کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«ما من بعير إلا في ذروته شيطان فإذا ركبتموها فاذكروا نعمة الله تعالى عليكم كما أمركم الله ثم امتهنوها لأنفسكم فإنما يحمل الله تعالى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی اونٹ ایسا نہیں مگر اس کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے، پس جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا ذکر کرو جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، پھر اسے اپنے کام کے لیے استعمال میں لاؤ، کیونکہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی سواری کراتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث الصحيحة ٢٢٧: ابن خزيمة، ابن معين، الحربي، ابن سعد.
«ما من بني آدم مولود إلا يمسه الشيطان حين يولد فيستهل صارخا من مس الشيطان غير مريم وابنها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنی آدم میں سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر شیطان اسے پیدائش کے وقت چھوتا ہے تو وہ شیطان کے چھونے سے چیخ مار کر روتا ہے، سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. المشكاة ٦٩.
«ما من ثلاثة في قرية ولا بدولا تقام فيهم الصلاة إلا استحوذ عليهم الشيطان فعليكم بالجماعة فإنما يأكل الذئب القاصية»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی گاؤں یا صحرا میں تین آدمی ایسے نہیں جن میں نماز باجماعت قائم نہ کی جائے مگر شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے، پس تم جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ن حب ك] عن أبي الدرداء. المشكاة ١٠٦٧، صحيح أبي داود ٥٥٦، صحيح الترغيب ٤٢٥ - ابن خزيمة.
«ما من خارج خرج من بيته في طلب العلم إلا وضعت له الملائكة أجنحتها رضا بما يصنع حتى يرجع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی نکلنے والا ایسا نہیں جو علم حاصل کرنے کے لیے اپنے گھر سے نکلے مگر فرشتے اس کے کام سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ واپس آ جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ حب ك] عن صفوان بن عسال. صحيح الترغيب ٨١.
«ما من دعوة يدعوبها العبد أفضل من: اللهم إني أسألك المعافاة في الدنيا والآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بندہ کوئی دعا ایسی نہیں مانگتا جو اس دعا سے افضل ہو: اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٣٨: حل.
"ما من ذنب أجدر أن يعجل الله تعالى لصاحبه العقوبة في الدنيا مع ما يدخره له في الآخرة من البغي وقطيعة الرحم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی گناہ ایسا نہیں جو اس بات کا زیادہ حقدار ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے دنیا میں جلد سزا دے، ساتھ ہی آخرت کے لیے بھی محفوظ رکھے، جتنا کہ ظلم اور قطع رحمی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد د ت هـ حب ك] عن أبي بكرة. الصحيحة ٩١٨.
«ما من ذنب أجدر أن يعجل الله تعالى لصاحبه العقوبة في الدنيا مع ما يدخره له في الآخرة من قطيعة الرحم والخيانة والكذب وإن أعجل الطاعة ثوابا لصلة الرحم حتى إن أهل البيت ليكونوا فجرة فتنموأموالهم ويكثر عددهم إذا تواصلوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی گناہ ایسا نہیں جو اس بات کا زیادہ حقدار ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے دنیا میں جلد سزا دے، ساتھ ہی آخرت کے لیے بھی محفوظ رکھے، جتنا کہ قطع رحمی، خیانت اور جھوٹ، اور یقیناً سب سے جلد ثواب دینے والی اطاعت صلہ رحمی ہے، یہاں تک کہ ایک گھر والے بدکار ہونے کے باوجود ان کا مال بڑھ جاتا ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے جب وہ آپس میں صلہ رحمی کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي بكرة. الصحيحة ٩١٥، ٩٧٨.
«ما من راكب يخلو في مسيره بالله وذكره إلا كان ردفه ملك ولا يخلو بشعر ونحوه إلا كان ردفه شيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی سوار ایسا نہیں جو اپنے سفر میں تنہائی میں اللہ اور اس کے ذکر میں مشغول ہو مگر ایک فرشتہ اس کے پیچھے سوار ہو جاتا ہے، اور جو تنہائی میں شعر وغیرہ میں مشغول ہو مگر ایک شیطان اس کے پیچھے سوار ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن عقبة بن عامر. الترغيب ٤/٦٧، مجمع الزوائد ١٠/١٣١.
