حدیث نمبر: 5718
«ما من رجل يلي أمر عشرة فما فوق ذلك إلا أتى الله مغلولا يده إلى عنقه فكه بره أو أوثقه إثمه أولها ملامة وأوسطها ندامة وآخرها خزي يوم القيامة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کوئی آدمی ایسا نہیں جو دس یا اس سے زیادہ لوگوں کے معاملے کا ذمہ دار بنے مگر وہ اللہ کے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوگا، پھر اس کی نیکی اسے کھول دے گی یا اس کا گناہ اسے مزید جکڑ دے گا، اس کا آغاز ملامت ہے، اس کا درمیانی حصہ ندامت ہے اور اس کا آخری حصہ قیامت کے دن رسوائی ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 5718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أبي أمامة. الصحيحة ٣٤٩.