عيد الفطر کے احکام و آداب

عبید اللہ طاہر حفظ اللہ عید الفطر اور عید الاضحی مسلمانوں کی عید ہیں ❀ « عن عائشة رضي الله عنها، قالت: دخل ابوبكر وعندي جاريتان من جواري الانصار تغنيان بما تقاولت الانصار يوم بعاث، قالت: وليستا بمغنيتين، فقال ابوبكر: امزامير الشيطان فى بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وذلك فى يوم عيد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يا ابا بكر إن لكل قوم عيدا وهذا عيدنا".» حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں جنگ بعاث کے دن کا شعر گا رہی تھیں، اور ان لڑکیوں کا پیشہ گانے کا نہیں تھا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں یہ شیطانی باجا؟ اور وہ عید کا دن تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم…

Continue Reading

صدقہ فطر

عبید اللہ طاہر حفظ اللہ صدقہ فطر کی فرضیت ❀ «عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض زكاة الفطر صاعا من تمر، أو صاعا من شعير، على كل أو عبد، ذكر أو أنثى من المسلمين. » حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو ہر مسلمان آزاد و غلام اور مرد و عورت پر فرض کیا، جو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو ہے۔ [صحيح بخاري 1504، صحيح مسلم 983] ❀ «عن قيس بن سعد رضى الله عنه، قال: أنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بصدقة الفطر قبل أن تنزل الزكاة، فلما نزلت الزكاة لم يأمرنا ولم ينهنا ونحن نفعله . » حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ…

Continue Reading

اعتکاف

عبید اللہ طاہر حفظ اللہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ✿ «وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ» [البقرة: 187] ”اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔“ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اعتکاف مسجد ہی میں کیا جا سکتا ہے۔ اعتکاف کسی بھی مسجد میں کیا جا سکتا ہے، البتہ ایسی مسجد میں اعتکاف کرنا بہتر ہے جہاں جمعہ اور جماعت کے ساتھ نماز قائم ہوتی ہو تاکہ بار بار وہاں سے نکلنا نہ پڑے۔ اعتکاف کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ نفلی عبادتوں میں لگا رہے، اپنے آپ کو نماز، تلاوت قرآن، حمد، تسبیح، تکبیر، استغفار، اذکار، درود و سلام اور دعاؤں میں مشغول رکھے۔ اسی طرح علمی کتابوں کا مطالعہ، تفسیر و حدیث اور فقہ کی کتابوں کا مذاکره، انبیاء اور نیک لوگوں کی سیرتوں کا مطالعہ بھی کر سکتا ہے۔ اور…

Continue Reading

شب قدر اور آخری عشره

عبید اللہ طاہر حفظ اللہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ✿ « إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ‎ ﴿١﴾ ‏ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ‎ ﴿٢﴾ ‏ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ‎ ﴿٣﴾ ‏ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ‎ ﴿٤﴾ ‏ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ‎ ﴿٥﴾ ‏ » [القدر: 1-5] ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور جبریل اس میں اپنے رب کی اجازت سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔“ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ✿ «حم ‎ ﴿١﴾ ‏ وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ‎ ﴿٢﴾ ‏ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ‎ ﴿٣﴾ ‏ فِيهَا يُفْرَقُ…

Continue Reading

احکام عیدالفطر

 

176۔ عید الفطر :
عید الفطر کے دن صوم رکھنا جائز نہیں ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صوم يوم الفطر و النحر . [صحيح البخاري : كتاب الصيام، باب 66 صوم يوم الفطر ]
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور قربانی کے دن صوم سے منع فرمایا۔ “
اگر مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے 29 ویں رمضان کو عید کا چاند نظر نہ آئے، اور رویت کی کوئی معتبر شہادت بھی نہ مل سکے تو اس دن صوم رکھا جائے گا البتہ زوال سے پہلے اگر کوئی معتبر شہادت مل جائے تو افطار کر لینا چاہئے اور اسی دن عید کی صلاۃ پڑھ لینی چاہئے اور اگر چاند دیکھنے کی شہادت آفتاب ڈھلنے کے بعد ملے تو صوم افطار کر لینا چاہئے لیکن عید کی صلاۃ دوسرے دن پڑھنی چاہئے۔

177۔ مسنونات عید :

غسل کرنا، عمدہ سے عمدہ کپڑے پہننا، عید گاہ جاتے وقت بلند آواز سے تکبیر کہنا، پیدل عیدگاہ جانا، ایک راستہ سے جانا اور دوسرے راستہ سے واپس آنا، طاق کھجوریں یا چھوہارے یا کوئی دوسری میٹھی چیز کھا کر عیدگاہ جانا۔