«ما من رجل له مال لا يؤدي حق ماله إلا جعل له طوقا في عنقه وهو شجاع أقرع وهو يفر منه وهو يتبعه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے پاس مال ہو اور وہ اس کے مال کا حق ادا نہ کرے مگر اس کے لیے اس کے گلے میں ایک طوق بنایا جائے گا، وہ ایک گنجا سانپ ہوگا، وہ اس سے بھاگے گا اور وہ سانپ اس کا پیچھا کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن ابن مسعود. صحيح الترغيب ٧٥٤.
«ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا إلا شفعهم الله فيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مسلمان آدمی ایسا نہیں مرتا کہ اس کے جنازے پر چالیس ایسے آدمی کھڑے ہوں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں مگر اللہ ان کی سفارش اس کے حق میں قبول فرما لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5708
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د] عن ابن عباس. مختصر مسلم ٤٨٣، أحكام الجنائز ٩٩، الصحيحة ٢٢٦٧: هق.
«ما من رجل مسلم يموت له ثلاثة من ولده لم يبلغوا الحنث إلا أدخله الله الجنة بفضل رحمته إياهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مسلمان آدمی ایسا نہیں جس کے تین بچے بلوغت سے پہلے فوت ہو جائیں مگر اللہ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5709
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن] عن أنس.
«ما من رجل يتطهر يوم الجمعة كما أمر ثم يخرج من بيته حتى يأتي الجمعة وينصت حتى تقضى صلاته إلا كان كفارة لما قبله من الجمعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو جمعے کے دن اس طرح پاکیزگی حاصل کرے جیسا حکم دیا گیا ہے، پھر اپنے گھر سے نکل کر جمعہ کی نماز میں آئے اور خاموش رہے یہاں تک کہ اس کی نماز مکمل ہو جائے مگر یہ اس سے پہلے کے جمعے تک کا کفارہ بن جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5710
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن سلمان. صحيح الترغيب ٦٨٩: حم، ابن خزيمة.
«ما من رجل يتعاظم في نفسه ويختال في مشيته إلا لقي الله تعالى وهو عليه غضبان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اکڑ کر چلے مگر وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد ك] عن ابن عمر. الصحيحة ٢٢٧٢.
«ما من رجل يجرح في جسده جراحة فيتصدق بها إلا كفر الله عنه مثل ما تصدق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے جسم میں کوئی زخم لگے پھر وہ اس کے بدلے صدقہ کرے مگر اللہ اس سے اتنے ہی گناہ مٹا دیتا ہے جتنا اس نے صدقہ کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5712
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الضياء] عن عبادة. الصحيحة ٢٢٧٣.
«ما من رجل يحفظ علما فكتمه إلا أتى يوم القيامة ملجما بلجام من نار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو کوئی علم جانتا ہو پھر اسے چھپائے مگر قیامت کے دن اسے آگ کی لگام ڈال کر لایا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ١١٦.
«ما من رجل يدعوبدعاء إلا استجيب له فإما أن يعجل له في الدنيا وإما أن يدخر له في الآخرة،........ ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم أو يستعجل يقول: دعوت ربي فما استجاب لي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو کوئی دعا کرے مگر اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، یا تو اسے دنیا میں جلد دے دیا جاتا ہے یا آخرت کے لیے محفوظ کر دیا جاتا ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے یا جلد بازی نہ کرے یہ کہتے ہوئے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی مگر اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5714
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الضعيفة ٤٤٨٣.
«ما من رجل يسلك طريقا يطلب فيه علما إلا سهل الله له طريق الجنة ومن أبطأ به عمله لم يسرع به نسبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو کسی راستے پر چلے جس میں وہ علم حاصل کرتا ہو مگر اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور جسے اس کا عمل پیچھے چھوڑ دے اسے اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5715
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي هريرة. م ٨/٧١١.
