حدیث نمبر: 5722
«ما من شيء لم أكن أريته إلا رأيته في مقامي هذا حتى الجنة والنار ولقد أوحي إلى أنكم تفتنون في قبوركم مثل أو قريبا من فتنة المسيح الدجال يؤتى أحدكم فيقال له: ما علمك بهذا الرجل؟ فأما المؤمن أو الموقن فيقول: هو محمد رسول الله جاءنا بالبينات والهدى فأجبنا وآمنا واتبعنا هومحمد ثلاثا فيقال له: نم صالحا قد علمنا إن كنت لموقنا به وأما المنافق أو المرتاب فيقول: لا أدري سمعت الناس يقولون شيئا فقلته»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایسی کوئی چیز نہیں جو مجھے پہلے نہ دکھائی گئی ہو مگر میں نے اسے اپنی اسی جگہ کھڑے ہو کر دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی، اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم اپنی قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی مانند یا اس کے قریب آزمائے جاؤ گے، تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتے آئیں گے اور اس سے کہا جائے گا: تمہیں اس آدمی کے بارے میں کیا معلوم ہے؟ پس مومن یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے، تو ہم نے ان کی بات قبول کی اور ایمان لائے اور ان کی پیروی کی، وہ محمد ہیں (یہ تین بار کہے گا)، تو اس سے کہا جائے گا: نیک بن کر سو جاؤ، ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر یقین رکھنے والے ہو، اور منافق یا شک کرنے والا کہے گا: مجھے نہیں معلوم، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أسماء بنت أبي بكر.