کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف لام سے شروع ہونے والی احادیث
«ليأتين هذا الحجر يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہ پتھر قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولے گا، وہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے سچائی کے ساتھ چھوا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5346
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ هب] عن ابن عباس. الترغيب ٢/١٢٢.
«ليأخذ كل رجل برأس راحلته فإن هذا منزل حضرنا فيه الشيطان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر آدمی اپنی سواری کی نکیل پکڑ لے، کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں شیطان ہمارے پاس حاضر ہوا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5347
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن أبي هريرة.
«ليأكل أحدكم بيمينه وليشرب بيمينه وليأخذ بيمينه فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله ويعطي بشماله ويأخذ بشماله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے ہر ایک اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے اور دائیں ہاتھ سے پکڑے، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پکڑتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5348
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٣٣٦.
«ليأكل كل رجل من أضحيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہر آدمی اپنی قربانی میں سے کھائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5349
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب حل] عن ابن عباس.
«ليؤمكم أكثركم قراءة للقرآن»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا شخص تمہاری امامت کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5350
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن عمروبن سلمة. الإرواء ٢١٠، ٣٨٤.
«ليؤمن هذا البيت جيش يغزونه حتى إذا كانوا ببيداء من الأرض يخسف بأوسطهم وينادي أولهم آخرهم ثم يخسف بهم فلا يبقى إلا الشريد الذي يخبر عنهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس گھر (کعبہ) پر حملہ کرنے کے لیے ایک لشکر ضرور آئے گا، یہاں تک کہ جب وہ ایک بیابان زمین میں ہوں گے تو ان کے درمیانی حصے کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ان کا اگلا حصہ اپنے پچھلے حصے کو پکارے گا، پھر انہیں دھنسا دیا جائے گا، اور ان میں سے صرف وہی بھاگنے والا بچے گا جو ان کی خبر دے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن هـ] عن حفصة. الصحيحة ١٩٢٤: تخ، ك.
«ليبلغ الشاهد الغائب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حاضر شخص غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن وابصة. ق: حج - أبي شريح١.
«ليبلغ شاهدكم غائبكم لا تصلوا بعد الفجر إلا سجدتين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے حاضر شخص غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے کہ فجر کے بعد دو رکعتوں کے سوا نماز نہ پڑھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5353
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د هـ] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ١١٥٩، الإرواء ٤٧٨.
«ليبيتن أقوام من أمتي على أكل ولهوولعب ثم ليصبحن قردة وخنازير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے کچھ لوگ کھانے پینے، لہو و لعب میں رات گزاریں گے، پھر صبح کو بندر اور خنزیر بن کر اٹھیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5354
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٦٠٤.
«ليتخذ أحدكم قلبا شاكرا ولسانا ذاكرا وزوجة مؤمنة تعينه على أمر الآخرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ شکر گزار دل، ذکر کرنے والی زبان اور ایک مومنہ بیوی اختیار کرے جو آخرت کے معاملے میں اس کی مدد کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5355
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الترغيب ٣/٦٨، الصحيحة ٢١٧٦: حل، ك - ابن عباس. حب - علي.
«ليتصدق الرجل من صاع بره وليتصدق من صاع تمره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی اپنے گندم کے ایک صاع میں سے صدقہ کرے اور اپنی کھجور کے ایک صاع میں سے صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5356
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أبي جحيفة. م ٣/٨٦ - ٨٧، ابن جرير.
«ليتق أحدكم وجهه عن النار ولو بشق تمرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے چہرے کو جہنم سے بچائے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے (صدقہ کرنے) ہی سے سہی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5357
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن مسعود. صحيح الترغيب ٨٥٨: حل تمام - عدي.
"ليتكلف أحدكم من العمل ما يطيق فإن الله تعالى لا يمل حتى تملوا وقاربوا وسددوا "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اتنا ہی عمل اختیار کرے جتنی اس میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم خود تھک جاؤ، اور میانہ روی اختیار کرو اور درستی کے قریب رہنے کی کوشش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن عائشة. صحيح أبي داود ١٣٣٨.
«ليتمنين أقوام لوأكثروا من السيئات الذين بدل الله عز وجل سيئاتهم حسنات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کچھ لوگ ضرور یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ اور زیادہ گناہ کیے ہوتے، یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی برائیوں کو اللہ عزوجل نے نیکیوں میں بدل دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢١٧٧.