«ما من رجل يصلي عليه مائة إلا غفر له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جس کی نمازِ جنازہ پر سو آدمی نماز پڑھیں مگر اسے بخش دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5716
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب حل] عن ابن عمر. الصحيحة ١٣٦٣، أحكام الجنائز ٩٨: هـ - أبي هريرة.
«ما من رجل يعود مريضا ممسيا إلا خرج معه سبعون ألف ملك يستغفرون له حتى يصبح ومن أتاه مصبحا خرج معه سبعون ألف ملك يستغفرون له حتى يمسي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو شام کو کسی مریض کی عیادت کرے مگر اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو صبح تک اس کے لیے مغفرت مانگتے ہیں، اور جو صبح کو اس کے پاس آئے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو شام تک اس کے لیے مغفرت مانگتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5717
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن علي. الصحيحة ١٣٦٧: حم، هـ، ع، هق.
«ما من رجل يلي أمر عشرة فما فوق ذلك إلا أتى الله مغلولا يده إلى عنقه فكه بره أو أوثقه إثمه أولها ملامة وأوسطها ندامة وآخرها خزي يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو دس یا اس سے زیادہ لوگوں کے معاملے کا ذمہ دار بنے مگر وہ اللہ کے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوگا، پھر اس کی نیکی اسے کھول دے گی یا اس کا گناہ اسے مزید جکڑ دے گا، اس کا آغاز ملامت ہے، اس کا درمیانی حصہ ندامت ہے اور اس کا آخری حصہ قیامت کے دن رسوائی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أبي أمامة. الصحيحة ٣٤٩.
«ما من رجل لا يؤدي زكاة ماله إلا جعل الله يوم القيامة في عنقه شجاعا أقرع ومن اقتطع مال أخيه المسلم بيمين لقي الله وهو عليه غضبان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے مگر اللہ قیامت کے دن اس کے گلے میں ایک گنجا سانپ ڈال دے گا، اور جو کوئی جھوٹی قسم کھا کر اپنے مسلمان بھائی کا مال ہتھیا لے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5719
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ابن مسعود. صحيح الترغيب ٧٥٤.
«ما من ساعة تمر بابن آدم لم يذكر الله فيها إلا حسر عليها يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابنِ آدم پر کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی جس میں اس نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو مگر وہ قیامت کے دن اس پر افسوس کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حل هب] عن عائشة. الصحيحة ٢١٩٧.
«ما من شيء في الميزان أثقل من حسن الخلق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن أبي الدرداء. الروض النضير ٩٤١، الصحيحة ٨٧٦.
«ما من شيء لم أكن أريته إلا رأيته في مقامي هذا حتى الجنة والنار ولقد أوحي إلى أنكم تفتنون في قبوركم مثل أو قريبا من فتنة المسيح الدجال يؤتى أحدكم فيقال له: ما علمك بهذا الرجل؟ فأما المؤمن أو الموقن فيقول: هو محمد رسول الله جاءنا بالبينات والهدى فأجبنا وآمنا واتبعنا هومحمد ثلاثا فيقال له: نم صالحا قد علمنا إن كنت لموقنا به وأما المنافق أو المرتاب فيقول: لا أدري سمعت الناس يقولون شيئا فقلته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایسی کوئی چیز نہیں جو مجھے پہلے نہ دکھائی گئی ہو مگر میں نے اسے اپنی اسی جگہ کھڑے ہو کر دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی، اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم اپنی قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی مانند یا اس کے قریب آزمائے جاؤ گے، تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتے آئیں گے اور اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس آدمی کے بارے میں کیا معلوم ہے؟ پس مومن یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے، تو ہم نے ان کی بات قبول کی اور ایمان لائے اور ان کی پیروی کی، وہ محمد ہیں (یہ تین بار کہے گا)، تو اس سے کہا جائے گا: نیک بن کر سو جاؤ، ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر یقین رکھنے والے ہو، اور منافق یا شک کرنے والا کہے گا: مجھے نہیں معلوم، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أسماء بنت أبي بكر.