178۔ صلاۃ العید :
عید کی صلاۃ سنت مؤکدہ ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کو ترک نہیں فرمایا۔ اس کا و قت طلوع آفتاب کے بعد سے لے کر زوال کے کچھ پہلے تک رہتا ہے۔ صلاۃ العید میں اذان اور اقامت نہیں ہے، صلاۃ العید سے پہلے یا بعد میں عیدگاہ میں صلاۃ نافلہ پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ اسی طرح صلاۃ سے پہلے خطبہ اور وعظ کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے، عورتوں کو عیدگاہ لے جانا سنت ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج الأبكار و العواتق وذوات الخدور و الحيض فى العيدين فأما الحيض فيعتزلن المصلي ويشهدن دعوة المسلمين قالت إحداهن يا رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لم يكن لهاجلباب قال : فلتعرها اختهامن جلبابها [سنن الترمذي : كتاب الصلوٰة، باب38، خروج النساء فى العيدين ]
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باکرہ، نو عمر، پردہ نشین اور حائضہ عورتوں کو عیدین میں لے جایا کرتے تھے، رہیں حائضہ عورتیں تو وہ مصلی (جائے صلاۃ) سے تو الگ رہیں گی لیکن مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں گی۔ ایک عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر اس (عورت )کے پاس چادر نہ ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی بہن اس کو اپنی چادر عاریۃً دے دے “۔
اور صحیح مسلم میں ہے۔ ام عطیہ کہتی ہیں : كنانؤمر (الحدیث) یعنی ہمیں اللہ کے رسول عورتوں کو عیدگاہ میں لے جانے کا حکم دیتے تھے۔

179۔ صلاۃ عید کاطریقہ :
صلاۃ العیدین کا طریقہ عام صلاۃ ہی کی طرح ہے، البتہ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد دعاء ثنا سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قراء ت سے پہلے پانچ تکبیریں زائد کہی جاتی ہیں، جنہیں تکبیر زوائد کہتے ہیں، تکبیر زوائد کے ساتھ رفیع الیدین کسی صحیح اور مرفوع حدیث سے ثابت نہیں۔

180۔ شوال کے صوم :

رمضان کے بعد شوال میں چھ صوم رکھنے کی بڑی فضیلت ہے :
(more…)

Continue Reading

احکام و فضائل تراویح ، لیلۃ القدر ، اعتکاف ، صدقۂ فطر

 

170۔ تراویح :
تراویح، تہجد، قیام رمضان، قیام اللیل، صلاۃ الوتر پانچوں ایک ہی عبادت ہیں اور عشاء کے بعد سے لے کر سحری کے وقت تک پڑھی جا سکتی ہیں۔ ان کا جماعت کے ساتھ پڑھنا، تنہا مسجد یا گھر میں آخر رات میں پڑھنے سے افضل ہے۔ تراویح کی رکعات کی بابت عائشہ رضی اللہ عنہ کی درج ذیل روایت نص صریح ہے :
عن أبى سلمة أنه سأل عائشة كيف كان صلوٰة رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فقالت : ماكان يزيد فى رمضان ولافي غيره على إحدي عشرة ركعة [صحيح البخاري : كتاب صلوٰة التراويح باب 1، صحيح مسلم : كتاب صلوٰة المسافرين و قصرهاباب صلوٰة الليل ]
’’ ابوسلمہ سے مروی ہے کہ انہو ں نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے پوچھا کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ کیسی تھی تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ “
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں :
صلي بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى شهر رمضان ثمان ركعات و الوتر [ابن خزيمة : كتاب الصلوٰة باب ذكر الدليل بأن الوتر ليس بفرض ]
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو رمضان کے مہینہ میں آٹھ رکعت تراویح اور وتر پڑھائی۔ “
بیس رکعات کی کوئی روایت یا اثر صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور میں جب تراویح باجماعت کا حکم ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو دیا تو گیارہ رکعت ہی کا حکم دیا تھا۔ [مؤطا امام مالك كتاب الصلوة باب ماجاء فى قيام رمضان]
صلاۃ التراویح میں بھی دوسری صلاۃ کی طرح قرآن نہایت سکون اور ٹھہراؤ کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔ ختم قرآن کی فکر میں قرآن کی قرأت میں جلد بازی صحیح نہیں ہے۔