«ليتمنين أقوام ولو اهذا الأمر أنهم خروا من الثريا وأنهم لم يلوا شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جن لوگوں نے اس معاملے (حکومت) کی ذمہ داری سنبھالی ہوگی وہ ضرور یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ ثریا سے گر پڑے ہوتے اور انہوں نے کسی چیز کی ذمہ داری نہ سنبھالی ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن أبي هريرة. الصحيحة ٣٦١: ك١.
«ليحجن هذا البيت وليعتمرن بعد خروج يأجوج ومأجوج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یاجوج و ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی اس گھر کا حج اور عمرہ کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي سعيد. الصحيحة ٢٤٣٠: ع.
«ليخرجن قوم من أمتي من النار بشفاعتي يسمون الجهنميين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سے کچھ لوگ میری شفاعت سے جہنم سے نکالے جائیں گے، انہیں 'جہنمی' کہا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن عمران بن حصين. حم ٤/٤٣٤، خ: رقاق.
«ليدخلن الجنة بشفاعة رجل ليس بنبي مثل الحيين: ربيعة ومضر إنما أقول ما أقول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک ایسے شخص کی شفاعت سے، جو نبی نہیں ہے، ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، میں تو بس وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الصحيحة ٢١٧٨: عبد الله في [الزهد] - الحسن مرسلا.
«ليدخلن الجنة بشفاعة رجل من أمتي أكثر من بني تميم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے ایک شخص کی شفاعت سے بنی تمیم قبیلے سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5364
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هـ حب ك] عن عبد الله بن أبي الجدعاء. المشكاة ٥٦٠١، الصحيحة ٢١٧٨: تخ، ث، الدارمي، ابن خزيمة، ابن عساكر.
" ليدخلن الجنة من أمتي سبعون ألفا أو سبعمائة ألف، متماسكون آخذ بعضهم بيد بعض لا يدخل أولهم حتى يدخل آخرهم وجوههم على صورة القمر ليلة البدر"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، وہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں گے، ان میں سے پہلا اس وقت تک داخل نہیں ہوگا جب تک ان کا آخری فرد داخل نہ ہو جائے، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5365
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن سهل بن سعد.
«ليدخلن الجنة من أمتي سبعون ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب مع كل ألف سبعون ألفا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سے ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے، ان پر نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ کوئی عذاب، اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5366
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ثوبان. الصحيحة ٢١٧٩.
«ليراجعها ثم يمسكها حتى تطهر ثم تحيض فتطهر فإن بدا له أن يطلقها فليطلقها طاهرا قبل أن يمسها فتلك العدة التي أمر الله أن يطلق لها النساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ اسے رجوع کر لے، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر حیض آئے اور پھر پاک ہو، پس اگر اسے طلاق دینے کا ارادہ ہو تو وہ اسے پاکی کی حالت میں، اس سے مباشرت کیے بغیر طلاق دے، یہی وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ نے حکم دیا ہے کہ عورتوں کو طلاق دی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5367
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن هـ] عن ابن عمر. الإرواء ٢٠٥٩.
«ليردن علي ناس من أصحابي الحوض حتى إذا رأيتهم وعرفتهم اختلجوا دوني فأقول: يا رب! أصحابي أصحابي فيقال لي: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے کچھ صحابہ ضرور حوض پر میرے پاس آئیں گے، یہاں تک کہ جب میں انہیں دیکھوں گا اور پہچان لوں گا تو انہیں میرے پاس آنے سے پہلے ہی روک لیا جائے گا، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے صحابہ، میرے صحابہ! تو مجھ سے کہا جائے گا: تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا نئے کام ایجاد کیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أنس وحذيفة. شرح الطحاوية ١٩٣.
«ليس أحد أحب إليه المدح من الله ولا أحد أكثر معاذير من الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں، اور اللہ سے زیادہ کوئی عذر قبول کرنے والا نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن الأسود بن سريع. الصحيحة ٢١٨٠: م، الدارمي - المغيرة بن شعبة.
«ليس أحد أصبر على أذى سمعه من الله تعالى إنهم ليدعون له ولدا ويجعلون له أندادا وهو مع ذلك يعافيهم ويرزقهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اس بات پر صبر کرنے والا نہیں جو اس نے سنی ہو، لوگ اس کے لیے اولاد کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کے شریک ٹھہراتے ہیں، اس کے باوجود وہ انہیں عافیت دیتا اور رزق دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5370
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي موسى.
«ليس أحد أفضل عند الله من مؤمن يعمر في الإسلام لتكبيره وتحميده وتسبيحه وتهليله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کے نزدیک اس مومن سے بڑھ کر کوئی افضل نہیں جو اسلام میں لمبی عمر پائے، اس کی تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کی وجہ سے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5371
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن طلحة. الصحيحة ٦٥٤.
