 548
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة١. الصحيحة ١٣٤٠: ابن عبد البر.
«إذا رأى أحدكم الرؤيا يحبها فإنما هي من الله فليحمد الله عليها وليحدث بها وإذا رأى غير ذلك مما يكره فإنما هي من الشيطان فليستعذ بالله ولا يذكرها لأحد فإنها لا تضره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو، تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ اس پر اللہ کی حمد بیان کرے اور اسے (دوسروں سے) بیان کرے۔ اور جب وہ اس کے برعکس کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو، تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے، تو وہ خواب اسے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 549
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ت] عن أبي سعيد. تخريج الترغيب ٢/٢٦٢.
«إذا رأى أحدكم الرؤيا يحبها فإنما هي من الله فليحمد الله عليها وليحدث بها، وإذا رأى غير ذلك مما يكره فإنما هي من الشيطان فليستعذ بالله من شرها ولا يذكرها لأحد فإنها لا تضره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو، تو وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ اس پر اللہ کی حمد بیان کرے اور اسے (دوسروں سے) بیان کرے۔ اور جب وہ اس کے برعکس کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو، تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے، تو وہ خواب اسے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 550
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ هـ] عن أبي سعيد٢. تخريج الترغيب ٢/٢٦٢.
«إذا رأى أحدكم الرؤيا يكرهها فليبصق عن يساره ثلاثا وليستعذ بالله من الشيطان ثلاثا وليتحول عن جنبه الذي كان عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارے، شیطان (کے شر) سے تین بار اللہ کی پناہ مانگے، اور جس کروٹ پر لیٹا تھا اسے بدل لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 551
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د هـ] عن جابر. الصحيحة ١٣١١، مختصر مسلم ١٥١٨، حم، ك.
«إذا رأى أحدكم المرأة التي تعجبه فليرجع إلى أهله حتى يقع بهم فإن ذلك معهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کسی کی نظر کسی ایسی عورت پر پڑ جائے جو اسے اچھی لگے، تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اپنی بیوی کے پاس واپس جائے اور اس سے ہمبستری کرے، کیونکہ جو کچھ اس (اجنبی عورت) کے پاس ہے، وہی کچھ اس (کی بیوی) کے پاس بھی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 552
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن جابر. الصحيحة ٢٣٥.
«إذا رأى أحدكم جنازة فإن لم يكن ماشيا معها فليقم حتى يخلفها أو تخلفه أو توضع من قبل أن تخلفه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے اور وہ اس کے ساتھ چل نہ رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ وہ جنازہ آگے گزر جائے، یا وہ (شخص) جنازے کو پیچھے چھوڑ دے، یا جنازے کے گزرنے سے پہلے اسے (زمین پر) رکھ دیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 553
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ن] عن عامر بن ربيعة.
«إذا رأى أحدكم رؤيا يكرهها فليتحول وليتفل عن يساره ثلاثا وليسأل الله من خيرها وليتعوذ بالله من شرها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو، تو اسے چاہیے کہ کروٹ بدل لے، اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارے، اللہ تعالیٰ سے اس خواب کی بھلائی کا سوال کرے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 554
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣١١.
«إذا رأى أحدكم مبتلى فقال: الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني عليك وعلى كثير من عباده تفضيلا، كان شكر تلك النعمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مصیبت زدہ (یا بیمار) کو دیکھے اور یہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَيْكَ وَعَلَى كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ تَفْضِيلًا» (سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس مصیبت سے محفوظ رکھا جس میں اس نے تجھے مبتلا کیا ہے، اور مجھے تجھ پر اور اپنے بہت سے بندوں پر نمایاں فضیلت عطا فرمائی)، تو یہ اس (عافیت کی) نعمت کا شکر ادا کرنا ہو گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 555
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث هب عن أبي هريرة. الروض النضير ١٠٥٠: البزار، طص، طس، ابن أبي الدنيا، الضياء في [المختارة] .
«إذا رأى أحدكم من نفسه أو ماله أو من أخيه ما يعجبه فليدع له بالبركة فإن العين حق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ میں، اپنے مال میں یا اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے بھلی معلوم ہو، تو وہ اس کے لیے برکت کی دعا کرے، کیونکہ نظرِ بد کا لگنا برحق ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 556
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع طب ك] عن عامر بن ربيعة. الكلم الطيب ٢٤٣.
«إذا رأى المؤمن ما فسح له في قبره فيقول: دعوني أبشر أهلي فيقال له: اسكن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب مومن اپنی قبر کی کشادگی (اور نعمتوں) کو دیکھتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو تاکہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو یہ خوشخبری سناؤں، تو اسے کہا جاتا ہے: (اب) تم یہیں سکون سے رہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 557
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الضياء] عن جابر. الصحيحة ١٣٤٤.
«إذا رأت فأنزلت فعليها الغسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب عورت (احتلام کا خواب) دیکھے اور اسے انزال (مادہ منویہ کا اخراج) ہو جائے، تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 558
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أنس. الصحيحة ١٣٤٢: حم، م، أبو عوانة.
«إذا راح أحدكم إلى الجمعة فليغتسل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم میں سے کوئی شخص نمازِ جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیے کہ وہ غسل کر لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 559
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عمر.