171۔ لیلۃ القدر :
لیلۃ القدر بڑی عزت و حرمت کی رات ہے۔ اسی رات میں اللہ کا آخری کلام قرآن مجید لوح محفوظ سے سماء دنیا کی طرف اترا۔ اس رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ ارشاد باری ہے :
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ٭ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ٭ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ٭ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ ٭ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [القدر : 1۔ 5 ]
’’ یقیناًً ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل فرمایا، آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (میں ہر کام )کے سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے )۔ “
(more…)

Continue Reading

رمضان سے متعلق چند اہم مسائل (11)

130۔ صلاۃ عید ترک کرنے کا حکم :
——————

سوال : کیا مسلمان کے لئے بغیر عذر صلاۃِ عید سے پیچھے رہنا جائز ہے ؟ کیا عورتوں کو مردوں کے ساتھ عید کی ادائیگی سے روکنا جائز ہے ؟
جواب : اکثر اہل علم کے نزدیک صلاۃ عید فرض کفایہ ہے۔ بعض افراد کا اس سے پیچھے رہنا جائز ہے، لیکن آدمی کا اس میں حاضر ہونا اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ شریک ہونا سنتِ مؤکدہ ہے، بغیر عذر شرعی اس کا چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ اور بعض علماء کا مذہب یہ ہے کہ صلاۃ عید، صلاۃ جمعہ کی طرح فرض عین ہے۔ لہٰذا کسی مکلف آزاد مقیم مرد کے لئے اس سے پیچھے رہنا جائز نہیں ہے۔ دلیل کے لحاظ سے یہ قول زیادہ نمایاں ہے۔
عورتوں کے لئے پردہ کے اہتمام اور خوشبو سے اجتناب کے ساتھ صلاۃِ عید میں شریک ہو نا مسنون ہے۔ جیسا کہ صحیحین میں ام عطیہ رضی اللہ عنہاسے ثابت ہے۔ انہوں نے کہا:
أمرنا أن نخرج فى العيدين العواتق والحيض، ليشهدن الخير ودعوة المسلمين، وتعتزل الحيض المصلي [صحيح: صحيح بخاري، الحيض 6 باب شهود الحائض العيدين ودعوة المسلمين …. 26 رقم 324 والصلاة 8 باب وجوب الصلاة فى الثيا ب … 2 رقم 351 والعيدين 13 باب التكبير أيام مني 12 رقم 971 وباب خروج النساء والحيض إلى المصلي 15 رقم 974 وباب إذا لم يكن لها جلباب فى العيد 20 رقم 980 وباب اعتزال الحيض المصلي 21 رقم 981، والحج 25 باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف با لبيت 81 رقم 1652،صحيح مسلم، صلاة العيدين 8 باب ذكر إباحة خروج النساء فى العيدين إلى المصلي 1 رقم 10، 12، 890]
” ہمیں اس بات کا حکم دیا گیاکہ ہم عیدین میں دوشیزہ اور حائضہ عورتوں کو گھر سے نکال کر عیدگاہ لے جائیں، تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ البتہ حائضہ عورتیں مقام صلاۃ سے الگ رہیں “۔
اور حدیث کے بعض الفاظ میں یوں ہے :
فقالت إحداهن يا رسول الله صلى الله عليه وسلم لاتجد إحداناجلباباتخرج فيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لتلبسها أختها من جلبابها [صحيح: صحيح بخاري، الحيض 6 باب شهود الحائض العيدين ودعوة المسلمين 24 رقم 324 بروايت أم عطيه رضي الله عنها، والصلاة 8 باب وجوب الصلاة فى الثياب 2 رقم 351 والعيدين 13 باب إذا لم يكن لها جلباب فى العيد 20 رقم 980 والحج 25 باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف با لبيت 81 رقم 1652، صحيح مسلم، صلاة العيدين 7 باب ذكر إباحة خروج النساء فى العيدين 1 رقم 12، 890]
’’ ان میں سے ایک عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر ہم میں سے کوئی عورت چادر نہ پائے جس کو اوڑھ کر نکلے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی بہن اپنی چادر میں سے کچھ حصہ اسے پہنا دے “۔
بلاشبہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کا صلاۃ عیدین کے لئے نکلنا مؤکّد ہے، تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں۔
اور توفیق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
’’ شیخ ابن باز۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ “

(more…)

Continue Reading

رمضان سے متعلق چند اہم مسائل (10)