"ما من شيء يصيب المؤمن حتى الشوكة تصيبه إلا كتب الله له بها حسنة وحط عنه بها خطيئة "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کو جو تکلیف بھی پہنچتی ہے، حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھے، تو اللہ اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5723
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة. م ٨/١٥ - ١٦.
«ما من شيء يصيب المؤمن في جسده يؤذيه إلا كفر الله عنه به من سيئاته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کے جسم کو جو بھی تکلیف پہنچے جو اسے دکھ دے، اللہ اس کے ذریعے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5724
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن معاوية. الصحيحة ٢٢٧٤.
«ما من شيء يصيب المؤمن من نصب ولا حزن ولا وصب حتى الهم يهمه إلا يكفر الله به عنه من سيئاته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن کو تھکاوٹ، غم، بیماری، حتیٰ کہ کوئی فکر بھی لاحق ہو، تو اللہ اس کے ذریعے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي سعيد. حم ٣/٤و٢٤، م ٨/١٦.
«ما من شيء يوضع في الميزان أثقل من حسن الخلق وإن صاحب حسن الخلق ليبلغ به درجة صاحب الصوم والصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میزان میں رکھی جانے والی کوئی چیز اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی نہیں، اور اچھے اخلاق والا اس کی بدولت روزہ دار اور نمازی کے درجے کو پہنچ جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5726
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي الدرداء. الروض النضير ٢/٢٣٩.
«ما من صاحب إبل ولا بقر ولا غنم لا يؤدي زكاتها إلا جاءت يوم القيامة أعظم ما كانت وأسمنه تنطحه بقرونها وتطؤه بأخفافها كلما نفذت أخراها عادت عليه أولاها حتى يقضى بين الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی اونٹوں، گائیوں یا بکریوں کے مالک کا ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرے مگر وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئیں گے کہ وہ سب سے بڑے اور موٹے ہوں گے، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گے اور اپنے کھروں سے اسے روندیں گے، جب بھی ان کا آخری حصہ گزر جائے گا تو ان کا پہلا حصہ دوبارہ اس پر لوٹ آئے گا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5727
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الترغيب ١/٢٦٧: حم مختصر مسلم ٥٠٦، ت.
" ما من صاحب إبل لا يفعل فيها حقها إلا جاءت يوم القيامة أكثر ما كانت قط وأقعد لها بقاع قرقر تستن عليه بقوائمها وأخفافها. وما من صاحب بقر لا يفعل فيها حقها إلا جاءت يوم القيامة أكثر ما كانت وأقعد لها بقاع قرقر تنطحه بقرونها وتطؤه بقوائمها. ولا صاحب غنم لا يفعل فيها حقها إلا جاءت يوم القيامة أكثر ما كانت وأقعد لها بقاع قرقر تنطحه بقرونها وتطؤه بأظلافها ليس فيها جماء ولا منكسر قرنها. ولا صاحب كنز لا يفعل فيه حقه إلا جاء كنزه يوم القيامة شجاعا أقرع يتبعه فاغرا فاه فإذا أتاه فر منه فيناديه ربه عز وجل: خذ كنزك الذي خبأته فأنا أغنى منك فإذا رأى أنه لا بد له منه سلك يده في فيه فيقضمها قضم الفحل "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی اونٹوں کے مالک کا ایسا نہیں جو ان کا حق ادا نہ کرے مگر وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ وہ کبھی کی نسبت زیادہ ہوں گے اور اس کے لیے ایک ہموار میدان میں بٹھائے جائیں گے، وہ اپنے پاؤں اور کھروں سے اسے روندیں گے۔ اور کسی گائیوں کے مالک کا ایسا نہیں جو ان کا حق ادا نہ کرے مگر وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گی کہ وہ کبھی کی نسبت زیادہ ہوں گی اور اس کے لیے ایک ہموار میدان میں بٹھائی جائیں گی، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے پاؤں سے اسے روندیں گی۔ اور نہ کسی بکریوں کے مالک کا ایسا نہیں جو ان کا حق ادا نہ کرے مگر وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گی کہ وہ کبھی کی نسبت زیادہ ہوں گی اور اس کے لیے ایک ہموار میدان میں بٹھائی جائیں گی، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے روندیں گی، ان میں نہ کوئی سینگ کے بغیر ہوگی اور نہ کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا ہوگا۔ اور نہ کسی خزانے کے مالک کا ایسا نہیں جو اس کا حق ادا نہ کرے مگر اس کا خزانہ قیامت کے دن ایک گنجے سانپ کی صورت میں آئے گا اور منہ کھولے اس کا پیچھا کرے گا، جب وہ اس کے پاس آئے گا تو وہ اس سے بھاگے گا، پھر اس کا رب عزوجل اسے پکارے گا: اپنے اس خزانے کو لے لے جسے تو نے چھپا رکھا تھا، میں تجھ سے بے نیاز ہوں، پھر جب وہ دیکھے گا کہ اس کے لیے اس سے کوئی چارہ نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دے گا اور وہ اسے اس طرح چبائے گا جیسے نر اونٹ چباتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5728
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن جابر. صحيح الترغيب ٧٥٣، الإرواء ١٥١٣.
" ما من صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار فأحمي عليها في نار جهنم فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره كلما بردت أعيدت له في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار. ولا صاحب إبل لا يؤدي منها حقها ومن حقها حلبها يوم ورودها إلا إذا كان يوم القيامة بطح لها بقاع قرقر أوفر ما كانت لا يفقد منها فصيلا واحدا تطؤه بأخفافها وتعضه بأفواهها كلما مر عليه أولاها رد عليه أخراها في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار. ولا صاحب بقر ولا غنم لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة بطح لها بقاع قرقر لا يفقد منها شيئا ليس فيها عقصاء ولا جلحاء ولا عضباء تنطحه بقرونها وتطؤه بأظلافها كلما مر عليه أولاها رد عليه أخراها في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی سونے یا چاندی کے مالک کا ایسا نہیں جو اس میں سے اس کا حق ادا نہ کرے مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی، پھر انہیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا، پھر ان سے اس کا پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ داغی جائے گی، جب بھی وہ ٹھنڈی ہوں گی تو انہیں دوبارہ گرم کر کے لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، پھر اسے اپنا راستہ دکھایا جائے گا، یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ اور نہ کسی اونٹوں کے مالک کا ایسا نہیں جو ان میں سے اس کا حق ادا نہ کرے، اور ان کا حق یہ ہے کہ ان کے پانی پر آنے کے دن انہیں دوہا جائے، مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو انہیں ایک ہموار میدان میں لٹا دیا جائے گا، وہ اپنی سب سے زیادہ تعداد میں ہوں گے، ان میں سے ایک بچہ بھی کم نہیں ہوگا، وہ اپنے کھروں سے اسے روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے، جب بھی ان کا پہلا حصہ اس پر سے گزرے گا تو ان کا آخری حصہ اس پر لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، پھر اسے اپنا راستہ دکھایا جائے گا، یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ اور نہ کسی گائیوں یا بکریوں کے مالک کا ایسا نہیں جو ان میں سے اس کا حق ادا نہ کرے مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو انہیں ایک ہموار میدان میں لٹا دیا جائے گا، ان میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوگی، ان میں نہ کوئی مڑے ہوئے سینگ والی ہوگی، نہ سینگ کے بغیر اور نہ ٹوٹے سینگ والی، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے روندیں گی، جب بھی ان کا پہلا حصہ اس پر سے گزرے گا تو ان کا آخری حصہ اس پر لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، پھر اسے اپنا راستہ دکھایا جائے گا، یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5729
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح الترغيب ٧٥٢، مختصر مسلم ٥٠٧.