«ليس أحد من أمتي يعول ثلاث بنات أو ثلاث أخوات فيحسن إليهن إلا كن له سترا من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سے جو شخص بھی تین بیٹیوں یا تین بہنوں کی کفالت کرے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ بن جائیں گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن عائشة. حم ٦/٣٣, ٨٨, ١٦٦, ٢٤٣, خ: أدب، م: بر١.
«ليس الخبر كالمعاينة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خبر (سننا) دیکھنے کے برابر نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5373
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أنس [خط] عن أبي هريرة. شرح الطحاوية ٤٠١.
«ليس الخبر كالمعاينة: إن الله تعالى أخبر موسى بما صنع قومه في العجل فلم يلق الألواح فلما عاين ما صنعوا ألقى الألواح فانكسرت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”خبر دیکھنے کے برابر نہیں ہوتا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو خبر دی کہ ان کی قوم نے بچھڑے کے بارے میں کیا کیا، تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے خود دیکھا کہ ان کی قوم نے کیا کیا ہے تو انہوں نے تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طس ك] عن ابن عباس. المشكاة ٥٧٣٨.
«ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے، طاقتور تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. المشكاة ٥١٠٥.
«ليس الصيام من الأكل والشرب إنما الصيام من اللغووالرفث فإن سابك أحد أو جهل عليك فقل إني صائم إني صائم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں، روزہ تو لغو اور بے ہودہ باتوں سے رکنے کا نام ہے، پس اگر کوئی تمہیں گالی دے یا تم سے جہالت کا برتاؤ کرے تو کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هق] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ١٠٧٥: ابن خزيمة، حب.
«ليس الغنى عن كثرة العرض ولكن الغنى غنى النفس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”غنا (مالداری) مال کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ غنا تو دل کی مالداری کا نام ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5377
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٥٦٣، تخريج مشكلة الفقر ١٦.
«ليس الفجر بالأبيض المستطيل في الأفق ولكنه الأحمر المعترض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فجر وہ سفیدی نہیں جو افق میں لمبی صورت میں نظر آتی ہے، بلکہ وہ سرخی ہے جو افق پر پھیلی ہوئی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5378
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن طلق بن علي. الصحيحة ٢٠٠٢.
«ليس الكذاب بالذي يصلح بين الناس فينمي خيرا ويقول خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جھوٹا وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے، پھر اس مقصد کے لیے بھلی بات پہنچاتا اور بھلی بات کہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5379
«ليس المؤمن الذي لا يأمن جاره بوائقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن وہ نہیں جس کا پڑوسی اس کی برائیوں سے محفوظ نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5380
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن طلق بن علي. الصحيحة ٢/٨٢: خ - أبي شريح١.
«ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومن نہ طعنہ زن ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ بے حیا اور نہ بدزبان۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5381
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد حب ك] عن ابن مسعود. الصحيحة ٣٢٠: ابن أبي شيبة.
«ليس المؤمن بالذي يشبع وجاره جائع إلى جنبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5382
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد طب ك هق] عن ابن عباس. الصحيحة ١٤٩، المشكاة ٤٩٩١.
«ليس المسكين الذي ترده الأكلة والأكلتان ولكن المسكين الذي ليس له غنى ويستحي ولا يسأل الناس إلحافا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسکین وہ نہیں جسے ایک یا دو لقمے واپس کر دیتے ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مالداری نہیں، وہ شرم کرتا ہے اور لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5383
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي هريرة. تخريج مشكلة الفقر ٧٧.
«ليس المسكين الذي يطوف على الناس فترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن له فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس گھومتا پھرتا ہے اور اسے ایک یا دو لقمے، ایک یا دو کھجوریں واپس کر دیتی ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے جسے اتنی مالداری میسر نہیں جو اسے غنی کر دے، اور نہ ہی اس کی طرف کسی کی توجہ جاتی ہے کہ اسے صدقہ دیا جائے، اور نہ وہ خود اٹھ کر لوگوں سے سوال کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق د ن] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٥٦٢، تخريج مشكلة الفقر ٧٧.
«ليس الواصل بالمكافئ ولكن الواصل الذي إذا انقطعت رحمه وصلها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو صرف بدلہ چکاتا ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کا رشتہ کاٹا جائے تو وہ اسے جوڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف اللام / حدیث: 5385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ د ت] عن ابن عمرو. غاية المرام ٤٠٨.