120۔ قضاءِ رمضان میں تاخیر کا حکم :
——————

سوال : ایک آدمی نے رمضان کے ایام میں ایک صبح کو کھیل کی مشق کے دوران سخت تکان سے دوچار ہو کر پانی پی لیا، پھر اپنا صوم پورا کیا۔ کیا اس کا صوم جائز ہو گا یا نہیں ؟
جواب : (1) یہ ورزشی کھیل فرض عین نہیں ہیں کہ ان کی وجہ سے ارکانِ اسلام کو چھوڑ دیا جائے۔ لہٰذا کھلاری کو جب معلوم ہو کہ اس سے تھکاوٹ پیدا ہو گی تو اس پر ضروری ہے کہ وہ کھیل کو بند کر دے اور اس کی وجہ سے اپنے آپ کو نہ تھکائے۔ اس تکان کی وجہ سے اس کے لئے صوم چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ ایسی حالت کو پہنچ جائے جس سے اس کی موت کا اندیشہ ہو، ایسی صورت میں اسے بیمار کے حکم میں شامل کر دیا جائے گا۔ بہرحال اس پر اس کی کوتاہی کی وجہ سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ اور پانی پی کر جو صوم فاسد کیا ہے اس کی قضا میں جلد ی کرنا ضروری ہے۔
(2) جو شخص رمضان میں صوم چھوڑ دے اس پر فوری طور پر قضا کرنا لازمی ہے۔ بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر بغیر کسی عذر کے قضا کو اتنا مؤخر کر دے کہ دوسرا رمضان شروع ہو جائے تو اس پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی ضروری ہے۔ جو ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔
’’ شیخ ابن جبرین۔ رحمہ اللہ۔ “

 

121۔ اعتکاف اور اس کے شرائط :
——————

سوال : کیا ماہِ رمضان میں اعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے ؟ غیر رمضان میں اعتکاف کے کیا شرائط ہیں ؟
جواب : رمضان میں اعتکاف سنت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں اعتکاف کیا، آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔ اور علماء نے اس کے مسنون ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔ لیکن اعتکاف اس طریقہ پر ہونا چاہیے جس کے لئے اس کی مشروعیت ہوئی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ انسان مسجد کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے اس طرح لازم پکڑے کہ دنیاوی کاروبار سے فارغ ہو کر اطاعت الٰہی میں لگ جائے، تمام دنیاوی مشاغل سے دور رہے، اطاعت کے مختلف کاموں جیسے صلاۃ اور ذکر الٰہی وغیرہ میں لگا رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر کی تلاش و جستجو میں اعتکاف کرتے تھے۔ معتکف کو دنیاوی کاروبار سے دور رہنا چاہیے۔ پس وہ نہ خرید و فروخت کرے، نہ مسجد سے باہر نکلے، نہ جنازہ میں شریک ہو، نہ بیمار کی بیمار پرسی کرے۔
بعض لوگ اعتکاف میں ہوتے ہیں اور زائرین شب و روز ان سے ملاقات کے لیے آتے رہتے ہیں۔ اس میں حرام باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ جو مقصدِ اعتکاف کے خلاف ہے۔
لیکن اگر اس کے گھر کا کوئی شخص اس کے پاس جائے اور کچھ بات چیت کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ کے اعتکاف کی حالت میں صفیہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی زیارت کی اور آپ سے کچھ دیر گفتگو کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے تقرب کے لئے اعتکاف کرے۔
’’ شیخ ابن عثیمین۔ رحمہ اللہ تعالیٰ “

(more…)

Continue Reading

فطرانہ – احکام و مسائل

         تحریر:غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری فطرانہ ادا کرنا فرض ہے، جیسا کہ سید نا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : رسولﷺ نے (رمضان المبارک) مسلمانوں کے غلام، آزاد، مرد عورت ، چھوٹے اوربڑے پر ایک  صاع کھجور یا جوفطرانہ فرض قرار دیا ہے۔" (صحیح بخاری۱۵۰۳، صحیح مسلم ۹۸۳). ثابت ہوا کہ مسلمان غلام پر فطرانہ فرض ہے، نہ کہ کافر پر، اگر کوئی کہے کہ سید نا ابوہریرہ ؓ سے روایت  ہے کہ رسول ﷺ نے فرما یا : [arabic-font]  لیس فی العبد صد قۃ الَا صدقۃ الفطر.  [/arabic-font] "غلام پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، مگر صدقہ فطر(واجب) ہے۔" ۔" (صحیح مسلم ۹۸۲). اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث عام ہے اور مذکورہ بالا حدیثِ ابنِ عمر خاص ہے، خاص کو عام پر  مقدم کیا جاتا ہے۔ فائدہ: ۱  حجازی صاع دو سیر چار…