«ما من صلاة مفروضة إلا وبين يديها ركعتان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی فرض نماز ایسی نہیں مگر اس سے پہلے دو رکعتیں ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5730
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب طب] عن عبد الله بن الزبير. الصحيحة ٢٣٢.
«ما من عام إلا والذي بعده شر منه حتى تلقوا ربكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی سال ایسا نہیں مگر اس کے بعد والا سال اس سے بدتر ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5731
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أنس. الصحيحة ١٢١٨: خ.
«ما من عبد إلا وله صيت في السماء فإن كان صيته في السماء حسنا وضع في الأرض وإن كان صيته في السماء سيئا وضع في الأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی بندہ ایسا نہیں مگر آسمان میں اس کی ایک شہرت ہوتی ہے، پس اگر آسمان میں اس کی شہرت اچھی ہو تو وہ زمین میں بھی رکھ دی جاتی ہے، اور اگر آسمان میں اس کی شہرت بری ہو تو وہ بھی زمین میں رکھ دی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5732
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٢٧٥.
«ما من عبد قال: لا إله إلا الله ثم مات على ذلك إلا دخل الجنة وإن زنا وإن سرق وإن زنا وإن سرق وإن رغم أنف أبي ذر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی بندہ ایسا نہیں جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) کہا پھر اسی پر مرا مگر وہ جنت میں داخل ہوگا، خواہ اس نے زنا کیا ہو اور خواہ چوری کی ہو، خواہ اس نے زنا کیا ہو اور خواہ چوری کی ہو، خواہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5733
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي ذر. مختصر مسلم ٥٣.
«ما من عبد كانت له نية في أداء دينه إلا كان له من الله عون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی بندہ ایسا نہیں جس کی نیت اپنا قرض ادا کرنے کی ہو مگر اللہ کی طرف سے اس کی مدد ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن عائشة. الترغيب ٣/٣٣.
«ما من عبد مؤمن إلا وله ذنب يعتاده الفينة بعد الفينة أو ذنب هومقيم عليه لا يفارقه حتى يفارق الدنيا إن المؤمن خلق مفتنا توابا نسيا إذا ذكر ذكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مومن بندہ ایسا نہیں مگر اسے کوئی گناہ ہر تھوڑی مدت بعد لاحق ہوتا رہتا ہے، یا کوئی گناہ ایسا ہوتا ہے جس پر وہ جما رہتا ہے اور وہ اسے چھوڑتا نہیں یہاں تک کہ وہ دنیا سے چلا جاتا ہے، بے شک مومن آزمائش میں پڑنے والا، بہت توبہ کرنے والا اور بھول جانے والا پیدا کیا گیا ہے، جب اسے یاد دلایا جائے تو وہ یاد کر لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5735
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ٢٢٧٧.
«ما من عبد مسلم توضأ فأسبغ الوضوء ثم صلى لله في كل يوم ثنتي عشرة ركعة تطوعا غير فريضة إلا بنى الله له بيتا في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں جو وضو کرے اور اسے مکمل کرے، پھر ہر روز اللہ کے لیے فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں نفلی نماز پڑھے مگر اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5736
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أم حبيبة. م ٢/١٦٢.
«ما من عبد مسلم يدعولأخيه بظهر الغيب إلا قال الملك: ولك بمثل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں جو اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرے مگر فرشتہ کہتا ہے: تجھے بھی اسی جیسا اجر ملے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5737
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن أبي الدرداء.
«ما من عبد يذنب ذنبا فيتوضأ فيحسن الطهور ثم يقوم فيصلي ركعتين ثم يستغفر الله بذلك الذنب إلا غفر الله له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی بندہ ایسا نہیں جو کوئی گناہ کرے پھر وضو کرے اور اسے اچھی طرح مکمل کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعتیں پڑھے، پھر اس گناہ کے لیے اللہ سے استغفار کرے مگر اللہ اسے بخش دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5738
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ٤ حب] عن أبي بكر. الترغيب ٢/٢٦٩.