حدیث نمبر: 522
«إذا دخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار يجاء بالموت كأنه كبش أملح فيوقف بين الجنة والنار فيقال: يا أهل الجنة هل تعرفون هذا؟ فيشرئبون فينظرون ويقولون: نعم هذا الموت وكلهم قد رآه, ثم ينادى: يا أهل النار هل تعرفون هذا؟ فيشرئبون فينظرون فيقولون: نعم هذا الموت وكلهم قد رآه فيؤمر به فيذبح ويقال: يا أهل الجنة خلود ولا موت ويا أهل النار خلود ولا موت»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا اور اسے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے اہل جنت! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ اپنی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ اور ان سب نے اسے دیکھا ہوگا۔ پھر پکارا جائے گا: اے اہل جہنم! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ بھی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ اور ان سب نے اسے دیکھا ہوگا۔ پھر حکم دیا جائے گا تو اسے ذبح کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اے اہل جنت! اب تم نے ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور کوئی موت نہیں، اور اے اہل جہنم! اب تم نے ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور کوئی موت نہیں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 522
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أبي سعيد.