Continue Reading

اعتکاف کے بعض مسائل کا بیان

          السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔چند مسائل میں راہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں۔ بہت بہت مہربانی! سوال:   حسب ذیل روایات (احادیث) کی تخریج و تحقیق درکار ہے: (الف)    عن عائشۃ رضي اللہ عنھا قالت:"السنۃ علی المعتکف أن لا یعود مریضاً ولا یشھد جنازۃ........ولا اعتکاف إلا في مسجد جامع"                                 (ابو داود: ح ۲۴۷۳) نیز یہ بھی بتا دیں کہ کیا ”غیر جامع مسجد“ میں اعتکاف جائز نہیں؟ (ب)      عن ابن عباس رضياللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ: "ومن اعتکف یوماً ابتغاء وجہ اللہ تعالیٰ جعل اللہ بینۃ وبین النار ثلاثۃ خنادق أبعد ممابین الخافقین" (طبرانی اوسط بیہقی الترغیب ۱۵۰/۲) (ج)       عن أبی ھریرۃ رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ:"إذاتخذا لفئ دولاً والأمانۃ مغنماً والزکاۃ مغرماً...... وآیات تتابع کنظام بال قطع سلکہ فتتابع" (الترمذی ابواب الفتن ، باب  ماجاء فی علامۃ حلول المسخ و الخسف ح ۲۲۱۱) نیزفرمائیں…

Continue Reading

عید گاہ کو جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیریں کہنے کا بیان

عید گاہ کو جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیریں کہنا ثابت ہیں۔ [السنن الکبری للبیہقی 3؍279و سندہ حسن] تکبیرات کے الفاظ کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہیں، البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ سے ثابت ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید کے دن صبح سویرے ہی مسجد سے عید گاہ کی طرف جاتے تھے اور عید گاہ تک آپ اونچی تکبیریں کہتے تھے۔ آپ اس وقت تک تکبیریں کہتے رہتے تھے جب تک امام (نماز پڑھانے کے لئے ) نہ آ جاتا۔ [السنن الکبری للبیہقی:3 ؍279و سند حسن] سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے تکبیر کے یہ الفاظ ثابت ہیں: الله أكبر كبيرا، الله أكبر كبيرا، الله أكبر و أجل الله أكبر ولله الحمد. [مصنف ابن ابی شیبہ2؍168ح 5654و سندہ صحیح] سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ان الفاظ میں…

Continue Reading

تکبیرات عیدین میں رفع یدین کا ثبوت

امام اہل سنت، امام احمد بن حنبل رحمہ  اللہ (متوفی ۲۴۱ھ) فرماتے ہیں: ‘‘حدثنا یعقوب: حدثنا ابن أخي ابن شھاب عن عمہ: حدثنی سالم بن عبداللہ أن عبداللہ قال، کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قام إلی الصلوۃ یرفع یدیہ، حتی إذا کانتا حذومنکبیہ  کبّر، ثم إذا أرادأن یرکع رفعھما حتی یکونا حذو منکبیہ ، کبر و ھما کذلک، رکع، ثم إذا أراد إن یرفع صلبہ رفعھما حتی یکونا حذو منکبیہ، ثم قال بسمع اللہ لمن حمدہ، ثم یسجد، ولا یرفع یدیہ فی السجود، و یرفعھما فی کل رکعۃ و تکبیرۃ کبّر ھا قبل الرکوع ، حتی تنقضي صلاتہ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو رفع یدین کرتے حتی  کہ آپ کے ہاتھ آپ کے کندھوں کے برابر ہو جاتے،آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )تکبیر کہتے، پھر جب آپ رکوع کا ارادہ کرتے تو…

Continue Reading

End of content

No more pages to load

Close Menu

نئی تحریریں ای میل پر حاصل کریں، ہفتے میں صرف ایک ای میل بھیجی جائے گی۔

واٹس اپ پر چیٹ کریں
1
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ

ہمارا فیس بک پیج ضرور فالو کریں

https://www.facebook.com/pukar01

ویب سائٹ پر کسی بھی طرح کی خرابی نظر آنے کی صورت میں سکرین شاٹ ہمیں واٹساپ کریں یا وائس میسج پر مطلع کریں۔ نیز آپ اپنی تجاویز اور فیڈبیک بھی ہمیں واٹس اپ کر سکتے ہیں۔

جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا كَثِيْرًا وَجَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء